Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Last Episode Part 3
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode Part 3
(دو مہینے بعد)
کیا سوچ رہے ہو زرقان؟؟
صاحبہ کمرے میں کافی لے کے آئ تو زرقان کو سوچوں میں ڈوبا پایا۔۔۔
ابھی جو آیا تھا وہ راجا تھا یقین مانو صاحبہ میں نے اسکا چہرہ دیکھ کے بہت مشکل سے اپنی چیخ روکی تمہیں پتہ اس کے سرکل میں اور بہت سے ایسے لوگ جو مجھے اور راجا دونوں کو جانتے ہیں راجا کو حسن کا شہکار کہتے تھے۔۔
اور اج اسکا چہرہ کوئ ایک بار دیکھ لے تو ڈر کے اپنی آنکھیں بند کرلے گا ۔۔
زرقان ہم انسان جس چیز پہ غرور کرکے سامنے والے کو دھوکا دیتےہیں انہیں ےتکلیف دیتے ہیں اللہ ہم سے وہی چیز لے لیتا ہے۔۔۔
زرغہ نے تمہیں دھوکا دیا تمہاری محبت کا مذاق بنایا تمہیں استعمال کیا تو دیکھو اسے اسی کے ہاتھوں رسوائ ملی ۔۔
راجا نے زرغہ کا استعمال کرکے جھوٹ بول کے مجھے حاصل کرنا چاہا تو دیکھو اج میں تمہاری بیوی ہو۔۔۔۔۔
ہممم یہ تو ہے۔۔۔۔
اچھا ہوا زرقان زرغہ کو معافی مل گئ سب کچھ ٹھیک ہوگیا سوائے۔۔۔
سوائے کیا؟؟
زرقان نے چانجتی نظروں سےصاحبہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
ماما اور غفران کے درمیان کچھ ٹھیک نہیں اج بھی ماما نے بھائ کو قبول نہیں کیا اور دوسری زارا کی طرف سے بھی فکرمند ہو ہو۔۔۔
کیوں زارا کی طرف سے کیوں۔۔؟؟۔
بھائ سے محبت کرتی یے وہ مگر بھائ ہے اسے کچھ امپورٹینس نہیں دیتے ہمیشہ اسے بیوقوف کہتے رہتے ہیں یہ پھر دھتکارتے رہتے ہیں۔۔
اوہ ہو تو لے آتے ہیں سالے صاحب کو لائن پہ۔۔۔
وہ کیسے؟؟
بس دیکھتی جاو اپنے ذہین شوہر کی زہانت اگر تمہارے بھائ سے اگلوایا نہیں نہ کے وہ بھی زارا سے محبت کرتا پے تو زرقان نام نہیں میرا۔۔
وہ سب تو ٹھیک ہے مگر یہ زہانت وہ بھی تم میں لاحول ولا قوت یہ کہہ کے زارا اٹھ کے بھاگنے لگی جب زرقان نے اسے پکڑ کے بیڈ پہ لیٹا کے اسکے ہونٹوں کو نشانہ بنایا اور کہا۔۔
ابھی بتاو میں کتنا ذہین ہو؟؟
زرقان کے اسکے لبوں آزاد کرتے ہوئے کہا۔۔
زرقان میرا کل پیپر ہے ہٹو اوپر سے یار
۔اوہ۔ہاں جاو کیا یاد کروگی کیسا سخی شوہر تمہارا۔
۔
بیڈ پہ دلہن بنی بیٹھی وہ۔کافی ڈری ہوئ تھی اپنی ضد تو اس نے پوری کرلی تھی مگر اب اگے کیا ہوگا یہ سب سوچ سوچ کے امامہ کی حالت بری ہورہی تھی دو ہفتہ پہلے کا سین اسکی نگاہوں میں گھومنے لگا۔جب سب گھر والوں کے پریشر میں اکے راجا نے امامہ سے شادی کیلیے ہاں کی تھی تارا نے راجا کو اپنی قسم دی تھی کے اگر امامہ کے رشتے کو ٹھکرایا تو وہ۔کبھی اپنی شکل نہیں دیکھائے گی۔۔۔
راجا ایک مہینے بعد نیویارک سے واپس آیا تھا قاسم کسی سائے کی طرح اس کے ساتھ رہا تھا مگر راجا اب وہ راجا نہیں رہا تھا بات بات پہ۔چڑنا غصہ میں کمرے کا ستیاناس کردینا باہر نکلنا یہ سب راجا کرتا تھا مستی۔مزاق سب بند ہروقت بس اپنا چہرہ دیکھ کے غصہ کرتا۔ بہت مشکل سے ازان اسے ہسپتال لےکر جاتا تھا گلنار بیگم بھی راجا کو دیکھ کے اب دکھی تھی غمزدہ تھی کچھ ایسا ہی حال امامہ کا تھا راجا اسی کے ہسپتال میں اپنے چہرے کی ٹریمنٹ کیلیے آتا تھا راجا کا دل چاہتا تھا وہ کہی بھاگ جایے چھپ جائے یہ اپنے اپ کو مار لے جب لوگ اسکے چہرے کو دیکھ کے ڈر جاتے تھے یہ افسوس کرتے تھے۔۔
راجا نے صاحبہ کے گھر جاکے سب سے معافی مانگی اور زرغہ کا بھی راستہ اس گھر میں کلیئر کرا
امامہ روز راجا کے گھر جاکے اسے جی بھر کے دیکھتی تھی راجا جانتا تھا امامہ کا روز روز کا آنا مگر فلحال وہ۔خاموش تھا ۔۔امامہ کی ہی خواہش پہ تارا نے گلنار بیگم سے امامہ کی امی سے راجا کیلیے امامہ کا رشتہ مانگا۔۔
قاسم اور زرغہ کے سمجھانے پہ تارا کی قسم دینے پہ وہ مان گیا تھا مگر اس نے سوچ لیا تھا وہ امامہ کیساتھ کیا کرے گا۔۔
کمرے کا دروازہ کھلا راجا کمرے میں ایا گھڑی اتار کے ڈریسنگ پہ رکھی وائٹ کاٹن کے سوٹ میں راجا کی چھاپ اج بھی بادشاہوں کی جیسی تھی بس اسکا آدھا چہرہ اسکی ساری شخصیت کو تہس نہس کردیتا تھا۔
راجا اپنی قمیض اتار کے امامہ کے روبرو جاکے بیٹھا جھٹکے سے اسکا ڈوپٹہ اتارا امامہ جانتی تھی اسکے اگے کا سفر اسان نہیں ہوگا مگر اس نے ہمت نہیں ہارنی تھی جو راستہ اس نے چنا تھا وہ آسان نہیں تھا۔۔۔
راجا نے جیسی ہی ڈوپٹہ اتارا امامہ نے فورا بیڈ شیٹ کو اپنی مٹھیوں میں دبایا راجا امامہ کی یہ حرکت دیکھ چکا تھا ۔۔
راجا اسکے اور قریب ایا اتنا کے اسکی گرم سانسیں امامہ کا چہرہ چھو رہی تھی۔
دو منٹ راجا نے اسے دیکھا اور پھر اسکی بال اپنی مٹھی میں جکر لیے اور غصہ میں کہا۔۔
بہت شوق ہے نہ تمہیں میری بیوی بننے کا اج میں تمہارا وہ حال۔کرونگا کے بہت جلد تمہارے سر سے محبت کا بھوت اترجائے گا۔۔
امامہ نے اپنا ہاتھ راجا کے مٹھی میں جکرے اپنے بال والے ہاتھ پہ رکھا اور راجا کو مسکراکے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“چاہے جتنا کرلے ستم صنم ۔
ہر ستم تیرا ہنس کے سہینگے ہم۔۔
پھر بھی یہ پیار نہ ہوگا کم۔۔
صنم تیری قسم۔”
امامہ کا بولنا تھا کے راجا نے اس کے بال چھوڑ دیے اور رک کے اسکے منہ پہ ٹھپڑ مارا تھپڑ پڑتے ہی اسکا سر بیڈ کے کونے سے لگا خون کی چند بوندیں امامہ کے سر پہ چمکنے لگی تکلیف سے امامہ کی آنکھوں میں آنسو چمکے جیسے اسنے فورا اپنے سر پہ ہاتھ رکھا۔۔
راجا نے اسکا ہاتھ پکڑ کے اسے بیڈ سے نیچے دھکا دیا اور کہا۔
یہاں زمین پہ سو یہ ہی تمہاری اوقات ہے بہت جلد تمہیں اپنا فیصلے پہ پچھتانے نہ پڑے تو میرا نام راجا نہیں۔۔
کرکے دیکھ لے کوشش ایک دن خودی مجھ سے اپنی محبت کا اظہار کرینگے میں پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں۔
امامہ نے راجا کے روبرو اکے آنکھوں میں آنکھیں ڈال۔کے کہا۔۔
دومنٹ کیلیے امامہ کا حوصلہ دیکھ کے راجا سہم گیا اسکی آنکھوں میں ویسا ہی جنون دیکھا جو کچھ مہینوں پہلے اسکی انکھوں میں تھا۔۔
چلو ہٹو سامنے سے راجا نے اسے ایک بار پھر دھتکارا اور بیڈ پہ جاکے لیٹ گیا ۔۔
امامہ نے ڈریسنگ پہ اکے اپنی جیولری اتاری اور کپڑے چینج کرکے بیڈ پہ جیسی ہی اکے لیٹنے لگی راجا نے کہا۔۔۔
یہاں نہیں صوفے پہ جاکے سو۔۔۔
کیوں اپنے اپ پہ بھروسہ نہیں ہے راجا جی۔۔۔۔۔
امامہ کو بولنا تھا کے راجا نے غصہ میں اپنی مٹھیاں بھینچی اور کروٹ لے کر لیٹ گیا امامہ نے اپنی مسکراہٹ دبائ اور سونے کیلیے لیٹ گئ۔۔
صبح کی کرنیں راجا کے چہرے پہ پڑی تو اس نے فورا کروٹ بدلی مگر امامہ کو دیکھ کے ٹھٹکا سوتے ہوئے وہ بہت ہی معصوم لگ رہی تھی بنا ڈوپٹہ کے اسکے جسم کے خدوخال راجا کو نظریں چرانے پہ مجبور کرگئے اچانک راجا کی نظر اسکے سر کی چوٹ پہ گئ بے خودی میں اسکا ہاتھ اس چوٹ پہ گیا ۔۔
راجا نے دوپل کیلیے امامہ کی چوٹ کو دیکھا اور اٹھ کے وضو کرنے چلا گیا ۔۔
ایکسیڈنٹ کے بعد یہ ایک بہت بڑی تبدیلی راجا میں آئ تھی کے وہ۔پانچ وقت کی نماز پڑھنے لگا تھا ۔
راجا نے نماز پڑھ کے سلام۔پھیرا تو امامہ کو خود کو تکتا پایا۔۔
راجا نے ایک غصیلی نظر اس پہ ڈالی اور کہا۔۔
افسوس کررہی ہو اپنے فیصلہ پہ میری شکل دیکھ کے۔۔
راجا کا کہنا تھا کے امامہ بیڈ سے اتر کے اس تک آئ راجا کے بے حد قریب بیٹھ کے اس نے راجا کے جلے ہوئے چہرے کی طرف جھک کے اپنے لب رکھ دیے راجا امامہ کی اس حرکت پہ ساکن رہ گیا امامہ اس سے الگ ہوئ اور کہا۔
کھرچ کے نکال دے یہ بات اپنے دماغ سے کے میں ے اپ پہ ترس کھایا ہے محبت کرتی ہو اپ۔سے اپکا چہرہ شناخت نہیں اپکا دل شناخت ہے میری اپکا ساتھ شناخت ہے میری۔۔
یہ کہہ کے امامہ راجا کو لاجواب کرگئ۔۔۔
راجا نے کوئ کسر نہیں چھوڑی امامہ کو تنگ کرنے کی دن رات اسے ستاتا الٹے سیدھی باتیں بولتا وہ مسکرا کے ٹال دیتی کئ بار راجا کی باتوں سے اسکی آنکھیں بھیگی مگر اس نے اپنے آنسو کو بہنے سے باز رکھا راجا کے چہرے پہ داوئ لگانا اس کا خیال رکھنا اسکا ہر کام وقت پہ کرنا امامہ نہیں بھولتی راجا اب اسے تنگ کرنا کم کرنے لگا تھا مگر طنز کے تیر چلانا نہیں بھولتا۔۔
ایسی ہی ایک بار اسکی چند دوستیں اس سے ملنے آئ امامہ نے بڑے غرور سے راجا کو ان سے ملوایا امامہ کی دوستیں بھی امامہ کی طرح تھی راجا کے چہرے سے نہ۔وہ ڈری نہ سہمی پل بھر میں وہ راجا بھائ راجا بھائ کرنے لگی راجا ڈرنے لگا تھا اب کے کہی اسے امامہ سے محبت نہ ہوجائے اسکی محبت کے اگے اسکی۔انا اسکا غصہ دم نہ توڑ دے ۔۔
غفران ابھی ابھی آفس سے اکے بیٹھا تھا جب کسی کے ہنسنے کی آواز پہ اس نے اپنی بند آنکھیں کھولی تو حیران رہ گیا زارا صاحبہ کیساتھ ہنستے ہوئےاندر ارہی تھی ۔۔
ہمیشہ دو چٹیاں بنائے بھدا سا چشمہ لگائے لڑکوں والے کپڑے پہنے والی زارا اج بہت الگ لگ رہی تھی چٹیوں میں قید بال اب ازاد کمر پہ مستیاں کررہے تھے چشمہ کا تو چہرے پہ نام ونشان نہیں تھا اوپر سے لائٹ پنک۔کلر کی گہیر دار فراک اور چوڑی دار پاجامے نے تو اسکی چھاپ ہی بدل دی تھی۔۔۔۔
ارے بھائ اپ اتنی جلدی اگئے اج افس سے صاحبہ کی آواز نے غفران کا سکتہ توڑا ۔۔
ہاں اج ایسی تھکن ہورہی تھی بات وہ صاحبہ سے کررہا تھامگر نظریں اسکی زارا پہ تھی جو صاحبہ اور زرقان کے کہنے پہ اسے بلکل اگنور کرکے اوپر جارہی تھی۔۔
اچھی لگ رہی ہے نہ ؟؟
ہاں بہت ۔۔
میرا مطلب کون کون غفران جو بے دیھانی میں بول گیا تھا ایک دم بوکھلایا۔۔
ارے زارا پتہ ہے بھائ اج اسے زرقان کے ایک دوست کی امی دیکھنے ارہی ہیں اپنے بیٹے کیلیے ہائے بھائ اتنا اچھے ہیں سجاد بھائ جوڑی کمال کی لگے گی دونوں کی ۔۔
ہاں بیٹا مجھے بھی سجاد پسند ایا زارا کیلیے سرور صاحب نے انہیں جوائن کرتے ہوئے کہا۔۔
غفران کا وہاں دم گھٹنے لگا وہ وہاں سے اپنے کمرے میں اگیا اور پیچھے وہ دونوں باپ بیٹی مسکرانے لگے۔۔۔
لائٹ اجائے گی ابھی ماما اپ ارام کرے میں نے چیک کروایا ہے بس تھوڑی دیر اپ ارام کرے میں زرا راجا کو دیکھو اندھیرے میں بیٹھے ہیں۔۔
امامہ کمرے میں ائ تو ایک دم لائٹ اگئ ۔۔
افف شکر ہے وہ بے دیھانی میں بولتے ہوئے پلٹی تو راجا کو خود کو تکتا پایا راجا نے اسے غصہ سے اپنے پاس بلایا۔۔
ادھر او امامہ۔۔
ادھر او راجا کی غصیلی آواز پہ وہ دھیمی سے چلتی ہوئ اسکے پاس آئ راجا نے اس کی کلائ پکڑ کے اسے اپنے سامنے بیٹھایا اور اسکے گلے سے ڈوپٹہ اتارا ۔۔
سامنے بیٹھا نفوس اپنے ڈوپٹہ کو راجا کے ہاتھ میں بہت بے بسی سے دیکھ رہی تھی مگر اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کے راجا کو روک سکے۔۔
تھوڑا اور قریب او میرے۔۔
راجا کی اواز ایک بار پھر کمرے میں گونجی ۔
وہ کھسک کے تھوڑا اور راجا کے قریب ہوئ۔۔
راجا نے اسکی گدی پہ ہاتھ رکھ کے اسے اپنے چہرے کے اور قریب لایا اور کہا۔۔
تمہیں ڈر نہیں لگتا مجھ سے؟؟۔
راجا کے سوال پہ اس نے نگاہ اٹھاکے راجا کو دیکھا اور بلا خوف اسکی آنکھوں میں دیکھ کے کہا۔۔
نہیں اپنے اپ سے کون ڈرتا ہے شوہر ہیں اپ میرے محبت تھی پہلے اب اپ سے عشق ہونے لگا ہے اور جو ڈرتے ہیں وہ عشق نہیں کرتے۔۔
راجا نے اس جھلی کو دیکھا جو راجا کی اتنی دھتکار پہ بھی اس سے کھلم کھلا عشق کا اظہار کررہی تھی راجا نے اسکے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں تھاما اور بلا شبہ اسکے لبوں پہ جھک گیا کبھی گردن پہ کبھی لبوں کو کبھی اسکی آنکھوں کو چومتا خاموش بت کی طرح وہ اس کے سامنے بیٹھی تھی آنکھیں بند کرکے راجا نے اسکی گردن پہ۔اپنے لب رکھے اسکے کندھے کو چوما ایسا کرتے ہوئے راجا کی۔آنکھوں سے آنسو جاری تھے وہ جانتی تھی راجا کے رونے کی وجہ مگر بولی کچھ نہیں راجا اسے لیٹا کے دوبارہ اس کے لبوں پہ۔جھکا۔۔۔
اپنے اور اسکے درمیان کے سارے فاصلہ۔راجا مٹاتا گیا امامہ نے بھی اج اپنی محبت پالی تھی راجا نے اسے بے پناہ پیار کیا اور دھیرے سے چہرہ اٹھا کے کہا۔۔
مجھے تھامنے کیلیے شکریہ امامہ ساری زندگی ایسی ہی محبت کروگی نہ مجھے چھوڑ کے تو نہیں جاوگی۔۔
کبھی نہیں میرے راجا جی کبھی نہیں یہ کہے امامہ نے تھوڑی سی گردن اٹھا کے راجا کے چہرے کے زخمی حصہ۔پہ۔اپنے لب رکھے اور شرما گئ۔۔
جاری ہے۔۔۔
