84.5K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

اذان نے جیسی ہی دروازہ کھولا تو سامنے کا منظر دیکھ کے اس کی جان مانو کسی نے کھینچ لی ہو تارا ادھ مری۔حاکت میں زمین پہ پڑی تھی اور سامنے ہی عدیل کھڑا تھا جسکے ہاتھ میں بیلٹ تھی ۔جو اچانک درازہ کھلنے پہ پل بھر کیلیے عدیل کے جہاں ہاتھ تھامے وہی اذان کو سامنے دیکھ کے عدیل کے پیروں تلے ذمین کھسکی اور ادھر زمیںن بوس ہوئ تارا نے ایک نظر اذان کو دیکھا اور بیہوش ہوگئ۔۔۔۔
اذان تارا کو چھوڑ کے عدیل کی طرف لپکا اور دیوانہ۔وار اسے مارنا شروع کردیا..
جس بلیٹ سے وہ تارا کو مار رہا تھا اذان نے وہ اپنے ہاتھ کی مٹھی میں گھمائ اور عدیل کو مارنا شروع کردیا۔
عدیل ادھ مرا زمین پہ بیہوش پڑا تھا۔۔
اذان بیلٹ چھوڑ کے تارا کی طرف لپکا جسکے کپڑے جگہ جگہ سے بیلٹ کی مار سے پھٹ چکے تھے تواتر اذان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اس نے تارا کو باہنوں اٹھا کے نیچے کی طرف آیا جہاں اس کی گاڑی تھی وہاں کوئ نہیں تھا اذان نے اسے احتیاط سے پیچھے لیتا کے گاڑی اسٹارٹ کرکے ہسپتال کی طرف ڈورا دی۔مگر راستہ میں زمان صاحب کو کال کرنا نہیں بھولا۔۔۔۔

#

دس منت سے وہ دونوں لفٹ میں بند تھے ۔راجا پھر طریقہ سے بند لفٹ کا مزہ انجوائے کررہا تھا مگر صاحبہ اس کی حالت عجیب ہورہی تھی ۔راجا جسکی نظریں صاحبہ پہ تھی اس نے محسوس کیے صاحبہ کی ٹانگیں لرز رہی ہیں ۔۔۔
لٹل گرل بیٹھ جاو کب تک کھڑی رہوگی؟؟
راجا کے بولنے پہ صاحبہ نے اس کی۔طرف پلٹ کے دیکھا مگر صاحبہ کو دیکھ کے راجا گھبرا گیا کیونکہ صاحبہ گھٹ گھٹ کے رو رہی تھی۔۔
راجا دو قدم اسکی طرف بڑھا اور پوچھا۔۔۔
ہےے لٹل گرل کیا ہوا رو کیوں رہی ہو تم ؟؟
راجا کے پوچھنے پہ صاحبہ نے کہا۔۔
وہ یہ۔۔۔لفٹ ۔۔۔۔۔
اگے صاحبہ سے بولا نہیں گیا وہ اور رونے لگی۔۔
ارے یار ابھی چل پڑے گی لفٹ کوئ ساری زندگی ہم اس لفٹ میں بند تھوڑی رہینگے۔۔۔
مجھے اندھیرے سے بہت ڈر لگتا ہے۔۔۔
صاحبہ کے اسطرح کہنے پہ راجا کے لبوں کے ساتھ ساتھ اس کی آنکھیں بھی مسکرائ۔۔۔
اچھا ادھر دیکھو میری طرف ۔۔
راجا کے بولنے پہ صاحبہ نے اسکی طرف دیکھا تو راجا نے اپنی ہتھیلی اس کے اگے پھیلائ۔۔۔اور کہا۔۔
ہر ڈر ہر خوف کو تھوڑی دیر کیلیے بھول کے میرا ہاتھ تھام لو لٹل گرل۔۔۔
میں تمہیں ڈرنے نہیں دونگا۔۔۔
راجا نے یہ بات نوٹ کی تھی کے صاحبہ کے سردی میں بھی اس اندھیرے کی وجہ سے پسینے چھوٹ رہے تھے۔۔
راجا کے لہجے میں کچھ ایسا تھا کے صاحبہ نے اسکی پھیلی ہتھیلی تھام لی ایک ہاتھ سے راجا نے صاحبہ کی ہتھیلی تھامی اور دوسرے ہاتھ سے اپنی لیدر کی جیکٹ کی زپ کھولی صاحبہ نے حیران کن نظروں سے راجا کی حرکت دیکھی مگر بولی کچھ نہیں راجا اسے لیے کے تھوڑا پیچھے ہوا اور دیوار سے لگ کے کھڑا ہوگیا ۔
راجا کا ایک۔ہاتھ صاحبہ کی کمر پہ تھا اور صاحبہ کے دونوں ہاتھ راجا کے سینے پہ ایک عجیب سے تحفظ کا احساس صاحبہ کو راجا کی باہنوں میں ملا بے خودی میں اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔۔
راجا صاحبہ کے نرم گداز وجود کو اپنی باہنوں میں لیے کھڑا تھا مگر اس کے دل میں کوئ بدنیاتی نہیں تھی راجا اپنی کیفیت خود بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔۔
راجا نے کی ٹانگین جب کھڑے کھڑے شل ہونے لگی تو راجا نے صاحبہ سے کہا۔۔
لٹل گرل تھوڑی دیر بیٹھ جاتے ہیں میری ٹانگوں میں درد ہوگیا ہے۔۔۔
مگر اگے سے بے سود صاحبہ کو کوئ جواب نہیں آیا۔۔
راجا نے جھک کے اپنے سینے سے لگی صاحبہ کو دیکھا مگر صاحبہ کے بال۔اسکے چہرے پہ آنے کی وجہ سے راجا اسکا چہرہ دیکھ نہیں پایا راجا نے اس کے بال۔احتیاط سے اسکے چہرے سے ہٹائے بال ہٹاتے ہی جو منظر اسے دیکھا بلا شبہ راجا مسکرا اٹھا صاحبہ کسی معصوم گڑیا کی طرح راجا سے لگ کے سو چکی تھی۔۔راجا نے بہت احتیاط سے صاحبہ کو لے کے نیچے بیٹھا اور صاحبہ کو اسطرح بیٹھایا کے وہ اسکی گودھ میں بیٹھی تھی چبد منٹ ہی گزرے تھے راجا کو صاحبہ کو اپنی آنکھوں میں بسائے کے ایک دم لفٹ کا جھٹکا لگا اور وہ چل پڑی لفٹ کے چلتے ہی صاحبہ ڈر کے اٹھی اور راجا کے کالر کو مضبوطی سے تھام لیا۔۔
ارے لٹل گرل ریلکس چل پڑی لفٹ راجا کے بولنے پہ صاحبہ نے اپنی بند آنکھیں کھولی مگر شرم سے فورا اپنی آنکھیں جھکا لی اور تیزی سے راجا کی گودھ سے کھڑی ہوئ۔ لفٹ رکتے ہی صاحبہ نے ایک نگاہ بھی راجا پہ نہیں ڈالی اور لفٹ سے نکل کر تیزی سے بھاگی ۔۔
راجا صاحبہ کی اس حرکت پہ دل کھول کے مسکرایا اور دوبارہ لفٹ کا بٹن دبا دیا۔۔
جاری ہے۔۔