Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
تارا تارا۔۔۔
گلنار بیگم کی اواز پورے اشرف ولا میں گونج رہی تھی۔۔۔
تارا جو ابھی ابھی نماز پڑھ کے فارغ ہوئ تھی اپنی مما کی اواز سن کے ڈورتی ہوئ نیچے ائ۔۔
جی جی ماما ۔۔
گلنار بیگم نے اپنی نازک سی ساڑھی کو سنبھالا اور اگے اتے ہوئے کہا۔۔
تم نے عدیل کو باہر اوٹنگ کا منع کیا۔۔؟؟
گلنار بیگم کے منہ۔سے عدیل کا نام سن کے تارا سمجھ چکی تھی کے گلنار بیگم کے اس غصیلی لہجہ کی وجہ عدیل ہے جیسے ابھی تھوڑی دیر پہلے تارا نے فون کرکے منع کیا کے نہ تو وہ اس کے ساتھ کہی جائے گی اور نہ وہ اس کو اج کے بعد کال کرے۔۔
ہاں ماما میں نے منع کیا ۔۔
کیوں منع کیا تم نے گلنار بیگم نے غصیلے لہجہ میں تارا سے پوچھا۔۔۔
کیوں کے مجھے نہی پسند یہ سب ماما کتنی بار اپکو کہو۔۔
کبھی اپ اپنی کسی فرینڈ کے بیٹے کو میرے پیچھے لگادیتی ہیں کبھی کسی کو۔۔
ماما میں اپکی بیٹی ہو کوئ گڑیا نہی جیسی کھلونے کے طور پہ اپ کسی کو بھی دے دیتی ہیں کےجاو میری بیٹی سے دل بہلاو۔۔
تارا میری جان اس میں برائ کیا ہے۔۔
دوسروں سے میل جول رکھوگی جبھی لوگ تمہاری طرف اٹریکٹ ہونگے۔۔
ماما میں کسی کو بھی اپنی طرف اٹریکٹ کرنا نہی چاہتی میں جیسی ہو ٹھیک ہو مجھے اپکی سوسائیٹی اپکی دوستوں کے بیٹوں سے کوئ مطلب نہی پلیز مجھے میرے حال پہ چھوڑ دیے۔۔
گلنار بیگم نے بھر پور نظروں سے تارا کو دیکھا اور کہا۔
حال پہ۔چھوڑ دو تمہیں تارا تاکہ ابھی تو تم یہ دو گز کا ڈوپٹہ اوڑھ کے پھرتی ہو اس سے زیادہ تمہیں تمہارے حال پہ چھوڑا تو تم تو شرعی پردہ کرلوگی۔
ہاں تو ماما اس مین برائ کیا ہے۔۔
عورت کو اپنا ستر ڈھانپنے کا حکم ہے میں تو پھر بھی ڈوپٹہ اورھتی ہو صرف اپکی بے جا ضد کی وجہ سے میں نے برقعہ اتارا ۔۔
گلنار بیگم نےایک ائیبرو اچکا کے تارا کو دیکھا اور کہا۔
تم اپنی ماں کے پہناوے پہ چوٹ کررہی ہو تارا۔۔
بلکل ماما اپ اپنا لباس دیکھے دو جوان بچوں کی ماں ہیں اب اپکی ساڑھی اتنی باریک ہے کے مجھے اپکو دیکھتے ہوئے شرم محسوس ہو رہی ہیں تو سوچے اس گھر کے نوکروں کا کیا حال ہوگا۔۔
تارا زبان کو لگام دو اپنی۔۔گلنار بیگم کا ہاتھ ہوا میں اٹھا مگر تارا کا گال انکے ٹھپڑ سے محفوظ رہا۔۔
گلنار اشرف کا ایک نام ہے تارا مت بھولو۔۔اور تم ہوتی کون ہو میرے پہناوے پہ چوٹ کرنے والی۔۔
میں اپکی بیٹی ہو ماما کہتے ہیں بیٹی ماں کی پرچھائ ہوتی ہے مگر ماما مجھے اپکی پرچھائ نہی بننا ۔۔جیسے مجھے کوئ حق نہی اپکےلباس پہ تنقید کرنے کا ایسے اپکو بھی حق نہہی میرے ڈوپٹہ پہ تنقید کرنے کا اپکا راستہ اور میرے راستہ بلکل الگ ہے ماما مجھے نفرت ہے اپکی۔اس چمک دھمک کی دنیا سے مجھے ان سب میں مت گھسیٹے ماما ورنہ ۔۔۔
ورنہ کیا گلنار بیگم نے اونچی اواز میں کہا۔۔
ورنہ ماما میں ہمیشہ کے لیہ پاپا کے پاس چلی جاونگی اپ رہیے گا پھر اپنے بیٹے کیساتھ جو اپکی ہی۔کاپی ہے ۔۔
تارا یہ بول کے تیزے سے اپنے کمرے میں چلی گئ اور ادھر تارا کی دادی جو ان دنوں ماں بیٹی کی ساری لڑائ دیکھ رہی تھی خاموشی سے اندر بڑھ گئ۔۔
تارا کے جاتے ہی گلنار بیگم نے پاس رکھا شیشہ کا واس اٹھا کے پوری طاقت سے سامنے دیوار پہ دے مارا اور گھر سے باہر چلی گئ۔۔۔۔۔.
#
دیکھ لو زرغہ مجھے تم میں ٹیلینٹ دیکھا تو میں نے تمہیں افر کی ۔۔ورنہ۔راجا اشرف کو ماڈل کی کمی نہی۔۔
راجا اور زرغہ ایک ریسٹورینٹ میں بیٹھے تھے۔۔اور زیر بحث وہ شو تھا جس پہ زرغہ کو رکمپ واک۔کرنا تھا۔۔۔
راجا اشرف جسکی عمر بھلے 27 سال تھی مگر اسے فیشن کی دنیا کا بادشاہ مانا جاتا تھا وہ جس کو چاہتا جس وقت چاہتا فیش کی دنیا میں لا سکتا تھا اور بدلے میں لڑکیوں کی عزت کو اپنے مطلب سے روندھنا اسکا شوق تھا اور اجکل۔اسکی نظر زرغہ پہ تھی زرغہ وہ پہلی لڑکی تھی جیسے راجا نے خود افر کری تھی تارا کی یونی کا فیشن شو تھا آرگنائزر کی حیثیت سے راجا وہاں پہ تھا جب پہلی بار اس نے تارا کیساتھ زرغہ کو دیکھا اور جبھی سے اسکو افر کررہا تھا ریمپ واک کی راجا اچھے سے جانتا تھا فیشن کی دنیا میں ایک بار جو گھس جائے تو اسکا نشہ اتنی جلدی اترتا نہی لاتا بھی وہ زرغہ کو اپنی مرضی سے اس دنیا میں اور اس دنیا سے زرغہ جاتی بھی تب جب راجا چاہتا ۔۔۔
#
چچی چچی ۔۔۔
زرقان ثمرہ کو اواز دیتا کچن میں ایا جہاں ثمرہ لنچ کی تیاری کررہی تھی۔۔۔۔
ہاں زرقان بولو کیا ہوا۔۔زرقان کے پکارنے پہ ثمرہ کچن سے باہر نکلی۔۔
ارے چچی اپنے صاحبہ کو دیکھا ہے میں نے پورا گھر دیکھ لیا مگر مجھے کہی دیکھ نہی رہی۔۔
ارے زرقان وہ تو اوپر ہے چھت پہ اپنے چوزوں کے پاس۔
ثمرہ نے زرقان کو بولا اور دوبارہ کچن میں چلی گئ۔۔
زرقان صاحبہ کو اوازیں دیتا ہوا اوپر چھت پہ گیا جب وہ اسے پانی کی ٹنکی کے پیچھے نظر ائ اور اسکے ہاتھ میں ایک ڈنڈا تھا۔۔
زرقان اس کی طرف گیا اور کہا۔۔
ارے یار تمہں میں کب سے ڈھونڈ رہا ہو اور تم ہوکے چھت پہ۔ہو۔
زرقان کے بولنے پہ صاحبہ نے فورا اس کے منہ پہ۔ہاتھ رکھا اور کہا۔
آہستہ بولو ورنہ وہ پھر بھاگ جائے گی۔۔
یہ بول۔کے صاحبہ نے زرقان کے منہ پہ سے ہاتھ ہٹایا اور دوبارہ چھت پہ دیکھنے لگی جب زرقان نے دھیمی اواز میں صاحبہ سے پوچھا کون بھاگ جائے گی صاحبہ۔۔
ارے بلی زرقان پتہ ہے دوبارہ میرا چوزہ کھا گئ اج تو میں اسے نہی چھوڑونگی۔۔
صاحبہ کے بولنے کی دیر تھی کے زرقان نے ہونقوں کی طرح منہ کھولے پہلے صاحبہ کو دیکھا اور غصہ سے اپنی مٹھیاں بھینچی اور صاحبہ کا ہاتھ پکڑ کے اسے نیچے لیجانے لگا صاحبہ ارے ارے کرتی رہ گئ مگر زرقان نے اس کی ایک نہی سنی۔
وہ دونوں نیچے اتر ہی رہے تھے جب ایک دم زرغہ صاحبہ کے سامنے آئ اور غصہ سے پوچھنے لگی۔۔
صاحبہ میری ریڈ لپسٹک تم نے اٹھای۔۔؟؟؟
ہاں اپی وہ ۔۔۔۔۔۔ابھی صاحبہ بات پوری کرتی زرغہ ایک دم چیخ پڑی اور کہا۔۔
ائندہ میری کسی چیز کو ہاتھ لگایا تو ہاتھ توڑ دونگی بورم کہی کی پینڈو بڑی ائ لپسٹک لگانے والی ۔۔۔
زرغہ کے ایسے بولنے پہ صاحبہ کے انسو گرنے لگے زرقان نے جب صاحبہ کو روتے دیکھا تو زرغہ سے کہا۔
یہ کس طرح تم بات کررہی ہو زرغہ ایک لپسٹک تو ہی لی ہے اس نے ۔۔
تم چپ رہو میرے معملے میں بولنے کی ضرورت نہی یہ بول کے زرغہ واپس اپنے کمرے میں گئ اور ادھر صاحبہ زرقان سے ہاتھ چھڑوا کے سیدھا اپنے کمرے میں۔۔۔
جاری ہے۔۔
1
