Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Episode 18 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 18 Part 1
قسط نمبر 18#
(پارٹ1)
تارا مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ پچھلے ایک گھنٹے سے عدیل تمہارا انتظار کررہا ہے؟؟
گلنار بیگم اپنی بیہودہ ساڑھی سنبھالتی ہوئ تارا کے کمرے میں داخل ہوئ اور غصہ میں تارا کو گھور کے کہا۔جو بہت ہی سست روی سے اپنے بال باندھ رہی تھی۔۔
ماما پلیز مجھے نہیں جانا اج میرا بلکل بھی دل نہیں چارہا ۔۔
گلنار بیگم نے ایک نظر تارا کو دیکھا اور اپنے لہجہ میں پیار سموئے تارا کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔۔
اج چلی جاو میری جان آئندہ نہیں کہونگی جانے کا۔۔
تارا تو گلنار بیگم کے ایسے لہجہ پہ ہی نثار ہوگئ اور اچانک گلنار بیگم کے گلے لگ کے کہا۔۔
ماما اپ بولے تو میں اپنی جان ابھی کے ابھی دے دو پھر یہ تو اپنی کسی کیساتھ جانے کا بولا یہ بول کے تارا نے گلنار بیگم کے گالوں کو چوما ۔۔
دو منٹ کیلیے گلنار بیگم کا دل ایک عجیب سے انداز میں ڈھرکا دو پل کیلیے گلنار بیگم کا دل کیا کے روک لے تارا کو مگر اگلا خیال جو انکے دل میں آیا کافی تھا ممتا کے احساس کو دبانے کیلیے۔۔۔
گلنار بیگم نیچے آئ اور اکے منتظر عدیل سے کہا۔۔یہ۔آخری بار میں تارا کو تمہارے ساتھ بھیج رہی ہو اس کے بعد تم۔وہ۔پکس میرے حوالے کروگے۔۔۔؟؟
۔ضرور آنٹی یہ میرا وعدہ رہا۔۔
عدیل کی بیہودہ مسکراہٹ پہ گلنار بیگم خون کا گھونٹ پی۔کے رہ گئ۔۔
ایک پارٹی میں گلنار بیگم کی عدیل کے پاپا کیساتھ نازیبا پکس عدیل۔کے ہاتھ لگ چکی تھی جس پہ وہ گلنار بیگم کو تارا کے زریعہ بلیک میل کررہا تھا۔۔
تارا کے آتے ہی عدیل تارا کو لے کر نکل پڑا۔۔
سارا راستہ تقریبا خاموشی سے کٹ رہا تھا مگر تارا کے اندر ایک عجیب سی بے چینی تھی گاڑی عدیل کے فام ہاوس پہ رکی جب عدیل نے تارا کی حیران کن نظروں کے جواب میں کہا۔۔
مجھے یہاں کسی سے مل کے ایک بہت ضروری فائل لینی ہے آدھے گھنٹے کا کام۔ہے تم چاہو تو اندر اسکتی ہو اور چاہو تو گاڑی میں رک جاو ۔۔
عدیل کے ایسے بے پراوہ انداز پہ تارا خاموشی سے گاڑی سے اتر کے عدیل کے پیچھے اندر چلی گئ جب ایک کمرے میں عدیل نے اسے بیٹھایا اور خود باہر نکل۔گیا۔۔
عدیل کے اج کے عمل سے گلنار بیگم انجان تھی اج عدیل کا ارادہ تارا کی عزت کو تار تار کرنا تھا تاکے تہ زندگی وہ تارا کو اپنی انگلیوں پہ نچا سکے ۔۔مگر ہم انسانوں کے ہر عمل پہ اللہ کے عمل کا پہرہ ہوتا ہے ہوتا وہی ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے۔۔
ابھی تارا کھڑکی پہ کھڑے ہوکے ساحل سمندر کے نظارے لے رہی تھی جب اچانک عدیل نے اسے کمر سے تھام کے بیڈ پہ۔پھینکا۔۔
اس آفت پہ تارا ایک دم بوکھلائ اور عدیل سے کہا۔۔
یہ۔۔ی۔۔۔کاایاا۔کرپے ہو عدیل۔تم ۔۔؟؟
وہی۔جو کرنے میں تمہیں یہاں لایا یہ کہہ کے عدیل نے تارا کی دونوں ٹانگیں پکڑ کر اپنی طرف کھینچی اس سے پہلے وہ تارا پہ جھکتا تارا نے ایک زور دار لات اسکے پیٹ پہ ماری۔
عدیل لڑکھڑا کے نیچے گرا تارا تیزی سے بیڈ سے اتر کے ونڈو کے پاس سے جیسی ہی جانے لگی ونڈو کے اس پار اسے اذان دیکھائ دیا۔۔
تارا نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ونڈو کو بجا ڈالا مگر ازان تک اسکی آواز نہیں پہنچی اتنے میں عدیل نے اسے بالوں سے تھاما اور گھسیٹے ہوئے دوبارہ بیڈ پہ لیجانے لگا جب تارا نے پور طاقت سے اپنے بال عدیل سے چھڑوائے اور واش روم میں بند ہونے کیلیے بھاگی مگر بدقسمت کے اسکا پاوں ایک دم مڑا اور وہ زمین بوس ہوگئ۔۔
ا
عدیل نے اپنی بیلٹ اتاری اور تارا کو جانوروں کی طرح مارنا شروع کردیا ۔
۔۔۔۔
تارا نے جھٹکے سے اپنی آنکھیں کھولی ازان جو اسکے سرہانے ہی بیٹھا تھا تیزی سے اٹھ کے اس تک آیا ۔ مگر پانچ منٹ بعد تارا کی پوری باڈی جھٹکے کھانے لگی اور وہ بیہوش ہوگئ۔۔
جاری ہے
See translation
