84.5K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

ساحل سمندر پہ خالی لہروں کا شور تھا ایک شور اس کے اندر بھی مچا تھا ایک عجیب سی بے چینی تھی اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے کچھ غلط ہونے والا ہے۔۔
ایک ہفتہ پہلے جب اسے پتہ چلا کے اسکی ماما نے اس سے جھوٹ بول کے خالی اپنی بات اونچی رکھنے کیلیے اپنے اکلوتے بیٹے کی زندگی داو پہ لگادی ۔جب سے اذان نے اپنے اردگرد خاموشی کا خول چڑھا لیا تھا ۔
مگر اس کے پاپا اب کسی صورت عیشال کو اپنی بہو بنانے کیلیے آمادہ نہیں تھے اور اس بات پہ پچھلے ایک ہفتہ سے اس کے ماما اور پاپا لڑرہے تھے ۔۔
مگر اس کے پاپا نے فیصلہ اس پہ چھوڑا تھا اور اسکی ماما نے اس سے بلکل بات چیت ختم کی ہوئ تھی مگر زمان صاحب نے صاف اذان کو کہا تھا وہ جب بولے گا جس وقت بولے گا وہ تارا کے گھر رشتہ لے کر جائینگے جب کے دوسری طرف نسرین بیگم نے صاف لفظوں میں کہا تھا اگر عیشال کی جگہ کوئ اور لڑکی اس گھر میں بہو بن کے آئ تو وہ ہمیشہ کیلیے گھر چھوڑ کے چلی جائے گئ۔۔
ایک طرف اسکی محبت کا راستہ تھا تو دوسری طرف ممتا کا اذان عجیب مشکل میں پھنس چکا تھا۔۔
اذان نے سوچتے ہوئے ایک لمبی سانس لے کے اپنا سر اپنے ہاتھوں میں گرا لیا۔جبھی دور سے مغرب کی اذان کی صدائیں گونجنے لگی ۔۔
اذان نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور قریب کی مسجد میں سجدہ زیر ہونے چلا گیا۔۔
اذان نے سجدہ میں بھی اللہ سے یہ ہی کہا
“۔یااللہ جو بھی میرے حق میں بہتر ہو وہ ہی کرنا۔۔”..
نماز پڑھ کے اذان ٹہلتا ہوا اپنی گاڑی تک ایا گاڑی کا لاک کھولنا لگا جب اسے لگا اس کے سامنے بنے کاٹیج کے سیکنڈ فلور پہ کوئ تھا ۔اذان نے اپنا وہم سمجھا اور دوبارہ لاک کھول کے گاڑی کے اندر بیٹھنے لگا اچانک پھر کوئ عکس ابھرا اور اپکے اذان کے ہاتھ سے چابی چھوٹ کے نیچے گری کیونکہ وہ کسی کا عکس نہیں بلکہ تارا تھی۔۔جو دیوانہ وار اپنے ہاتھ ونڈو پہ مار رہی تھی شاید اس نے اذان کو دیکھ لیا تھا۔۔
مگر اذان وہ حواس باختہ اس کاٹیج کے گیٹ تک پہنچا اور اس کے گیٹ کو بجانے لگا تارا یہاں کیسے پہنچی کس کے ساتھ تھی اس وقت اذان کچھ سوچنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔
کھولو دروازہ میں کہتا ہو کھولو ۔۔۔
اذان کے چیخنے پہ دروازہ کھلا اور کوئ دہشت زدہ انسان نمودار ہوا اس نے اذان کو غصہ سے دیکھا اور کہا۔۔
کیا بات ہے کیا چاہیے تمہیں کیوں بجا رہے ہو دروازہ؟؟؟
۔اندر جانا ہےمجھے وہ لڑکی اندر۔۔۔۔۔کیسے ائ؟؟
ہٹو راستے سے میرے مجھے اندر جانا ہے۔۔۔
بہت ہی۔کوئ بیہودہ سا قہقہ اس دیو نما انسان نے لگایا اور کہا۔
اپنا کام لڑکے دفعہ ہو یہاں سے یہاں جو بھی اتا ہے اپنا مرضی سے اتا ہے وہ بھی اپنی عیاشی کرنے یہ کہہ کے اس نے اذان کو زور سے دھکا دیا۔۔
اذان کے قدم ایک دم لڑکھڑائے مگر وہ گرا نہیں نجانے اس میں اتنی ہمت کہاں سے ائ کے اپنے ہاتھ میں پکڑی گاڑی کی چابی پوری طاقت سے اس آدمی کی آنکھ میں گھونپ دی تکلیف کی شدت سے وہ آدمی چیخ پڑا۔۔۔۔۔
اذان نے اس دھکا دیا اور اوپر تیزی سے بھاگا۔۔۔۔
اتنے سارے کمرے دیکھ اذان کے اوسان خطا ہونے لگے وہ ایک دم رونے لگا اور اس نے چیخ کے کہا۔۔۔
“یااللہ مجھے راستہ دیکھا””
اسکا اتنا بولنا تھا کے ایک دم کچھ گرنے کی آواز ائ اذان فورا اس کمرے کی سمت ڈورا جہاں سے آواز ائ ۔۔
اذان اس دروازے پہ پہنچا اور زور زور سے اسے پیٹنے لگا مگر اندر سے کسی کی بس درد بڑی چیخیں سنائ دے رہے تھی ۔۔اذان نے پوری طاقت سے دروازے کو دھکا دیا تو وہ کھل گیا مگر اندر کا نظارہ دیکھ کے اذان اگر دیوار کا سہارا نہیں لیتا تو یقینا گر پڑتا۔۔

#

دروازہ کی نوک پہ زرقان جو اپنے اوپر پرفیوم اسپرے کررہا تھا دروازہ ناک ہونے پہ۔اسکے ہاتھ ایک دم تھمے اور اس نے کہا۔۔۔۔
آجائے۔۔۔
زرقان کے بولنے زرغہ اندر داخل ہوئ۔۔۔
ارے زرغہ تم کوئ کام تھا تمہیں۔۔۔؟؟
زرغہ کی اچانک آمد زرقان کو کافی حیرت ہوئ زرقان کے پوچھنے پہ زرغہ دھیرے دھیرے چلتی ہوئ زرقان کے پاس ائ اور کہا۔۔۔
کوئ کام ہوگا جبھی تمہارے کمرے میں آونگی۔۔۔؟؟
ارے نہیں نہیں میرا وہ۔مطلب نہیں تھا۔۔زرقان نے زرغہ کی غلط فہمی دور کی اور کہا۔۔
زرغہ زرقان کے اور قریب ائ اور اپنی ہاتھ زرقان کی گردن میں ڈالے۔۔۔اور کہا۔۔
تو پھر ایسا سوال کیوں کیا ؟؟؟
زرغہ کے اسطرح قریب آنے پہ زرقان کے لب کھل کے مسکرائے اس نے زرغہ کو کمر سے تھام کے خود سے اور قریب کیا اور کہا۔۔۔
تم تو زندگی ہو زرغہ میری پہلی خواہش پہلی پسند ۔۔مجھ ناچیز کی ہمت کے اپ سے ایسا سوال کیا گستاخی معاف جانمن۔۔۔
زرقان کے بولنے پہ زرغہ کے لب مسکرائے اور اس نے کہا۔۔
میں بھی تمہہیں چاہنے لگی ہو زرقان یہ بول کے زرغہ زرقان کے لبوں کے قریب ائ۔۔۔
دونوں کی نظریں ملی زرقان کے اندر اٹھنے جزباتوں نے طلاتم مچایا زرغہ کی کمر پہ سے ہاتھ ہٹا کے اس نے زرغہ کے چہرے کو تھاما اور اپنے لب زرغہ کے لبوں پہ۔رکھ دیے۔زرغہ نے بھی زرقان کا کالر تھاما کے جبھی دھرم سے دروازہ کھلا۔۔
زرقان تم۔۔۔آگے کی بات بولنے سے پہلے ہی صاحبہ رخ موڑ گئ۔۔صاحبہ جسکا ارادہ اج زرقان کیساتھ شاپنگ پہ جانے کا تھا۔۔
تیار ہوکے وہ سیدھا زرقان کے کمرے کی طرف ائ اور ہمیشہ کی طرح بنا ناک کیے وہ زرقان کے کمرے میں داخل ہوئ مگر زرغہ اور زرقان کو اس طرح دیکھ کے وہ فورا رخ موڑ گئ۔۔
ائ ایم سو سوری ۔۔۔
صاحبہ نے فورا ان دونوں کو سوری بولا ۔۔صاحبہ کے سوری بولنے پہ زرغہ نے کہا
۔۔کچھ مینرز ہوتے ہیں صاحبہ کسی کے کمرے میں انے کے پرائیوسی بھی کوئ چیز ہوتی ہے ااسیے بے شرموں کی طرح کیسی کے بھی کمرے میں گھستے نہیں۔۔
زرغہ نجانے صاحبہ کو کیا کیا سنا رہی تھی مگر زرقان نے ایک لفظ نہیں بولا وہ خود شرمندہ تھا۔۔
صاحبہ رخ موڑے بہتی آنسووں سے زرغہ کی باتیں سننے لگی اور تھوڑی دیر بعد وہ تیزی سے کمرے سے چلی گئ۔۔
اپنےکمرے میں اکے صاحبہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی مگر اسے اپنے رونے کی وجہ سمجھ میں نہیں ارہی تھی وہ زرغہ کے بے عزت کرنے پہ رو رہی تھی یہ پھر زرقان اور زرغہ کو اتنے قریب دیکھنے پہ۔۔
تھوڑی دیر بعد زرقان صاحبہ کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ سورہی تھی۔زرقان نے ایک نظر سوتی صاحبہ کو دیکھا اور کمرے سے نکل گیا کیونکہ باہر زرغہ اسکا ویٹ کررہی تھی ڈنر کیلیے وہ یہی بولنے صاحبہ کو آیا تھا کے وہ اج اس کے ساتھ نہیں جاسکتا مگر اس کو سوتا دیکھ وہ بنا بولے چلا گیا۔
ادھر صاحبہ جو رونے میں مصروف تھی کسی کی آہٹ پہ وہ فورا سوتی بن گئ۔۔
زرقان کے جانے پہ وہ اٹھی اور پھر رونے لگی مگر تھوڑی دیر بعد کچھ سوچ کے وہ تیار ہوکے اکیلی ہی شاپنگ پہ چلی گئ۔۔
مال میں اپنی مطلوبہ چیزیں لینے کے بعد وہ لفٹ کا ویٹ کرنے لگی لفٹ روکتے ہی جیسی کھلی اندر موجود انسان کو دیکھ کے صاحبہ کو حیرت کا جھٹکا لگا مگر سامنے کھڑا نفوس مسکرایا اور بول۔پڑا۔
آہاں لٹل گرل ونس اگین۔۔۔
راجا بول کے مسکرایا تو ادھر صاحبہ جسکا موڈ شاپنگ کرکے کافی اچھا ہوگیا تھا مسکراتی ہوئے اندر داخل ہوئ اور سلام کیا۔
راجا نے بھی اس کے سلام کا جواب دیا اور لفٹ کا بٹن دبایا ابھی لفٹ زرا سی ہی چلی تھی کے ایک دم لائٹ کے جاتے ہی لفٹ جھٹکے سے رکی لفٹ میں موجود صاحبہ نے گھبرا کے راجا کو دیکھا جو وقتی طور پہ پریشان تھا مگر صاحبہ کا چہرہ دیکھ کے مسکرا پڑا اب لفٹ میں صاحبہ اور راجا تھے۔۔۔
جاری ہے۔۔