Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Episode 26 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 26 Part 1
قسط نمبر 26#
(پارٹ 1)
نسرین بیگم کو دو دن بعد ڈسچارج کردیا گیا تھا سب ہی انکا بے حد خیال رکھ رہے تھے ۔ازان بھی اپنی ماما سےناراضگی بھولائے انکی خدمت میں لگا تھا۔عیشا بھی کئ بار چکر لگا چکی تھی اور ہر بار کی طرح وہ۔ازان کے آگے پیچھے تھی۔۔۔
ابھی نسرین بیگم کو ازان میڈیسن دے کے آیا اار اسے تارا کا خیال آیا نجانے وہ کیسی ہوگی؟؟
موبائل بھی نہیں تھا اسکے پاس اذان اپنی ہی۔سوچوں میں گم تھا جب زمان صاحب اسکے کمرے میں داخل ہوئے ۔اذان کو یو پریشان دیکھا تو پوچھ بیٹھے۔۔
کیا بات ہے اذان اتنے پریشان کیوں ہو؟؟
وہ پاپا اج تین دن ہوگئے ہیں میں تارا کے پاس نہیں گیا پتہ نہیں کس حال میں ہوگی؟؟
موبائل بھی نہیں ہے اس کے پاس ۔
ایک کام کرو اذان اج تم تارا کے پاس رک جاو اب تو ۔۔
کون کدھر رکنے کی بات کررہا ہے؟؟
اس سے پہلے زمان صاحب آگے کی بات کہتے نسرین بیگم ایک دم ازان کے کمرے میں داخل۔ہوئ۔۔
ارے ماما اب بیڈ سے کیوں اٹھی اپکو آرام کا بولا ہے ڈاکٹر نے ازان ایک۔دم انکی طرف بڑھا۔۔
ارے نسرین کوئ کام تھا تو آواز دے لیتی یار۔۔
زمان صاحب بھی بول پڑے۔۔
پہلے بتائے کون کہاں رکنے جا رہا ہے۔۔؟؟
نسرین بیگم نے بیڈ پہ بیٹھتے ہوئے کہا۔۔
نسرین بیگم کی بات پہ زمان صاحب اور ازان نے دونوں نے ایک دوسرے کو چور نظروں سے دیکھا اور کہا۔۔
ارے وہ ایک دو دن کیلیے اسلام آباد جانا تھا ایک بزنس میٹنگ کیلیے تو میں ازان کو کہہ رہا تھا کے وہ چلا جائے۔
اب ازان کو جہاں بھی جانا ہے اپنی بیوی کیساتھ ہی جائے گا میں کل ہی عیشا کے والدین کے گھر جا رہی ہو شادی کی تاریخ رکھنے۔۔
نسرین بیگم کی بات سن کے زمان صاحب اور ازان کا اگلا سانس لینا مشکل تھا۔۔
ارے ابھی کوئ شادی وادی نہیں ہورہی پہلے تم ٹھیک ہوجاو پھر دیکھینگے شادی کو۔۔
نہیں میں نے کہہ دیا شادی اسی مہینے کے آخر میں ہوگی۔میں جلداز جلد اپنے بیٹے کے سر پہ سہرا دیکھنا چاہتی ہو۔۔
لیکن ماما میں۔۔۔
ابھی ازان اپنی بات مکمل کرتا نسرین بیگم نے اچانک۔اپنا سر تھام لیا۔۔
کیا۔ہوا ماما اپکو؟؟
اذان ایک دم پریشان ہوا جب نسرین بیگم نے کہا ۔۔
لگتا ہے بی پی پھر ہائ ہورہا ہے میں آرام۔کرنے جارہی۔ہو اپنے کمرے میں تم۔بھی آرام کرو۔۔
نسرین زمان صاحب کے ساتھ کمرے سے چلی گئ اور ادھر ازان جھٹکے سے زمیںن پہ بیٹھ گیا
یہ کس راستہ پہ اچانک اسکی زندگی چلنے لگی تھی۔ایک طرف اسکی ماں کی زندگی کا معملہ تھا تو دوسری طرف کوئ اسکے نام سے منسوب ہوکے اپنی زندگی اسکےنام کرچکا تھا اب ازان کونسا راستہ چنے گا یہ تو آنے والا وقت ہی بتانے والا تھا۔۔
#
بی جان اپ دیکھ لے میں نے سارے مہمانوں کی لسٹ بنا دی ہے اگر کوئ رہ گیا ہے تو دیکھ لے آپ۔۔
سب لانج میں بیٹھ کے مہمانوں کی لسٹ بنا رہے تھے ۔۔
جب لا ج میں رکھے ptcl فون بجا۔۔۔
ثمرہ نے بنا نمبر دیکھ کے اٹھا لی اور کہا۔۔۔
اسلام وعلیکم ۔۔
کون بات کررہا ہے؟۔۔
مگر دوسرے طرف والانفوس ثمرہ کی آواز سنتے ہی اپنی آنکھیں بند کرگیا۔۔۔
پاپا کیا بات ہے اتنے پریشان کیوں ہے بیٹھ کے ناشتہ کرے نہ؟؟
غفران نے اپنے پاپا پریشان حال کسی کو کال ملاتے ہوئے دیکھا تو بول پڑا۔۔
ارے بیٹا خرم تایا کو کال کررہا ہو کب سے وہ ہیں کے کال ہی نہیں اٹھا رہے ورنہ فورا کال اٹھاتے ہیں۔۔
تو پاپا دادو کے گھر کے نمبر پہ کر لینا۔۔
ہاں یہ تو میں نے سوچا نہیں چلو وہاں کرتا ہو۔۔
سور صاحب نے گھر کے نمبر پہ کال کی جو فورا اٹھالی گئ مگر جو آواز سرور کو سننے کو ملی اس آواز نے برسوں لگی آگ کو ٹھنڈا کردیا۔۔
ہیلو کون بول رہے ہے بھئ۔۔؟؟
ثمرہ؟؟؟
ثمرہ جو بے دیھانی میں فون کان سے لگائے ہوئ تھی ایک دم اپنے نام پہ چونکی مگر اس سے ذیادہ چونکا دینے والی سامنے والے کی آواز تھی۔۔
ثمرہ۔کا بے ڈھرک ہاتھ اپنے دل پہ گیا اور اس کے ہاتھ سے فون کا ریسیور چھوٹ کے نیچے گرا۔۔
بی جان اور آصفہ دونوں ہی۔اس کی حالت دیکھ کے پریشان تھی
کیا ہوا ثمرہ کس کا فون ہے؟؟
کسی پرانے مسافر کا بھابھی شاید راستہ بھٹک گیا ہے اپنا۔۔
یہ کہہ کے ثمرہ اٹھ کے اپنے کمرے میں چلی گئ اور ادھر آصفہ نے جب گرا فون اٹھا کے اپنے کان سے لگایا مگر لائن کٹ چکی تھی آصفہ نے نمبر چیک کرا تو ایک لمبی سانس لی اور بی جان سے کہا۔۔۔
سرور کی کال تھی۔۔
سرور کا نام سن کے بی جان بھی اپنی گردن جھکا گئ اور کہا۔۔
نجانے آصفہ میرے بیٹے کا نصیب میں اور کتنا سفر لکھا ہے نجانے کب اسے منزل ملے گی۔۔۔۔۔
@
زرغہ کی شادی کی تیاری دھوم دھام سے جاری تھی۔۔خرم نے سرور کو آنے کو کہا مگر اس نے یہ کہہ کے منع کردیا کے اسکا حق ہے میرا نہیں ۔۔
راجا نے دوبارہ۔صاحبہ کو تنگ نہیں کیا بلکے اسکا رویہ صاحبہ کیساتھ پہلے جیسا ہوگیا اور ادھر زرغہ بھی خوشی خوشی اپنی شادی انجوائے کررہی تھی کیونکہ اسکا پلین سکس فل جا رہا تھا۔۔
اج شام مایوں کا فنکشن تھا راجا بھی صبح سے ثمرہ کے نظروں کے سامنے تھا۔۔
سادے سے پیلے جوڑے میں صاحبہ بھاگ بھاگ کے سارے کام۔کررہی تھی کل رات ہی اسے پتہ چلا تھا کے کل اس کی شام کی نیویارک فلائٹ تھی اس کے بارے میں جب گھر والوں کو پتہ چلا تو ثمرہ کافی ناراض ہوئ اوربی جان بھی مگر اسکے مستقبل کو سوچ کے سب راضی ہوگئے تھے مگر راجا اس کے جانے سے کافی اپسیٹ تھا صاحبہ کے اس فیصلے سے مگر اس نے سوچ لیا تھا کے وہ بھی صاحبہ کے پیچھے نیویارک چلا جائے گا صاحبہ کی دیکھ بھال کرنے کیلیے۔۔
خرم نے شام میں ایک چھوٹا سے کیمرہ لگایا تھا تاکے سرور اپنی بیٹی کے مایوں کا فنکشن دیکھ سکے ثمرہ کے علاوہ سب ہی کو یہ۔بات پتہ تھی اور قسمت بھی دیکھو سرور کی کے ایک بار بھی صاحبہ اس کیمرے کے سامنے نہیں آئ مایوں پلس مہندی کا۔فنکشن شاندار رہا صاحبہ نے بھیگتی آنکھوں کیساتھ زرقان کو ابٹن لگانا چاہا تو زرقان کی بھی انکھیں بھیگ گئ صاحبہ اس کی بچپن کی ساتھی تھی ایک عجیب سے راستے پہ دونوں چل نکلے تھے جس پہ چلنے کیلے ان دونوں کو بچھڑنا تھا۔۔
صاحبہ نے جیسے ہی زرقان کو ابٹن لگانا چاہا زرقان نے نہ صرف اپنا چہرہ آگے کیا بلکے اسے کے دونوں ابٹن سے بھرے ہاتھ اپنے چہرے پہ۔لگائے جہاں صاحبہ مسکرا اٹھی وہی زرقان بھی مسکرا پڑا۔۔
اور ادھر راجا خون کا گھونٹ پی کے رہ گیا۔۔
اگلے دن برات تھی اور صاحبہ کی منگنی کیساتھ ساتھ اسکی فلائٹ بھی زرغہ 5 بجے پالر جانے کیلیے ریڈی تھی وہ باری باری سب گھر والوں سے ملی اج وہ جس راستے پہ چلنے والی تھی اس پہ صرف نوکیلے پتھر اور دلدل تھا مگر یہ بات اسے سمجھ نہیں آنی تھی۔۔
زرغہ گھر سے نکلی اور پالر کے پاس اتری مگر اندر جانے کے بجائے دور کھڑی راجا کی گاڑی کی طرف بڑھ گئ اور راجا نے گاڑئ اگے بڑھادی۔مگر یہ بات پالر کے باہر لگے کیمرے میں ریکارڈ ہوچکی تھی۔۔
شام سے رات ہوگئ مگر زرغہ کا کچھ اتا پتا نہیں تھا زرقان پالر جب زرغہ کو لینے گیا مگر وہاں اسے جو خبر سننے کو ملی وہ سوہان روح تھی۔۔
زرقان نے گھر پہنچ کے سب کو بتایا کے زرغہ پالر کے پاس اتری تھی مگر وہ اندر نہیں گئ بلکے کسی گاڑی میں بیٹھ کے چلی گئ۔۔یہ۔بات وہاں کے چوکیدار نے بتایا جب اس نے زرغہ کا پوچھا اندر جاکے اور کیمرے میں جو نظارہ اسے دیکھنے کو ملا اس کے بعد کسی کی صفائ کی ضرورت نہیں تھی۔۔
یہ سنتے ہی ثمرہ جھٹکے سے نیچے بیٹھ گئ اور صاحبہ کی تو سمجھ نہیں آیا کے زرغہ نے ایسا کیوں کرا ہال سے کال پہ کال آرہی تھی سب مہمان ہال پہنچ چکے تھے ۔۔
اللہ زرغہ یہ تم نے کیا مجھے کہی کا نہیں چھوڑا بی جان میں کیا۔کرونگی اب ثمرہ۔پھوٹ پھوٹ کے رو پڑی آصفہ خرم سب پریشان تھے زرقان خاموش بت بنا بیٹھا تھا جب بی جان کی آواز گونجی۔۔
برات تو لائے گا زرقان مگر اب زرغہ کی نہیں صاحبہ کی تیار کرو صاحبہ کو ثمرہ یہ میرا حکم ہے۔۔
مگر مجھے یہ رشتہ۔منظور نہیں بی جان زرقان بول۔پڑا ۔
ٹھیک ہے پھر ہمارا مرا ہوا منہ دیکھوگے تم ۔۔بی جان کے بولنے پہ زرقان ساکن بیٹھ گیا اورادھر صاحبہ کے اگے راجا کو چہرہ آیا۔۔مگر جو حرکت اسکی بہن کرچکی تھی اس کے پاس انکار کی۔گنجائش نہیں تھی۔۔
صاحبہ نے کرب سے اپنی آنکھیں بند کی۔۔
صاحبہ کو ثمرہ۔نے اپنے ہاتھوں دلہن بنایا تھا صاحبہ کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔۔
زرقان برات لے کے آیا تھا مگر اب اسکی دلہن بدل۔چکی تھی۔۔
ہال میں مائک میں قاضی کی آوازگونج رہی تھی ۔زرقان کا نکاح ہوچکا تھا۔۔
صاحبہ نے جیسے ہی قبول کہہ کے نگاہ اٹھائ تو سامنے راجا کو کھڑا پایا سن سا ساکن سا اسکی انکھوں میں بے یقینی اسکے آنسو بیان کررہے تھے سب ہی راجا کو دیکھ چکے تھے اورپھر گلنار بیگم کی چیخ گونجی کیونکہ راجاکا ہاتھ ایک دم اپنے دل پہ گیا اور وہ بیہوش ہوگیا۔۔۔
جاری ہے۔۔
