84.5K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18 Part 2

پچھلے آدھے گھنٹے سے سارے ڈاکٹرز تارا کے روم میں تھے اذان بے چینی سے ہسپتال کے کوریڈور کے چکر کاٹ رہا تھا جب سامنے سے اسے زمان صاحب اتے دیکھائ دیے۔۔
زمان صاحب کو دیکھتے ہی اذان اپنا اپ کھو بیٹھا اور زمان صاحب کے گلے لگ کے روپڑا۔۔
زمان صاحب کے پوچھنے پہ اذان نے سارا قصہ انہیں بتایا۔۔
اب دونوں ہی بیچینی سے ڈاکٹرز کے باہر آنے کا ویٹ کررہے تھے ۔
تھوڑی دیر بعد ڈاکٹرز باہر آئے مگر زمان صاحب کو دیکھ کے صرف اتنا کہا۔۔
زمان صاحب صرف اپکی وجہ سے ہم۔نے پولیس کو انفارم نہیں کیا ورنہ یہ سیدھا سیدھا پولیس کیس تھا بہت بری طریقے سے اس لڑکی پہ تشدد ہوا ہے مجھے لیڈی ڈاکٹر نے بتایا ہے کے اسکے جسم کے کہئ نازک حصوں پہ بیلٹ کا بقل گھس چکا ہے۔۔دیکھے زمان صاحب اس لڑکی کی کنڈیشن ٹھیک نہیں اپ بیشک انہیں گھر لیجائے مگر اسے آرام کی اور دیکھ بھال کی بہت ضرورت ہے۔۔۔
ڈاکٹرز اپنی بات کہہ کے جاچکے تھے۔دونوں نفوس ہی خاموش تھے کسی میں بھی اندر جانے کی ہمت نہیں تھی مگر کسی کو تو ہمت دیکھانی تھی وہ ہمت صرف زمان صاحب نے دیکھائ۔۔
دس منٹ بعد زمان صاحب تارا کے کمرے سے باہر نکلے اور اذان سے صرف اتنا کہا۔
۔چاہو تو فریش ہوجاو اگلے پانچ منٹ میں تمہارا اور تارا کا نکاح ہے اسی کمرے میں۔۔
زمان صاحب اپنی بات بول کے کسی کو کال ملانے لگے اور اور ادھر اذان کو اس راستے کا سفر سمجھ ہی نہیں آیا جس پہ۔چند سیکنڈ پہلے اس کے باپ نے اسے چلنے کو کہا۔۔

#

کیا سوچا ہے پھر تم نے صاحبہ پچھلے آدھے گھنٹے سے تم نے میری بات کو ہوا میں لٹکا کے رکھا ہے۔۔
راجا میں ایسے کیسے مطلب۔۔؟؟
لفٹ والے واقعے کے بعد راجا اور صاحبہ کی فون پہ بات ہونے لگی تھی جہاں صاحبہ راجا کی چاہت سے واقف تھی وہی اب وہ زرقان کی طرف جانے والے راستے سے ہٹ چکی تھی زرقان اب اسکی بہن کا نصیب تھا اسے اپنے بارے میں بھی سوچنا تھا اور راجا سے بہتر آپشن صاحبہ کو کوئ نہیں لگا مگر فلحال وہ اپنا خواب پورا کرنا چاہتی تھی اسکن اسپیشلسٹ بنے کا خواب اور اسئ خواب کو پورا کرنے وہ اگلے پانچ مہینے کے اندر نیویارک کیلیے نکلنے والی تھی اور اس بات کا ذکر اس نے ابھی تک کسی سے نہیں کیا تھا۔۔
راجا میرا ایک خواب ہے میں اپکو بتا چکی ہو پلیز سمجھنے کی۔کوشش کرے صاحبہ نے بہت مان سے راجا کے اگے ہلکی سی ضد کری۔۔
صاحبہ کی ایسی ضد پہ راجا کے چہرے پہ۔دلفریب مسکراہٹ ائ اور اس نے کہا۔۔
ارے میری جان تو روکا کس نے ہے اپکو اپنی خواہش پوری کرنے سے میری بن کے چلنا نیویارک وہاں تم اپنی خوہش آرام سے پوری کرنا مسسز راجا بن کے اور میں اپنی خواہش پوری کرونگا تمہارا راجا بن کے۔
اپکی۔کی۔کونسی خواہش ہے صاحبہ نے ناسمجھی کے عالم میں راجا سے پوچھا۔۔۔
وہی تمہیں جی بھر کے پیار کرنے کی اتنا پیار کرنے کی کے تم خود میری باہنوں میں ہی مجھ سے پناہ ڈھونڈو۔۔
راجا کا بولنا تھا کے فورا صاحبہ نے فون بند کردیا اور ادھر راجا قہقہ لگائے بنا نہ رہ سکا اور فون رکھ کے راجا نیچے گلنار بیگم کے پاس آیا۔۔
امی یہ تارا ٹوور سے واپس کب آئے گی؟؟
راجا کے سوال پہ پل بھر کیلیے گلنار بیگم کے ہاتھ میں چائے کی پیالی پل بھر کی لرزی مگر گلنار بیگم نے اسے کمال مہارت سے قابو کیا اور کہا۔۔
ارے بیٹا کل تو گئ ہے اجائے گی ایک ہفتے تک ۔۔
گلنار بیگم کی بات پہ راجا نے صرف ہاں میں گردن ہلائ مگر گلنار بیگم جوکل رات سے عدیل کا نمبر ٹرائ کررہی تھی مگر ہر بار نمبر بند آرہا تھا اج گلنار بیگم نے سوچ لیا تھا کے کل بابر(عدیل کے پاپا) کے پاس جائینگی۔۔

#

دونوں نفوس بلکل خاموش تھے جبکے تارا اپنے سر پہ موجود لال رنگ کے ڈوپٹے کو گھور رہی تھی چند منٹ پہلے وہ کسی کی زندگی میں شامل ہوگئ یہ جانے بنا کے سامنے والے کی مرضی کیا ہے زمان صاحب نے جاتے ہوئے اذان سے کہا تھا کے وہ تارا کو اپنے سی ویو والے فلیٹ پہ لے کر جائے اور فلحال یہ بات نسرین بیگم سے چھپا کے رکھے۔۔۔
اذان جو قدرت کے اس فیصلے پہ جہاں خوش تھا وہی اس انجان راستے پہ چلنے کیلیے پریشان بھی کیونکہ یہ وہ تارا نہیں تھی جس سے اس سے محبت ہوئ تھی ۔اور اب جو تارا اس کے سامنے تھی اسکی روح تک کو اسکی خود کی ماں نے کسی گدھ نما انسان کی خوراک کے طور پہ اس کے اگے پھینک دیا تھا۔۔
بلا شبہ تارا کی آنکھوں سے آنسو بہہ کے تکیے میں جزب ہونے لگے اذان جو دم سادھے تارا کی ایک ایک۔کاروائ دیکھ رہا تھا اپنی جگہ سے اٹھ کے تارا کے سرہانے اکے اسکے آنسو اپنی انگلیوں کی پوروں سے چنے اور کہا۔۔۔
مسسز تارا اج کے بعد یہ آنسو تمہاری آنکھوں کی زینت کبھی نہیں بنے گے یہ تمہارے شوہر کا وعدہ ہے۔۔
جاری۔ہے۔۔