Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
قسط نمبر 12#
تارا اور گلنار بیگم ایک ساتھ پارٹی میں پہنچی۔۔جب نسرین بیگم انکو دیکھ کے انکے پاس پہنچی اور کہا۔۔
ویل کم مسسز اشفاق کیسے ہیں اپ ۔
اینڈ تھینکیو فور کمنگ۔۔
ارے مسسز زمان اپنے اتنے دل سے دعوت دی تو میں کیسے نہیں اتی۔۔
اور یہ ائ تھنک تارا ہے نہ۔۔
نسرین بیگم نے تارا کو دیکھ کے گلنار بیگم سے کہا۔۔
جی جی گلنار بیگم نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا۔۔
اسلام وعلیکم انٹی کیسی ہیں اپ ؟؟
تارا نے نسرین بیگم سے گلے ملتے ہوئے کہا۔۔
میں بلکل ٹھیک ہو ماشاءاللہ تمہاری بیٹی تو بہت خوبصورت ہے جبھی اسے چھپا کے رکھا تھا کبھی لائ۔نہیں اسے تم کسی پارٹی میں۔
نسرین بیگم نے دوستانہ شکوہ کیا۔۔۔
بھئ یہ اتی ہی نہیں پارٹیز میں اج بھی بہت مشکل سے لائ ہو۔۔
گلنار بیگم کے بولنے تارا نے ہنستے ہوئے اپنی گردن جھکائ ۔
ارے زمان بھائ کہاں ہیں میں انہیں بھی مبارک باد دے دو گلنار بیگم کے بولنے پہ نسرین بیگم ان دونوں کو زمان صاحب کے پاس لے گئ۔۔
مگر زمان صاحب کیساتھ ازان کو دیکھ کے جہاں تارا کو جھٹکا لگا وہی اذان بھی شاکڈ تھا گلنار بیگم کی بیٹی کے روپ میں تارا کو دیکھ کے۔۔۔۔
بہت بہت مبارک ہو اپکو انکل ۔۔تارا نے زمان صاحب کا مبارک دی جو انہوں نے خوشی خوشی قبول کری۔۔
نسرین بیگم نے اذان کا تعارف تارا سے کروایا تارا سے ملتے ہوئے اذان کے چہرے پہ ایک انوکھی خوشی تھی جو اور کسی نے نوٹس نہیں کی سوائے زمان صاحب کے ۔
وہ تینوں ادھر ادھر اور مہمانوں سے ملنے میں مصروف ہوگئے۔
تارا اور اذان اکیلے ایک ساتھ کھڑے تھے تارا مسلسل اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے کھیل رہی تھی اور اذان اسکا حسین سراپا اپنی انکھوں میں بسا رہا تھا ۔جب ویٹر ان دونوں کے قریب وائن کے گلاس لایا تو اذان نے ویٹر سے کہا۔۔
میم کے لیے اورنج جوس لاو۔۔
اذان کے بولنے پہ تارا نے حیران نظروں سے اذان کو دیکھا تو وہ مسکرایا ۔۔ویٹر کے جانے کے بعد تارا نے اذان سے پوچھا ۔
اپکو کیسے پتہ میں یہ نہیں پیونگی۔۔؟؟؟
تارا کا اشارہ وائن کی طرف تھا۔۔۔۔
بس پتہ لگ گیا ویسے مجھے کسی خاص نے کہا تھا۔۔
فرسٹ ایکسپریشن از دا لاسٹ ایکسپریشن۔۔۔
خاص لفظ پہ تارا نے نگاہ اٹھا کے اذان کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا لائٹ براون انکھیں اذان کی جو اج تارا کو کوئ اور ہی پیغام دے رہی تھی۔اس سے پہلے تارا کا دل بے قابو ہوتا ایک جانی پہچانی اواز پہ تارا کا دیھان توٹا۔۔۔۔
ہائے بے بی مائ سویٹ ہارٹ کیسے ہو؟؟
عیشال اکے اذان کے گلے لگ گئ۔ عیشال کے ایسے گلے لگنے پہ جہاں اذان ایک دم بوکھلایا وہی تارا بھی شرمندگی سے وہاں سے چلی گئ اور اذان کی نگاہوں نے اسکا دور تک پیچھا کیا۔۔
ہائے انکل کیسے ہیں اپ عیشال اذان سے مل کے بلا تکلف زمان کے گلے لگ گئ زمان نے ایک نظر عیشال کو دیکھا اور نسرین بیگم کی طرف مگر جب انہوں نے اذان کی طرف دیکھا تو وہ شاکڈ رہ گئے اور انہیں سب سمجھ اگیا کے اذان کی پریشانی کی وجہ کیا تھی۔۔
آصفہ بیگم کا بھی نسرین بیگم نے بھر پور استقبال کیا کیونکہ وہ بہت پرانی دوستیں تھی۔۔صاحبہ کو بھی نسرین بیگم سے ملکے کافی اچھا لگا آصفہ نسرین باتوں میں مصروف ہوگئ ۔۔صاحبہ ٹیبل پہ بیٹھنے کیلیے جانے لگی جب اس ایک جانا پہچانا چہرہ دیکھا وہ جیسے ہی اس چہرے کے قریب پہنچی تو بہت خوش ہوئ اور کہا۔۔
ارے تارا اپی اپ یہاں ۔۔؟؟
صاحبہ کے بولنے تارا جو راجا سے بات کررہی تھی ایک دم اس کی طرف دیکھا تو اسے بھی خوشی ہوئ مگر جب تارا کیساتھ کھڑے راجا کو دیکھا تو ایک دم حیران ہوئ کچھ ایسا ہی حال راجا کا بھی تھا جو صاحبہ کو اس پارٹی میں دیکھ کے حیران تھا وہی صاحبہ کے سجے سراپے کو دیکھ کے اسکی انکھیں مزید روشن ہوئ ۔۔
ارے صاحبہ تم یہاں کیسے مطلب کس کے ساتھ ائ ہو؟؟؟
میں تائ کیساتھ ائ تھی وہ جواب تو تارا کی باتوں کا دے رہی تھی مگر نظریں اسکی بھٹک بھٹک کے راجا پہ جا رہی تھی جو بنا پلک جھبکائے صاحبہ کو دیکھنے میں مگن تھا۔۔
زرغہ نے جب تک راجا کی فیلڈ میں قدم نہیں رکھا تھا تب تک تارا اور وہ اچھے دوست تھے تارا کئ بار زرغہ کے گھر بھی اچکی ہے مگر اب ان میں بات چیت بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔۔۔۔
تو ادھر راجا اور صاحبہ نے بھی تارا پہ ظاہر نہیں کیا کے وہ دونوں پہلے سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔۔۔
ارے میں تو بھول ہی گئ تارا کو جیسے کچھ یاد ایا۔۔
صاحبہ یہ میرے برے بھائ راجا اور بھائ یہ ہے زر ۔۔۔۔
ابھی تارا کچھ بولتی راجا نے ایک دم کہا۔۔
تارا شاید وہ دیکھو امی اشارہ کررہی ہیں راجا نے تارا کو اپنا جملہ پورا کرنے نہیں دیا اور شاید راجا کی قسمت نے بھی اسکا ساتھ دیا کے گلنار بیگم واقعی تارا کا اشارہ کررہی تھی جو راجا نے دیکھ لیا۔۔
تارا کے جاتے ہی راجا صاحبہ کے قریب ایا اور کہا۔۔
کیسی ہو لٹل گرل؟؟
می۔۔ٹییھک۔۔۔۔اپپ صاحبہ نے ہکلاتے ہوئے اپنے اگے کا جملہ پورا اسکی گھبراہٹ کی وجہ راجا تھا جو اپنی شہزادہ جیسے پرسنیلٹی کیساتھ اس کے بے حد قریب تھا۔۔
صاحبہ۔اس سے تھوڑا دور ہوئ اور خاماخائ میں اپنے موبائل اوپر نیچے کرنے لگی۔جب اچانک راجا نے کچھ سوچتے ہوئے اس کے ہاتھ سے موبائل لیا اور کہا۔۔
ارے واہ لٹل گرل موبائل کا کلر تو بہت خوبصورت ہے اپیل ہے نہ۔۔۔؟؟؟
صاحبہ جہاں راجا کے ایسے موبائل لینے پہ منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی وہی اتنی دیر سے اسے یہ۔سمجھ نہیں ارہا تھا کے وہ راجا کے سامنے سے جا کیوں نہیں رہی۔۔
راجا نے موبائل اوپن کیا تو وہ کھل گیا مگر وال۔پیپر دیکھ کے راجا کے صحیح مانو میں اگ لگی کیونکہ۔وال۔پیپر پہ۔صاحبہ اور زرقان کی پک تھی جو بہت خوبصورت تھی مگر پک ایسی تھی جیسی سیلفی لی۔ہو زرقان کی۔پک دیکھ کے راجا کا غصہ اسمان سے چھونے لگا مگر وہ فلحال ایسی کوئ حرکت نہیں کرنا چاہتا تھا کے وہ صاحبہ کی نظروں میں گرے۔۔۔
راجا نے کمال مہارت سے صاحبہ کے موبائل سے اپنے نمبر دائل کرکے ہلکی۔سے بیل دی۔۔
اور صاحبہ کو واپس موبائل دیتے ہوئے کہا۔۔
ویسے لٹل گرل اج ہم دونوں نے ایک ہی کلر کی ڈریسنگ کی ہے۔راجا کے بولنے پہ صاحبہ نے اپنے ڈریس کا کلر دیکھا اور راجا کے ڈریس کا تو مسکراتے ہوئے کہا۔۔
ہاں کلر بلکل سیم ہے۔۔۔صاحبہ کے مسکرانے پہ راجا کی۔نگاہیں اسکے گلابی پتلے ہونٹوں پہ گئ اسکا دل الگ انداز میں ڈھرکا اس سے پہلے راجا صاحبہ کو کچھ کہتا آصفہ کے کہنے پہ صاحبہ ان تک چلی گئ جبھی ایک دم سارے لائٹیں بند ہوئ اور ایک اسپاٹ لائٹ جلی جو اذان اور عیشال کو فوکس کررہی تھی۔۔
ساتھ میں ایک سانگ پلے ہوا۔۔
“تیرے سامنے اجانے سے ۔
یہ دل میرا ڈھرکا ہے۔۔
یہ۔غلطی نہیں ہے تیری قصور نظر کا ہے ۔۔
جس بات کا تجھ کو ڈر ہے وہ۔
کرکے دیکھا دونگا۔۔
ایسے نہ مجھے تم دیکھو۔۔
سینے سے لگالونگا۔۔
تم۔کو میں چرا لونگا تم سے دل میں بسا لونگا۔۔۔””
اذان کی نظریں بلا جھجھک تارا پہ۔گئ جو اسے ہی۔دیکھ رہی تھی اچانک کپل ڈانس کا شور ہوا تارا صاحبہ اور راجا ایسی ہی کھڑے تھے جب راجا نے وہاں کسی لڑکی کیساتھ ڈانس شروع کیا تارا اور صاحبہ ٹیبل پہ بیٹھنے لگی جب اذان کی خالہ کے جڑواں بیٹے جو مشکل۔سے 16 سال کے تھے دونوں نے تارا اور صاحبہ کے سامنے اکے کہا۔۔
اپ دونوں خوبصورت اپی ہم معصوم بھائیوں کے ساتھ ڈانس کرینگی پلیز منع نہیں کریے گا اپی ہمیں ڈانس کرنا ہے یہاں باقی ساری اپییوں نے اتنی اونچی اونچی ہیل پہنی ہے کے اگر غلطی سے بھی ہمارے پاوں پہ چڑھ گئ تو ہمارے پاوں کی۔ہڈیاں ہمیں بدعائیں دینگی ۔۔
ان دونوں نے اتنی معصومیت سے کہا کے وہ دونوں انکار نہیں کرپائ۔۔
سب ڈانس کررہے تھے لائٹس ابھی بھی اوف تھی کے ایک۔دم ڈانس فوم بدلی اور پاٹنر چینج ہوئے اب تارا ازان کے پاس تھی اور صاحبہ راجا کے پاس ۔۔
راجا نے صاحبہ کی کمر پہ۔ہاتھ رکھ کے اسے خود سے اور قریب کیا تو ادھر ازان نے تارا کا ہاتھ اٹھا کے اپنے گلے میں ڈالا اور اپنے دونوں ہاتھ اس کی کمر پہ رکھے۔۔
جاری ہے۔۔۔
