Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Episode 25
No Download Link
Rate this Novel
Episode 25
زرقان کی بات سن کے وہاں سب صاحبہ اور راجا کو دیکھنے لگے جب راجا نے کہا۔۔
“ہاں وہ تو ایک اتفاق ہوا تھا۔۔
زرقان نے راجا کا ہاتھ تھامے تھامے ایک طنزیہ مسکراہٹ راجا کی طرف اچھالی اور راجا پہ ٹونٹ کرکے کہا۔۔۔۔
ہمم اتفاق ہی تو ہوا جبھی اپ اج رشتہ لے کےاگئے۔۔
یہ کون ہے؟؟
گلنار بیگم نے بیچ میں مداخلت کی۔۔
یہ۔میرا اکلوتا بیٹا ہے زرقان ۔۔آصفہ نے مسکرا کے کہا
اور بہت جلد میرا ہونے والا داماد۔۔
اگے کی بات ثمرہ نے کہی۔۔
ثمرہ بہن ہم جلدی شادی کرنا چاہتے ہیں اگر اپ لوگوں کی رضامندی ہو تو اس ویک اینڈ پہ نکاح رکھ لیتے ہیں۔۔
نکاح کا سنتے ہی صاحبہ نے اپنی جھکی گردن اٹھا کے راجا کو دیکھا جو اسی کو دیکھ رہا تھا اور زرقان ان دونوں کو رزقان کے اندر لگی آگ سے وہ خود بھی ناواقف تھا وہ تو زرغہ سے محبت کرتا تھا تو پھر صاحبہ کے نکاح کا سن کے اسے برا کیوں لگا۔
صاحبہ نے ثمرہ کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی صاحبہ نے ہلکے سے نفی میں گردن ہلائ جو راجا کیساتھ ساتھ بی جان بھی دیکھ چکی تھی۔۔
دیکھو بیٹا ہمیں راجا بہت پسند آیا ہے مگر نکاح کا اتنا بڑا فیصلہ ہم جھٹ پٹ نہیں لے سکتے اس لیہ اپ ہمیں دو دن کا وقت دے تاکے ہم صاحبہ کی بھی رضامندی جان لے۔۔
بی جان کی بات سن کے گلنار بیگم نے مسکرا کے کہا۔۔
جیسا اپکو ٹھیک لگے۔۔
ائیے کھانا لگ چکا ہے۔۔اپ لوگ ٹیبل پہ اجائے۔۔
راجا نے اٹھ کے ثمرہ سے کہا۔۔
آنٹی واش روم کہاں ہے؟؟
زرقان وہاں سے فورا اٹھا اور ساتھ ساتھ صاحبہ بھی دونوں کو جاتا دیکھ راجا نے بہت مشکل سے اپنے چہرے پہ۔مسکان سجائ۔۔
ثمرہ نے زرغہ سے کہا۔
جاو زرغہ راجا کو واش روم دیکھاو ائئے اپ۔میرے ساتھ آئے ثمرہ گلنار بیگم کو لے کے ڈائنگ ٹیبل کی۔طرف بڑھ گئ۔۔
کمرے میں جاتے ہی زرغہ نے تیزی سے دروازہ بند کیا اور راجا کا کالر پکڑ کر دیوار سے لگایا۔۔
بڑا گھورا جا رہا تھا صاحبہ کو ۔۔
زرغہ نے ہلکا سا شکوہ کیا۔۔
تو تمارے لیے ہی کررہا ہو سب اگر وہاں تمہیں گھورتا تو ہمارا سارا پلین خراب ہوجاتا بیوقوف تم تو جان ہو میری تمہیں پانے کیلیے ہی تو یہ سب کررہا ہو جانمن ورنہ تمہارے اگے صاحبہ کی کوئ اوقات نہیں۔
راجا نے زرغہ کو کمر سے تھام کے کہا ۔۔۔
سچی ؟؟
ہاں میری جان مچی اب تم جلدی سے باہر جاو ورنہ سب کو شک ہوجائے گا۔۔
ہمم میں جاتی ہو تم بھی جلدی آو۔۔
زرغہ کے جاتے ہیں راجا نے ایک لمبی سانس لی اور دھیرے سے قاسم کو سوچوں میں مخاطب کرکے کہا۔۔۔
بیڑا غرق ہو تیرا قاسم اچھا خاصا ٹائم پاس کرکے اسکو چھوڑ دیتا مگر تو نے اسے میرے گلے کا۔ہار بنا دیا پتہ نہیں یہ ہار میں کب اتارونگا۔۔۔
#
کیا ہوا پاپا ماما کہاں ہے؟؟
ازان ڈورتا ہوا ہسپتال پہنچا تھا نسرین بیگم کا اچانک بی پی شوٹ کرگیا تھا۔
بیٹا ابھی تک تو ڈاکٹر ٹریٹمنٹ دے رہے ہیں کوئ جواب نہیں دے رہے۔۔
پاپا اپ فکر نہیں کرے ماما کو کچھ نہیں ہوگا ۔۔
ہمم تم تارا کو اکیلا چھوڑ کے ائے ہو؟؟
جی پاپا۔۔
اپکا فون آتے ہیں میں تیزی سے نکلا تارا کو کریڈت کارڈ دے آیا ہو اس کی ٹینشن نہیں لے اب۔۔
ہممم۔۔
دونوں پل بھر کیلیے خاموش ہوئے جب ڈاکٹرز روم باہر ائے اور کہا۔۔
دیکھے زمان صاحب اپکی مسس اب خطرے سک ہیں مگر دیھان رکھیے گا انہیں کسی قسم۔کا اسٹریس نہ ملے انہیں خوش رکھیے گا اپ لوگ اگلی بار اگر ایسا کچھ ہوا تو انہیں بچانا مشکل ہوجائے گا۔ابھی وہ بیہوش ہے ہوش میں آئے تو اپ لوگ مل سکتے ہیں ۔۔
ڈاکٹرز کے جاتے ہی ازان نے کمرے کا رخ لیا اور شیشے کے اس پار اپنی ماں کے بیہوش وجود کو دیکھنے لگا۔۔
#
صاحبہ کمرے میں گم سم سے بیٹھی تھی جب دروازے پہ دستک ہوئ اور اجازت ملتے ہی زرقان اندر داخل ہوا صاحبہ کو کافی۔حیرانی ہوئ کیونکہ زرقان کبھی ناکک کرکے نہیں آتا تھا۔۔
زرقان سینے پہ ہاتھ باندھ کے صاحبہ کے سامنے کھڑا ہوا کہنے لگا۔۔
تمہاری زندگی میں اچانک تبدیلی کی وجہ راجا ہی ہے نہ؟؟
میں وہ ہی ہو زرقان تمہارے دیکھنے کا انداز بدلہ ہے۔۔
یہ بول کے صاحبہ جانے لگی جب زرقان نے اسکا۔ہاتھ پکڑ کے کھینچا صاحبہ اس کے سینے سے لگتے لگتے بچی۔۔
راجا وہی ہے نہ جس سے تم فون پہ بات کرتی ہو ؟؟
راجا کو پہلے سے جانتی ہو نہ تم اج پہلی بار تو نہیں ملی تم اس سے؟؟
چھوڑو مجھے زرقان یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے تم۔ہو کون مجھ سے ایسے سوال کرنے والے میں نے تم۔سے کوئ سوال کیا تھا جب تم۔نے زرغہ کا انتخاب کیا تھا آئندہ میری زندگی میں مداخلت نہیں کرنا زرقان اپنی لائف اور اپنی ہونے والی وائف پہ فوکس کرو۔۔۔
صاحبہ بول کے چپ ہوئ زرقان اسے غور غور سے دیکھنے لگا اس کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے وہ۔جانے کیلیے پلٹا اور رک کے کہا۔۔
“تم نے صحیح کہا تھا صاحبہ اب ہمارے درمیان ایسا کوئ رشتہ نہیں کے ہم اب ایک دوسرے سے سوال۔جواب کرے۔۔
یہ بول کے زرقان کمرے سے نکل گیا۔تھوڑی دیر بعد ماسی کے ہاتھوں بی جان نے صاحبہ کو بلوایا۔۔۔
بئ جان کے بلانے پہ صاحبہ دائ جان کے کمرے میں پہنچی تو وہاں سب موجود تھے سوائے زرقان اور زرغہ کے۔۔
جی بئ جان اپنے بلایا؟؟
ہاں بیٹا ہم جاننا چاہتے ہیں اپ اس رشتے پہ راضی ہیں۔۔؟؟
بئ جان کے پوچھنے پہ صاحبہ نے کہا۔۔
بی جان جیسا اپکا حکم بس میری ایک درخواست ہے اپ سے۔۔
ہاں بیٹا بولو۔۔
بی جان نیویارک کی ایک میڈیکل یونی میں میں نے اپلائے کیا اسپیشلائزیشن کیلے اپکو پتہ ہے میں کتنی محنت کی ہے کے میں مشہور پلاسٹک سرجری ڈاکٹر بن سکو ایک۔مہینے بعد مجھے یونی میں کلاسس لینی ہے ۔۔
مگر تم۔نے یہ بات مجھے تو نہیں بتائ اتنی بڑی کب ہوئ تم صاحبہ ثمرہ اچانک درمیان میں بول پڑی۔۔
میں واقف تھا ثمرہ صاحبہ کے ہر عمل سے میں نے ہی۔اسکی مدد کی ہے خرم صاحب کی آواز پہ ثمرہ خاموش ہوگئ۔۔
بی جان پھر بولی تو تم۔کیا چاہتی ہو صاحبہ۔۔
بی جان ابھی میں صرف اپنے خواب پہ فوکس کرنا چاہتی ہوبھلے اپ منگنی کردے میری مگر نکاح نہیں۔۔
ٹھیک ہے صاحبہ تم اپنے کمرے میں جاو اور آصفہ تم گلنار کو کال کرکے کہہ دو ٹھیک ایک۔مہینے بعد زرغہ کی بارات والے دن ہم صاحبہ کی بھی منگنی کرینگے۔۔
صاحبہ کے جانے کے بعد ثمرہ نے خرم صاحب سے کہا۔۔
غلطی سے بھی اگر نیویارک میں صاحبہ اپنے باپ سے ملی خرم بھائ تو میں اپکو کبھی معاف نہیں کرونگی۔۔
یہ بول کے ثمرہ کمرے سے چلی گئ اور پیچھے سب کو ساکن کرگئ۔۔۔۔
ط :
#
آصفہ بیگم نے کال کرکے گلنار بیگم کو اپنے فیصلہ سے آگاہ کیا اور انہوں نے راجا کو راجا نے سنتے ہی صاحبہ کو کال کی جو فورا اٹھالی گئ۔۔
چاہ کیا رہی ہو صاحبہ میں نے تم سے کہا تھا نہ کے شادی کرلو مجھ سے میں خود تمہارے سارےخواب پورے کروانگا تو اب کیا مسئلہ ہے یار۔۔
میر اکوئ مسئلہ نہیں ہے راجا میں کسی رشتے میں بندھ کے نیویارک جانا نہیں چاہتی پلیز مجھے فورس مت کرے ۔۔
اگر اپ۔نہیں رک سکتے میرےخوابوں کے پورے ہونے تک بیشک اپنا راستہ بدل لے۔۔
یہ کہہ کے صاحبہ نے کال کٹ کردی اورادھر راجاکا دل کیا کے اپنا سر دیوار پہ مار دے۔۔
جاری ہے۔۔
