Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Episode 3
No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
صاحبہ کمرے میں اکے بلک بلک کے رونے لگی۔۔زرغہ خالی نام کی بڑی بہن تھی ہمیشہ کسی نہ کسی بات پہ وہ صاحبہ کو ہرٹ کرتی رہتی اور وجہ تھی اسکا گھر میں فیمس ہونا۔۔وہ گھر بھر کی لاڈلی تھی اور دوسری وجہ تھی اسکا سوفٹ نیچر 20 سال کی صاحبہ خوبصورتی میں زرغہ سے بھی دو قدم اگے اور اسکی خوبصورتی کو مزید چار چاند لاگاتا اسکے ہوننٹ کے اوپر کا تل اور گال پہ پڑتا دمپل۔۔
چچی صاحبہ نے کھانا کھایا؟؟
زرقان اپنی دادی کے کمرے میں اکے ثمرہ سے پوچھنے لگا۔ثمرہ نصرت بیگم سے ضروری بات کررہی تھی ۔جب دونوں زرقان کو دیکھ کے ایک دم چپ ہوئ ان دونوں کو ایسے چپ ہوتا دیکھ زرقان پل بھر کے لیہ چونکا مگر پھر بولا۔
کوئ ضروری بات کررہی ہیں اپ دونوں؟؟
ارے نہی نہی بیٹا اپ جاو صاحبہ کیلیے کھانا لے کے جب سے زرغہ نے اسے ڈانٹا ہے وہ تب سے کمرے میں بند ہے اور تمہں تو پتہ جب کوئ اسے ڈانٹا ہے تو وہ کھانا پینا چھوڑ دیتی اسکی یہ عادت تو بلکل اپنے پا۔۔۔ا۔۔
اگے کی بات ثمرہ اپنی دھن میں ہی بولنی والی تھی۔مگر رک گئ زرقان ثمرہ کا نامکمل ہونے والا جملہ سمجھ چکا تھا اس لیہ وہ خاموشی سے کمرے سے نکل گیا۔
اب وہ اتنا بھی بچہ نہی تھا کے 17 سال پہلے ہوئ اسکی چاچا چچی کی۔لڑائ کو سمجھ نہ سکا ہو۔۔
زرقان صاحبہ کے کمرے میں کھانے کی ٹرے لے کے داخل ہوا۔۔
صاحبہ اداس سی کھڑی کے پاس رکھے صوفے پہ بیٹھی تھی۔۔زرقان کو دیکھ کے صاحبہ نے کوئ خاص ریکٹ نہی دیا کیونکہ اسے پتہ تھا جب تک وہ۔کھانا نہی کھائ گئ زرقان بھی نہی کھائے گا دونوں کی دوستی جو ایسی تھی ۔۔
ارے یار صحبو قسسم سے بہت بھوک لگی ہے اجا مین کھانا لایا ہو۔۔زرقان نے بیڈ پہ کھانے کی ٹرے رکھتے ہوئے کہا۔
مجھے نہی کھانا زرقان میرا دل نہی پلیز تم کھاو۔۔
زرقان نےایک۔نظر کھانے کو دیکھا اور پھر صاحبہ کو اور اٹھ کے اسکا ہاتھ پکڑ کے بیڈ پہ بیٹھایا اور کھانے کا لقمہ بنا کے اسکے اگے کیا۔۔
زرقان کا ایسا کرنا تھا کے صاحبہ کی انکھوں سے انسو گرنے لگے۔۔
زرقان نے لقمہ سائیڈ میں رکھا اور صاحبہ کے برابر میں بیٹھ کے اسکے کندھے پہ۔ہاتھ رکھ کے اسے اپنے سے لگایا اور کہا۔۔
زرغہ کی باتیں کیوں دل پہ لگاتی ہو یار تمہں پتہ ہےنہ وہ شروع سے اپنی چیزوں کو لے کے پوزیسو ہے۔۔
زرقان ماسی انکی لپسٹک جھاڑوں مین لے کے جارہی تھی میں نے خالی اٹھائ تھی ہاں ر کھنا بھول گئ واپس۔۔
اففف اچھا چلو ائندہ خیال رکھنا چلو کھانا کھاو یہ بول کے زرقان نے اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھام کے انگھٹوں کے پوروں سے اسکے انسو صاف کیہ اورسارے بال کان کے پیچھے کرکے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے۔۔
زرقان کیلیے یہ معمولی بات تھی مگر صاحبہ کے دل کی دنیا زرقان کئ بار ایسا کرکے ہلا چکا تھا۔۔
زرقان کے نمبر پہ کال انے لگی جیسے سننے وہ باہر گیا مگر صاحبہ کو کھانا کھانے کا اشارہ کرنا نہی بھولا۔۔
زرقان کے جانے کے بعد ہمیشہ کی طرح صاحبہ کا ہاتھ اپنے ماتھے پہ گیا جہاں ابھی کچھ دیر پہلے زرقان نے اپنے لب رکھے تھے ایک حسین مسکراہٹ نے صاحبہ کے لبوں۔کو چھوا۔
صاحبہ ایک ایسے راستہ پہ چل پڑی تھی ۔جس کی۔کوئ منزل نہی تھی۔مگر پھربھی صاحبہ اپنے دل کو اس راستے پہ چلنے سے روک نہی پارہی تھی۔۔
۔صاحبہ بے شک زرقان کی جان تھی مگر زرقان کے دل کی ڈھرکن صرف اسکی منگیتر زرغہ تھی جس سے وہ بے پناہ محبت کرتا تھا۔۔
ہمدانی ہاوس میں ہمدانی صاحب اور نصرت بیگم اپنے بچوں کے ساتھ مقیم تھے۔۔
سرور اور خرم ہمدانی صاحب کے دو بیٹے تھے ہمدانی صاحب کا اپنا بزنس تھا۔۔۔
انکا بڑا بیٹا باپ کےساتھ بزنس میں تھا تو ادھر چھوٹے بیٹے کو فیشن ورلڈ کا جنون تھا۔۔
ہمدانی صاحب فیشن ورلڈ کے سخت خلاف تھے مگر چھوٹے ہونے کی وجہ سے سرور اپنی ضد پوری کرلیتا تھا۔۔
خرم کی شادی ہمدانی صاحب نے اپنی مرضی سے کری اور سرور نے اپنی پسند سے یونی کی لڑکی ثمرہ سے جو ہمدانی صاحب کو بھی پسند ائ۔۔
دنوں بہووں نے گھرکو بھر پور طریقے سے سنبھالا تھا۔خرم خو اللہ نے ایک بیٹے سے نوازا تھا اور ثمرہ خو ایک بیٹی سے سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا کے جب اچانک ہمدانی صاحب دنیا چھوڑ گئ شروع شروع میں تو سرور ٹھیک رہا بزنس سنبھالتا تھا مگر اچانک اس نے ایک ایسا راستہ چنا کے اسے اپنوں سے دور ایک الگ ملک میں رہنا پڑا۔۔
ایک ایسی غلطی سرور سے ہوگئ تھی جسکو معاف کرنا شاید ثمرہ کے اختیار میں نہی تھا۔۔
تو ادھر اشرف ولا کے مکینوں کا حال بھی کچھ الگ تھا گلنار بیگم اپنی جوانی میں کافی خوبصورت تھی ایک پارٹی میں انہیں ماڈلنگ کی افر ہوئ اشرف صاحب نے بہت منع کیا مگر گلنار بیگم نہی مانی تارا اور راجا کو نوکروں کے رحم وکرم پہ چھوڑ کے اپنا شوق پورا کرنے لگی اور ٹاپ کی ماڈل بن گئ ۔مگر اس راستہ پہ چلتے چلتے وہ اپنی حدود بھول گئ اور ایک ایسی ہی رات جب وہ نشہ میں کسی غیر مرد کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے گھر میں داخل ہوئ ا تو شرف صاحب نے گلنار بیگم سے بہت جھگڑا کیا اور غصہ میں گھر سے باہر نکل گئے اور ایکسیڈنٹ کی وجہ سے انکی موت ہوگئ مگر گلنار بیگم کی صحت پہ اشرف کی موت کا ذیادہ اثر نہی پڑا اور پھر وہ اپنی۔رنگینیوں میں گم ہوگئ۔۔
راجا بلکل اپنی۔ماں۔کی۔کاپی تھا اور تارا اپنے باپ کی۔بس جبھی تارا سے گلنار بیگم کی۔کبھی نہی بنی۔
جاری ہے۔۔
