Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Episode 41 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 41 Part 2
اسلام و علیکم۔۔
پلین کا ڈور کھولتے ہی سرور صاحب اندر داخل ہوئے جیسے دیکھ کے صاحبہ نے سلام کیا سفر کیلیے زرقان کو بیہوش کیا تھا اس لیے ابھی تک وہ بیہوش تھا۔
وعلیکم اسلام ۔۔
سرور صاحبہ کو دیکھ کے ایک منٹ کیلیے چونکا اور کیوں نہیں چونکتا خون کا رشتہ جو ٹہرا ثمرہ کی جھلک تھی صاحبہ۔۔
کوئ پریشانی تو نہیں ہوئ تمہیں بیٹا۔۔؟؟
نہیں انکل اللہ کا شکر ہے ۔۔۔
سرور صاحب نے صاحبہ کو گاڑی میں بیٹھنے کو کہا اور زرقان کو ایمبولینس میں گھر کو راونہ کیا۔۔
گاڑی میں خاموشی تھی جب سرور صاحب نے صاحبہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
اپ کا شکریہ بیٹا اپ نے اس طرح میرے بھتئج۔۔۔
اس سے پہلے سرور صاحب صاحبہ کے سامنے اپنا اور زرقان کا رشتہ ض
ظاہر کرتے سرور صاحب کے پاس غفران کی کال آنے لگی۔۔
ہاں پاپا پہنچ گئے اپ گھر؟؟
نہیں بیٹا بس راستے میں ہو۔۔
زرقان بھائ ساتھ ہیں۔۔
نہیں بیٹا انہیں ایمبولینس میں گھر بھیجا اور انکی وائف صاحبہ میرے ساتھ ارہی ہیں۔۔
اپ کب تک اوگے۔۔؟؟
بس پاپا دو دن لگینگے ۔۔۔
ٹھیک اجاو خیر سے پھر بات ہوگی۔۔
اوکے پاپا اللہ حافظ۔۔۔
زرغہ نہیں جانتی قاسم گھر کب ایا وہ سو کے اٹھی تو قاسم گھر سے جاچکا تھا جو کچھ اسے نیلم کے بارے میں زالفقار صاحب سے پتہ چلا جہاں اسے نیلم کے جانے کا بہت دکھ ہوا وہی قاسم کی اندرونی حال کا بھی باخوبی اندازہ تھا۔۔
کہتے ہیں ہر برے آدمی یہ بری عورت کے برے کرادر کے پیچھے کوئ نہ کوئ وجہ ہوتی ہے ہمیں صرف اسکی برائ نظر اتی ہے اسکے پیچھے کی وجہ نہیں قاسم برا تھا مگر کیوں تھا یہ زرغہ نے کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی ۔۔
زرغہ نے اٹھ کے ناشتہ کیا اورقاسم کی والدہ کے پاس بیٹھ کے خوب باتیں کی اپنے خول میں رہنے والی زرغہ اج قاسم کے گھر والوں کیساتھ گھلنے ملنے لگی پلوشہ اور بلال سے اسکی کافی انڈرسٹینگ ہوگئ تھی مگر قاسم کے والدین سے وہ ہمیشہ کتراتی تھی۔۔
زرغہ کا یہ روپ سب کیلیے اچھا تھا زرغہ بھی اج بہت ہلکی پھلکی ہوگئ تھی اللہ نے اسکو اسکا راستہ دیکھا دیا تھا۔۔۔
سب ہی ڈنر کرکے اپنے اپنے کمروں میں جاچکے تھے مگر ایک وہ تھی جو قاسم کا ویٹ کررہی تھی جس نے اج قاسم کی دی ہوئ پایل پہنی تھی اپنے اور قاسم کے درمیان اج وہ ایک رشتہ بنانے والی تھی۔۔
9 سے 10 اور 10 سے 11 بج گئے مگر قاسم نہیں آیا قاسم کا انتظار کرتے کرتے زرغہ وہی ہال کے صوفے پہ سوگئ۔۔
قاسم جو اپنے سارے برے کام آہستہ۔آہستہ بند کررہا تھا ان سب میں اسے نقصان بہت ہورہا تھا مگر اب اسے پراوہ نہیں تھی وہ یہ سب صرف زرغہ کیلیے کررہا تھا۔۔
ساڑھے 11 بجے کے قریب قاسم گھر آیا ہمیشہ کی طرح وہ یہ ہی سمجھ رہا تھا کے سب سوگئے ہونگے اپنی ماما کو اس نے جاگنے کو سختی سے منع کرا تھا ایک تو انکو شوگر تھی دوسرا ذیادہ ٹھنڈ ہونے کی وجہ سے انکی طبیعت خراب ہوجاتی تھی۔
قاسم مصروف انداز میں اپنا موبائل یوز کرتا ہوا ہال میں سے گزرنے لگا جب اسکی نظر ہال میں موجود صوفے پہ سوئ زرغہ پہ پڑی۔۔۔
لائٹ پیازی کلر کے سوٹ میں نک سک سے تیار وہ قاسم کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہوچکی تھی قاسم نے اس کے حسین سراپے پہ ایک بھر پور نظر ڈالی مگر پیروں میں موجود اپنی دی ہوئ پایل کو دیکھ کے قاسم حیران رہ گیا زرغہ کے اور قریب اکے اس نے دوبارہ غور سے زرغہ کے پاوں میں موجود پایل کو دیکھا یہ سوچ کے کہی اسکا دھوکا نہ ہو۔
مگر نہیں وہ دھوکا نہیں تھا زرغہ کے پاوں میں واقعی قاسم کی دی ہوئ پایل تھی قاسم پنچوں کے بل بیٹھا اور دھیرے دھیرے زرغہ کی پہنی پایل پہ ہاتھ پھیرنے لگا۔
قاسم کے لبوں پہ ایک دلکش مسکراہٹ ائ ۔وہ جیسی ہی زرغہ کے ماتھے پہ اپنے لب رکھنے لگا زرغہ ہلکا سا کسمسائ تو قاسم فورا کھڑا ہوا زرغہ نے اپنی نیند میں دوبی آنکھیں کھولی تو سامنے قاسم کو کھڑا پایا زرغہ فورا اٹھی اور کہا۔۔
اب کہاں رہ گئے تھے میں کب سےاپکا انتظار کررہی تھی۔۔؟؟؟
اچھا مگر کیوں میں نے تو نہیں کہا۔۔۔
قاسم نے سینے پہ ہاتھ باندھ کے اپنے سامنے کھڑی اس جھلی کو دیکھا۔۔۔
وہ۔میں۔۔ی۔۔میں نے سوچا اج کھانا ساتھ کھاتے ہیں۔۔
زرغہ جواز پیش کیا ۔۔
اچھا چلو لے آو میں ہاتھ دھولو ۔۔
زرغہ جان بوجھ کے اپنا پاوں زور زور سے زمین پہ رکھ رہی تھی تاکے قاسم پایل کی طرف متوجہ ہو مگر قاسم بھی قاسم تھا وہ بھی زرغہ کی پایل کی اواز کو جان بوجھ کے اگنور کرکے کھانا کھانے لگا زرغہ بھی دل مارکے کھانا کھانے لگی اور سوچنے لگی ۔۔
پایل کی آواز سن کے یہ مجھ سے پوچھ کیوں نہیں رہے کے پایل کی آواز کہاں سے ارہی ہے اور ادھر زرغہ کے چہرے کی مایوسی دیکھ کے قاسم بہت خوش تھا فائنلی اسے اسکی محبت ایک بار پھر مل چکی تھی زرغہ بھی اس رشتہ کو اگے بڑھانا چاہتی تھی یہ سوچ ہی قاسم کیلیے خوشی کا باعث تھی۔..
قاسم نے کھانا کھایا اور خاموشی سے اپنے کمرے میں چلاگیا کھانے کے برتن سمیٹتی زرغہ کو تو مانو اگ لگ گی اس نے برتن اٹھاتے ہوئے ٹیڑھے میڑھے منہ بناتے ہو ئے قاسم کی نکل اتار کے بڑبڑانا شروع کردیا۔۔۔۔
جب تمہیں مجھ سے محبت ہوجائے مجھے شوہر کا درجہ دینے کا دل راضی ہو تو یہ پایل پہن لینا۔۔
اب کیا کانوں میں دو دو کلو روئ ٹھوسی ہوئی ہے جو پایل کی آواز انکے کانوں میں نہیں ارہی یہ پھر پچھل پیری اس حویلی میں رہتی ہے جو چھن چھن کرتی پھر رہی ہے۔۔
زرغہ غصہ میں کمرے میں داخل ہوئ قاسم صوفے پہ بیٹھ کے کسی سے بات کررہا تھا ایک غصیلی نظر زرغہ نے قاسم پہ ڈالی اور بیٹھ کے جیسی ہی اپنی پایل اتارنے لگی قاسم نے تیزی سے اگے بڑھ کے اسے اپنی باہنوں میں اٹھالیا اور گردن ٹیرھی کرکے کال سننے لگا۔۔
جی جی حامد صاحب پھر کل ملتے ہیں۔۔
یہ کہہ کے قاسم نے جیسے تیسے کرکے اپنا موبائل صوفے پہ پھینکا اور زرغہ کے بیڈ پہ لیٹاکے اس پہ جھک کے کہا۔۔
اتارنے کیوں جارہی تھی پایل۔۔
اوہ تو یاد آگیا اپکو میں نے پایل پہنی ہے۔۔
زرغہ نے اتنا سڑا ہوا منہ بناکے یہ بات کہی کے قاسم کے مسکراتے ہوئے اسکے لبوں کو چوم لیا۔۔
بے شمار حیا کے رنگ زرغہ کے چہرے پہ بکھرنے لگے۔۔
قاسم نے اسے تھوڑا اور تنگ کرنے کا سوچا اور کہا۔
ویسے یہ پایل تم نے اج پہنی کیوں ہے۔۔؟؟
قاسم کا کہنا تھا کے زرغہ کا چہرہ جہاں ابھی چند لمحے پہلے حیا کے رنگ تھے اب وہاں غصہ تھا۔
مجھے شوق چڑھا تھا پچھل پیری بنکے پوری حویلی میں چھن چھن کرو ہٹے میرے اوپر سے۔۔
اچھا جی مگر مجھے تو لگا تم نے مجھے ایمپریس کرنے کیلیے پہنی یہ کہہ کے قاسم نے زرغہ کی گردن پہ۔اپنے لب رکھے۔۔
کوئ نہیں اپکو امپریس کرنے کیلیے نہیں پہنی وہ تو اپ نے کہا تھا اپ سے محبت ہو جائے۔۔
زرغہ بے دیھانی میں بول کے شرم سے قاسم کے سینے میں منہ چھپا گئ۔قاسم نے مسکرا کے اسکے دونوں گالوں پہ باری باری اپنے لب رکھے اسے کمر سے تھام۔کے اور خود سے لگایا اور کہا۔
ائ۔لو یو زرغہ۔۔
ائ لو یو ٹو قاسم ۔۔
سچ میں زرغہ یہ پوچھتے ہوئے قاسم تھوڑا سا سنجیدہ ہوا۔۔
جب اپ اپنی اتنی دردناک محبت پہ ایک بار مجھ جیسی لڑکی کو محبت کا درجہ دے سکتے ہیں تو مین اپنا ماضی جو اذیت ناک تھا اسے بھلا کے اپنی زندگی کی شروعات اپکے کیساتھ کیوں نہیں کرسکتی۔۔
نیلم کے بارے میں کس نے بتایا۔۔
دادو نے میں خود گئ تھی انکے پاس پوچھنے زرغہ نے قاسم کا چہرہ اہنے ہاتھوں میں تھاما اور کہا۔۔
میری کسی نیکی کے بدلے اپ مجھے ملے ہیں قاسم ورنہ مجھے نہیں پتہ گھر سے بھاگی ہوئ لڑکیوں کا کیا انجام ہوتا ہے۔۔
قاسم کی آنکھوں میں آنسو تھے جو وہ کمال مہارت سے چھپا کےا زرغہ کے لبوں پہ جھک گیا تھوڑی دیر بعد اس نے زرغہ کے لب آزاد کیے اور اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں جکڑتے ہوئے کہا۔۔
نیلم سے میں کتنی محبت کرتا تھا یہ مجھے نہیں پتہ مگر زرغہ قاسم قاسم خان کا عشق ہے یہ بول کے قاسم زرغہ پہ جھک گیا۔۔۔
دونوں کو ہی انکی منزل کا راستہ مل گیا تھا تھوڑی تکلیف کے بعد ہی صحیح مگر اللہ ہمارے لیے جو فیصلہ کرتا ہے وہ ہمیں صحیح لگنے لگتا ہے۔۔
اپنے بتایا نہیں بھائ یہ لڑکی کون ہے بہت اپنی اپنی سے لگتی ہے ایسا کوئ لمحہ نہیں ہوتا بھائ جب وہ زرقان کو اکیلا چھوڑے
سائے کی طرح اسکے ساتھ ہوتی ہے ۔۔
کل زرقان کا کامیاب آپریشن ہوا تھا جس سے یہ ثابت ہوا تھا کے زرقان بھی اب نارمل لائف گزرا سکتا ہے اپنے پیروں پہ کھڑا ہوسکتا ہے ۔۔
صاحبہ کی خوشی کا کوئ ٹھکانہ نہیں تھا وہ جب سے ہاسپٹل میں تھی زرا بھی ٹس سے مس نہیں ہوئ تھی۔۔۔۔
یہ بات میں تمہیں بتا نہیں سکتا سرور وہ کون پ
ہے ہاں مگر تم کوشش کرو تو پتہ لگا سکتے ہو اب تم مجھے جبھی کال کرنا جب تمہیں یہ پتہ لگ جائے کے زرقان کی بیوی کون ہے۔۔؟؟
خرم صاحب کے کال رکھتے ہی سرور صاحبہ کے کمرے میں جانے کا ارادہ رکھتا تھا مگر ہسپتال سے صاحبہ کی کال انے پہ وہ ہسپتال کیلیے نکل گئے۔۔۔
جاری ہے۔۔
