Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Episode 15
No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
اففف میں تنگ اگیا ہو یار کہاں پھنسا دیا تو نے مجھے قاسم۔۔
راجا اور قاسم اپنے آفس میں بیٹھے تھے جب راجا کے نمبر پہ زرغہ کی کال انے لگی کافی بار وہ کال کٹ کرچکا تھا مگر راجا کو زرغہ کوئ ڈھیٹ ہڈی معلوم ہورہی تھی جو کال کری جارہی تھی۔۔
یار تو اج اس سے فائنل بات کر اپنا پلین اسٹارٹ کرنا زیادہ ٹائم نہیں ہے ہمارے پاس ۔۔
قاسم کے بولنے پہ راجا نے زرغہ کی کال ریسیو کی اور اسے یونی کے باہر انے کو بولا۔۔۔
دس منٹ کے بعد راجا زرغہ کو پک کرچکا تھا اب وہ دونوں ساحل سمندر پہ تھے دونوں ایسی سنسان جگہ پہ بیٹھے تھے جہاں کوئ انہیں ڈسٹرب نہیں کرے جب راجا کے سینے سے لگی زرغہ نے کہا۔۔
میری کال کیوں ریسیو نہیں کررہے تھے تم راجا کب سے تمہیں کال کررہی تھی کیا دل بھرگیا مجھ سے۔۔
۔زرغہ نے چہرہ اٹھا کے بھیگی انکھوں سے راجا سے شکوہ کیا۔۔
راجا نے گہری سانس لی اور زرغہ کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے اور کہا۔۔
اج تو یہ بات بول دی ہے زرغہ ائندہ نہیں بولنا میرا دل تم سے کبھی نہیں بھر سکتا محبت کرتا ہو تم سے شادی کرنا چاہتا ہو تم سے مگر شاید میری قسمت میں تمہارا ساتھ نہیں اس لیے خود کو تیار کررہا ہو تاکے تمہارے بغیر رہ سکو ۔۔
راجا میں بھی تم سے بہت محبت کرتی ہو نہیں رہ سکتی تمہارے بغیر۔۔
تو پھر کچھ کرو زرغہ تمہاری شادی ہونے والی ہے میں نے تو سوچا تھا اج کل جو میرا دوست اپنی نیو فلم کے لیے کسی خوبصورت چہرہ کی تلاش کررہا ہے اسے تمہارا نام دے دو مگر تم تو شادی کررہی ہو وہ بھی۔ایک دو مہینے کے اندر اندر۔۔
راجا تم اپنے گھر والوں کو بھیجو نہ میرے گھر رشتہ لےکر۔۔
زرغہ میں اپنی ماما کو بھیج دو رشتہ لے کر مگر وہاں اگر انکے ساتھ کوئ بھی بدمزگی ہوئ یہ۔انہیں منع کیا گیا تو نہ۔تو وہ دوبارہ جائنگی رشتہ لے کر اور نہ ہی وہ تمہیں قبول۔کرینگی ۔۔
تو تم۔بتاو میں کیا کرو راجا میں نے اگر شادی سے انکار کیا تو بہت بڑا طوفان اجائے گا پاپا کے جانے کے بعد ماما نے ہی ہمیں سنبھالا ہے اور تایا تائ کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے اس میں۔۔۔
دیکھو میرے پاس ایک پلین ہے اس سے تم پہ وقتی غصہ آئے گا مگر بعد میں سب ٹھیک ہوجائے گا اور بعد میں انہیں تمہیں قبول بھی کرنا پڑے گا مگر تمہیں ایک قربانی دینی ہوگی۔۔
کیسی قربانی راجا میں تمہارا ساتھ پانے کے لیہ کچھ بھی کرسکتی ہو تم بتاو تو۔۔
زرغہ کے پوچھنے پہ راجا نے اس اپنا پلین بتایا جیسے سن کے زرغہ پریشان ہوئ اور کہا۔
مگر راجا ماما برداشت نہیں کرپائنگی۔۔
ارے یار تھوڑی تو قربانی دو میں بھی دونگا نہ۔۔
راجا کے بولنے پہ زرغہ سوچنے پہ مجبور ہوگئ ادھر راجا کو اپنی منزل اور قریب اتی محسوس ہوئ۔۔
#
دراوزہ ناک ہونے پہ اذان نے پلٹ کے دیکھا تو زمان صاحب کو کھڑا پایا۔۔
ارے پاپا اپ وہاں کیوں کھڑے ہیں اندر ائے نہ۔۔
اذان کے بولنے پہ زمان صاحب مسکراتے ہوئے اندر ائے اور کہا۔۔
بزی تو نہیں ہو ازان ۔۔؟؟
نہیں پاپا اب بولے کوئ کام تھا تو مجھےبلا لیتے۔۔۔۔..
ارے نہیں یار سوچا اپنے دوست سے تھوڑی دیر باتیں کرلو۔۔زمان صاحب کے بولنے پہ اذان مسکرایا اور کہا۔۔
شیور ڈیڈ بولے۔۔۔
تارا کو پسند کرتے ہو ؟؟
زمان صاحب کے سوال پہ اذان ایک بل کیلئے حیران ہوا اور کہا۔۔
اگر کرتا ہو بھی ڈیڈ تو پسند نہیں اس سے محبت کرتا ہو۔۔
اذان کے جواب پہ زمان صاحب شاکڈ ہوئے اور کہا۔۔
اگر ایسا ہی تھا تو تم نے عیشال کیلیے اپنی پسندیدگی ظاہر کیوں کی ہمارے گھر کا ماحول ایسا تو نہیں کے ہم تمہاری پسند کو اہمیت نہیں دیتے۔۔
پاپا جب عیشال سے منگنی ہوئ میں جب بھی عیشال کو پسند نہیں کرتا تھا اور تارا میری زندگی میں منگنی کے بعد ائ ہے۔۔۔
اگر تم عیشال کو پسند نہیں کرتے تھے تو منگنی کے لیے ہاں کیوں کی۔۔۔
کیوں کے پاپا وہ اپکو بہو کے روپ میں پسند تھی تو بس اپ کی خوشی کے لیے میں نے اپنا زندگی کا فیصلہ کیا۔۔۔۔
واٹ ربش اذان میں تو عیشال سے ملا ہی پارٹی میں ہو مجھے تو نسرین نے کہا کے تم انٹرسٹ ہو ۔۔
مگر ڈیڈ مجھے تو ماما نے کہا کے اپ چاہتے ہیں۔۔۔
اوکے نیچے او ابھی فورا زماں صاحب نیچے جانے کیلیے اٹھے ۔۔
ڈیڈ ڈیڈ میری بات سنے۔۔اذان انکے پیچھے نیچے بھاگا مگر کوئ فائدہ نہیں ہوا۔۔
نسرین نسرین۔۔؟؟؟
زمان کی غصیلی اواز لانج میں گونجی۔۔
نسرین جو کچن میں میڈ کو ہدایت دے رہی تھی بجلی سی رفتار کیساتھ لانج میں پہنچی تو زمان صاحب کو کافی غصہ میں کھڑا پایا
اذان بھی انکے برابر میں گردن جھکا کے کھڑا تھا۔۔
کیا بات ہے زمان اپ غصہ میں ہیں۔۔۔
نسرین بیگم کا بولنا تھا کے زمان صاحب ان کے قریب ائے اور کہا۔۔
عیشال کس کی پسند ہے نسرین؟؟؟
زمان صاحب کے پوچھنے پہ نسرین بیگم نے اپنا حلق تر کیا اور کہا۔۔۔
وہ۔۔۔زما۔۔۔اپ م۔۔
اس سے پہلے۔نسرین بیگم۔اٹک اٹک کے اپنی بات مکمل۔کرتی ایک بار پھر زمان صاحب نے کہا جو پوچھا ہے وہ بتاو اور کلیئر بتاو عیشال کو کس کی پسند پہ تم نے اپنی بہو بنانے کا فیصلہ کیا۔۔
زمان اپ میری بات سنے عیشال بہت اچھی لڑکی ہے وہ بہت سوٹ کریگی ہمارے اذان کیساتھ۔۔۔
اوہ نسرین بیگم۔
تم کو کس نے حق دیا کے کسی کی زندگی کا فیصلہ کرو۔۔زمان صاحب نے گھور کے نسرین بیگم کو کہا۔۔۔
اذان بیٹا ہے میرا زمان۔۔نسرین بیگم نے دھیمی اواز میں کہا۔۔
کیونکہ اج وہ اپنے شوہر اور بیٹے کی نظروں میں جھوٹی ثابت ہورہی تھی۔۔
کاش تمہیں اپنے بیٹے سے زرہ برابر بھی محبت ہوتی تو تم اس لڑکی کا رشتہ اپنے بیٹے سے نہ جوڑتی جیسے کپڑے پہنے کی۔بھی تمیز نہیں اور تو اور تم نے جھوٹ بولا مجھے کے اذان اسے پسند کرتا ہے اور اذان سے میرا نام۔لے کے جھوٹ بولا حد ہے نسرین ۔۔
شادی کوئ بچوں کا کھیل نہیں لڑکا لڑکی دونوں سے انکی مرضی پوچھنے کا حکم ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے ۔۔
میں ماں ہو اچھا برا جانتی ہو زمان ۔۔نسرین بیگم نے کھوکھلی سی دلیل دی۔۔
جب تمہارا بیٹا ہی خوش نہیں تو اچار ڈالو گئ اپنی بہو کا دو انسانوں کا نہیں دو خاندانوں کا رشتہ جڑتا ہے ۔۔
اذان نے ایک شکوہ نظر نسرین بیگم پہ۔ڈالی اور وہاں سے چلا گیا۔۔
جاری۔ہے۔۔۔۔۔۔
