Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Episode 34 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 34 Part 1
اپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا بھائ اتنا غیر سمجھ لیا مجھے مانتا ہو دور ہو اپ سے مگر اتنا تو مجھے پرایا مت کرے ۔۔
ایسی بات نہیں ہے سرور حالات ایسے تھے مجھے موقع نہیں ملا تم سے بات کرنے کا۔۔
اب کیسا ہے زرقان؟؟
ابھی تک تو بیہوش ہے ڈاکٹر نے ایک مہینے بعد میجر سرجری کا کہا ہے اس سرجری کے بعد ڈیسائڈ ہوگا کے زرقان اپنے پیروں پہ کھڑا ہو پائے گا یہ نہیں۔۔
اپ زرقان کو سرجری کیلیے نیویارک بھیج رہے ہیں میں کچھ نہیں جانتا انشاءاللہ اگر اللہ نے چاہا تو وہ ضرور اپنے پیروں پہ کھڑا ہوگا۔۔
بھائ ثمرہ کیسی ہے زرغہ کی اس حرکت کے بعد تو توٹھ سی گئ ہوگی پہلے میں نے دھوکا دیا پھر میری بیٹی نے۔۔
بس خاموش ہے وہ سرور سچ بولو کبھی کبھی اسے ایسے دیکھ کے مجھے تم پہ بہت غصہ آتا ہے مگر تمہاری مجبوری کا سوچتا ہو تو خاموش ہوجاتا ہو۔۔
تو جب زرغہ برات والے دن غائب ہوئ سرور کو بھاگنا لفظ استعمال کرنا اچھا نہیں لگا۔۔
تو پھر زرقان کی بیوی کون ہے؟؟
وہ۔تم۔۔۔۔اگے کی بات بولنے سے پہلے خرم کو اپنی بے خیالی کا احساس ہوا اور کہا۔
اب جب ائیگی نیویارک تو جان جاوگے کے وہ کون ہے۔۔
ہممم۔۔۔
خرم۔خرم بھائ زرقان کو ہوش اگیا۔۔۔۔
ثمرہ کی چہکتی ہوئ آواز سرور کے کانوں میں پڑی ایک دم اس نے اپنی آنکھیں بند کرلی۔۔
اور ادھر خرم فون رکھ کے فورا زرقان کے کمرے کی طرف ڈورے سب کو سامنے دیکھ کے زرقان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے جس طرح سے اس کی گاڑی پل سے نیچے گری تھی زرقان کو اپنے زندہ ہونے پہ۔یقین نہیں ارہا تھا آصفہ جب زرقان کے کمرے میں سوپ لے کےگئ اور اسکو ہوش میں پایا آصفہ کی چیخ پہ سوتی صاحبہ بھی ایک دم چونک کے اٹھی اور زرقان کو ہوش میں دیکھ فورا شکرانے کے نفل ادا کرنے چلی گئ۔۔
خرم صاحب بھی زرقان کے گلے لگ کے رو پڑے مگر زرقان وہ سب کو خاموشی سے دیکھ رہا تھا انسو اسکی بھی انکھوں سے جاری تھے مگر گلے کے ٹانکے ابھی کچے تھے اس لیے اس کو بولنے سے سب نے منع کیا۔
بی جان بھی زرقان کو دیکھنے اوپر ائ اور زرقان کا صدقہ اتارنے لگی باری باری سب کمرے سے چلے گئے کمرے میں صرف زرقان اور صاحبہ رہ گئے صاحبہ نے نجانے کون کون سے وظیفے پڑھ کے زرقان پہ دم کیے زرقان خاموش نگاہوں سے اسے تکے جارہا تھا صاحبہ نے اسے خود کو تکتا پایا تو کہا۔۔
جانتی ہو افریقہ کے جن بہت خوبصورت ہو اور تعریف کرنا چاہتے ہو مگر چلو ابھی تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے بعد میں کرلینا ۔۔
صاحبہ زرقان کی حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے خوش رکھنا چاہتی تھی مگر وہ بھول گئ تھی جیسے محبت میں دھوکا ملا ہو اسے خوش رکھنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔۔۔
زرقان اسے تکتا گیا اور کچھ پل بعد اسکی انکھوں سے انسو گرنے لگے۔۔
زرقان کو روتا دیکھ صاحبہ کی بھی آنکھیں بھیگنے لگی وہ آہستہ سے زرقان کے پاس بیٹھی اور کہا۔۔
یاد ہے تمہیں زرقان ایک بار بچپن میں سائیکل چلانے کی کوشش میں میں گرگئ تھی میرا سیدھا ہاتھ ٹوتھ گیا تھا ڈاکٹر کے مطابق میں کبھی بھی اپنا سیدھا ہاتھ استعمال نہیں کرپاونگی اور ٹھیک دو مہینے بعد میرے فائنل ٹرم تھا یاد ہے تم نے ڈاکٹر سے کیا کہا تھا میری دوست کا ہاتھ ٹھیک بھی ہوگا اور وہ اسی ہاتھ سے پیپر بھی دے گی انشاءاللہ تمہاری اس بات پہ کسی کو یقین نہیں تھا مگر مجھے تھا کے جب تم میرے ساتھ ہو تو میرا ہاتھ ٹھیک ہوگا۔۔
ایسی ہی ایک وعدہ میں تم سے کرتی ہو کے میں اپنے زرقان کو کھڑا کرکے دم لونگی بس تم ہمت نہیں ہارنا میں جانتی ہو بہت مشکل ہے مگر ناممکن نہیں۔۔
تم کروگے نہ ہمت ؟؟
صاحبہ کے پوچھنے پہ زرقان نے آنکھیں بند کرکے اسکے یقین کو امید دلائ۔۔
راجا تارا کو بیہوشی کی حالت میں ہسپتال لایا ڈاکٹر نے کہا کمزوری کی وجہ سے ایسا ہوا ہے راجا کے دل میں کئ سوال تھے جو وہ تارا کو گھر لیجا کے پوچھنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔
تارا کو ابھی ڈرپ لگ رہی تھی جب اسکے پرس میں رکھا موبائل بجا ۔راجا نے اٹھ کے اسکا موبائل چیک کیا تو امامہ کا نام لکھا ارہا تھا امامہ کا نام پڑھ کے ایک ہلکی سے جھلک راجا کے دماغ میں آئ جیسے وہ فراموش کرگیا۔
راجا نے کال پک کی اور امامہ اگے سے بولنا شروع ہوگئ یہ جانے بغیر کے سامنے ہے کون۔۔
ہیلو ہیلو تارا کہاں ہو یار مین کتنی پریشان ہوگئ تمہیں زرا سا بھی احساس نہیں میرا میری کال تو پک کرو سب ٹھیک ہے نہ تم کچھ بول کیوں نہیں رہی۔۔
اپنی چلتی ٹرین کو بریک لگاوگی تبھی کوئ بولے گا۔
اچانک راجا کی اواز سن کے امامہ کے ہاتھ سے موبائل گرتے گرتے بچا ۔
اسلام و علیکم راجا۔۔
اوہ۔میرا مطلب ہے راجا بھائ وہ تارا میرا مطلب ہے کہاں ہے؟؟
ہسپتال میں ہے ۔۔
اوہ کیا ہوا اسے وہ ٹھیک ہے ؟؟
اکے دیکھ لو اڈریس سینڈ کرتا ہو ۔۔۔یہ کہہ کے راجا نے کال کٹ کی اور امامہ کو نمبر سینڈ کیا۔۔
دس منٹ بعد امامہ۔ہسپتال میں موجود تھی لائٹ پیازی اور وائٹ کنٹراس کے سادے سے سوٹ میں بالوں کی چٹیاں بنائے وہ جلدی جلدی ریسپشن پہ پہنچی اس سے پہلے وہ تارا کا پوچھتی راجا جو اسے دیکھ چکا تھا اس تک آیا اور اسکے پیچھے کھڑے ہوکے کہا۔
او میرے ساتھ۔۔۔
راجا کی اواز سن کے وہ فورا پلٹی اور صحیح مانو میں گھبرائ کیونکہ راجا اس کے بے حد قریب تھا اس کے پاس سے اتی کیلون کی خوشبو امامہ کے حواس باختہ کرنے کیلیے کافی تھے۔۔
امامہ خاموشی سے راجا کے پیچھے تارا کے روم میں داخل ہوئ مگر وہ سورہی تھی امامہ خاموشی سے تارا کے پاس بیٹھ گئ جب راجا نے کہا۔۔
تمہیں پتہ ہے تارا کس کے ساتھ بھاگی تھی؟؟۔
تارا بھاگی تھوڑی تھی وہ تو۔۔۔
اگے کی بات امامہ نے خود کو کہنے سے بعض رکھا اور کہا۔
مجھے کچھ نہیں پتہ اس بارے میں۔۔
امامہ بول کے دوبارہ تارا کو دیکھنے لگی جب راجا اس کے پاس کرسی رکھ کے بیٹھا اور کہا۔ا
ادھر دیکھو میری طرف راجا کے کہنے پہ امامہ اس کی طرف رخ موڑ کے گردن جھکا کے اپنی انگلیوں سے کھیلنے لگی جب راجا نے کہا۔۔
نارمل۔انسانوں کی طرح کی ہی انگلیاں ہے تمہاری
اب سیدھی طرح بتاو امامہ تارا کس کیساتھ گئ تھی۔۔۔راجا کی روب دار اواز پہ امامہ نے ایک دم گردن اٹھا کے راجا کو دیکھا راجا کی۔ہزیل گرین آنکھیں دیکھ کے امامہ نے دل میں کہا۔
“یہ ہزیل گرین آنکھیں مروائینگی”
راجا کے گھورنے پہ امامہ وہ سب کچھ راجا کو بتاتی گئ جو تارا نے اسے بتایا امامہ کی بات سن کے راجا کی سمجھ میں نہیں آیا کے گلنار بیگم واقعی اس کی ماں ہے۔۔
تارا کو ہوش اتے ہی راجا اور وہ لوگ ہسپتال سے نکلے امامہ کو اسکے گھر چھوڑ کے راجا تارا کو لے کے گھر گیا۔گلنار بیگم جو کب سے راجا کی راہ تک رہی تھی راجا کیساتھ اتی تارا کو دیکھ کے ان کے پیروں کے نیچے سے زمین کھسک گئ۔۔
زرغہ کو اپنے چہرے پہ گرم سانوں کا احساس ہوا اس نے پٹ اپنی آنکھیں کھولی تو قاسم کو اپنے بے حدقریب پایا زرغہ جیسی قاسم سے دور ہونے لگی قاسم نے فورا اپنی انکھیں کھولی اور کہا۔۔
کہاں جارہی ہو؟؟
وہ تھوڑا پیچھے ہوکے لیٹے مجھے گھبراہٹ ہورہی ہے۔
زرغہ کا بولنا تھا کے قاسم ایک دم اسکے اوپر آیا اور اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں جکڑ کے کہا۔۔
اور اب ارہا ہے سانس؟؟
زرغہ قاسم کی اس حرکت پہ ایک دم بوکھلا گئ شرم سے اسکا چہرہ لال ہوگیا اس میں ہمت ہی نہیں رہی کچھ بولنے زرغہ کے ایسےچپ رہنے پہ پہلے تو قاسم اسے دیکھتا رہا اور پھر بے خودی میں اسکے لبوں پہ جھک گیا زرغہ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اسے اپنی بے بسی پہ ڈت کے رونا آرہا تھا وہ قاسم کو ہٹا بھی نہیں سکتی تھی اسکے دونوں ہاتھ قاسم کے قبضے میں تھے لبوں کو چومنے کا دورانیہ جب بڑھنے لگا تو زرغہ کو گھٹن ہونے لگی وہ اپنی گردن دائیں بائیں کرنے لگی قاسم نے اس کے لبوں کو چھوڑا مگر اسے نہیں اسکی گردن پہ اپنے لب رکھتے ہی اس نے زرغہ کے دونوں ہاتھ اپنے ایک ہاتھ میں قید کیے اور دوسرا ہاتھ اسکی کمر کے نیچے ڈال کے اسے اور خود سے لگایا۔۔
قاسم نے زرغہ کی گردن کو چھوڑا اور گردن اٹھا کے زرغہ کو دیکھا جو آنکھیں بند کرکے چپ چاپ رونے میں مصروف تھی قاسم نے اپنے لبوں سے زرغہ کی آنسو چنے اور کہا۔۔
اتنا بھی ظالم نہیں ہو جو میرے چھونے پہ رو رہی ہو کوئ ناجائز طریقہ تو نہیں اپنایا تمہیں پیار کرنے کو شوہر ہو تمہارا محبت کرنے لگا ہو تم سے ۔
مگر میں نہیں کرتی نہ اپ سمجھتے کیوں نہیں راجا نے بیچا اپ نے خریدا پھر اپنے نام کرلیا ایسے رشتہ کو رشتہ نہیں سودے بازی کہتے ہیں کرے جو کرنا چاہتے ہیں اپ زرخرید غلام جو ٹہری اپکی ایک گھر سے بھاگی ہوئ لڑکی جسکی کوئ عزت نہیں۔۔
زرغہ کے بولنے پہ قاسم اس پہ سے ہٹا اور دھیرے سے کہاں جاو فریش ہوکے تیار ہوجاو کوئٹہ جارہے ہیں ہم وہی ہمارا ولیمہ ہے۔قاسم کی بات پہ زرغہ نے حیران نظروں سے اسے دیکھا مگر جو وہ کہنا چارہی تھی اور کہنے کی ہمت نہیں کرپارہی تھی قاسم سمجھ کے بول پڑا۔۔
تمہارے گھر والوں سے وقت انے پہ ملوادنگا ابھی نہ ملو تو بہتر ہے تمہارے جانے کے بعد تمہاری چھوٹی بہن کی شادی تمہارے ہونے والے شوہر سے ہوگئ اور تمہارا ہونے والا شوہر کا اس رات ایسا ایکسیڈینٹ ہوا کے وہ۔معزوری کی زندگی گزار رہا ہے۔۔
قاسم کے اس انکشاف پہ زرغہ رونے لگی۔
قاسم اسکو چپ چاپ دیکھنے لگا اور پھر کہا۔
وقت انے پہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا جاو تیار ہوجاو ۔۔
قاسم کے بولنے زرغہ بیڈ سے اتر کے جیسے ہی چلی چھن سے پائل کی اواز آئ زرغہ نےفورا اپنے پیروں کو دیکھا اور پھر اپنے دونوں پیر باری باری ہلائے اور گھوم کے قاسم کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
قاسم تھوڑا زرغہ کے قریب آیا اور جھک کے زرغہ کے پاوں سے پائل اتار کے زرغہ کے ہاتھ میں رکھی اور کہا۔
جانتا ہو مجھے حق نہیں تمہہیں زبردستی اپنی دستریس میں لینا کا تمہیں کہنے کا کے مجھ سے محبت کرو مگر جس دن مجھ سے محبت ہوجائے مجھے شوہر کا درجہ دینے کا دل کرے پہن لینا اسے ۔۔
یہ بول کے قاسم کمرے سے باہر چلا گیا اور زرغہ اپنے ہاتھ میں موجود پائل کو دیکھنے لگی۔۔۔
جاری ہے۔۔
