Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
بچاو مجھے پلیز چھوڑو مجھے ۔۔۔صاحبہ چیخ چیخ کے مدد کیلیے پکار رہی تھی مگر وہاں اسے سننے والا کوئ نہیں تھا۔۔
یونی کا روڈ کافی سنسان تھا وہاں پڑھنے والے اسٹوڈینٹ اپنی اپنی گاڑیوں میں اتے یہ پھر پوائنٹ کا ویٹ کرتے ۔صاحبہ بھی پوائنٹ کا ہی ویٹ کررہی تھی۔۔
صاحبہ مسلسل اپنے اپکو چھڑوانے کی کوشش کررہی تھی مگر نکام رہی لڑکے اسے زبردستی گاڑی میں پھیکنے کی کوشش کررہے تھے جب صاحبہ نے اپنا پاوں دروازے میں اٹکا دیا۔۔۔
ان میں سے ایک لڑکے نے جیسے ہی جھک کے صاحبہ کے پاوں کو ہٹانے کیلیے ہاتھ اگے بڑھایا کسی نے زور سے اس لڑکے کی کمر پہ لاٹ ماری اور صاحبہ کا ہاتھ پکڑ کے زور سے اپنی طرف کھینچا ۔۔
صاحبہ جھٹکے سے کھینچنے والے کے سینے سے لگی سینے سے لگتے ہی جیسے ہی صاحبہ نے نگاہ اٹھا کے دیکھا تو راجا کو خود کو تکتا پایا۔۔
صاحبہ کے رونے میں مزید روانی ائ اس نے راجا کی شرٹ کو مضبوطی سے تھاما ۔۔
راجا نے اس اپنے پیچھے کیا اور دوسرے لڑکے کے منہ پہ زور دار گھونسا مارا۔۔
دونوں لڑکے راجا کو دیکھ کے فورا وہاں سے بھاگ نکلے۔۔
راجا نے صاحبہ کو دیکھا جو رونے میں مصروف تھی۔۔
راجا اس تک ایا اور اسکا ہاتھ پکڑ کے اسے اپنی گاڑی میں بیٹھایا۔۔
صاحبہ مسلسل رونے میں ہی مصروف تھی۔راجا اسے خاموشی سے بس تکنے میں مصروف تھا پانچ منٹ تک جب صاحبہ کا رونا بند نہیں ہوا تو راجا نے اس کی طرف پانی کی بوتل بڑھائ اور کہا۔۔
بس کرجاو لٹل گرل چلے گئے وہ۔۔۔
پلیز اب مت رو لو پانی پیو راجا نے پانی کی بوتل خود صاحبہ کے منہ سے لگاکے پانی پلایا ۔۔
صاحبہ نے ہچکی لیتے ہوئے تھوڑا سا پانی پیا اور کہا۔۔
اگر اپ اج وہاں نہیں اتے تو میں ۔۔می۔۔۔را۔۔
اگے کی۔بات صاحبہ سے بولی نہیں گئ اور وہ پھر رونے لگی۔۔
راجا نے تھوڑا اگے بڑھ کے بہت آرام سے اسکا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھاما اور انگھوٹوں کی مدد سے اسکے اآنسو صاف کیے اور کہا۔۔
میں تم سے پارٹی والی حرکت کے لیے معافی مانگنے ایا تھا ارادہ تو میرا تمہاری یونی کے اوف ٹائمنگ پہ انے کا تھا مگر ایک میٹنگ کی وجہ سے لیٹ ہوگیا۔۔
مگر لٹل گرل اگر اج میں وقت پہ نہیں پہنچتا اور تمہیں کچھ ہوجاتا تو یقین جانو میں اپنی جان لے لیتا۔۔
راجا کے آخری جملے پہ صاحبہ نے نگاہ اٹھا کے راجا کو دیکھا صاحبہ کا ایسا دیکھنا راجا کی ڈھڑکنیں تیز کرگیا۔۔
صاحبہ نے اپنا چہرہ تھوڑا پیچھے کرکے راجا کے ہاتھوں سے آذاد کیا اور کہا۔۔
اپکا بہت بہت شکریہ راجا اپنے میری عزت بچائ ۔۔
راجا نے مسکرا کے کہا۔۔
تمہاری نہیں اپنی عزت بچائ یہ کہہ کے راجا نے گاڑی اسٹارٹ کردی۔۔۔
راجا چاہ کر بھی اپنی نظریں ہٹا نہیں پارہا تھا ایک عجیب سی کشش ہونے لگی تھی اسے صاحبہ سے جو راجا کے سر پہ سوار رہتی۔۔
راجا نے صاحبہ کو اسکے گھر سے زرا سے فاصلہ پہ اتارا اور چلا گیا۔
گاڑی چلاتے ہوئے اس کی نظر اس پانی کی بوتل پہ پڑی جس سے اس نے صاحبہ کو پانی پلایا تھا۔۔
راجا نے کمال کی مسکراہٹ کیساتھ پانی کی بوتل اٹھائ اور اسے بھی اپنے لبوں سے ایسے ہی لگایا جیسے صاحبہ کے لبوں کو لگایا تھا۔۔
راجا نے بوتل رکھ اپنے کان میں لگا بیلوٹوتھ یس کیا جس پہ کسی کی کال ارہی تھی۔۔
ہاں کمال کا کام کیا تم لوگوں نے مگر میں نے تم لوگوں کو منع کیا تھا کے اس لڑکی کو ٹچ نہیں کرنا مگر تم لوگوں نے تو اسکے ہاتھوں کو ہی پکڑا تھا ۔۔
اگے سے نجانے کیا بولا گیا جب راجا نے کہا۔۔
اچھا اچھا ٹھیک ہے پیسے پہنچ گئے ہیں تم لوگوں کے اکاوئنٹ میں اب مجھے نظر نہیں انا تم لوگ۔۔
یہ بول کے راجا نے کال کٹ کردی ۔۔
اور مسکرا کے صرف اتنا کہا۔۔
“سوری لٹل گرل مگر تمہیں اب حاصل کرنا راجا اشفاق کا جنون ہے ۔””
صبح راجا نے ان لوگوں کو کال کی جو راجا کے اکثر ایلیگل کام کرتے تھے جیسے کسی لڑکی کیساتھ راجا اگر حد سے اگے بڑھتا اور پھر اسے چھوڑ دیتا لڑکی جب راجا کو دھمکی دیتی یہ شور کرتی جب راجا ان دو لڑکوں کو ہائر کرتا جو لڑکیوں کو دھمکاتے یہ پھر انکے گھر والوں کو ۔۔اج راجا نے ان لڑکوں کو صاحبہ کیساتھ یہ سب کچھ کرنے کو کہا تاکہ وہ صاحبہ کو بچا کے اس کی نظروں میں ہیرو بن جائے ۔۔
#
صاحبہ گھر پہنچی تو زرغہ سے اسکا سامنا ہوا جو کہی جانے کی تیاری کررہی تھی ۔۔
مگر صاحبہ کو دیکھ کے رکی اور کہا۔۔
بہت زیادہ لیٹ نہیں انے لگی اجکل یونی سے سب خیریت ہے نہ میڈم یہ بول کے زرغہ نے صاحبہ کو انکھ ماری اور اگے بڑھ گئ۔۔
صاحبہ کی بھیگتی آنکھوں نے زرغہ کی پشت کو گھورا اور اوپر اپنے کمرے میں جانے لگی اس کے پاوں میں شاید ہلکی سی چوٹ لگ گئ تھی اج کے حادثہ کے بعد ۔جبھی وہ لڑکھڑا کے چل رہی تھی۔۔مگر اوپر کھڑا زرقان یہ دیکھ کے رہ نہیں سکا اور صاحبہ کے پیچھے گیا۔۔
صاحبہ اتے ہی واش روم گئ فریش ہوکے جیسے ہی باہر نکلی زرقان کو اپنے کمرے میں پایا ۔۔
دونوں ایک دوسرے کو خاموشی سے تکتے رہے مگر بولے کچھ نہیں پاوں کی تکلیف کی وجہ سے صاحبہ زیادہ دیر تک کھڑی نہ ہو پائ لڑکھڑاتے ہوئے بیڈ پہ بیٹھی جب زرقان نے پوچھا۔۔
پاوں پہ کیا ہوا ہے صبحو۔۔۔؟؟
زرقان کے پوچھنے پہ صاحبہ چپ رہی بولی کچھ نہیں ۔۔
زرقان نے ایک لمبی سانس لی اور صاحبہ کے سامنے بیٹھ کے اس کا وہ پاوں جسمیں چوٹ لگی تھی اپنی ران پہ رکھا اور چوٹ دیکھنے لگا صاحبہ نے اس کیساتھ کسی بھی قسم کی کوئ مزاحمت نہیں کی بلکے چپ چاپ زرقان کی ساری کاروائ دیکھنے لگی۔۔۔
صاحبہ کےپاوں پہ کافی خراشیں تھی۔۔زرقان نے صاحبہ کی پاوں کی خراشیں دیکھ کے صاحبہ سے پوچھا۔۔۔
یہ کیسی لگی تہمیں۔۔؟؟؟
زرقان کے کہنے پہ صاحبہ نے اپنے آنسو صاف کیہ اور کہا۔۔
یونی میں ڈیکس سے رگڑ لگ گئ۔۔۔
دیکھ کے نہیں چلتی ہو۔۔
یہ بول کے زرقان نے میڈیسن باکس میں سے دوائ نکال کے صاحبہ کے پاوں پہ۔لگائ ۔
صاحبہ اب بھی رونے میں مصروف تھی زرقان ہاتھ دھوکے اس کے پاس اکے بیٹھا اور اس کے چہرے پہ ائے بال کان کے پیچھے کیے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے اور کہا۔۔
“سوری میں بہت پوزیسیو ہوگیا تھا جب مجھے اپنی زندگی میں کسی کو شامل کرنے کا حق پے تو تمہیں کیوں نہیں وہ کیا ہے نہ۔صحبو تیری ایسی عادت لگی ہے مجھے کے زرغہ سے لاکھ محبت صحیح مگر جب تک تجھ سے دن بھر کی بات نہ کرلو تجھے دیکھ نہ لو میرا دن نہیں گزرتا تیری عادت ہوگئ ہے یار صحبو مجھے تیرا جس سے دل چاہے مل باتیں کر مگر میری جگہ کسی کو مت دینا یہ بول کے زرقان نے ہمیشہ کی طرح صاحبہ کے ماتھے پہ۔اپنے لب رکھے اور چلا گیا۔۔
ایک حسین مسکراہٹ صاحبہ کے لبوں پہ ائ جو کسی کا تصور کرکے فورا سمٹی۔۔۔
جاری ہے
