Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Episode 19 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19 Part 1
میری بیٹی کہاں ہے عدیل؟؟
گلنار بیگم نے عدیل کے روبرو ہوکے پوچھا۔
گلنار بیگم آج ہی بابر صاحب کے گھر پہنچی تھی کیونکہ کل سے دوسرے دن کی صبح ہوچکی تھی مگر عدیل کا موبائل مسلسل بند جا رہا تھا فلحال تو وہ راجا کو جھوٹ بول چکی تھی مگر یہ جھوٹ زیادہ عرصہ چلنے والا نہیں تھا اور یہ بات گلنار بیگم اچھے سے جانتی تھی کے راجا اپنی بہن سے کتنی محبت کرتا ہے اسے زرا بھی اندازہ ہوگیا کے وہ تارا کو عدیل کیساتھ اسکی مرضی کے بنا بھیجتی رہی اور تارا کو اپنی قسم دیے کے راجا کو کچھ بھی بتانے سے منع کرتی رہی تو گلنار بیگم یہ بات اچھے سے جانتی تھی کے راجا انکا کا کیا حال کریگا یہ احساس کیے بغیر کے وہ اسکی ماں ہے۔۔
مجھے نہیں پتہ گلنار آنٹی اور اب آواز نیچے رکھ کے مجھ سے بات کرنا۔
عدیل نے بھی حساب برابر کرتے ہوکہا۔۔
جسٹ شٹ اپ عدیل وہ تمہارے ساتھ تھی زیادہ بھولے مت بنو اگر میری بیٹی کو کچھ ہوا تو میں تمہیں چھوڑونگی نہیں اور اسکا بھائ جو تمہارے ساتھ کریگا اسکا تم تصور بھی نہیں کرسکتے۔۔
اوہ رئیلی ۔۔۔
گلنار بیگم کی بات سن کے عدیل طنزیہ ہنسا اور کہا۔۔
اچھا ہے اسکے بھائ کو بھی پتہ چلے کے کیسے اسکی ماں اپنی ہی سگی اولاد کو اپنا اپ بچانے کیلیے میرے ساتھ بھیجتی تھی اور ایک بات اور مجھے زیادہ دھمکی مت دے آنٹی وہ کیا ہے نہ دریا میں رہ کے مگرمچھ سے پنگاہ نہیں لیتے میرا حال دیکھ رہی ہیں آپ میرے چہرے کا نقشہ بگاڑ دیا اپکی بیٹی کے عاشق نے بھاگ گئ وہ اس کے ساتھ ۔۔
عدیل کی بات سن کے گلنار بیگم نے اگے بڑھ کے عدیل کے منہ پہ طمانچہ مارنا چاہا مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئ عدیل نے بروقت انکا۔ہاتھ روکا اور کہا۔۔
سوچنا بھی نہیں ورنہ تیری ننگی تصویریں کل گوگل پہ ناچ کررہی ہوگی۔۔
گارڈ گارڈ؟؟
عدیل۔کے چیخنے پہ کسی جن کی طرح اسکے گارڈ حاضر ہوئے۔۔
ابھی اسی وقت اس عورت کو دھکے دے کر نکالو یہاں سے عدیل کے کہنے پہ اسکے گارڈ گلنار بیگم۔کی۔طرف بڑھے مگر انہوں نے اشارے سے انہیں روکا اور کہا۔۔
یاد رکھنا عدیل تمہیں جواب دینا پڑھے گا اور چلی گئ۔۔۔۔
#
بہت ہی خوبصورت بلڈنگ کے اگے انکی۔گاڑی رکی۔۔۔
ازان نے زمان صاحب کے تھرو تارا کی ہسپتال سے چھٹی لے لی تھی اب وہ خود اسکا دیھان رکھنا چاہتا تھا۔۔
پٹیوں سے لپٹا اسکا وجود اذان نے کسی قیمتی موتی کی طرح اپنی باہنوں میں سمیٹا اور فلیٹ کی طرف چل پڑا تارا ابھی نیم بیہوشی میں تھی۔۔ازان نے ایک ماسی کو پہلے سے ہایر کیا ہوا تھا فلیٹ کی دیکھ بھال۔کیلیے۔۔
اذان نے فلیٹ کے اندر قدم رکھا تو تارا ہوش میں اچکی تھا بیہوشی میں تارا کو ازان کی باہنوں میں کسی سہارے کی ضرورت نہیں تھی ہوش میں اتے ہی گرنے کے ڈر سے اس نے بہت مشکل سے اذان کی شرٹ کو تھاما مگر نگاہیں اسکی نیچے تھی
ازان نے حیران کن نگاہوں سے یہ منظر دیکھا اور لاجواب مسکراہٹ نے اذان کے لبوں کو چھوا۔۔
اذان نے تارا کو آرام سے بیڈ پہ لیٹایا اور جھک کے اسکے پیچھے تکیہ درست کرنے لگا اذان کی قربت پہ تارا کے ماتھے پہ پسینے کی بوندیں چمکنے لگی۔۔
اذان نے ماسی کو سوپ لانے کو کہا اور خود کمرے کا دروازہ بند کیا ۔۔
تارا خاموشی سے اذان کی ساری کاروائ دیکھ رہی تھی اذان نے الماری کھولی تو سامنے ازان کے چند سوٹ تھے ۔
اذان نے کچھ سوچتے ہوئے ایک دھیلا سا ٹراوزر اور دھیلی سی شرٹ نکال کے تارا کی طرف بڑھائ اور کہا۔۔
تارا یہ کپڑے بدل لو پھر ڈریسنگ کرنی ہے تمہارے زخموں کی ۔۔
ازان کی بات سن کے تارا نے ازان کے ہاتھ سے کپڑے لے کر اٹھنے کی۔کوشش کی۔مگر کمر پہ لگے زخم کی وجہ سے وہ دوبارہ درد کی شدت کی وجہ سے لیٹ کے رونے لگی۔
اذان نے جب تارا کو ایسا بے بس دیکھا تو کمرے کی لائٹ بند کی اور سکی طرف بڑھا۔۔
جاری ہے۔۔
