Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Episode 24
No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
اسلام وعلیکم۔۔
آصفہ بات کررہی ہیں؟؟
وعلیکم سلام ۔۔۔
اپ کون؟؟
جی میں گلنار اشفاق بات کرہی ہو نسرین کی پارٹی میں ملاقات ہوئ تھی اپ سے تارا کی ماما۔۔
اوہ۔ہاں ہاں یاد آیا کیسی ہیں آپ؟؟
اللہ کا شکر اپ سے ایک سلسلے میں ضروری بات کرنی تھی جبھی نسرین سےاپکا نمبر لیا میں نے۔۔
جی جی بولے اپ آصفہ بیگم نے کافی حیران لہجہ میں پوچھا۔۔
وہ دراصل میں اپکے گھر آنا چاہ رہی تھی اپنے اکلوتے بیٹے راجا کیلیے اپکی بھتیجی صاحبہ کا ہاتھ مانگنے اگر اپکی اجازت ہوتو۔۔
گلنار بیگم کی بات سن کے آصفہ بیگم پل بھر کیلیے خاموش ہوئ اور انکی خاموشی کو محسوس کرکے گلنار بیگم پھر بولی ۔۔۔۔
لگتا ہے اپکو میری بات اچھی نہیں لگی۔۔۔
نہیں ایسی بات نہیں ہے میں اپکو کل کال کرکے جواب دیتی ہو۔
آصفہ بیگم نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا۔۔
جی جیسے اپکو سہولت لگے میں انتظار کروگی اپکی کال کا اللہ حافظ۔۔۔
آصفہ بیگم نے کال کٹ کرکے بی جان کے کمرے کی راہ۔لی۔۔
#
تارا تم نے کبھی اپنے بھائ کو اپنی موم کے بارے میں نہیں بتایا یہ تم بتا رہی تھی تمہاری دادی بھی ہیں انہیں کچھ نہیں بتایا۔۔
ازان اور تارا ٹیرس پہ کھڑے کافی پی رہے تھے جب ازان نے بات چھیڑی۔۔۔
بھائ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں ازان اگر میں انہیں ہلکا سا بھی اشارہ کرتی یہ عدیل۔کی حرکتوں کی بارے بتاتی تو وہ عدیل کا تو جو کرتے کرتے مگر ماما کو بھی گھر سے باہر نکال دیتے ماما ہم سے شروع سے ہی دور رہی انکی پاڑٹیز انکی گیڈرنگ انکی۔ماڈلنگ ان سب کی ویلیو زیادہ تھی ۔
پاپا کی بھی اکثر اسی بات پہ ماما سے لڑائ ہوتی تھی بھائ کا مزاج بچپن میں ہ توجہ نہ ملنے سے بگڑا ہے وہ بہت سیریس رہتے ہیں گھر میں زیادہ تر آفس یہ پھر اپنے باہر کے کام شو آرگنائز وغیرہ میں لگے رہتے ہیں ایک دادی ہیں جن سے وہ تفصیلی بات کرتے ہیں ہر ٹوپک پہ یہ۔پھر مجھ سے کبھی ماما سے وہ کلوز نہیں ہیں۔۔۔
تو تمہاری دادی جب کہاں تھی ؟؟
جب تمہاری ماما نے لاسٹ ٹائم تمہیں عدیل کیساتھ بھیجا تھا۔۔
ازان کے پوچھنے پہ تارا نے ایک لمبی سانس لی اور کہا۔۔
وہ اپنے قریبی رشتے داروں میں گئ ہیں ایک مہینے کیلیے ۔۔
ہمم تم اس رات گھر نہیں پہنچی تو تمہاری ماما اور تمہارا بھائ تمہیں ڈھونڈ رہے ہونگے تارا اگر تم بولو تو میں تمہیں تمہاری مام کے پاس لے کر چلتا ہو اگر تم۔بولو۔۔
نہیں ازان مجھے پتہ ہے کچھ تو ایسے بات ہے جو ماما عدیل کی ہر بات مانتی ہیں اور ابھی تک عدیل انہیں جھوٹی سچی کہانی بتا چکا ہوگا کے میں کیسے غائب ہوئ اور اس سے ذیادہ مرچ مسالا لگا کے ماما نے بھائ کو بتایا ہوگا جبھی ابھی تک انہوں نے مجھے ڈھونڈا نہیں ورنہ اب تک بھائ مجھے ڈھونڈ نکالتے۔۔پہلے میں اپکے گھر جاونگی جب مجھے وہاں بہو کا رتبہ مل۔جائے گا تب اپنے گھر۔۔۔
اوہ بڑا یقین ہے اپنے بھیا پہ۔
ازان نے مسکراتے ہوئے تارا پہ ٹونٹ کی ۔
تارا نے مسکرا کے ازان سے خالی کافی کا مگ لیا اور اندر بڑھتے ہوئے کہا۔۔
اور بھائ سے زیادہ اب پہ ۔۔۔
تارا بول کے جانے لگی جب ازان نے اسکی کلائ پکڑ کے اسے اپنی۔جانب کھینچا۔۔
ازان کی نظروں میں جو پیغام تھا تارا اچھے سے سمجھ رہی تھی۔۔
ازان نے اس کے ہاتھ خالی مگ لے کے سائٹ پہ رکھے اور اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے کہا۔۔
اگر ایسا ہے تو پھر مجھے روکا کیوں اس دن اپنی سانسیں محسوس کرنے کیلیے۔۔۔
ازان کی بات کا تارا کے پاس کوئ جواب نہیں تھا اس لیے وہ اپنا چہرہ جھکا گی ۔۔تارا کا بلش کرتا چہرہ ازان کے سوئے جزبات ایک بار پھر جگانے لگا ازان نے دھیرے سے اسکا چہرہ اوپر کیا اور پورے حق سے تارا کے لبوں پہ۔جھک گیا۔۔ازان کا ایسا کرنا تھا کے تارا نے اس کی شرٹ کو مضبوطی سے تھام لیا ۔دھیرے سے ازان نے اسکو کمر سے تھام کے اور خود سے لگایا جب تارا کو اپنا سانس رکتا محسوس ہوا جب اس نے ازان کو دھکا دے کے خود سے دور کیا۔۔
ازان نے اسے شکوہ نظروں سے دیکھا اور کہا۔۔
ابھی رہتی ہو لپسٹک تھوڑی سے تمہاری ہونٹوں پہ پوری صاف کرنے دو ۔۔ازان کے بولنے پہ تارا شرما کے کمرے سے چلی گئ اور ادھر ازان جو تارا کے پیچھے جانے والا تھا اپنے نمبر پہ آتی کال۔سننے لگا۔۔۔۔۔
کال سنتے ہی ازان کے ہاتب پاوں پھولنے لگا اس نے کال۔کٹ کی اور دوڑتے ہوئے تارا کے پاس جاکے کہا۔۔
تارا ماما کی طبیعت بہت خراب ہوگئ ہے مجھے جانا پڑے گا اندر سے دروازہ اچھی طرح لاک کرلو اور یہ۔لو اے ٹی ایم۔کارڈ کسی بھی چیز کی ضرورت ہو جاکے لے لینا مین شاید اج رات ماما کے پاس ہی رکو۔۔
یہ بول کے ازان بنا تارا کی بات سنے تیزی سے فلیٹ سے نکل گیا۔۔
#
گلنار بیگم اور راجا لنچ کرہے تھے جب گلنار بیگم نے کہا۔
میں نے بات کری ہے راجا آصفہ سے کل تک وہ گھر والوں سے مشورہ کرکے بتائینگی۔۔
مشورہ کس چیز کا اپنے نے انہیں بتایا نہیں میں پسند کرتا ہو انکی۔بھتیجی کو؟؟
بتایا ہے مگر راجا ایسے ایک بار ہی کال کرنے پہ تھوڑی وہ ہمیں اپنے گھر بلا لینگی ظاہر سی بات ہے صاحبہ کی امی سے گھر کے بڑے بزرگ سے مشورہ کرکے بلائئنگی۔۔
ہممم چلے کل تک کا ویٹ کرتے ہیں ویسے ماما اپ جب اتنی گھریلو باتیں کرتی ہیں خاص کر بڑے بزرگ کی۔احترام وغیرہ کی تو مجھے بہت ہنسی آتی ہے۔۔
راجا نے باقاعدہ یہ بات ہنستے ہوئے کہی۔۔
راجا کی بات سن گلنار بیگم کے دل میں ایک بانس سی چبی اور شاید بانس بھی وہ جو انکی خود کی گھونپی ہوئ تھی جسے چاہ کے بھی وہ نکال نہیں سکتی تھی۔۔
راجا لنچ کرچکا تو اپنے کمرے کی جانب بڑھنے لگا جب پیچھے سے گلنار بیگم نے آواز لگاتے ہوئے کہا۔۔
یہی بیٹھ جاو راجا تھوڑی دیر میرے پاس میں اکیلی ہو۔۔
کاش ماما یہ بات اب جب سمجھ جاتی جب ہم پاپا کے بعد اکیلے تھے اور اپ پارٹیز میں بزی تھی ج ہم۔بھی اپ سے ایسے ہی منتیں کرتے تھے اور بدلے میں ہمیں اپ سے کیا ملتا تھا صرف ایک چماٹ۔۔
یہ بول کے راجا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا اور پیچھے گلنار بیگم کے پاس صرف خاموشی تھی۔۔۔
#
سب ہی بی جان کے کمرے میں موجود تھے آصفہ نے گلنار بیگم کی پرپوزل کے بارے سب کو آگاہ کردیا۔۔
میرے خیال میں رشتہ دیکھنے میں کوئ مزاحقہ نہیں تم کیا بولتی ہو ثمرہ ؟؟
بی جان نے اپنی رائے دے کے ثمرہ کی رائے جاننی چاہی۔۔
جیسا اپ بولے بی جان۔۔
خرم بیٹا تم زرا معلومات لے لو لڑکے کے بارے میں۔۔
اماں میں زمان صاحب کی پارٹی میں دو ایک بار مسسز اشفاق کے بیٹے کو دیکھا ہے کافی ڈیسنٹ سا لڑکا ہے اور اشفاق صاحب جب زندہ تھے ایک دوبار ان سے ملاقات ہوئ تھے اچھے انسان تھے وہ ۔۔
ٹھیک ہے بی جان اپ پھر جو کرے فیصلہ میں صاحبہ کو بتا دو اس بارے میں۔۔
ہاں ثمرہ تم بتاو اسے کے کل یونی کی چھٹی کرے اور آصفہ تم کل کا ٹائم دے دو۔۔
آصفہ بیگم نے اسی وقت گلنار بیگم کو کال کرکے کل۔آنے کو کہا۔۔
ثمرہ نے جب صاحبہ سے بات کری تو اس نے مرضی مشرقی لڑکیوں کی طرح ثمرہ پہ چھوڑی ۔۔
مگر رات بھر راجا کی کی آنے والی کال شرم کے باعث صاحبہ نے ریسو نہیں کی۔۔۔۔
زرغہ کے چہرے پہ صاحبہ کے رشتے کا سن کے شیطانی مسکراہٹ ائ وہ جو سمجھ رہی تھی راجا اسکا دیوانہ۔ہے اور صاحبہ کیساتھ خالی ڈرامہ کررہا ہے اسکا یہ۔بھرم بہت جلد توٹنے والا تھا ۔۔
راجا نے سفید کاٹن کا سوٹ پہنا تھا اس پہ۔اسکی گرین آنکھیں اسے کسی سلطنت کا شہزادہ بتا رہی تھی گلنار بیگم نے بھی اج طریقے کی ڈریسنگ کی تھی دوپہر ایک بجے وہ لوگ صاحبہ کے گھر پہنچے ۔۔
راجا سب کو اچھا لگا اور ادھر صاحبہ کو دیکھ کے راجا ایک دم کھڑا ہوگیا اور پھر سب کی نظریں اپنے اوپر محسوس کرکے جلدی سے بیٹھا تو سب مسکرا گئے۔۔
۔وائٹ سوٹ اور پنک کلر کے ڈوپٹہ میں وہ راجا کی نظروں میں تھی جبکہ زرغہ کا اسطرح راجا کا صاحبہ کو دیکھنا کچھ خاص پسند نہیں آیا۔۔
اس سارے معملے سے زرقان لاعلم تھا رات کو وہ دیر سے آیا اورصبح ضروری کام سے جلدی چلا گیا۔
دوپہر میں جب وہ آیا تو انجان لوگوں کو دیکھ کے وہی ہال میں رک گیا مگر اسکے جھٹکا جب لگا جب اسے پتہ چلا کے وہ لوگ صاحبہ کے رشتے کیلیے آئے ہیں۔۔
زرقان نے ناراض نظروں سے صاحبہ کو دیکھا اور گلنار بیگم کو سلام کرنےلگا مگر جب وہ راجا سے ہاتھ ملانے لگا تو ایک دم ٹھٹکا اور اس نے راجا کو دیکھ کے کہا۔۔
“اپ تو وہ ہی ہیں نہ جو اس دن مال میں صاحبہ سے ٹکرائے تھے۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
See translation
