Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Episode 4
No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
لگتا ہے اپنے راجا کو لندن والا شو ارگنائز نہی کرنا۔۔؟؟
قاسم نے وائن کا گلاس اپنے لبوں سے لگاتے ہوئے کہا۔۔
راجا جو کسی لڑکی کیساتھ کسس کرنے میں مگن تھا اور وہاں بیٹھا ہر ادمی کسی نہ کسی لڑکی کیساتھ تھا۔قاسم کے گھر میں اج پارٹی تھی جہاں انے والے ہر مہمان کو عیاشی میسر سی شباب بھی اور کباب بھی۔۔۔۔
قاسم کی بات سن کے راجا لڑکی کے لبوں کو ازاد کرکے سگریٹ سلگاتا ہوا قاسم کے قریب ایا اور کہا۔۔۔
ایسی کوئ لڑکی اج تک پیدا نہی ہوئ جیسے راجا چاہے اور وہ اسے انکار کرے۔۔
زرغہ ان لڑکیوں میں سے نہی جو تم نے اج اس پارٹی میں ہماری عیاشی کے لیہ بلائ ہے اور نہ کوئ مڈل کلاس لڑکیوں جیسی جو مجبوری میں اپنی عزت تک گروی رکھنے کو تیار ہوجاتئ ہے ۔۔قاسم لندن کا شو تو میں ہی ارگنائز کرونگا ۔۔
بس تھوڑا وقت پھر وہ بلبل راجا کے پنجرے میں قید ہوگی۔۔
ارے راجا تو پھر ہمیں بھی اس بلبل کو تھوڑا تھوڑا دانہ ڈالنے دینا ۔قاسم نے یہ کہہ کے انکھ ماری اور ہنس پڑا۔۔
اور راجا نے اسکے قہقہ کا جواب صرف ایک مسکراہٹ سے دیا اور وائن کا گلاس لبوں سے لگالیا۔۔
#####
ہائے ازان بے بی کہاں غائب ہو تم اب تو عید کا چاند ہوگئے ہو۔۔
عیشال بھر پور مغربی لباس کے ساتھ ازان کے سامنے اس کے افس میں موجود تھی۔۔
ازان نے اپنے سامنے کھلا لیپ ٹوپ بند کیا اور غور سے اپنے سامنے کھڑی میک اپ کی دکان کو دیکھا۔اس کئ ماں نے اسکی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ایک بار بھی اسکے دل کی بات جاننے کی کوشش نہہی کی اور ایک بے جوڑ رشتہ۔جوڑ دیا ابھی وہ عیشال کو دیکھ کے یہ ہی سب سوچ رہا تھا کے جب ہی نسرین بیگم کی کال ائ۔۔
عیشال کال اتے ہی ازان کے سامنے بیٹھ چکی تھی۔۔
ازان نے کال پک کی تو اگے سے نسرین بیگم نے کہا۔۔
ازان اج عیشال کو اچھا سا لنچ کرواو اور ساتھ شاپنگ بھی اور چاہو تو لانگ ڈرایئو پہ چلے جانا۔۔۔
نسرین بیگم نے اپنی بات کہہ کے کال کٹ کردی بنا یہ جانے کے ازان کیا چاہتا ہے ۔۔
کال کٹ ہوتے ہی ازان نے ایک لمبی سانس لی اور پھر گھڑی میں ٹائم دیکھا اس کی میٹنگ کا ٹائم تھا۔۔
ازان نے کال کرکے میٹنگ کینسل کی اور عیشال کو لے کے نکل گیا۔۔
چل چلو تارا کب سے تمہاری منتیں کررہے ہیں یار حد ہوتی ہے؟؟
تارا کی ایک دوست نے چڑ کے کہا ۔۔
تارا اپنی تین چار دوستوں کے ساتھ فری پریڈ میں یونی کے گارڈن میں بیٹھی تھی اور جب سے وہ تارا کو باہر لنچ کرنے کیلیے منا رہی تھی۔۔ارے یار رہنے دو اسکے تو اضافی ہی نخرے ہیں۔۔
ان کے درمیان بیٹھی زرغہ نے اپنے بال ایک ادا سے پیچھے کرتے ہوئے کہا۔۔
زرغہ کے کہنے پہ اسکی دوستیں پل بھر کیلیے چپ ہوئ۔۔
زرغہ یہ بول کے اپنے موبائل میں بزی ہوگئ جب تارا نے کہا۔۔
میں نے کسی کو نہی کہا کے میری مینتیں کرو یہ میرے نخرے اٹھاو مجھے اس قسم کی حرکتیں پسند نہی نہ میں نے کبھی یہ کیا کے نکلو گھر سے پڑھنے کیلیے اور اور جاو کہی اور۔۔
تارا کا اشارہ زرغہ کی طرف تھا جو کچھ دن پہلے راجا کیساتھ یونی سے نکلی تھی ۔تارا نے زرغہ کو کلاس بنگ کرتے ہوئے اور اپنے بھائ کیساتھ جاتے ہوئے دیکھا تھا۔۔
اپنے حد میں رہو تارا میری پرسنل لائف مین انٹر فیئر کرنے کی ضرورت نہی۔۔زرغہ نے بھرم ہوتے ہوئے کہا۔۔
بلکل اس طرح تم بھی مجھے جج نہی کرو تو بہتر ہوگا کے میں نخرے دیکھا رہی ہو۔۔
تارا کی بات سن کے زرغہ وہاں سے چلی گئ کیونکہ راجا کا ٹیکس ایا تھا کے وہ یونی کے باہر کھڑا ہے اور اس وقت اسکا راجا کے ساتھ جانا ضروری تھا تارا کی بات کا جواب دینا نہی۔۔
۔۔زرغہ کے جاتے ہی اسکی ساری دوستیں بھی اٹھنے لگی جب تارا نے اپنا بیگ اٹھا کے اپنی دوستوں کے اگے چلتے ہوئے کہا۔۔
جلدی ڈیسایئڈ کرلو کہاں جانا ہے۔۔
تارا کا بولنا تھا کے اسکی ساری دوستیں ہنس پڑی۔۔جب سے زرغہ نے راجا کی گیڈرنگ اپنائ تھی تب سے تارا اسے کھینچی کھینچی رہنے لگی تھی
ازان بے دلی سے کھانا کھا رہا تھا اور عیشال کی فالتو کی بکواس سن رہا تھا عیشال کا ڈریس دیکھ کے اسکا خون پہلے ہی کھولا ہوا تھا ویٹر کی نظریں کھانا سرو کرتے ہوئے بار بار عیشال کی برہنہ ٹانگوں پہ پڑ رپی تھی۔۔
ازان کے نمبر پہ کال آئ جیسے سننے وہ ریسٹورنٹ کے گارڈن ایریا کی طرف گیا ۔ازان اپنی باتوں میں مگن تھا جبھی اسکی ٹکر سائیڈ پہ بنے لیڈیز واش روم سے نکلتی تارا سے ہوئ اس سے پہلے تارا اپنے پیچھے گلاب کے پودے پہ گرتی جس پہ بے شمار کانٹے تھے ازان نے اسکا ہاتھ پکڑ کے اپنی طرف کھینچا اور بے ڈھرک اسکا ہاتھ تارا کی کمر پہ گیا۔اتنا انن فانن یہ سب ہوا کے تارا کو سنھالنے کا موقع نہی ملا تارا نے ازان کو کندھے سے تھاما ہوا تھا اور ازان نے ایک ہاتھ سے تارا کو تھاما ہوا تھا اور دوسرا ہاتھ گرنے سے بچنے کی خاطر اسکا گلاب کے پودوں پہ لگ گیا۔۔
سی کی اواز پہ تارا ایک دم ازان سے الگ ہوئ ازان نے تارا سے الگ ہوتے ہی اسے سوری کہا اور اپنا ہاتھ دیکھنے لگا جو کانٹے چبنے کی وجہ زخمی ہوگیا تھا۔
تارا نے ایک نظر ازان کو دیکھا اور دل میں کہا۔۔
ماشاءاللہ ۔۔
اور پھر دوبارہ اپنے دل کو ڈپٹا اور کہا یہ غلط ہے۔
اپنی مٹھی میں دبا رومال ازان کی طرف کرا ازان نے خاموشی سے تارا سے رومال لیا تارا ازان کو رومال دے کے خاموشی سے اگے جانے لگی جب ازان نے پیچھے سے پکارا۔۔
سنے کیا اپکا نام جان سکتا ہو؟؟؟
ازان کے بولنے پہ تارا ایک دم پلٹی اور گھور کے ازان کو دیکھنے لگی۔تارا کے گھورنے پہ ازان گردن جھکا گیا جب تارا نے دھیرے سے کہا۔۔
تارا ۔۔
اپنا نام بتا کے تارا اگے بڑھ گئ اور ادھر ازان کے لبوں پہ ایک حسین مسکراہٹ ائ۔۔
#
اج ہماری بلبل چپ کیوں ہے ۔راجا نے گاڑی چلاتے ہوئے اپنے برابر میں بیٹھی زرغہ کو دیکھ کے کہا۔۔جو کافی دیر سے خاموش تھئ۔۔
راجا کے پوچھنے پہ زرغہ نے یونی میں ہوئ تارا اور اپنے درمیان ہوئ ساری بات راجا کو بتائ اور کہا۔۔
تارا کہی سے بھی تمہاری بہن نہی لگتی راجا۔۔
اب پانچوں انگلیاں برابر تو نہی ہوتی زرغہ وہ الگ ہے سب سے خیر چھوڑو تم یہ بتاو ریمپ واک پہ ارہی ہو نہ پھر۔
راجا کے سوال پہ زرغہ نے ہاں میں گردن ہلائ کیونکہ اسے پتہ تھا اسے اجازت کون دلوائے گا۔۔
جاری ہے۔۔۔
