84.5K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode Part Last

ایک حسین صبح تھی امامہ راجا کے سینے سے لگے سو رہی تھی فجر کی آواز راجا کے کانوں میں آئ تو پٹ اسکی آنکھیں کھلی اپنے سے لگی امامہ پہ اسکی نظر پڑی وہی دلکش مسکراہٹ راجا کے لبوں پہ آئ جو کبھی صاحبہ کیلیے اتی تھی۔۔
راجا نے ایک منٹ کیلیے دوبارہ اپنی آنکھیں بند کی مگر اس بار راجا کی بند آنکھوں کے پیچھے صاحبہ کا چہرہ نہیں امامہ کا چہرہ آیا راجا نے بہت سکون سے اپنی آنکھیں کھولی اور خود سے لگی امامہ کو اور خود سے لگایا اور اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے فریش ہوکے نماز پڑھنے چلا گیا واپس آیا تو امامہ ابھی تک ایسی ہی سورہی تھی ۔۔
راجا ارام سے اسکے برابر اکے لیٹا اور غور غور سے امامہ کو دیکھنے لگا جو منہ کھولے سورہی تھی راجا ایک بار پھر مسکرایا اور امامہ کے کھلے لبوں کو اپنے لبوں میں دبایا دھیرے دھیرے راجا پھر امامہ کے جسم پہ حاوی ہونے لگا امامہ جو گہری نیند میں تھی اپنی اوپر بوجھ محسوس کرکے فورا جاگی مگر راجا کو خود پہ جھکا دیکھ کے فورا اپنی آنکھیں بند کرلی۔۔
اب جاگ گئ ہو تو مجھے ایک کپ چائے پلا دو ۔۔
امامہ نے اپنی آنکھیں کھولی مگر راجا کو خود کو تکتا پا کر شرم سے فورا اپنی آنکھیں جھکائ اور کہا۔۔
اپ ۔۔تو۔۔ہٹے۔۔۔امامہ نے یہ بات کافی جھھکتے ہوئے کہی وہ جو شیرنی بن کے محبت محبت کا نعرہ لگاتی تھی اب بھیگی بلی بنی ہوئ تھی۔۔
اوہ۔اچھا زرا یہ بات میری آنکھوں میں دیکھ کے کہو۔
راجا کی بات پہ امامہ نے ہلکی سی نگاہ اٹھا کے راجا کو دیکھا اور کہا۔۔۔
پلیز راجا ہٹے نہ۔۔
اچھا جی جانمن راجا نے کہہ کے امامہ کے ماتھے پہ۔اپنے لب رکھے اور کہا۔۔
اج تارا کوبلا لو لنچ ساتھ کرینگے۔۔۔
ٹھیک ہے
راجا اور امامہ نے ایک ساتھ ناشتہ کرا گلنار بیگم امامہ کی۔بلائے لیتی نہ تھکتی تھی اس نے راجا کو پھر ایک بار جینا سیکھایا تھا۔۔
لائٹ آسمانی رنگ کی شلوار قمیض میں امامہ کا نکھرا نکھرا سراپا لنچ پہ آئ تارا سے نہ چھپ سکا تارا نے امامہ کو گھیرا تو اس نے تارا کو بتایا کے وہ اور راجا ایک ہوچکے ہیں۔۔
تارا امامہ کیلیے بہت خوش تھی اج دو دو خوشخبری سننے کو ملی تھی تارا کو پہلی یہ کے وہ ماں کے عہدے پہ فائز ہونے والی تھی اور دوسری کے اسکی دوست اور اسکا بھائ اب خوش تھے ۔۔
ازان سے راجا کی کافی بننے لگی تھی راجا کے بدلے رویے نہ راجا کو ایک ایسا راستہ دیکھایا کے اسکے سب اپنے اسکے پاس اگئے تھے ۔۔
تھوڑی دیر بعد قاسم نے بھی راجا اور ازان کو جوائن کیا زرغہ بھی ائ تھی مگر اب راجا اسے خالی بھابھی کہتا نہیں تھا بلکے دل سے اسکی عزت کرتا تھا۔۔تارا اور زرغہ کے درمیان بھی پہلے جیسی دوستی ہوگئ تھی۔قاسم اور زرغہ فلحال اپنے کراچی والے فلیٹ مین رہ رہے تھے قاسم کے گھر بھی خوشخبری تھی مگر زرغہ کی کنڈیشن کافی نازک تھی اس لیے ڈاکٹر نے اسے فلحال سفر کرنے کو منع کیا تھا۔۔
سب ہی اس پلین میں شامل ہوگئے تھے صرف صاحبہ کے کہنے پہ۔ثمرہ بھی اس پلین میں شامل کیا تھا ۔زرغہ کو بھی زارا بھابھی کے روپ میں پسند تھی غفران سے اسکی بھی کافی اچھی اندسٹینگ ہوگئ تھی ۔۔۔
سجاد جو کے زرقان کا بہت اچھا دوست تھا ایک بیٹے کا باپ تھا اس نے بھی زرقان کا ساتھ دینے کا سوچا اور اسکی وائف ہانیہ نے بھی سجاد کو انکی مدد کرنے کو کہا۔۔۔۔
غفران کو دیکھانے کیلیے سجاد کی امی زارا کو پسند کرگئ تھی اور انکا ڈرامائ نکاح تین مہینے بعد ہونا طے پایا تھا زارا مکمل طور پہ صاحبہ اور زرقان کے مشورے پہ عمل کررہی تھی اس نے غفران کو بلکل اگنور کردیا تھا اور اسکے سامنے جان بوجھ بوجھ کے سجاد سے بات کرنے کا ڈارمہ کرتی۔۔۔
افف پاپا ہمیں بازار جانا ہے اور اپنے ڈرائیور کو بھیج دیا اب ہمیں بازار لے کے کون جائے گا ۔۔
اج چھٹی کادن تھا سب ہی گھر پہ تھے بی جان کے کہنے پہ زارا کی نکاح کی تیاری زورشور سے جاری تھی۔۔
غفران جو ترچھی نگاہوں سے زارا کے چہرہ کو دیکھ رہا تھا جب ثمرہ نے سرور سے کہا۔۔
جب اپکو پتہ تھا اج مجھے اور بچیوں کو بازار جانا ہے تو پھر بھیجا کیوں ڈرائیور کو اب ایک گاڑی بھائ اور آصفہ بھابھی لے گئے انکے دوست کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی شام تک آئینگے ۔۔
ثمرہ بھی انکے ساتھ پلین میں شامل تھی مگر صرف زارا کیلیے۔۔۔۔
تو کیا ہوا غفران لے جائے گا تمہیں جاو غفران لے کے جاو سب کو ۔۔
مگر پاپا میں ؟؟
ہاں تم۔اٹھو فورا بی جان کے غصہ کرنے غفران۔خاموشی سے انکے ساتھ چلا گیا۔۔
مال میں غفران خاموشی سے انکے ساتھ گھوم رہا تھا وہاں زارا کو دیکھ کے جب وہ ایک برائیڈل ڈوپٹہ سر پہ اوڑھے چیک کرہی تھی غفران کی رہی سہی ہمت بھی جواب دے گئ۔اور وہ دکان سے نکل کے مال سے بھی نکل گیا اور گاڑی سے لگ کے انکا ویٹ کرنے لگاا۔
غفران کے نکلتے ہی زارا اور صاحبہ نے بہت مشکل سے اپنی ہنسی روکی وہ سب مال سے نکل کے روڈ کراس کرہے تھے جب ثمرہ پیچھے رہ گئ ثمرہ جو موبائل یوز کرتے ہوئے بے دیھانی میں روڈ کراس کرہی تھی غفران نے جب ایک ٹرک کو ثمرہ۔کی طرف تیزی سے اتے ہوئے دیکھا اس سے پہلے ٹرک ثمرہ۔کو ہٹ کرتا غفران نے تقریبا بھاگتے ہوئے روڈ کراس کرا اور چیخ کے کہا
ماما۔
۔اور ثمرہ کا ہاتھ پکڑ کے اپنی طرف کھینچا ٹرک کی اسپیڈ اتنی تھی کے اگر غفران کا بھی زرا سا بیلنس آوٹ ہوتا تو غفران ٹرک کے نیچے ہوتا۔۔۔۔
غفران نے ثمرہ کو اپنے سینے سے لگایا ہوا تھا ثمرہ بھی کافی ڈر گئ تھی زارا اور صاحبہ بھی روڈ کراس کرکے ان لوگوں تک آئے۔۔
ماما اپ ٹھیک ہیں لگی تو نہیں اپکو؟؟؟
غفران نے ثمرہ۔کا چہرہ ہاتھوں میں تھام۔کے پوچھا ثمرہ غفران کو دیکھ کے شاکڈ ہوگئ کیونکہ وہ رو رہا تھا۔۔
ہاں ہاں میں ٹھیک ہو ثمرہ نے بہت مشکل۔سے یہ جملا ادا کیا غفران نے جب زارا اور صاحبہ کو دیکھا تو غصہ میں ان دونوں سے کہا۔۔۔
روڈ کراس کررہی تھی یا پارک میں ائ تھی دیھان کہا تھا تمہارا اگر اج ماما کو کچھ ہوجاتا تو پھر میں تم۔لوگوں کا کیا حال کرتا پتہ چلتا ۔۔تم لوگوں کو
صاحبہ اور زارا کافی ڈر گئ تھی انہیں بھی احساس ہوا کے غلطی انکی تھی۔۔
۔ثمرہ پورے راستے خاموش بیٹھی رہی گھر اکے بھی غفران ان دونوں پہ کافی برسا بلکے سب نے ہی انہیں ڈانٹا غفران کا روتا چہرہ بار بار ثمرہ کے سامنے آراہا تھا وہ اسکی ماں نہیں تھی مگر اج اس نے اسے بچانے کیلیے جان کی بھی پراوہ نہیں کی۔۔۔
رات کے کھانے پہ غفران نے اعلان کیا کے وہ۔کل نیویارک واپس جارہا ہے ۔۔
زرقان اور وہاں بیٹھے ہر شخص کو اپنا پلین فیل ہوتا محسوس ہوا زارا کی آنکھوں میں تو باقاعدہ انسو چمکنے لگے ۔۔۔
کیوں جارہے ہو وہاں کون ہے تمہارا۔۔؟؟
ثمرہ کے اچانک بولنے پہ سب چونکے کچھ ایسی حالت غفران کی بھی تھی۔۔۔
اگر گئے تو بھول جانا کے واپس اکے تمہیں میں اپنا بیٹا مانوگی۔۔
ثمرہ کی بات پہ وہاں بیٹھے ہر نفوس کی آنکھیں خوشی سے بھر آئ غفران تیزی سے اٹھ کے ثمرہ کے قرئب آیا ثمرہ بھی اپنی جگہ سے کھڑی ہوئ اور اسکے گلے لگ گئ سب ہی اس ملاپ پہ خوش تھے ۔۔
اب دیکھنا میں اپنے بیٹے کیلیے کسی لڑکی ڈھونڈونگی ۔۔
ثمرہ کی بات پہ بلا شہبہ غفران کی نظریں زارا پہ گئ جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔
اب دیکھنا میری جان تمہارا بھائ کیسے اگلتا ہے کے زارا تم صرف میری ہو زرقان نے صاحبہ کے کان میں رازداری سے کہا۔۔
اسمیں پروبلم کیا ہے بھائ ؟؟
ہاں تارا میں بھی اتنی دیر سے یہ ہی بول رہی ہو پچھلے ایک ہفتہ سے انکے پیچھے لگی ہو امامہ نے مایوسی سے کہا۔۔
یار ازان تم سمجھاو ان کو۔۔
راجا اس بات میں کوئ مزاحقہ نہیں ہے پلاسٹک سرجری اجکل تو عام بات ہے یار مان جا بات پلیز۔۔۔
نہیں ازان بھائ رہنے دے نہ بولے انہیں چھوڑے میری بات کی اتنی اہمیت نہیں۔۔
راجا نے ایک نظر امامہ کے اداس چہرے کو دیکھا اور کہا۔
اچھا ٹھیک ہے میں تیار ہو سرجری کیلیے مگر ڈاکٹر کون ہے؟؟
امامہ نے خوش ہوکے راجا کے گال کھینچے اور کہا۔۔
وہ جب ہم پارٹی رکھینگے جب انہیں بلائینگے دیکھ لینا انہوں نے منع کیا ہے اپنا نام اپکو بتانے کو۔۔
راجا یہ سن کے خاموش ہوگیا مگر باقی سب جنکو پتہ تھا کے راجا کی سرجری ڈاکٹر کون ہے وہ مسکرا پڑے۔۔
اوہو پرسوں نکاح مگر اتنی جلدی کیسے مطلب ؟؟
زرقان نے سجاد کا جھوٹ موٹ کا آیا فون جو وہ سن رہا تھا سب کے سامنے فون رکھنے کے بعد کی بات بتادی اصل وجہ یہ تھی کےسجاد کی بہن کے ہاں بے بی ہوئ تھی جیسے دیکھنے 5 دن بعد اسکی پوری فیملی جارہی تھی اس لیے سجاد نے ہی زرقان کو اس ڈرامے کا دی اینڈ کرنے کو کہا۔۔
اوہ مگر اتنی جلدی کی وجہ ؟؟
ثمرہ نے غفران کے جھکے چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔
وہ اصل میں چاچی سجاد زارا کے نکاح کے بعد اپنے ساتھ لیجانا چاہتا ہے اسکی جاب لندن میں کنفرم ہوگئ ہے ہاتھ کے ہاتھ وہ سادگی سے رخصتی کا بھی بول رہا ہے اب بیوی ہوجائے گی تو اسانی ہوگی ۔۔۔
چلو پھر ہاں کردو اسے سرور صاحب کے کہنے کی دیر تھی کے غفران تیزی سے اٹھا اور زارا کا ہاتھ پکڑ کے اسے اپنے روبرو کھڑا کیا اور کہا۔۔
چلو ابھی کے ابھی منع کرو اس شادی سے غفران نے ماتھے پہ بل ڈالے زارا سے کہا۔۔
کیوں منع کرو مجھے پسند ہے سجاد زارا نے بلاخوف کہا۔۔
ابھی تو تھپڑ مارونگا نہ ساری پسند نکل جائے گی ابھی کچھ مہینوں پہلے تک تو تم نے مجھ سے اظہار محبت کیا تھا۔۔
ہاں تو اپنے نے بدلے میں کیا کیا تھا یاد ہے یہ بھول گئے میرے منہ پہ میرا مزاق اڑیا تھا اور کیا کہا تھا کے میرے اتنے برے دن نہیں ائے کے تم جیسی بیوقوف سے شادی کرو جیسے کپڑے پہنے کی بھی تمیز نہیں
زارا یہ بول کے رونے لگی جب غفران بنا کسی کی پراوہ کیے زارا کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا اور اپنے کانوں کو پکڑتے ہوئے کہا۔۔
مجھ سے غلطی ہوگئ زارا مجھے اتنی بڑی سزا نہیں دو جب تمہارا نام کسی اور کیساتھ سنا تو احساس ہوا کے تمہارا ساتھ اگر نہ ملا تو مرجاونگا میں تم سے بہت محبت کرتا ہو پلیز پلیزمان جاو نہ میں اپنی ہر غلطی کیلیے معافی مانگتا ہو جانو پلیز ائ رئیلی لو یو انکار کردو اس شادی سے میری جانو۔۔
غفران کے جانو کہنے پہ سب ہی ہنس پڑے جبکے زارا تو شرما کے آصفہ کے گلے لگ گئ۔۔
اٹھ جاو سالے صاحب بس یہ ہی تمہارے منہ سے نکلوانا تھا کیوں بیگم مانتی ہونا ہمیں زرقان نے صاحبہ سے داد لینی چاہی۔۔۔
غفران حیران پریشان سب کو دیکھ رہا تھا جب خرم اور سرور صاحب نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور زرقان سے کہا۔۔
بس کردو یار زرقان اس بیچارے کی شکل۔دیکھو ایسا نہ ہو ابھی رو دے ۔۔
اپ لوگ ہنس کیوں رہے ہیں میں سچ میں محبت کرتا ہو زارا سے وہ صرف میری ہے ۔۔
ارے ہاں میرے بیٹے وہ صرف تمہاری پے ثمرہ نے غفران کا گال سہلاتے ہوئے کہا۔
ارے سالے صاحب اپکے منہ سے زارا کیلیے اظہار محبت بلوانے کیلیے تو یہ سب ناٹک کیا ۔۔
مطلب ؟؟غفران نے ناسمجھی سے زرقان کو دیکھا جب زرقان نے اسے اپنا پلین سنایا جیسے سن کے غفران کافی شرمندہ ہوا مگر بعد میں خوش ہوکے زرقان کے گلے لگ گیا گل شیر ولا میں اج پھر خوشی سماں تھا۔۔
کہاں رہ گئ تمہاری ڈاکٹرنی راجا نے بلیک ساڑھی پہنے امامہ کو متوجہ کیا جو دروازے پہ کھڑی ہوکے کب سے راجا کی ڈاکٹرنی کا ویٹ کررہی تھی۔۔
راجا کے چہرے کی سرجری کامیاب رہی اسکا چہرہ۔بلکل پہلے جیسا ہوگیا تھا جیسے دیکھ کے راجا خود بھی دنگ تھا ۔۔
اسی خوشی میں اج پارٹی رکھی گئ تھی۔۔
راجا بھی اس سے ملنے کو بیتاب تھا جس نے اسکا چہرہ اسے واپس کرا تھا۔۔
راجا نے ایک گیٹ کو دیکھا اور جیسی ہی پلٹنے لگا جب امامہ نے کہا لو اگئ اپکی ڈاکٹرنی۔۔۔
راجا نے پلٹ کے جب ڈاکٹرنی کے روپ میں صاحبہ کو دیکھا تو حیران رہ گیا۔۔
صاحبہ نے ہی امامہ کو کہا تھا کے راجا کو منائے سرجری کیلیے مگر یہ نہ بتائے کے ڈاکٹر وہ ہے۔۔
صاحبہ اور زرقان اندر ائے جب امامہ نے صاحبہ کا ہاتھ پکڑ کے راجا کے سامنے کیا اور کہا یہ رہی اپکی ڈاکٹرنی ۔
آئیے زرقان بھائ ہم اندر چلتے ہیں۔۔ہاں امامہ بھابھی چلو زرا مریض اور ڈاکٹر کو ملنے دو زرقان جانتا تھا راجا کبھی زرقان کے سامنے صاحبہ سے بات نہیں کرپائے گا وجہ یہ نہیں تھی کے صاحبہ اسکی محبت رہ چکی تھی وجہ یہ تھی کے وہ زرقان اور صاحبہ سے اج بھی شرمندہ تھا صاحبہ نے جب زرقان سے راجا کی سرجری کا پوچھا تو اس نے خوشی خوشی اجازت دے دی۔۔۔۔
اتنا غلط کیا تمہارے ساتھ پھر بھی تم نے میرا چہرہ مجھے واپس کیا صاحبہ نفرت نہیں ہوئ مجھ سے راجا نے صاحبہ کے روبرو اکے سوال کیا۔۔
میرا دل صاف ہے راجا میں نے تمہیں دل سے معاف کیا اس لیے تمہاری سرجری کی میں نے تم پہ احسان نہیں کیا بس جو کیا دل سے کیا اب جب تم نے اپنے لیے ایک۔نیا راستہ چنا تو پھر کیوں تمہیں پرانے راستہ کی یاد بھی رہے۔۔
میں شکر گزار ہو تمہارا صاحبہ احسان رہے گا تمہارا مجھ پہ راجا نے صاحبہ سے کہا اور یہ کہتے ہوئے اسکی آنکھوں میں انسو تھے۔۔
نہیں راجا میں نے احسان نہیں کیا احسان صرف اللہ کا ہوتا ہے بس تم نے جو راستہ چنا وہ راستہ تم چن سکو وہ زریعہ میں بنی او اندر چلتے ہیں مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے۔راجا صاحبہ کے پیچھے اندر بڑھا اور مسکراتے ہوئے اس نے نگاہ اٹھا کے آسمان کی طرف دیکھا ۔۔
ختم شد۔۔۔
زندگی میں ہم بعض اوقات غلط راستہ چن لیتے ہیں اس راستے پہ چل کے نجانے کتنے گناہ کرجاتے ہیں مگر ہمارا رب ہمیں ایک موقع دیتا ہے کے ہم اسکے بتائے راستے پہ چلے بیشک اللہ نے ہماری قسمت لکھ دی مگر اچھائ برائ کا راستہ چننے کی سمجھ ہمیں دی ہے پلیز یہ۔نول ہے اس لیے گھر سے بھاگی ہوئ لڑکی کیساتھ کچھ نہیں ہوا مگر گھر کی دہلیز لانگتے ہوئے کاش لڑکیاں سوچے کے ضروری نہیں کے انکا چنا راستہ درست ہو کیوں ایک غلط راستہ اپکی دنیا بدل سکتا ہے اپ سے اپکی پہچان چھین سکتا ہے۔۔
دعاوں میں یاد رکھیے گا ۔۔