Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Episode 37 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 37 Part 2
صاحبہ نے اپنا ہاتھ اپنے ڈوپٹے میں چھپایا اور تیزی سے اپنے کمرے میں پہنچ کے لمبے لمبے سانس لینے لگی شکر تھا اسکا سامنا گھر کے کسی فرد سے نہیں ہوا کمرے کا دروازہ اس نے اچھی طرح بند کیا اور واش روم میں جانے لگی جب اسکی نظر زرقان پہ پڑی جو سورہا تھا صاحبہ کے آنسو ایک بار پھر گرنے لگے ۔۔اس نے واش روم کا رخ کیا اور فریش ہوکے باہر آئ تو آصفہ بیگم کو کمرے میں پایا واش روم میں پایوڈین لگا کے وہ ہاتھ کے زخم سے بہتے خون کو فلحال روک چکی تھی۔۔
ہوگئ ڈاکٹر سے ملاقات ؟؟۔آصفہ بیگم کے پوچھنے پہ صاحبہ نے ہاں میں گردن ہلائ۔۔
چلو تم بیٹھو میں کھانا بھجواتی ہو۔۔
جی تائ چائے بھی بھجوادیے گا۔ ۔
ٹھیک ہے بیٹا تم دیکھو زرقان کو میں بھجواتی ہو۔۔۔۔
زرقان جو خاموش نگاہوں سے صاحبہ کو دیکھ رہا تھا مگر اسکا سارا دیھان صاحبہ کے چہرے پہ نہیں اسکے زخمی ہاتھ پہ تھا۔۔
صاحبہ نے زرقان کو سوپ پلا کے اسکا چہرہ صاف کیا اسکی شرٹ بدلی اسکا پیمپر بدلا ایک مکمل اپاہج انسان تھا اس وقت زرقان مگر صاحبہ اسکے دماغ میں ایک پل کیلیے بھی یہ خیال نہیں آیا کے زرقان ایک معزور ہے ہر طرح سے ۔۔صاحبہ کی آنکھوں سے مسلسل آنسس جاری تھے مگر اگلا لمحہ صاحبہ کیلیے کافی شاکڈ تھا جب صاحبہ کے آنسو پوچنے کیلیے زرقان نے ہاتھ اسکے چہرے پہ لانے کی کوشش کی صاحبہ زرقان کی اس ہمت پہ مسکرا اٹھی اسکا لرزتا ہوا ہاتھ تھام لیا۔۔۔
تارا بے یقینی سی کیفیت میں راجا کے کمرے کا پورا دروازہ کھول۔کے اندر آئ اور راجا کے روبرو اکے کہا۔۔
کیا کیا بھائ اپنے زرغہ کیساتھ؟؟
کچھ نہیں کیا کیا بولے جارہی ہو راجا ایک دم بگڑ کے بولا۔۔
تارا نے راجا کا ہاتھ ایک دم اپنے سر پہ رکھا اور کہا کھائیے میری قسم میں نے جو سنا وہ غلط ہے ابھی اب جو بول رہےتھے۔راجا نے ایک نظر تارا کو دیکھا اور اسکے سر پہ رکھے اپنے ہاتھ کو اور ڈھرم سے گدے پہ بیٹھ کے ایک ایک بات تارا کو بتا دی راجا بول کے چپ۔ہوا تو تارا بھی روتے روتے راجا کے برابر میں بیٹھ کے کہنے لگی۔۔
بھائ زرغہ آپ سے واقعی محبت کرتی تھی۔۔
مگر میں صاحبہ سے محبت کرتا ہو ۔۔
وہ ملی۔آپکو؟؟
نہیں نہ اج وہ کسی اور کی بیوی ہے کیسے سوچ لیا اپنے کے اپ کسی کی محبت کو پانے کیلیے اسکا ساتھ پانے کیلیے کسی کی سچی محبت کو سیڑھی بنائینگے تو اپکے پاوں وہ سیڑھی پار کر جائینگے ۔
میں صاحبہ کو حاصل کرکے رہونگا۔۔
دیکھ لے بھائ اس جنگ میں ہارینگے آپ ہی کیونکہ صاحبہ زرقان کو کبھی نہیں چھوڑے گی۔۔
یہ بول کے تارا کمرے سے جانے لگی جب پیچھے سے راجا نے تارا کو آواز لگا کے پوچھا۔۔
تم اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی ہو میں اسکو اپنے ہر عمل سے یہ یقین دلاونگا کے وہ میرا عشق ہے پتھر پہ اگر بوند بوند پانی گرا جائے تو اس میں بھی سوراخ ہوجائے گا ۔۔
بلکل ہوجائے گا بھائ اگر اس پتھر میں درار ہوگی۔۔
تارا نے مڑ کے کہا۔اور دوبارہ راجا کے قریب آئ اور کہا۔۔
خالی ماں باپ کا کرا اولاد کے اگے نہیں اتا بھائ کا کرا بھی بہن کے اگے آتا ہے۔۔
زرغہ کیساتھ اپنے جو بھی کیا بھائ یاد رکھیے گا اس کی آہ۔اپکو لگے گی کیونکہ توٹے دل کی صدا عرش تک۔کو ہلا دیتی ہے۔۔
یاد رکھیے گا بھائ اپکے ہر گناہ کی سزا اپکی بہن چکائ گی۔۔چھوڑ دے اسکا پیچھا ورنہ بہت پچھتائینگے۔۔۔
یہ بول کے تارا راجا کے کمرے سے چلی گی
مگر کیا تارا کے کہے الفاظ راجا پہ اثر انداز ہونگے یہ تو انے والا وقت ہی بتاتا۔۔
چلو اذان تارا کو لے کر آتے ہیں۔
زمان صاحب نے ازان کے کمرے میں اتے ہوئے کہا۔۔
ازان جو کمرے کی کھڑکی پہ کھڑا تھا زمان صاحب کے بولنے پہ ایک دم پلٹا اور کہا۔۔
میں کبھی اپنی ماں کا دل دکھا کے خوش نہیں رہ سکتا بابا جب تک ماما ساتھ نہیں جائیگی تارا کو لینے میں نہیں جاونگا اسے لینے اچھا ہے مجھے چھوڑ دے وہ ڈیڈ ایک کمزور انسان کیساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے جو کوئ بھی رشتہ باندھ کے نہ رکھ سکے ماما کے بغیر رہ نہیں سکتا ڈیڈ اور تارا کے بغیر زندگی نہ مکمل ہے مجھے بتائے میں کیا کرو ڈیڈ یہ بولنا تھا کے اذان کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے زمان صاحب نے فورا اپنے لخت جگر کو اپنے سینے میں بھیچ لیا اور کمرے کے دراوزے سے لگ کے کھڑی نسرین بیگم نے سوچ لیا تھا انہیں اگے کیا کرنا ہے کیونکہ کچھ بھی تھا ازان انکی اکلوتی اولاد تھی۔۔
زرغہ قاسم کی شانو شوکت دیکھ کے کافی حیران ہوگئ اور سوچنے پہ مجبور ہوگئ کے اگر اللہ نے اس انسان کو اتنی عزت اور اتنی دولت سے نوازا ہے تو پھر یہ شخص کیوں غلط کام کرتا ہے ولیمہ کی دلہن بنی زرغہ کب سے یہی باتیں سوچ رہی تھی ڈارک پرپل اور مرجنڈا کلر کے کنٹراس میں انگ رکھا پہنے اس پہ کمال کا روپ آیا تھا قاسم وہ تو شہزادو کی مانند لگ رہا تھا اتنی عزت اتنا مان کیا میں ڈیزرو کرتی تھی زرغہ خود سے سوال کر بہتی۔۔
پلوشہ اور بلال زرغہ کے اگے پیچھے تھے قاسم کی ماما اور ڈیڈ جنہوں نے منہ دیکھائ میں زرغہ کو اپنا خاندانی ہار دیا اور بھی بہت زیورات سے نوازا تھا قاسم کے دادا نے قاسم کی دادی کی لونگ زرغہ کو تحفے میں دی جو اصلی روبی کی تھی۔۔
سب ہی اچھا تھا بس ایک زرغہ کا دل تھا جو بے سکون تھا
سب نبٹا کے قاسم کمرے میں آیا تو زرغہ بیڈ پہ ایسی بیٹھی تھی قاسم سمجھ رہا تھا کے اب تک وہ سو چکی ہوگی مگر ابھی تک وہ ولیمہ کی دلہن بنی بیٹھی تھی کھٹ پٹ کی آواز پہ زرغہ ایک دم چونکی جو نجانے اپنی سوچوں میں کتنی دور تک پہنچ چکی تھی۔۔
قاسم نے غور سے زرغہ کو دیکھا جو ویسے تو ایسے ہی بیٹھی تھی قاسم کے آنے سے پہلے مگر اب قاسم کی۔موجودگی میں نروس ہوکے اپنی جیولری اتارنے لگی۔۔
قاسم نے ایک نظر زرغہ کے سجے روپ پہ ڈالا اور چینج کرنے چلا گیا قاسم جینچ کرکے آیا تو زرغہ دوبارہ سوچوں میں گم اپنی چوڑیاں اتار رہی تھی کچھ نیچے گر رہی تھی کچھ ڈریسنگ پہ تھی قاسم نے نیچے کی چوڑیاں اٹھا کے اوپر رکھی اور زرغہ کا ہاتھ تھام کے چوڑیاں اتارنے لگا زرغہ نے بھی کوئ مزاحمت نہی کی جب قاسم نے اسکے چہرے پہ ایک نگاہ ڈال کے کہا۔۔
“کیا سوچ رہی ہو اتنی دیر سے دماغ کو سوچوں سے آزاد بھی کردو”
قاسم کے بولنے پہ زرغہ نے نگاہ اٹھا کے اسے دیکھا اپنا ہاتھ دھیرے سے قاسم کے ہاتھ سے چھڑوایا اور چینج کرنے چلی گئ۔واپس آئ تو قاسم بیڈ پہ بیٹھا اسکا انتظار کررہا تھا۔۔
زرغہ بیڈ پہ بیٹھی جب قاسم نے پھر کہا۔
کچھ پریشانی ہے تو مجھ سے شیئر کرسکتی ہو میرے دوست کہتے ہیں میں بہترین رازدار ہو۔۔
قاسم کے پوچھنے پہ زرغہ نے قاسم کو دیکھا اور کہا۔۔
ایک ایسی لڑکی کو اتنی عزت کیوں جو گھر سے بھگای ہو ،؟؟جو کسی اور سے محبت کرتی تھی۔۔؟؟؟
کہتے ہیں بری عورت کو برا آدمی اور برے آدمی کو بری عورت ملتی ہے مگر جو توبہ کرلے اسکے لیے بھی ایک شریف عورت ہوتی ہے تو بس تم نے توبہ کی تمہیں میں ملا میں نے توبہ کی مجھے تم ملی۔۔
اگر اپ اپنے توبہ کرلی تو پھر اپنے سارے برے کام بند کیوں نہیں کردیتے؟؟
کونسے برے کام قاسم نے چونک کے کہا۔
وہی بار ڈانسر والا۔۔زرغہ نے منہ بنا کے کہا۔
زرغہ کی بات سننی تھی کے قاسم کا قہقہ کمرے میں گونجا اور اس نے بیڈ پہ۔بیٹھے بیٹھے زرغہ کو اپنی طرف کھینچا
۔۔
جاری ہے
۔
