Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Episode 30
No Download Link
Rate this Novel
Episode 30
راجا کی فلائٹ ٹیک اوف ہوتے ہی راجا کے جسم میں مانو جان سی اگئ اسکا بس نہیں چل رہا تھا کے اڑ کے صاحبہ کے ہاسٹل پہنچ جائے۔۔
ڈارک مہرون کلر کی چیکٹ پہنے فل بیلک پینٹ شرٹ میں بال ماتھے پہ گرائے اس پہ راجا کی گرین آنکھین نیویارک کے ائیرپورٹ پہ بھی راجا اپنی طرف لوگوں کو متوجہ کررہا تھا۔۔
راجا نے جلد از جلد چیکنگ کی اور سیدھا صاحبہ کی یونی پہنچا جسکی ڈیٹیل وہ باتوں باتوں میں صاحبہ سے لے چکا تھا۔۔
ایک چھوٹا سا بیگ راجا کے کندھے پہ تھا جیسے لٹکائے لٹکائے وہ یونی پہنچا۔۔
ریسپشن پہ پہنچا اور پوچھا۔۔
ہیلو؟؟
ہیلو۔۔
کین آئ میٹ صاحبہ سرور ؟اب مجھ سے اردو میں میں بات کرسکتے ہیں سر۔۔
راجا جو ریسپشن پہ بیٹھی لڑکی کو پکی انگریز سمجھ رہا تھا مگر اس کے اردو لہجہ پہ ایک دم شاکڈ ہوا ۔۔
مجھے صاحبہ سرور سے ملنا تھا کل وہ پاکستان سے آئ ہیں اپکی یونی میں ایڈ میشن لیاہے ۔۔اصل میں وہ اپنے ڈاکومنیٹ سارے پاکستان بھول گئ تو بس وہی لوٹانے مجھے انا پڑا۔۔
اپ کون ہیں سر انکے ؟؟
میں شوہر ہو انکا ۔۔
اوکے ویٹ کرے اپ ڈیپارٹ بتادے تو آسانی ہوتی ہمیں لڑکی نئ جانجتی نظروں سے راجا کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
میڈیکل کے اسکن اسپشلسٹ فیلڈ میں پلاسٹک سجری ڈیپارٹ میں۔۔
اوہ ویٹ کرے سر ۔۔۔
راجا نے آس پاس نظریں ڈورائ کے کاش صاحبہ اسے دیکھ جائے مگر اسکی نظریں نکام لوٹی۔۔۔
سوری سر وہ ابھی یونی نہیں آئ ہیں اپ ہوسٹل چیک کرلے انکا۔۔
راجا جو دیکھنے میں مصروف تھا لڑکی کے بولنے پہ ایک دم چونکا اور کہا۔
گرلز کا ہوسٹل کہاں ہے ؟؟
اپکے پاس ساری ڈیٹیل ہوگی پلیز کمرہ بتا سکتی ہیں انکا۔۔۔
سر کمرہ بتانا ہمیں آلاو نہیں ہاں میں اپکو ہاسٹل کا ایڈریس دے سکتی ہو وہاں مسسز جینفر ہونگی وہ بتادینگی اپکو ڈیٹیل ۔۔
یہاں سے سیدھا جاکے لیف پھر رائیٹ ٹرن سامنے ہاسٹل ہے۔۔
اوکے شکریہ اپکا راجا نے اسکا شکریہ ادا کیا اورہاسٹل کی طرف بڑھا۔۔۔۔
ہاسٹل کے اسے ذیادہ محنت نہیں کرنی پڑی سامنے ہی اسے مسسز جنفر کھڑی نظر آئ جو ہاسٹل کے ریسپشن پہ تھی۔۔
Hello mrs jinefar i am raja can i meet sahiba sarwar??
i am her couzin…
Soory son sahiba sarwar leave the hostail before two hour and she going back pakistan..
راجا واڈرن کی بات سن کے ہاسٹل سے باہر تو آگیا مگر اب اسکا دماغ تیزی سے چل رہا تھا ۔۔
وہ ائ اگر تو واپس کیوں گئ وہ بھی اتنی جلدی؟؟؟
پوری رات زرغہ روتی رہی اپنے اپکو کوستی رہی وہ یہ کیسے بھول گئ کے جب اپنی ماں کو دھوکا دیا ایک ایسے شخص کو دھوکا دیا جو اسے بہت چاہتا تھا تو وہ کیسی اسیے راستے پہ چل پڑی جس راستہ پہ چل کے بہت کم لوگ اپنی منزل پاتے ہیں تو وہ کیسے پہنچ سکتی تھی۔۔
اچانک اسکی نگاہوں کے سامنے زرقان کا اسکی ماں کا چہرہ آیا کتنا بھروسہ تھا اسکی ماں کو اس پہ اور زرقان جو اسکی ہر بات کو پتھر کی لکیر سمجھتا تھا اسکی۔ایک نگاہ کیلیے اس کے کمرے کے ہزار چکر کاٹتا تھا اس کے ساتھ کچھ لمحے گزارنے کیلیے کتنی منتیں کرتا تھا ۔۔اففف یہ میں نے کیا کردیا یااللہ مجھے کوئ راستہ دیکھا مولا مجھے برباد ہونے سے بچالے ۔۔
فجر کی ازان کی صدائیں اسکے کانوں میں گونجی اسنے اپنے ہاتھ کے زخم کی پراوہ کی بغیر وضو کیا۔۔
اسے نہیں یاد اس نے اخری بار کب وضو کیا تھا یہ شاید یاد تھا جمعہ کے جمعہ۔۔
وضو کرکے اس نے نماز کی طرح ڈوپٹہ باندھا اور نماز پڑھنے کھڑی ایک عجیب سے کپکپی اس پہ طاری تھی ابھی اس نے نماز کی نیت نہیں باندھی تھی دور کہی کوئ ماضی کی اواز اس کے کانوں میں گونجی۔۔۔
“پتہ ہے بیٹا جب اللہ ہم سے ناراض ہوتا ہے نہ تو ہم سے اپنے اگے سجدے کرنے کی توفیق چھین لیتا ہے اور جب اللہ چاہتا ہے فلاں بندھا اس کے اگے جھکے تو وہ اسے زرا سی مصیبت یا زرا سے تکلیف میں ڈالتا ہے تاکے وہ اس کے اگے جھکے”
بلا شبہ زرغہ نے اپنی آنکھیں بند کرکے کھولی اور نماز کی نیت باندھ لی ۔۔
پورے دل سے نماز پڑھنے کے بعد اس نے دعا کیلے ہاتھ اٹھائے اور ایک بار پھر روپڑی اور اپنے اللہ سے معافی مانگنے لگی ۔۔
یاللہ مجھے معاف کردی مجھے گندگی کا ڈھیر نہیں بننا مجھے اپنی پناہ میں رکھ مولا مجھے کوئ راستہ دیکھا جس میں میری بھلائ ہو ۔۔
دعا مانگ کے زرغہ اٹھی تو سامنے بیڈ پہ بیٹھے قاسم کو خود کو تکتا پایا۔۔
فجر کی نماز کے بعد قاسم نے ایسی زرغہ کے کمرے کا چکر لگایا یہ دیکھنے کیلیے وہ جاگ رہی ہے یہ سورہی ہے مگر زرغہ کو نماز پڑھتا دیکھ قاسم حیران نظروں سے بیڈ پہ بیٹھ کے اسے دیکھنے لگا اسکے دعا مانگنے کا طریقہ قاسم کو بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کرگیا۔۔
کیا سوچا پھر تم نے یہ بول کے قاسم زرغہ کے قریب آیا تو وہ دو قدم پیچھے ہوئ جب قاسم اسکے اور قریب آیا مگر زرغہ کے پیچھے رکھے میڈیسن باکس اٹھانے۔۔
بیٹھو میں ڈریسنگ کردو ہاتھ کی پٹی گیلی ہوگئ ۔۔
قاسم کے بولنے پہ زرغہ دھیرے سے بیڈ پہ بیٹھ گئ قاسم اسکے ہاتھ کی بیندج کررہا تھا مگر اس کی نگاہیں بھٹک بھٹک کے زرغہ کے ڈوپٹہ میں قید چہرے کا طواف کررہی تھی زرغہ بھی جانتی تھی وہ قاسم کی نظروں کے حصار میں ہے ۔۔
جب قاسم نے پٹی باندھنے کیلیے نگاہ جھکائ تو پل بھر کیلیے زرغہ نے قاسم کو دیکھا۔۔
سر پہ لگی ٹوپی ہلکی سے بریڈ کشادہ ماتھے چوڑا سینا وہ نگاہیں جھکا گئ۔قاسم نے نیچے گردن کرے کرے کہا دیکھ لو منع نہیں ساری زندگی تمہیں اب مجھے ہی دیکھنا ہے۔۔
میں تمہیں نہیں دیکھ رہی تھی چوری پکڑے جانے پہ۔زرغہ صاف مکری۔۔
تو کیا ٹوپی کے نیچے چھپا دماغ دیکھ رہی تھی میرا۔۔
قاسم کے اگلے سوال پہ زرغہ چپ رہی ۔۔
پٹی باندھنے کے بعد قاسم ہاتھ دھوکے آیا اور دوبارہ زرغہ کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا۔۔
کیا سوچا پھر کونسا آپشن بیسٹ لگا تمہیں؟؟
ایسے آپشن کو بیسٹ نہیں کہتے زرغہ نے ایک آئیبرو اچکا کے قاسم سے کہا۔
اچھا تو چلو بتادو گھٹیا آپشن کونسا لگا پھر؟؟
میں بار ڈانسر نہیں بنوگی—
اہہاں ۔۔۔قاسم نے اپنی۔مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا۔۔
تو پھر کل نکاح ہے ہمارا ۔۔
قاسم کے بولنے پہ زرغہ گردن نیچے کرکے رونے لگی قاسم نے ایک نظر اسکے جھکے سر کو دیکھا اور کہا۔۔
اب کیوں رو رہی ہو؟؟قاسم کو الجھن ہورہی تھی زرغہ کے ایسے رونے سے۔۔
مجھ سے ہی شادی کرنا کیوں چاہتے ہو تم تمہیں تو کوئ بھی مل جائے گی۔زرغہ دل میں کب سے مچلا سوال پوچھ بیٹھی۔
قاسم زرا سے زرغہ کی طرف جھکا اور کہا۔۔
مل جائے گا تمہیں یہ جواب بھی کچھ پل گزاروں میرے ساتھ۔۔
مگر مجھے اب مرد زات پہ بھروسہ نہیں میں تمہیں کبھی شوہر کا مقام نہیں دونگی۔۔
کوئ بات نہیں کبھی تو وہ راستہ منتخب کروگی تم جس پہ۔چل۔کر تم۔مجھے اپنا شوہر قبول کروگی۔۔
یہ بول کے قاسم کمرے سے چلا گیا اور زرغہ کو بھی راستہ مل گیا تھا پر کیا زرغہ اس راستے پہ چل سکے گی یہ تو انے والا وقت ہی بتائے گا۔۔
پاکستان کی سر زمیںن پہ قدم رکھتے ہی زرغہ نے سب سے پہلے خرم صاحب کو کال کرکے اپنے پاکستان آنے کا بتایا دس منٹ کے اندر ڈرائیور اسے لینے پہنچا اور وہ سیدھا ہاسپٹل پہنچی۔۔
مگر زرقان کو اس حالت میں دیکھ کے وہ پل بھر کیلیے شاکڈ رہ گئ اور پھر صاحبہ جو روئ اسے چپ کرانا مشکل۔ہوگیا۔
ڈاکٹر سے ساری تفصیلات لینے کے بعد صاحبہ نے خرم صاحب کو زرقان کو گھر میں شفٹ کرنے کو کہا۔
صاحبہ زرقان کیلیے اپنی خواہش اپنا مقصد تک بھول گئ اسے یاد تھا تو صرف اتنا کے اس وقت زرقان کو صاحبہ کی ضرورت ہے ۔خواہش کا راستہ چھوڑ کے صاحبہ نے وہ راستہ چنا جسکی راہ کا تعین اللہ نے کیا میاں بیوی میں سے اگر کوئ مصیبت میں ہو کسی ایک کو اسکا سہارا بننا پڑتا ہے اور ایسا اسی صورت میں ہوتا ہے جہاں محبت ہو اب دیکھتے ہیں یہ بات زرقان یہ صاحبہ کب سمجھتے ہیں۔۔
جاری ہے۔۔
