84.5K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

سورج ڈوبا ہے یارو۔۔
دو گھونٹ نشے کے مارو ۔۔
غم تم بھولا دو سارے سنسار کے۔۔۔۔
زرقان کے روم میں ہلکا ہلکا میوزک بج رہا تھا جب زرغہ ہلکا سا ناک کرکے کمرے میں داخل ہوئ۔مگر کمرے میں اسے زرقان کہی نہی دیکھا وہ واپس جانے لگی جب واش روم کا دروازہ کھلا اور زرقان نہا کے نکلا۔۔
زرقان اپنی ہی دھن مین ٹاول سے اپنے بال خشک کرکے ڈریسنگ کے پاس ایا جب شیشے میں اسے زرغہ کا عکس دیکھا ۔۔
زرقان زرغہ کو اپنے کمرے میں دیکھ کے حیران ہونے کیساتھ ساتھ شاکڈ بھی تھا۔۔
زرقان نے ٹاول بیڈ پہ پھینکا اور چلتا ہوا زرغہ کے پاس ایا جو زرقان کے اس طرح قریب انے پہ۔نروس ہورہی تھی۔۔
زرقان زرغہ کے قریب ایا اور کہا۔۔
اج تو عید ہوگئ زرقان خرم کی اسکی محبت کے قدم اسکے کمرے میں جو ائے۔۔
زرقان بنا قمیض کے زرغہ کی طرف اہستہ اہستہ قدم بڑھا رہا تھا۔۔
زرغہ نے الٹے قدم اٹھاتے ہوئے کہا۔۔
ایسی بات نہی ہے زرقان میں پہلے بھی تمارے کمرے میں اتی تھی۔۔
ہاں اتی تھی مگر جب سے تمہیں یہ پتہ چلا کے میرے دل میں تمہارے لیہ کیا فیلنگ ہے تم مجھ سے کترانے لگی اور تو اور منگنی کے بعد مجھ سے بھاگتئ پھرتی ہو۔۔
ایسی بات۔۔زرغہ پیچھے ہوتے ہوئے بول رہی تھی کے اچانک اسکی کمر دیوار سے ٹکرائ زرغہ نے ایک نظر پیچھے دیکھا اقر پھر زرقان کو جسکی انکھوں مین زرغہ کیلیے اج الگ پیغام تھا اوپر سے زرقان بنا شرٹ کے تھا زرغہ مرتی کیا کرتی زرقان کے برہنہ سینے پہ۔ہاتھ رکھ کے اسے خود سے دور کرنے لگی جب زرقان نے خمار لہجہ میں کہا۔۔۔
زرغہ کیا تمہں مجھ سے کبھی محبت نہی ہوئ میں نے کتنی بار تم سے اظہار کیا محبت کا مگر تم ہیمشہ اگنور کر گئ کیا تم اس منگنی سے خوش نہی یوئ۔۔
ایک پل کیلے زرغہ کے دل میں ایا وہ زرقان سے کہے۔۔
ہاں زرقان خرم مجھے تم ایک۔انکھ نہی بھاتے میر ابس چلے تو میں تمہارا نام اپنے نام کے اگے سے کھرچ کے نکال دو ہاں زرقان مجھے تم سے کبھی محبت نہی ہوئ بلکہ میں تو کسی اور کو چاہنے لگی ہو اچانک یہ سوچتے ہوئے زرغہ کے اگے راجا کی خوبرو پرسنیلٹی لہرائ کہئ بار زرغہ نے یہ بات نوٹ کی تھی کے کتنی بار کڑکیاں اسے پلٹ کے دیکھتی تھی اگر وہ کہی سے گزرے مگر افسوس زرغہ یہ بات خالی سوچ سکی کہہ نہی پائ۔۔
اور ادھر زرقان اسکا چہرہ دیکھ کے یہ جاننے کی کوشش کررہا تھا کے زرغہ سوچ کیا رہی ہے۔۔
زرقان میں اہستہ اہستہ اس رشتے کو قبول کرنے کی کوشش کررہی ہو ۔۔
مجھے تھوڑا ٹائم دو۔۔
زرغہ کے بولنے پہ زرقان نے ناجانے کیا سوچ کے زرغہ کے کے گالوں پہ۔اپنے لب رکھ دیے زرقان کی اس حرکت پہ زرغہ کا دل زور زور سے ڈھرکنے لگا۔۔زرقان زرغہ سے الگ ہوا اور کہا۔
ٹھیک ہے ٹائم دیا۔
زرقان اج ہم ڈنر پہ چلے۔۔؟؟
اچانک زرغہ کے پوچھنے پہ زرقان نے حیران ہوکے اسے دیکھا اور کہا۔۔
کیوں نہی میری جان جہاں تم بولو میں تو اپکا غلام ٹہرا میری جان جدھر بولو میں چلونگا۔۔
زرقان کے بولنے پہ زرغہ اپنے لبوں پہ ایک۔کھوکھلی مسکراہٹ لائ اور اسکے کمرے سے نکل کے لمبی لمبی سانس لینے لگی اسے زرقان کے رویہ سے اسکی باتوں سے گھٹن ہونے لگی۔۔۔
افف کتنا چھیچھورا ہے یہ زرقان اففف کہاں پھنس گئ میں اگر ماما مان جاتی تو مجھے زرقان کیساتھ یہ ڈرامہ کرنا نہی پڑتا خیر وقت انے پہ تو گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے یہ بول کے زرغہ طنزیہ مسکرائ اور چلی گئ جبکہ اسکی ساری باتیں زرقان کے کمرے کی طرف اتی صاحبہ سن چکی تھی۔۔
صاحبہ نے ایک نظر جاتی زرغہ کو دیکھا اور دروازہ کھول کے زرقان کے کمرے میں داخل ہوئ جہاں زرقان مسکرا کے بال بنا رہا تھا۔
کیا بات ہے اج مجنوں کے کمرے میں اسکی لیلہ کیا آئ مجنوں نے تو اپنے اپکو دنیا کا پہلا خوبصورت لڑکا ہی۔سمجھ لیا جو ائینہ کے سامنے سے ہٹ ہی نہی رہا۔
صاحبہ یہ بول کے زرقان کے بیڈ پہ بیٹھی جب زرقان نے ایک خونخوار نظر صاحبہ پہ ڈالی اور کہا۔
اوو مست چڑیل کسی کے کمرے میں انے سے پہلے ناکک کرت ہیں ۔۔
اووو اچھا اب تم جیسے ڈھیلے انسان مجھے مینرز سیکھائے گا جیسے یہ بھی نہی پتہ کے نئ شرت جب پہنتے ہیں تو اسکا ٹیگ ہٹاتے ہیں۔۔
یہ بول کے صاحبہ نے اگے بڑھ کے زرقان کی شرٹ کا ٹیگ نکالا ۔۔
زرقان نے ٹیگ دیکھا ایک ناگورای سی مسکراہٹ کیساتھ صاحبہ سے پوچھا ۔۔
کوئ کام تھا۔؟؟؟
واہ بھی واہ بلے کو زرا بلی نہ لفٹ کیا کراوئ اپنے مالک کو ہی بھول گیا۔
خیر میں تمہیں یہ بتانے آئ تھی کے تایا تائ پرسوں کی فلائٹ سے ارہے ہیں۔۔
ارے سچ میں چلو اج تو جم کے ڈنر ہوگا زرغہ کیساتھ۔۔
کیا مطلب تو اپی کساتھ ڈنر پہ جارہے ہو۔۔؟؟
ہاں۔۔۔
اچھا۔
۔تو بھی چل ۔۔۔،زرقان نے اصاحبہ کو افر کی
نہی مجھے کباب میں ہڈی بننے کا شوق نہی۔۔
صاحبہ کی بات سن کے زرقان صاحبہ کے قریب ایا اور اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کے کہا۔۔
نہی صاحبہ ایسا نہی بول تجھے پتہ ہے نہ تیرے بغیر میرا گزارا نہی تو نہی جائے گی تو مجھے کھانا ہضم نہی ہوگا۔
زرقان اتنے سیریس انداز میں یہ بات کہہ رہا تھا کے ایک پل کیلیےصاحبہ نے سوچا وہ بھی انکے ساتھ ڈنر پہ جائے مگر زرقان کی اگلی بات پہ صاحبہ کا دل کیا کے کوئ چیز اٹھا کے زرقان کے سر پہ ماردے۔۔
اگر تو یہ سمجھ رہی کے میں ایسا کچھ بولونگا تو یہ بھول ہے اپکی اچھا ہوا تونے خود ہی منع کردیا جانے کا تو ہڈی نہ پورا پایا ہے چل لارشو ہو میرے کمرے سے تیار ہونا ہے مجھے جانا ہے یو نو ڈنر پہ اپنی جان کیساتھ۔۔
زرقان نے کافی اترا کے یہ بات بولی جس پہ صاحبہ نے بڑے معصومنہ انداز میں اپنی انکھین گھمائ اور ڈھیرے سے چل کے زرقان کے قریب ائ جو بلیک شرت میں غضب ڈھارہا ہے ۔صاحبہ زرقان کے اور قریب ائ زرقان صاحبہ کے اتنے قریب انے پہ حیران ہوا صاحبہ نے کمال مہارت سے زرقان کی ڈریسنگ پہ سے ہیر اسپرے اٹھایا اور اچانک اسکے پورے منہ پہ ۔کرتے ہوئے کہا۔۔
اب جا ڈنر پہ افریقہ کے جن یہ بول کے صاحبہ جتنی اسپیڈ میں بھاگ سکتی تھی بھاگ کے اپنے کمرے میں بند ہوگئ اور ہمیشہ کی طرح زرقان اپنا غصہ بیچارے دروازے پہ ہی نکال سکا۔

#

ڈنر کے بعد زرقان اور زرغہ سمندر کی طرف اگئے اج زرقان بہت خوش تھا اج زرغہ نے اسکی طرف خود پیش قدمی کی تھی۔دونوں ننگے پاوں سمندر کی ریت پہ چل رہے تھے جب زرغہ نے کہا۔
زرقان اج میں اگر تم سے کچھ مانگو تو کیا تم مجھے دوگے؟؟
زرقان نے ایک نظر زرغہ کو دیکھا اور کہا۔
تم جان ہو میری زرغہ تمہں چاہتا ہو خود سے زیادہ یہ بولتے ہوئے اچانک زرقان کے سامنے صاحبہ کو نک چڑا منہ ایا تو زرقان کے چہرے پہ مسکان اگئ جب زرغہ نے کہا۔۔
ہنسے کیوں؟؟
ارے ایسی پی کچھ یاد اگیا تم کہوں تمہیں کیا مانگنا ہے۔۔
زرقان کے بولنے پہ زرغہ۔نے ریمپ واک کی ساری بات زرقان کو بتا دی سوائے راجا کے۔۔
پلیز زرقان یہ میری دلی خواہش ہے پلیز ماما سے تم بات کرو میں جانتی ہو وہ تمہاری بات نہی ٹالینگی۔۔ ۔
زرغہ کی بات پہ زرقان نے کچھ سوچا اور کہا۔۔
اچھا میں بات کرتا ہو چاچی سے ۔
زرقان کا اتنا کہنا تھا کے زرغہ خوشی سے زرقان کے گلے لگ گئ۔اور پھر اچانک الگ ہوکے زرقان کو چلننے کو کہا۔۔
کیوں اسے گھر پہنچ کے جلداز جلد یہ بات راجا کو بتانی تھی ۔۔

#

ثمرہ سےبات کرنے پہ زرقان نے جو سوچا تھا وہی ریکشن ثمرہ کا سامنا ایا زرقان کے لاکھ سمجھانے پی بھی وہ زرغہ کی خواہش پوری کرنے کے حق میں نہی تھی۔۔ثمرہ کی بات سن کے کمرے میں بیٹھی زرغہ رونے لگی۔۔زرقان نے جب زرغہ خو روتے دیکھا تو ثمرہ سے کہا۔
مان جائے نہ چچی اپکو میرے قسم۔۔زرقان کے بولنے پہ ثمرہ نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور کہا۔
ٹھیک ہے لیکن میری ایک شرت ہے؟؟
کیسی شرت یہ پوچھنے والی زرغہ تھی۔۔۔
خرم بھائ اور اصفہ بھابھی کے اتے ہی میں ان سے تمہاری شادی کی بات کرونگی اور ایک مہینے کے اندر تمہاری شادی ہوگی میری شرت منظور ہے تو ٹھیک یے ورنہ کوئ ضرورت نہی شو میں جانے کی۔۔
اس سے پہلے زرقان کچھ بولتا زرغہ بول پڑی ۔۔
ٹھیک ہے مجھے منظور ہے۔۔
زرغہ کے بولنے پہ جہاں ثمرہ حیران تھی وہی زرقان بھی۔جبکہ زرغہ نے سوچ لیا تھا کے اسے اگے کیا کرنا ہے۔۔
صحبو صحبو۔۔
زرقان یہ خوشخبری صاحبہ کو سنانے کیلیے تیزی سے اسکے کمرے کی جانب ڈورا اور بنا کمرے کا دروازہ ناکک کیا صاحبہ کے کمرے میں داخل ہوا۔۔
صاحبہ جو ابھی نہا کے نکلی تھی اپنے قہمض کی زپ بند کررہی تھئ زرقان کے ایسے اچانک کمرے میں داخل ہونے پہ جلدی سے بیڈ پہ رکھا اپنا ڈوپٹہ اوڑھا جبکہ زرقان جو صاحبہ کی اوپن کمر دیکھ چکا ایک دم رخ موڑ گیا۔
کوئ مینرز ہے یہ نہی۔کسی کے کمرے میں انے سے پہلے ناکک کرتے ہیں جاہل انسان کم عقل ۔۔صاحبہ نے دانت پیس کے کہا۔۔
زرقان نے یہ سنتے ہی گھوم کے صاحبہ کو دیکھا اور ایک ائبرو اچکا کے کہا۔۔
رئیلی یہ تم کہہ رہی ہو جسنے کبھی خود یہ رول فالو نہی کیا۔۔
ارے یار تمہاری بات الگ ہے تم لڑکے ہو۔
اچھا یہ کس کتاب کا رول ہے کے لڑکے کے کمرے میں بنا ناکک کیے جایا جاتا ہے۔۔
اففف اچھا بتاو کیوں ائے تھے۔۔
ہاں یہ پوچھا نہ زرقان نے خوش ہوکے صاحبہ کو کہا اور اپنی شادی والی بات اور زرغہ کی فیش شو والی بات سب بتائ ۔۔
پتہ ہے صاحبہ مجھے اندازہ نہی تھا زرغہ مان جائے گی افف مجھے اندازہ نہی تھا زرغہ مان جائے گی ،زرقان انجانے میں یہ جملہ دو بار کہہ گیا۔اور اس سے صاحبہ کو اندازہ ہوا وہ کتنا خوش ہے۔۔
اففف میں اج بہت خوش ہو یہ بول کے زرقان نے بلا جھجک اسکے گالوں کو چوما اور کمرے سے چلا گیا۔۔زرقان کے جاتے ہی صاحبہ کے انکھ سے ایک انسو گرا اور اسکا ہاتھ اپنے دل پہ گیا ۔۔
مگر پھر بھی اس نے زرقان کی خوشیوں کی دعا مانگی۔۔
جاری ہے۔۔۔