84.5K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 38

قاسم نے زرغہ کو جیسی کھینچا وہ قاسم کے سینے سے جالگی قاسم نے فورا اسکی کمر پہ اپنا ہاتھ رکھ کے اسکے فرارکے سارے راستے بند کردیے ۔۔
ہاں جی اب بولو کیا بول رہی تھی اپ؟؟۔
میں نے کیا بولنا ہے اپ ہی کی بات کا جواب دیا ہے بقول اپکے کے اپ توبہ کرچکے ہو تو دبئ میں جو بار کھولا ہے جہاں اپکو بار ڈانسر کی اشد ضرورت پے وہاں کیا خیرات بانٹی جاتی ہے۔۔
زرغہ نے بہت ہی سڑا ہوا منہ بناکے قاسم سے بنا ڈرے اپنے دل کی بات کہی۔۔۔
اوہ توبہ کرلی تمہاری قسم کوئ غلط کام اج سے نہیں کرونگا مگر جو میں اپنے گناہ کے اتنے سارے راستے بنائے انکو اپنے ہاتھوں سے ختم کرنے میں وقت لگے گا مگر انشاءاللہ ختم کردونگا ہر وہ راستہ جو مجھے تم سے دور لے جائے۔۔
اور راجا سے دوستی؟؟
زرغہ کے سوال پہ قاسم کی گرفت اسکی کمر پہ سے ڈھیلی ہوئی زرغہ بھی فورا سیدھی ہوئ جب قاسم نے لیٹتے ہوئے کہا۔۔
راجا میرا بہت جگری دوست ہے اس نے اس وقت میرا ساتھ دیا جب میں خود سے ہارنے لگا تھا جانتا ہو اس نے تمہارے ساتھ بہت غلط کیا مگر اسےاکسایا میں نے تھا مگر زرغہ ایک بات کہو۔۔
جتنا قصور وار راجا ہے اتنی تم بھی ہو۔۔
قاسم کی بات پہ زرغہ بھیگی آنکھوں سے قاسم کو دیکھا قاسم نے بھی اسکی بھیگتی آنکھیں دیکھ لی تھی اسے پتہ تھا کے زرغہ کو یہ بات بری لگی۔۔مگر ابھی زرغہ کو اگر قاسم راجا کی حمایت میں ایک لفظ بھی بولتا تو نتیجہ زرغہ سمجھتی کے قاسم اسے طعنے مار رہا ہے۔۔
دونوں ہی کروٹ لے کے لیٹ چکے تھے قاسم نیلم حقیقت ابھی زرغہ کے سامنے لانا نہیں چاہتا تھا مگر یہ تو آنے والا وقت بتانے والا تھا کے کیا نیلم کی طرح زرغہ بھی جان سے جائے گی ایک بار پھر قاسم کی محبت ادھوری رہ۔جائے گی۔۔
نسرین بیگم اج عیشا کے گھر جارہی تھی کل ہی انکی اپنی بہن سے بات ہوئ تھی عیشا کو لاکھ سمجھانے پہ۔بھی وہ گھر آنے پہ راضی نہیں تھی اگر وہ عیشا کو بہو بنانے کے اپنی مرضی چلا چکی تھی تو کل رات وہ زمان صاحب اور اذان کی باتیں سن کے اپنا فیصلہ بدلنے پہ مجبور ہوگئ تھی وہ تارا کو بھی اس گھر کی بہو بنانے کیلیے راضی ہوچکی تھی صرف ازان کی۔خوشی کی خاطر وہ جانتی تھی اج جب وہ یہ بات اپنی بہن سے کرینگی تو انکا اپنی بہن سے رشتہ توٹھ جائے گا ۔۔
ارے موم میں نسرین آنٹی کو ایسی شیشے میں اتارا ہے کے وہ تارا کو کبھی اپنی بہو تسلیم نہیں کرینگی دیکھتی جائے آپ۔
ہاں بس عیشا ایسی ہی اس بیوقوف عورت کو اپنے بس میں رکھ دیکھنا ایک دن ازان کی ساری دولت تیری ہوگی۔۔
ہاں موم اور میری اورثاقب کے بچے کو بھی وقتی طور پہ سہارا مل جائے گا جب تک ثاقب جیل سے باہر نہیں اجاتا عیشا اور اس کی ماں اور نجانے کیا کیا باتیں کررہی تھی اور گھر کی دہلیز پہ کھڑی نسرین اگر دیوار کا سہارا نہ لیتی تو گر پڑتی نسرین بیگم جلدی سے گاڑی میں بیٹھی اور ڈرائیور کو چلنے کو کہا۔۔
اتنی سخت سردی میں بھی نسرین بیگم نے گاڑی کا ایے سی اون کروایا ۔۔
مگر تھوڑی دور جاکے ہی نسرین بیگم گاڑی میں ہی بیہوش ہوگئ اور ڈرائیور نے فورا گاڑی ہسپتال طرف موڑ کے زمان صاحب کو کال کی۔۔
میں نے تمہیں کہاں تھا نہ میں دھوکا نہیں کھاسکتی تارا امامہ نے ایک ٹھنڈی آہ بھر کے کہا۔
مگر امامہ مجھے بھائ سے ایسی امید نہیں تھی وہ سچ میں ان سے بہت محبت کرتی تھی نجانے وہ۔کہاں ہوگی بھائ کے دوست نے اسکا کیا حال کیا ہوگا۔۔
ہممم پوچھو اپنے بھائ سے کرے کال اپنے دوست کو مجھے بھی پتہ نہیں اسی گینگسٹر سے محبت ہونی تھی۔۔
یہ بول کے تارا پلٹی تو راجا کو کھڑا پایا۔۔
جاری ہے ۔۔