84.5K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

زرغہ اچھا نہ سوری یار میں غصہ میں تھا ۔۔
پچھلے آدھے گھنٹے سے زرقان اپنے کل کے رویے پہ زرغہ کو سوری بول رہا تھا مگر وہ تھی کے مان کے ہی۔نہیں دے رہی تھی۔۔
اچھا جو تم بولو میں ماننے کو تیار ہو مگر پلیز یہ ناراضگی ختم کرو زرقان نے بے بسی سے زرغہ کے نظر انداز کرنے پہ کہا۔۔
لانج میں بیٹھے وہ تینوں اپنی زندگی کی نجانے کونسی شطرنج کی بازی لگا کے بیٹھے تھے ان چاہے رشتوں میں بندھ کر۔۔
اج گھر کے سارے بڑے خاندان کے کسی فنکشن میں گئے تھے۔گھر میں صرف وہ تینوں تھے۔۔
بہت زیادی نخرے دیکھانے کے بعد بہرحال زرغہ مان چکی تھی وہ بھی زرقان کی ڈنر کی آفر پہ ۔۔
تم بھی چلو صاحبہ اکیلی گھر میں کیا کروگی زرقان نے صاحبہ کو بھی ساتھ چلنے کی آفر کی ۔۔
اس سے پہلیے زرغہ کچھ بولتی صاحبہ بول پڑی۔۔
نہیں زرقان مجھے کباب میں ہڈی بننے کا کوئ شوق نہں اور ویسے بھی مجھے ایک ضروری کال کرنی ہے۔۔
یہ بول کے صاحبہ اوپر اپنے کمرے کی۔طرف بڑھ گئ زرقان کی نگاہوں نے اسکا دور تک پیچھا کیا جب زرغہ نے کہا۔۔
اب چل بھی لو کیا یہہی ٹائم گزارنا ہے سارا۔۔
زرغہ کی اواز پہ زرقان پلٹا زرغہ کیساتھ چلنے کیلیے مگر پلٹ کے دوبارہ صاحبہ کو دیکھنا نہیں بھولا۔۔۔
صاحبہ کمرے میں آئ اور دھرم سے گرنے کے انداز میں بیڈ پہ ڈھیر ہوگئ کچھ سوچتے ہوئے اس کی کب آنکھ لگی اسے پتہ ہی نہیں چلا کسی کی نظروں کی تپش سے اس کی آنکھیں مدھم کھولی صاحبہ نے انکھیں کھولی تو سامنے راجا کو خود کو تکتا پایا صاحبہ نے پھر اپنی آنکھیں بند کرلی اور چند منٹ بعد اس نے جھٹکے سے آنکھیں کھول کے راجا کو گھورا بلکہ چیخنے لگی مگر اس سے پہلے ہی راجا اس کے لبوں پہ۔اپنا ہاتھ رکھ چکا تھا۔۔
صاحبہ نے آنکھوں میں غصہ سموئے راجا کو گھورا راجا اس کے گھورنے کے انداز پہ اپنا ہاتھ اس کے لبوں پہ سے ہٹایا ۔۔
میرے کمرے میں اپ کیا ہیں ؟؟اندر کیسے آئے؟؟
اتنی تمیز نہیں اپکو کے ایک لڑکی کے کمرے میں ایسے بنا اجازت کے اندر نہں اتے؟؟
صاحبہ نجانے غصہ میں کیا کیا راجا کو سنا رہی تھی مگر راجا کی نظریں تو صاحبہ کے لمبے حیسن بالوں پہ ٹکی تھی ۔۔
صاحبہ نے جب راجا کی نظریں کہی اور دیکھی تو بول پڑی۔
راجا اپ سن رہے ہیں میں پوچھ رہی ہو اپ کیسے آئے میرے کمرے میں۔۔
ااا ہاں وہ آگیا مگر یار لٹل گرل تمہارے بال تو بہت خوبصورت ہیں یہ بول کے راجا نے صاحبہ کے بالوں کو چھونا چاہا مگر صاحبہ نے راجا کا ہاتھ جھٹکا اور کہا۔۔
ڈونٹ ٹچ می آگین۔
صاحبہ کے بولنے پہ راجا نے اسکی گدی پہ ہاتھ رکھ کے اسے اپنی طرف کھینچا صاحبہ کا چہرہ راجا کے چہرے کے بے حد قریب تھا دو پل کیلیے صاحبہ راجا کی گرین آنکھوں میں کھوگئ۔۔
اج کے بعد مجھے جھٹکنا نہیں لٹل گرل ورنہ انجام کی۔ذمدار تم خود ہوگی۔۔
یہ بول کے راجا نے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے صاحبہ کا کانپتا وجود بند آنکھیں راجا کے چہرے پہ مسکراہٹ لے آئ ۔راجا اس سے دھیرے سے الگ ہوا اور کہا۔
دو دن کے اندر اندر تمہارے گھر لا رہا اپنا پربوزل ایک بار میرے نام۔سے جڑ جاو پھر بتاتا ہو ٹچ کرنا کیسے کرتے ہیں اپنی محبت کو۔۔۔۔
راجا کی بات سن کے صاحبہ نے حیران کن نظروں سے دیکھا اس سے پہلے وہ کچھ کہتی راجا جیسے آیا تھا ویسے جاچکا تھا مگر راجا کی بات سن کے صاحبہ کا وجود زلزلوں میں آچکا تھا۔

#

اسلام وعیلکم پاپا ۔۔
زمان صاحب کو دیکھ کے ازان خوشی سے انکے گلے لگ وہ فلیٹ کے اندر داخل ہوئے اور سیدھا تارا کے کمرے میں تارا نے بھی انکو سلام کیا تھوڑی بہت باتوں کے بعد وہ تارا کے کمرے سے نکلے اور اذان کو باہر آنے کو کہا۔۔
جی پاپا۔۔
دیکھو ازان ہم زیادہ عرصے تک تمہاری ماما سے یہ بات چھپا نہیں سکتے میں یہ۔چاہ رہا ہو کے جب تارا مکمل ٹھیک ہوجائے تو اسکو اسکے اپنے گھر لے کے آو۔۔
جی پاپا میں بھی یہی سوچ رہا تھا اب اس معملے کو فیس کرنا پڑے گا مگر پاپا ماما وہ بہت ہرٹ ہونگی۔۔
دیکھو ازان ہرٹ تو ہوگی وہ مگر تارا اور تمہیں انکو منانے ہے ہر حال میں اب میں چلتا ہو اور کل تم بھی گھر چکر لگاو مگر یہاں تارا کی دیکھ بھال کون کرے گا۔۔
زمان صاحب نے سوچتے ہوئے اذان سے کہا۔۔
پاپا میں نے ایک نرس ہائیر کی ہے بس رات میں میں ماما کے دیکھانے کیلیے انکے سامنے تو سونے میں اپنے کمرے میں چلا جاونگا مگر رات میں نکل کے میں تارا کے پاس ہی آونگا اور ماما کو کیسے سنھالنا ہے یہ اب اپکا کام ہے۔۔
بہت ہی ہوشیار ہو بھئ مجھے پھنسا رہے ہو زمان صاحب نے مسکراتے ہوئے ازان کو کہا اور چلے گئے۔۔
زمان صاحب کی بات سن کے اب اذان بھی سیریس ہوچکا وہ جو سمجھ رہا تھا کے اپنی ماما کو منا لیگا تو یہ اسکی سب سے بڑی بھول تھی تارا اور اذان کو اس نکاح کرنے کی کتنی بڑی قیمت چکانی تھی یہ تو انے والا وقت ہی بتانے والا تھا۔۔

#

ثمرہ ہم چاہتے ہیں زرغہ کی شادی میں اسکا باپ بھی شامل۔ہو۔۔
اج پھر سب بی جان کے کمرے میں موجود تھے کیونکہ دو مہینے رہ گئے تھے زرقان اور زرغہ کی شادی میں اور بی جان کیساتھ ساتھ خرم اور آصفہ نے بھی یہ بات کی ۔۔
ٹھیک ہے بلا لے مجھے اعتراض نہیں میں ہوکون جو میں جو کچھ بولو۔۔ثمرہ یہ بول کے گردن جھکا کے رونے لگی۔۔
ایسا نہیں بولو ثمرہ تمہارے ساتھ نا انصافی ہوئ جبھی اج 22 سال ہوگئے ہم نے اپنے بیٹے کی شکل نہیں دیکھی اسکی دوسری اولاد کا وجود اس سے چھپایا۔بی جان نے بولا۔
دیکھو ثمرہ جب اسکا باپ زندہ ہے تو وہ کیوں بنا باپ کے رخصت ہو آصفہ نے بھی اسے سمجھانا چاہا ۔۔
ٹھیک ہے بلالے انہیں مگر انکے ساتھ جو وجود ہے نہیں ائے گا ساتھ اب فیصلہ کرلے اپ لوگ یہ بول کے ثمرہ جیسی ہی جانے کیلیے اٹھنے لگی مگر صاحبہ کو سامنے کھڑ ادیکھ وہاں بیٹھا کر انسان ساکن ہو گیا۔۔
جاری ہے۔۔