84.5K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

ازان اور عیشال ڈنر کررہے تھے جب ایک مردانی اواز پہ عشال نے دیکھا۔۔
اوہ ڈیٹس یو ۔۔
میں بل پہ کرتے ہوئے یہی سوچ رہا تھا کے کہی یہ شوخ چنچل سی لڑکی عیشال تو نہی۔۔عدیل نے ان دونوں کی ٹیبل پہ اکے۔ کہا۔۔
اوہ۔مائ گاڈ عدیل تم پاکستان کب ائے۔۔؟؟
عیشال کھڑے ہوکے عدیل کے گلے لگ گئ۔یہ بات ازان کو بلکل ناگوار نہی گزری۔کیونکہ وہ عشال کی فطرت اسکی تربیت سے واقف تھا مگر اچانک اسے جھٹکا لگا جب اسنے عدیل کے پیچھے کھڑی تارا کو دیکھا جو بہت ناگواری نظروں سے عدیل اور عیشال کو دیکھ رہی تھی۔ مگر تارا کی نظر ابھی تک ازان پہ نہی پڑی تھی ۔۔
اوہ یہ کون ہے عیشال۔۔۔؟؟
تمہارا بوائے فرینڈ۔۔۔؟؟
عدیل کے پوچھنے پہ عیشال نے ایک بناوٹی قہقہ لگایا جو کے تارا کو کسی چڑیل کی ہنسی سے کم نہی لگا۔۔
اوہ نہی یی بوائے فرینڈ نہی میرے منگیتر ہے ازان ۔۔
عیشال کے تعارف پہ عدیل نے اسکی طرف ملانے کے غرض سے ہاتھ بڑھایا جو ازان نے تھام لیا مگر اپنے اوپر کسی نظروں کی تپش محسوس کرکے ازان نے جب عدیل کے پیچھے دیکھا تو تارا اسے بہت گھور گھور کے دیکھ رہی تھی ازان کو اسکے گھورنے کی وجہ سمجھ نہی ائ مگر جس طرح اس نے عیشال کو دیکھ کے منہ بنایا ازان مسکرائے بنا نہ رہ سکا۔
اور یہ کیوٹ لیڈی کون ہے؟؟
اب کی بار عیشال نے تارا کو دیکھ کے اپنا سوال داغا۔۔
اوہ یہ یہ میرے ہونے والی منگیتر۔۔یہ بول کے عدیل نے تارا کے کندھے پہ اپنا ہاتھ رکھنا چاہا مگر تارا دو قدم دور ہٹی یہ بات جہاں عدیل کو بری لگی وہی ازان نے ایک ائیبرو اچکا کے تارا کو دیکھا۔۔۔
۔تھوڑی بہت باتوں کے بعد عدیل اور تارا نکل گئے۔۔۔

#

تارا اور عدیل کا راستہ خاموشی سے کٹ رہا تھا جب کے تارا اپنی سوچوں میں گم تھی اس نے نوٹ ہی نہی کیا کے عدیل۔نے گاڑی ہائے وے کی طرف موڑ دی۔جسکے چاروں طرف جنگل تھا۔اور اگے جاکے گاڑی جھٹکے سے روک دی۔۔
گاڑی روکتے ہی تارا کی سوچوں کا تسلسل توٹا اور اس نے عدیل کی طرف دیکھا جو گاڑی کے اسٹرینگ پہ۔مکا مارتے ہوئے کہہ رہا تھا۔۔
۔۔اوہ گاڈ یہ گاڑی کو کیا ہوا۔۔
عدیل نے کمال کی ایکٹنگ کرکے گاڑی خود بند کی اور گاڑی صحیح کرنے کا ڈارمہ کرکے گاڑی سے باہر نکلا تارا بھی گاڑی سے باہر نکلی مگر راستہ دیکھ کے اسے خوف انے لگا۔۔
عدیل نے جان بوجھ کے گاڑی اس راستے پہ روک کے گاڑی خراب ہونے کا ڈارمہ کیا اول بہت کم گاڑیاں یہاں سے گزرتی ہیں اور جو گزرتی ہیں وہ رکتی نہیں اور پھر اج عدیل کا ارادہ تارا کے ساتھ کچھ ایسا کرنے کا تھا کے تارا کو عدیل سے شادی کرنے کیلیے ہاں کرنی پڑتی۔۔
تارا نے راجا اور گلنار بیگم کو بہت بار کال۔کی مگر کسی ایک نے بھی پک نہی کی۔تارا کو اس صورتحال میں رونا انے لگا۔
تارا بھی گاڑی سے نکل۔کے گاڑی سے لگ کے کھڑئ ہوگئ۔اور اللہ سے سے دعائیں مانگنے لگی۔۔
اور شاید قبولیت کا وقت تھا تارا نے پتہ نہیں کیا سوچا اور انے والی گاڑی کو لفٹ کے لیہ ہاتھ دیا گاڑی تارا کے ہاتھ دینے پہ۔ایک دم رکی مگر گاڑی کے اندر بیٹھے نفوس کو دیکھ کے تارا کی جان میں جان ائ۔۔
ازان اج ہم لمبے روڈ سے جایئنگے ۔۔عیشال نے سانگ پلے کرتے ہوئے کہا۔۔
ازان جسکے حواسوں پہ تارا سوار تھی عیشال کی بات سن کے اس نے ایک لمبی سانس لی اور کہا۔
اوکے ہائ وے سے چلتے ہیں ۔۔
یہ بول کے ازان نے گاڑی ہائ وے کی طرف موڑ دی تھوڑی دور ہی انکی گاڑی گئ تھی کے ازان کو لگا کے کوئ گاڑی روکنے کا اشارہ کررہا تھا ازان نے جب گاڑی روکی تو یہ دیکھ کے حیران ہوا کے گاڑی روکنے والی تارا تھی۔۔
ارے اپ یہاں۔۔
عیشال نے کافی مہذب طریقے سے تارا سے پوچھا۔۔
جی وہ گاڑی خراب ہوگئ ہے اب ہیلپ کرینگے پلیز۔۔
تارا کے بولنے پہ عدیل نے ایک نظر تارا کو یکھا عدیل کو اپنا پلین فلاپ ہوتا نظر ایا اس سے پہلے اذان گاڑی سے اتر کے اس تک پہنچتا اور اسکا یہ بھانڈا پھوٹتا کے گاڑی تو خراب ہے ہی نہیں۔۔
عدیل فورا اذان تک ایا اور کہا۔۔
اپ لوگ تارا کو گھر ڈارپ کردو میں نے ڈرائیور کو کال۔کردی ہے وہ اجائے گا تھوڑی دیر میں ۔۔
عدیل کے بولنے پہ تارا بنا کوئ بحس کیے اذان کی گاڑی میں اکے بیٹھ گئ اسکی اس حرکت پہ وہاں کھڑا ہر نفوس حیران تھا۔۔
اان لوگوں کی گاڑی زرا سی اگے گئ کے عدیل نے ایک زوردار لات گاڑی کےٹائر کو ماری۔۔۔۔
گاڑی اسٹارٹ کی اور کسی کو کال کرکے کہا۔اج بھی بج گئ وہ۔۔۔
گاڑی تھوڑی اگے گئ ہوگی کے عیشال نے تارا سے اسکے گھر کا اڈریس پوچھا اڈریس سن کے اذان نے کہا۔۔
عیشال پہلے تمہیں ڈارپ کرونگا کیونکہ تمہارا گھر پہلے اتا ہے۔۔اذان کے کہنے پہ عیشال نے ایک نظر اذان کو دیکھا اور پھر پیچھے بیٹھی تارا کو جو اپنی دنیا میں ہی مگن تھی۔۔
اذان کی بات سے پہلے تو عیشال کچھ نہیں بولی مگر پھر کہا۔۔
نہیں نہ اذان پہلے تارا کو ڈراپ کردیتے ہیں۔۔
عیشال تارا کو چھوڑ کے تمہیں چھوڑنے جاونگا تو بہت لمبا راستہ پڑے گا اور میں اس وقت بہت تھک چکا ہو پلیز لانگ ڈرائیو پھر سہی۔۔
یہ کہہ کے اذان نے گاڑی کی اسپیڈ بڑھا دی۔۔۔
عیشال کے گھر کے سامنے گاڑی رکی تارا نے اس سے اترتے ہوئے ہاتھ ملایا جو بہت ناگواری سے عیشال نے تھاما اور اندر چلی گئ۔۔
اذان نے تھوڑی دور جاکے گاڑی روکی اذان نے گاڑی روک کے تارا کی طرف رخ موڑا جو گاڑی روکنے پہ۔حیران نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
اگے اکے بیٹھے تارا پلیز ۔۔
اذان کے بولنے پہ تارا نے بنا کوئ بحس کیہ اذان کی بات مان لی اور اگے اکے بیٹھ گئ۔۔
راستہ کافی خاموشی سے کٹ رہا تھا جب اذان نے سانگ پلے کیا۔۔
“توہی حقیقت خواب تو۔
دریا تو ہی پیاس تو۔
تو ہی دل کی بیقراری۔۔
تو سکون تو سکون۔۔
جاو میں جب جب ہر جگہ
پاو میں تجھ کو اس جگہ۔۔
دور رہ کے ہے تو پھر بھی۔۔
رو برو برو۔۔
تو ہم۔سفر تو ہمقدم
تو ہم۔نوا میرا”””
دونوں ہی تقریبا گانا سنتے ہوئے خاموش تھے ۔جب اچانک تارا کے دل میں نجانے کیا ایا کے اس نے اذان سے کہا۔۔
عدیل میرا ہونے والا منگیتر نہی ہے نہ میں اس سے کبھی شادی کرونگی۔۔
تارا نے گردن جھکا کے اعتراف کیا اور اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے کھیلنے لگی۔۔
تارا کی بات پہ اذان نے ایک نظر تارا کے جھکے سر کو دیکھا ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا ۔
جانتا ہو میں کے وہ اپکو پسند نہیں۔
اذان کے بولنے پہ تارا نے حیران نظروں سے اسے دیکھا تارا کی نظروں کا مفہوم سمجھ کے اذان نے اسکی حیرانگی دور کرنے کیلیے کہا۔۔۔
یہ فطری عمل ہے تارا کے جب کوپئ چیز انسان کو ناپسند ہوتی ہے تو اسکا سب سے پہلا اظہار انسان کی انکھیں کرتی ہیں اور اپکی انکھوں میں عدیل کیلیے ناپسندیدگی صاف دیکھتی ہے ۔۔
ہمم صحیح کہا۔اپنے وہ ایک نمبر کا چھچھورا ،جنگلی ،ہوش ،بدتمیز،ہے۔پتہ نہیں میری ماما کو اس میں کیا دیکھتا ہے۔۔تارا نے جسطرح سے عدیل۔کی خوبیاں گنوائ اذان مسکرائے بنا نہ رہ سکا۔۔
اوہ سوری میں زیادہ جزبات میں اگئ تارا نے
ایک دم ایکیسوز کیا
۔کوئ بات نہیں تارا ۔۔
تارا کے دل میں بھی عیشال کو لے کے سوال ایا مگر وہ۔اگنور کرگئ۔۔
تارا کے گھر کے اگے گاڑی روکی۔تارا نے اتر کے اذان کا شکریہ اداکیا اور جیسی ہی جانے کیلیے مڑی اذان نے گاڑی سے نکل کے اسے اواز دی۔۔اذان کے پکارنے پہ تارا نے گھوم کے اذان کو دیکھا اور کہا۔۔
جی۔۔
میرے ساتھ اپکو اکیلیے اتنے دور انے میں ڈرنہیں لگا کیا پتہ میں اندر سے کیسا ہو۔۔؟؟
اذان کے سوال پہ تارا نے مسکراکے اسے دیکھا اور کہا۔
دوسروں کو سہارے دینے کے چکر میں جو انسان خود کانٹوں کی چھبن محسوس کرے وہ کبھی کسی کے دل کی چھبن کی وجہ نہیں بنتا۔۔
وہ کہاوت تو اپنے سنی ہوگی۔۔۔
“فرسٹ ایکپریشن اذ دا لاسٹ ایکپریشن “
یہ بول کے تارا اندر بڑھ گئ۔۔
اذان نے مسکراہٹ کیساتھ گاڑی اسٹارٹ کی اور ایک بار پھر سانگ پلے ہوا
“تو ہم سفر تو ہم قدم تو ہم نوا میرا”

#

اففف صحبو اور کتنی دیر لگے گی۔۔
یہ بولتے ہوئے زرقان صاحبہ کے کمرے میں داخل ہوا۔
دونوں کو اج گفٹ لینے جانا تھا زرقان کو اپنے پرینٹس کیلیے اور صاحبہ خو اپنے تایا تائ کیلیے۔
مگر کمرے میں داخل ہوتے ہی زرقان نے صاحبہ کو دیکھ کے سیٹی بجائ جو ڈارک گرین اور بلیک کنٹراس سوٹ میں کافی غضب ڈھا رہی تھی ۔۔
ہاں ہاں بس ہوگیا زرقان یہ بول کے صاحبہ نے اپنے لمبے سنہرے بال میں کیچر لگایا باہر دھوپ کی وجہ سے جیسے ہی بلیک گلاسس لگا کے ڈوپٹہ اٹھانے لگی اوڑھنے کیلے زرقان نے اس کے ہاتھ سے ڈوپٹہ لیا اور گانا گیا۔۔
“یہ چاند سا روشن چہرہ۔
بالوں کا رنگ سنہرا۔
کیسے دیکھو تیری انکھیں
انکھوں پہ چشمہ کا پہرا
اس چشمہ کو ہٹاو جی
انکھیں تو ملاو جی
انکھوں کے نشیلی جام
انکھوں سے پلاو جی۔۔””
زرقان گا کے چپ ہوا صاحبہ نے ایک ائیبرو اچکا کے اسے دیکھتے ہوئے اپنا ڈوپٹہ اس سے لےکے اوڑھتے ہوئے کہا۔۔
“تیری باتیں اففف بڑی جان لیوا ہیں۔
میں تو پھر بھی نہ آو تیری باتوں۔ میں
تم کو تمہی سے چرا لونگا میں مجھ کو جازت تو دو۔۔یہ بول کے زرقان نے اپنا سر خم کیا جب نے صاحبہ اٹیٹیوڈ سے کہا۔۔
چلے کافی دیر ہو گئ اور باہر نکل گئ۔۔
زرقان شاپنگ مال میں صاحبہ سے زرا سا اگے چل رہا تھا جب پیچھے اتی صاحبہ کی ٹکر کسی سے ہوئ۔۔
جاری ہے۔۔