Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Episode 35
No Download Link
Rate this Novel
Episode 35
قاسم ہڑابڑا کے اٹھا تو زرغہ کو بیٹھا پایا جو زور و شور سے رورہی تھی مگر منہ میں اپنا ڈوپٹہ ڈالے پھر بھی اسکی رونے کی آواز قاسم کے کانوں تک پہنچ چکی تھی۔۔
کیا ہوا زرغہ ایسے کیوں رورہی ہو؟؟
قاسم کے بولنے پہ زرغہ اور رونے لگی جب قاسم اسکے تھوڑا اور قریب ہوا اور کہا۔
زرغہ پلیز بتاو کیوں رورہی ہو مجھے گھبراہٹ ہورہی ہے تمہارے رونے سے۔۔
وہ ۔۔با۔۔ہر۔۔کتو۔۔
ابھی زرغہ پوری بات کہتی کے ایک بار پھر کتوں اور بھیڑیوں کی ملی جلی آوازیں اتے ہی زرغہ دوبارہ ڈر کے رونے لگی قاسم دیکھ سکتا تھا کے زرغہ۔کافی ڈر گئ ہے اوربار بار کھڑکی کی طرف دیکھ رہی ہے۔۔
قاسم دوبارہ اسکے اور قریب آیا اور کہا۔۔
ادھر دیکھو زرغہ میری جان یہاں دیکھو میری طرف۔۔
قاسم نے زرغہ کو رخ اپنی طرف موڑا جو مسلسل بند کھڑکی کو تکے جارہی تھی۔
قاسم نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما اور اپنے انگھوٹوں سے اسکے انسو صاف کیے اور کہا۔
دیکھو زرغہ اس ہوٹل کا یہ کمرہ کافی اوپر ہے یہاں کوئ جانور نہیں اسکتا یہ پہاڑی علاقہ ہے اس لیہ ایسے جانور بولتے ہیں۔۔
مجھے بہت ڈر لگتا ہے قاسم۔۔
پہلی بار اپنا نام زرغہ کے منہ سے سن کے قاسم کافی حیران ہوا مگر بولا کچھ نہیں۔۔
قاسم بیڈ سے نیچے اترا کھڑکی کے پردے برابر کیے اور کہا۔۔
اچھا تم میری جگہ پہ جاو میں یہاں لیٹتا ہو۔۔
قاسم کے بولنے زرغہ قاسم کی جگہ پہ ہوئ قاسم اسکی جگہ پہ بیٹھا اور اسکو پانی کا گلاس دیا جو زرغہ ایک سانس میں پی گئ قاسم لیٹ گیا مگر رخ اسکا زرغہ کی طرف تھا زرغہ اب بھی مسلسل کھڑکی کو دیکھے جارہی تھی اور قاسم اسے جب قاسم نے لیٹے لیٹے پوچھا ۔۔
ابھی بھی ڈر رہی ہو؟؟
قاسم کے سوال پہ زرغہ نے ہاں میں گردن ہلائ۔
قاسم نے لیٹے لیٹے اپنی ایک ہاتھ تکیہ پہ لمبا کیا اور زرغہ کو کہا۔
اجاو یہاں میرے پاس پھر ڈر نہیں لگے گا۔۔
قاسم کے کہنے پہ زرغہ نے پہلے قاسم کو دیکھا اور پھر اسکے پھیلے ہاتھ قاسم مسلسل اسے دیکھ رہا اس سے پہلے قاسم اپنا ہاتھ تکیے پہ سے ہٹاتا زرغہ دھیرے سے قاسم کے ہاتھ پہ لیٹ گئ ۔
قاسم کے لیہ یہ خوشگوار لمحہ تھا۔۔
زرغہ نے کروٹ قاسم کی طرف لی اور اسکی قمیض کو مضبوطی سے تھاما قاسم نے بھی اسکی طرف کروٹ لی تو زرغہ اسکے چوڑے سینے میں چھپ سے گئ قاسم نے اسکے اور اپنے اوپر کمبل ڈالا۔
زرغہ ڈر میں یہ بھی بھول گئ کے وہ قاسم کے کتنے قریب اور ادھر قاسم کا زرغہ کو اپنے سینے سے لگانے کے بعد اپنے منہ زور جزباتوں کو سنھالنا بہت مشکل ہورہا تھا۔۔
تھوڑی دیر بعد قاسم نے پوچھا۔۔
اب بھی ڈر لگ رہا ہے زرغہ؟
مگر زرغہ کی طرف سے کوئ جواب نہ پاکر قاسم نے گردن نیچے کرکے خود سے لگی زرغہ کو دیکھا تو خوش ہونے کیساتھ ساتھ حیران بھی رہ گیا کیونکہ زرغہ سو چکی تھی قاسم نے اسکے بالوں پہ اپنے لب رکھے اسے اور اپنے قریب کیا اور دھیرے سے کہا۔
“ظالم خود تو سوگئ مجھے خوار کردیا اب کس کمبخت کو نیند ائے گی”
مگر شاید تھکن تھی جسکی وجہ سے قاسم بھی تھوڑی دیر بعد سو گیا۔۔۔۔
////////
بچوں کو ہر دور میں ماں کی ضرورت ہے گلنار ۔۔۔۔
اوہ پلیز اشفاق میری اپنی بھی کوئ زندگی ہے میں ایک ماڈل ہو مجھے ابھی بہت اگے جانا ہے اب میں مڈل کلاس عورتوں کی طرح 24 گھنٹے اپکی ماں اور اپکے بچوں کو سبنھالتی رہو اپ نے پہلے مجھ سے کہا کے مجھے بچے چاہیے گلنار میں نے اپکو دو دو بچوں دیے پھر اپنے کہا بچے چھوٹے ہیں انکو ابھی تمہارے کیئر کی ضرورت ہے 3 سال میں نے بچوں کی کئیر کی اور اب جب وہ۔دونوں دس بارہ سال۔کے میچور بچے ہوگئے ہیں تو اپ چاہتے ہیں میں پھر گھر کی چار دیواروں میں قید ہوجاو سوری اشفاق صاحب اب مجھ سے اپ کسی بھی قسم کی امید نہ لگائے تو بہتر ہوگا۔۔
اشفاق گلنار بیگم کے قریب آئے اور کہا۔۔
تم ماں ہو انکی ماں کی گودھ اولاد کی پہلی تربیت گاہ ہوتی ہے ابھی وہ لاابالی ہیں جب ایک عورت ماں بنتی ہیں نہ عمر کے کیسی حصہ میں بنے اسے اپنی اولاد ہر چیز سے افضل ہوتی ہے پیڑ ببول کا بوئوگی نہ گلنار بیگم تو تم آم نہیں کھاسکتی اج تمہاری اولاد کو تمہاری ضرورت ہے تو تمہیں اپنے مستقبل کی پراوہ ہے کل کو تمہیں جب انکی ضرورت ہوگی تو انہیں تمہاری ضرورت نہیں ہوگی یہ بات یاد رکھنا ۔
باپ تو اب بھی ہیں انکے اپکا بھی فرض ہے کچھ سب کچھ میرے پلے ڈال کے اپ اپنا دامن بچارہے ہیں۔۔۔
اشفاق صاحب اپنے بات کہہ کے مڑنے لگے جب پیچھے سے گلنار بیگم نے کہا۔۔
ماں کے پاوں کے نیچے اللہ نے جنت رکھی ہے باپ صرف جنت میں جانے کا زریعہ ہے ماں اپنا سب کچھ اپنی اولاد پہ نچھاور کردیتی ہے اپنی خوشی نیند سکون خواہش سب جبھی ماں کہلاتی ہے قربانی کا دوسرا نام عورت ہے اور عورت مکمل جب ہی ہوتی ہے جب وہ ماں بنتی ہے میں نے تم سے سچے دل سے محبت کی ہے گلنار کبھی تمہاری حق تلفی نہیں کی تمہاری ہر غلطی کو میں نے درگزر کیا مگر میں پورا دن آفس میں ہوتا ہو دن رات صرف تمہارے اور اپنے بچوں کیلے محنت کررہا ہو اگر میرے بچے ہی ہر خوشی کو ترسے تو لعنت ہے میرے کمانے پہ جب میری بیوی کمانے گھر سے نکلے یاد رکھنا گلنار ایک دن تم بہت پچھتاوگی جب تمہیں میری باتیں یاد ائینگی مگر جب میں نہیں ہونگا سمیت لو اپنے گھر اپنے بچے اپنے شوہر کو گلنار ماں کی آغوش ایک سایہ دار درخت ہوتا ہے بچوں کیلیے جب انہیں زندگی کے ہر موسم سے انہیں بچاتا ہے۔۔اور مرد بھی ایک ایسا ساتھی پے جیسے اپنی ساتھی کی بھی طلب رہتی ہے۔۔
گلنار بیگم ماضی کو یاد کرکے بلک پڑی تواتر ان کے آنسو اشفاق صاحب کی تصویر پہ گر رہے تھے زندگی کی رنگینیوں میں گم ہونے کیلیے وہ بہت غلط راستہ چن چکی تھی جو اب انکے سامنے انکی اولاد کی صورت میں ارہا ہے بہت مشکل ہے انکا اب اس راستے پہ چلنا جو وہ منتخب کرچکی اشفاق صاحب کی تصویر کو وہ سینے سے لگاگئ اور ان کے کانوں میں اشفاق صاحب کا من پسند گانا گونجنے لگا جو وہ اکثر گلنار بیگم کو دیکھ کے گنگناتے تھے۔۔
“زندگی کے درد کو سہوگے تم۔
دل کا چین ڈھونڈتے رہوگے تم۔۔۔
زخمی دل۔جب تمہیں ستائے گا ۔۔
تم کو ایک شخص یاد ائے گا “
اج راجا کو کسی طرح سے بھی صاحبہ سے ملنا تھا اسے ہر حال میں صاحبہ کو اپنا بنانا تھا پھر چاہے راستہ جو بھی ہو مگر اس سے پہلے بہت ضروری کام کرنا تھا راجا ناشتہ کی ٹیبل پہ آیا تو گلنار بیگم کی کرسی خالی تھی کچھ سوچتے ہوئے اس نے ماسی کو ناشتہ لانے کو کہا کے اتنے میں اسے تارا گلنار بیگم کے کمرے سے نکلتی دیکھائ دی۔۔
تارا خاموشی سے اکے ٹیبل پہ بیٹھی وہ سمجھ رہی تھی کے راجا پوچھے گا کے ماما ٹیبل پہ کیوں نہیں آئ ناشتہ کرنے۔مگر راجا کی طرف سے ایسا کوئ ریکشن سامنے نہیں آیا۔۔
ماما کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے بھائ۔۔
تو میں کیا کرو۔۔
پلیز بھائ اب چھوڑے غصہ ماما نے مجھ سے معافی مانگی ہے مجھے اپنا اپ زمین میں گڑتا ہوا محسوس ہوا جب انہوں نے رورو کے مجھ سے معافی مانگی۔۔ا
انہوں نے کیا ہی ایسا گناہ تھا۔۔
بھائ اپ ہی نے کہا تھا کے ماں کو کچھ نہیں بولتے اگر وہ کوئ غلط کام بھی کرے وہ اللہ اور اسکا معملہ ہے۔۔
تم جانتی ہو اازان اگر اس وقت نہیں آتا تو وہ عدیل کیا کرتا تمہارے ساتھ ۔۔راجا پھر سے بھرم ہوا اور پھر اوپر سے تم پہ ایک اور الزام کے تم بھاگ گئ ۔۔
بھائ بھائ دیکھے ہمارے ماں باپ نے کوئ نیکی کی ہوگی جبھی معجزانہ طور پہ میں بچ گئ۔۔
افف اب کیا چاہتی ہو تم تارا؟؟
راجا نے کافی بیزاریت سے کہا۔۔
بھائ ماں ہیں وہ چھوڑ تو نہیں سکتے انہیں انہیں ضرورت ہے ہماری میں نے دیکھا پے انہیں مجھ سے بہت شرمندہ ہیں وہ اب اگر وہ اپنی پچھلی زندگی بھول کے ایک نیا راستہ اپنانا چاہتی ہیں تو ہمیں انکا ساتھ دینا چاپیے جو ہوگیا اسے دفعہ کرے ہم اگر ان سے ایسے ناراض رہینگے تو ہمارا بچپن تو واپس نہیں آئےگا ہاں مگر ہم اپنی جوانی تو ماں کی چھاو میں گزار سکتے ہیں اگر انہیں ایسے چھوڑا بھائ تو وہ بہت ڈسٹرب ہوجائئنگی۔۔
تارا کی بات سن کے راجا کے دل میں بھی کچھ ہوا کچھ بھی تھا ماں تو تھی گلنار بیگم وہ خاموشی سے اٹھا اور گلنار بیگم کی طرف جانے لگا تارا کے لبوں پہ بھی مسکراہٹ اگئ وہ راجا کیساتھ گلنار بیگم کے کمرے میں جانے لگی جب راجا نے کہا۔
میں پوری کوشش کرونگا ماما کی طرف سے اپنا دل صاف کرنے کی۔مگر تمہارے اس دبو شوہر کو سیدھا کرنے میں تم بیچ میں نہیں بولوگی بتا چکی ہے مجھے امامہ۔تم بھی اس الو کے پٹھے سے محبت کرتی ہو سریسلی تارا پوری دنیا میں تمہیں وہ ڈرپوک ہی ملا محبت کرنے کو؟؟
اسی کی وجہ سے اج میں اپکے سامنے ہو ہاں مگر اپ انکو سیدھا کرے میں کچھ نہیں بولونگی۔۔
راجا اور تارا ایک ساتھ گلنار بیگم کے کمرے میں داخل ہوئے گلنار بیگم آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کے لیتی تھی جب راجا نے کہا۔۔
اپ آئ نہیں ناشتہ کرنے ماما۔۔
راجا کی اواز سن کے گلنار بیگم نے ایک دم اپنی آنکھوں پہ سے ہاتھ ہٹا کے راجا کو دیکھا اور اٹھ کے بیٹھ گئ انکے پاس الفاظ نہیں تھے اپنے بچوں سے بات کرنے کیلیے وہ نیچے گردن کرکے چپ چاپ رونے لگی ماں کو روتا دیکھ جہاں تارا کے آنسو گرے وہی راجا کی بھی آنکھیں بھیگ گئ۔۔
راجا انکی طرف بڑھا انکے پاس بیٹھ کے انکی گودھ میں سر رکھ کے لیٹ گیا چند آنسو راجا کی آنکھ سےنکلے اور شرٹ میں جزب ہوگئے۔۔
راجا کو ایسا لیٹا دیکھ کے گلنار بیگم اور بلک بلک کے روپڑی اور راجا کے سر پہ دیوانہ وار پیار کرنے لگی راجا بھی ان سے لپٹ گیا تارا بھی اپنی۔ماں سے لپٹ گئ گلنار بیگم نے جیسے ہی اپنے ہاتھ جوڑنے چاہے معافی مانگنے کیلیے راجا نے فورا انکے ہاتھ تھام کے اپنے لب وہاں رکھے اور نفی میں گردن ہلاکے کہا۔۔
ماں کی جگہ کوئ نہیں لے سکتا اولاد کو عمر کے ہر حصہ میں ماں کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔
ہمیں اج بھی اپکی ضرورت ہے ماما۔۔۔
میں اب صرف اپنے بچوں کیلیے جیونگی یہ بول کے وہ راجا اور تارا کے گلے لگ گئ ۔۔
راجا اور تارا انکو ناشتہ کیلیے باہر لائے ناشتہ کرکے راجا ازان کے گھر کی طرف نکلا اورادھر امامہ اور اسکی والدہ آئ۔۔
اج ازان کا ولیمہ تھا سب ناشتہ کررہے تھے جب راجا اندر آیا راجا کو اندر اتا دیکھ ازان ایک دم چونکا اور زمان صاحب بھی ۔۔
راجا نے اندر اکے زور سے کہا۔۔
یہ رہا خلا نامہ ازان زمان میری بہن اب تمارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔۔
تارا کا سن کے ازان تیزی سے راجا کی طرف آیا اور کہا۔
راجا پلیز بتاو تارا کہاں ہے؟
کیسی ہے؟؟
میں نے اسے بہت ڈھونڈا پر وہ ایسی غائب ہوئ کے مجھے نہیں ملی تمہیں کہاں ملی۔وہ؟؟
یو نو واٹ تم جیسے بزدل آدمی کیساتھ ایسی ہوتا ہے اور اپ نسرین انٹی راجا کی ٹوپو کا رخ ایک دم نسرین بیگم کی طرف مڑا تو وہ گھبرا گئ عیشا اپنی ماما کی طرف تھی اس لیے اسکی بچت ہوگئ۔۔
اپ نے بتایا نہیں ازان کو کس طرح اپ نے میری بہن کو دھکے دیے کے فلیٹ سے نکالا تھا بتایا نہیں اپ نے زمان انکل کو کیسی کیسی دھمکی دی تھی اپنے اور اپکی بہو نے ۔۔
یہ کیا کہہ رہے ہو راجا تم ماما میرے اور تارا کے نکاح کے بارے میں نہیں جانتی ہیں نہ ماما ازان ایک دم نسرین بیگم کی طرف مڑا۔۔
جاری ہے۔۔
