Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
راجا کے ہاتھ رکھنے پہ صاحبہ کو کرنٹ سا لگا اس نے لوگوں کی وجہ سے ہلکی سی مزاحمت کی راجا سے دور جانے کیلیے مگر راجا نے ایسا ہونے نہیں دیا اور قریب کرکے صاحبہ سے کہا۔۔لٹل گرل ڈونٹ دو دس سب دیکھ رہے ابھی سانگ چینج ہوگا اور ہمیں ڈانس کرنا ہے۔۔
دیکھے اپ۔؟؟؟
راجا نام ہے میرا۔۔۔
راجا کے بولنے پہ صاحبہ نے راجا کی انکھیں دیکھی لائٹ گرین انکھیں جو کسی کو بھی اپنی طرف متوجہ کرنے کا ہنر رکھتی تھی۔مگر صاحبہ کا دل ایک انجانے خوف سے ڈھرک رہا تھا۔چھن کرکے اس کے سامنے زرقان کا چہرہ ایا ۔۔
صاحبہ نے راجا سے دھیمے لہجے میں مگر غصہ میں کہا۔
میری کمر پہ سے ہاتھ ہٹائے۔۔۔
صاحبہ کے بولنے پہ راجا نے اس کی کمر پہ۔اور مضبوطی سے ہاتھ رکھا اور کہا۔۔
چپ چاپ ڈانس شروع کرو دیکھو سب کررہے ہیں۔۔
شاید اپکو میری بات سمجھ میں نہیں ائ میری کمر پہ سے ہاتھ ہٹائے۔یہ کہہ کے صاحبہ نے غصہ میں راجا کے ہاتھ اپنی کمر پہ سے ہٹائے اور کہا۔۔
آئندہ اپنی حد میں رہیے گا مسٹر راجا ائ سمجھ ۔۔۔
یہ بول کے صاحبہ ڈانس فلور سے نیچے اتر گئ راجا نے غصہ میں اپنی مٹھیاں بھینچی اور پارٹی سے چلا گیا۔۔
–
ازان یہ اپ کیا کرہے ہیں ؟؟؟
تارا کے پوچھنے پہ اذان نے اپنے سامنے کھڑی اپنی دل و جان کو دیکھا اور کہا۔۔
اسے عام انسانوں کی زبان میں کپل ڈانس کہتے ہیں۔۔
اذان نے مانو تارا پہ احسان کیا۔۔
ہاں تو میرے ساتھ کیوں کررہے ہیں آپ اپنی فیانوسے کیساتھ کرے نہ۔۔۔
ارے ۔۔۔اذان نے گھور کے تارا کو دیکھا
یہ بول کے اذان نے تارا کو گول گھوما کے دوبارہ اسے کمر سے تھام کے خود سے قریب کیا۔
جہاں عیشال تارا کو خونخوار نظروں سے دیکھ رہی تھی وہی گلنار بیگم کا بھی کچھ ایسا یی حال تھا جبکہ زمان صاحب اذان کوخوش دیکھ کے بہت خوش تھے۔۔
بس کردے اذان چھوڑے مجھے پلیز سب کی نظریں مجھ پہ ہی ہیں اپکی ماما بھی دیکھے کتنے غصہ میں دیکھ رہی ہیں پلیز میں اپنے اوپر ایسی نظریں برداشت نہیں کرسکتی۔۔۔۔
تارا یہ بول کے اذان سے الگ ہوئ اور جاکے گلنار بیگم کیساتھ جاکے کھڑی ہوگئ۔۔۔
بہت چپک چپک کے ڈانس کررہی تھی عدیل کیساتھ تمہیں کانٹے چھبتے ہیں کیا؟؟؟
۔گلنار بیگم نے بہت غصہ میں اپنے ڈانٹ پیس کے کہا۔۔
تارا نے حیران نظروں سے اپنی ماں کو دیکھا اور بہت مشکل سے اپنے آنسوں ضبط کیے ۔۔
کبھی کبھی تارا کو لگتا کے وہ گلنار بیگم کی سگی اولاد نہیں وہ اپنی دوستوں کی ماوں کو دیکھتی تو اسے رشک اتا اپنی دوستوں کو نجانے یونی میں کتنی ہی کال کرکے انکے انے کا پوچھتی ۔۔۔انکے کھانے پینے کا پوچھتی ،شاپنگ پہ جاتی اور اسکی ماں تھی جو اپنی اولاد کو گندگی میں پھیکنے پہ مجبور تھی۔۔۔
تو ادھر عیشال کا بھی غصہ سے برا حال تھا اذان اور تارا کو ایک۔ساتھ دیکھ کے ۔جتنا خوش وہ اج تارا کیساتھ تھا اتنا تو اسکا ایک پرسنٹ بھی اسکے ساتھ نہیں ہوتا مگر اگر وہ اس بے رخی برداشت کررہی تھی تو وجہ تھی اذان کا بینک بیلنس جو کئ گناہ زیادہ تھا۔۔۔عیشال کے بینک بیلنس سے
#
“اپنی حد میں رہے مسٹر راجا۔۔”
کسی ہتھوڑے کی طرح صاحبہ کے لفظ راجا کے دماغ پہ برس رہے تھی وہ پارٹی چھوڑ کے اگیا تھا کتنی ہی دیر وہ سڑکوں کی خاک چھانتا رہا مگر اسے سکون نہیں ملا صبح اپنے پر پھیلانے ہی والی جب وہ گھر میں داخل ہوا ۔۔
کہی بھی تو اسے سکون نہیں ملا ۔۔
اس نے کمرے میں اکے ایک لمبا سانس لیا اور آئینہ کے سامنے کھڑے ہوکے خود سے کہا۔۔۔
تم نے راجا اشفاق کو منع کیا ہے لٹل گرل تم محبت تو تھی ہی اب جنون بنتی جارہی ہو جیسے میں پاکے رہونگا ۔۔
۔۔####
صاحبہ جب پارٹی سے واپس ائ تو زرقان کو اپنے کمرے میں پایا جو سکون سے اسے کے بیڈ پہ اڑا ترچھا سو رہا تھا۔
صاحبہ بہت ارام سے اس کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھی اور کتنی ہی دیر اسے تکتی رہی کب اسکے انسووں نے انکھوں سے دغا کرکے باہر کا راستہ چنا۔۔اسے پتہ ہی نہیں چلا۔۔
تھوڑی دیر تک صاحبہ زرقان کو ایسے دیکھتی رہی اور اور پھر اٹھ کے ٹی وی لانج میں سوگئ۔۔۔
دونوں کی دوستی ایسی ہی تھی لڑائ جھگڑا لاکھ صحیح مگر دونوں ایک دوسرے سے زیادہ عرصہ ناراض نہیں رہ سکتے تھے ۔۔۔
مگر صاحبہ اس دوستی کے رشتہ سے کافی اگے بڑھ چکی تھی مگر جب زرقان نے اپنی ساتھی کے روپ میں زرغہ کا ساتھ چنا تو صاحبہ نے اپنی محبت کو دل کے کسی کونے میں دفن کردیا اور زرقان کی خوشی میں خوش ہوگئ مگر اب اسے زرقان کے رویہ سےڈر لگنے لگا تھا اس لیہ اب صاحبہ اس سے جان بوجھ کے لڑتی کوشش کرتی کے اب وہ اپنی زمیداری خود اٹھائے جس میں سب پہلے یونی انا جانا تھا ۔۔
#
اج کی صبح اذان کیلیے کافی پرکشش تھی کل کی پارٹی میں وہ تارا کے اتنے قریب تھا کے اس کے پرفیوم کی خوشبو وہ ابھی تک محسوس کرسکتا تھا کپڑے چینج کرنے کے باوجود بھی نجانے وہ کتنی بار اپنی کل رات پارٹی میں پہنی شرٹ کو سونگھ چکا تھا جسمیں سے تارا کی مہک ارہی تھی۔۔۔
ابھی وہ فریش ہوکے اپنے بال بنا رہا تھا کے اس کی۔خالہ کے دونوں جڑاوں بیٹے اس کے کمرے میں داخل ہوئے اذان جو اپنی دھن میں اپنے بال بنا رہا تھا جب ان کو دیکھ کے مسکرایا اور کہا۔۔
اارے مزمل اور مدثر تم لوگ روکے ہو ؟؟؟
اذان کی بات سن کے دونوں نے بڑی طنزیہ مسکراہٹ اپنے لبوں پہ سجائ اور مزمل نے کہا۔۔
ارے بھائ اپ ہماری شکلوں پہ نہ جائے وہ تو ہم ہے ہی معصوم مگر اپ پہ معصومیت سوٹ نہیں کرتی کل رات اپ نے ہم سے کچھ بدمعاشی والا کام کروایا تھا اور ہم ٹہرے معصوم اپ کے کہنے پہ۔ہم نے ان دونوں اپییوں کو ڈانس کا کہا اور پھر اپکے اشارے میں ڈانس کی تھیم جینج کروائ یہ بول کے مزمل چپ ہوا جب مدثر نے کہا۔۔
اور اپکی وجہ وہ عیشال اپی اللہ معاف کرے اتنی بھیانک وہ میک اپ میں لگ رہی تھی سونے پہ سہاگہ منہ سے انکے اتنی بدبو ارہی تھی میرا تو الٹی کرنے کا دل کررہا تھا اوپر سے سونے پہ سہاگہ اتنی اونچی ہیل کے ساتھ وہ میرے پاوں پہ چڑھ گئ۔۔
ان دنوں کی باتیں سن کے اذان قہقہ لگائے بنا نہ رہ سکا اور کہا اچھا تو اب کیا ارادہ ہیں تم دونوں کے۔۔
یہ بول کے اذان نے پرفیوم کی بوتل اٹھائ لگانے کے غرض سے جب مدثر نے کہا۔۔
ہم نے اپکی اتنی مدد کی بھائ ہمیں پتہ ہے اپ تارا اپی کو پسند کرتے ہو اور شاید لوو بھی مدثر کے کہنے پہ۔اذان نے اسکو حیران نظروں سے دیکھا جب اس نے کہا۔۔
بھائ اتنا حیران نہیں ہو ہم بھی انکھیں رکھتے ہیں بہر حال ہم۔نے اپکی مدد کی اب اپ ہم دونوں کو ائ فون ایکس پرو دلاو وہ بھی الگ الگ ۔۔
مدثر کے کہنے پہ اذان کے ہاتھ سے پرفیوم کی بوتل۔نیچے گرتے گرتے بچی اور اس نے کہا۔۔
بیٹا ناشتہ کیا تھا یہ ابھی بھی نیند میں ہو جانتے ہو وہ موبائل ڈھائ لاکھ کا ہے۔۔اذان نے مانو ان دونوں پہ احسان کیا بتا کے۔۔
تو ہمارے بھلا سے کتنے کا بھی ہم بھی اپکے کام ائے ہیں اور اگے بھی ائینگے اوکے برو ملتے ہیں پھر ائ فون کی شاپ پہ کل 5 بجے ٹھیک ہے بھائ ان دونوں نے یہ بول کے اذان کا کندھا ٹھپکا اور نیچے چلے گئے ۔۔
#
صبح زرقان کے اٹھنے سے پہلے صاحبہ یونی کیلیے نکل چکی تھی پورا دن اسکا بہت مصروف گزرا واپسی پہ اس نے ڈرائیور کو انے سے منع کردیا تھا کیونکہ اسے کچھ شاپنگ کرنی تھی۔۔
ابھی وہ کیب کا ویٹ کررہی تھی کے ایک بیلک پیجارو اس کے قریب اکے روکی ۔۔
صاحبہ ایک دم پیچھے ہوئے گاڑی کا گیٹ کھلتے ہی دو لڑکے اس میں سے اترے اور صاحبہ کا ہاتھ پکڑ کے زبردستی گاڑی میں بیٹھانے لگے۔۔
جاری ہے۔۔
