84.5K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22 Part 2

یہ کیا بول رہی ہیں اپ ماما ؟؟
ایسے کیسے اپنے جانے دیا تارا کو اور وہ لڑکا کون تھا ؟؟
مجھے کچھ نہیں پتہ بیٹا میری تو سمجھ میں ہی نہیں ارہا تھا کے ہوا کیا۔۔
افف اب میں کہاں ڈھونڈو تارا کو پتہ نہیں کس نے اسے اپنے جال میں اس حد تک پھنسا لیا کے وہ گھر چھوڑنے تک۔پہ راضی ہوگئ مجھے اپنے بھائ تک کو نہیں بتائ اپنی۔پسند۔۔۔
میں ابھی اسی وقت اسے ڈھونڈ نکالونگا ۔۔
راجا یہ بول کے غصہ میں گھر سے باہر جانے لگا جب گلنار بیگم نے اسکا۔ہاتھ پکڑ کے روکا اور کہا۔۔
نہیں راجا وہ بہت پراعتماد انداز میں گئ ہے ابھی فلحال اسے اسکے حال پہ چھوڑ دو دیکھنا دو دن میں ہی عشق کا جب بھوت اترے گا ڈور کے ائے گی واپس ۔..
گلنار بیگم نے ترچھی نگاہوں سے راجا کے چہرے کے اتار چڑھاو دیکھے اور چپ ہوگئ۔۔

#

تارا ابھی ہمیں نکلنا ہیں تھوڑی دیر میں؟؟ازان نے تارا کے ہاتھ کی بینڈیج کرتے ہوئے کہا۔۔
کہاں ؟؟
تارا نے سوالایاں نظروں سے ازان کو دیکھ کے کہا۔۔
بیرونی زخم تارا کے کافی حد تک صحیح ہوچکے تھے مگر اندرونی طور پہ وہ ابھی کمزور تھی اور اذان چاہتا تھا جب تک وہ نسرین بیگم کو فیس کرنے کے قابل نہ ہوجائے جب تک فلحال وہ اسی فلیٹ میں رہے ۔۔
ہممم وہ تو ہم جب اس فلیٹ سے نکلے گے تو ڈیسائیڈ کرلینگے کے راستہ کونسا چننا ہے..
مگر راستے چننے کا فیصلہ منزل سوچ کر ہی کرتے ہیں بنا مقصد راستوں پہ چلا نہیں جاتا۔۔
تارا کی بات پہ ازان دل سے مسکرایا اور تارا کا بینڈیج ہوا ہاتھ پکڑ کے غور غور سے تارا کو دیکھنے لگا جزبات تھے کے سر چڑھ کے بولنے لگے محبت محرم روپ میں جو تھی ازان دھیرے سے اسکے لبوں پہ جھکنے لگا جب تارا نے اسکے سینے پہ ہاتھ رکھ کے روکا ۔۔
ازان نے مسکرا کے اپنی آنکھیں بند کی اور کھڑے ہوکے کہا۔۔
اجاو نیچے میں ویٹ کررہا ہو۔۔
ازان کے نیچے جاتے ہی تارا کو اپنی غلطی کا احساس ہوا ازان اسکا شوہر ہی نہیں اسکی پہلی نظر کی۔محبت بھی تھا کیا تھا اگر وہ اپنا چھوٹا سا اپنا حق وصول کررہا تھا ۔۔
تارا یہ سوچتے ہوئے نیچے اتر گئ۔
رات بھر ان دونوں نے کافی انجوائے کرا تارا کو ازان کے رویے سے بلکل بھی ایسا نہیں لگا کے وہ اس سے ناراض ہے اور اسی وجہ سے تارا بھی پرسکون تھی۔۔۔۔

#

چاچو میں نے کچھ نہیں کیا انکے سر میں درد ہورہا تھا میں نے کھڑکی۔کھول دی تو سارے پیپر اڑ گئے میں پیپر سمیٹنے لگی تو ان پہ کافی گر گئ میں نے کافی صاف کرنے کیلیے کپڑا ڈھونڈا تو ایک سفید رنگ کا نظر آیا اب مجھے کیا پتہ تھا وہ انکا رومال تھا۔۔۔
زارا نے جیسی ہی اپنی بے گناہی ثابت کری غفران کا غصہ ساتوین آسمان کو چھونے۔لگا وہ غصہ میں زارا کی طرف بڑھنے لگا تو وہ سرور صاحب کے پیچجے چھپ گئ۔
اور ادھر سرور صاحب کا زارا کی بات سن کے دنیا کا سب سے مشکل کام اپنی ہنسی روکنا لگا۔۔
ڈیڈ اس ڈبل بیٹری سنگل پاور سے خالی اتنا پوچھے کے کس کتاب میں کونسی ڈاکٹری تحقیق نے یہ کہا ہے کے جب سر میں کسی کے درد ہورہا ہو تو سر دردکی گولی دینے کے بجائے سخت سردی میں 21 فلور کے روم۔کی۔کھڑکی کھول دو۔۔
ڈیڈ ابھی اسی وقت اس بیوقوف لڑکی کو یہان سے لے جائے ورنہ میں اسے کھڑکی سے باہر پھینک دونگا۔۔
تو پھر اب بھی گرینگے ہوا اتنی چل رہی ہے زارا نے اپنا چشمہ صحیح کرتے ہوئے کہا زارا کی بات پہ سرور نے رخ موڑ لیا اپنی ہنسی روکنے کے لیے اور غفران منہ کھولے سکتے کی حالت میں زارا کو دیکھنے لگا۔۔
زارا ابھی اسی وقت یہاں سے چلی جاو غفران اتنی زور سے چیخا کے سرور صاحب تیزی سے زارا کو غفران کے کمرے سے باہر لے آئے اور کہا۔
جاو بیٹا اپ ابھی گھر جاو کل۔اجانا ابھی غفران بہت غصے میں ہے ٹھیک ہے۔۔۔سرور صاحب نے زارا کو اپنے ساتھ لگا کے ڈرائیور کو ہدایت دی کے وہ زارا کو گھر چھوڑ دے۔۔
زارا سرور صاحب کے بہت قریبی دوست کی بیٹی تھی 5 سال پہلے ایک۔کار ایکسیڈنٹ میں زارا کے والدین کی ڈیٹھ ہوگئ اور وہ جب سے سرور صاحب کے ساتھ رہتی تھی ایک بیٹی کی حیثیت سے ۔سرور صاحب نے نیویارک جیسے شہر میں اسکی حفاظت کیسی عقاب کی مانند کی تھی کیونکہ زارا کی۔معصومیت بے مول تھی۔۔

#

ایک عجیب سے سوگواری راجا پہ سوار تھی ناشتہ کی ٹیبل وہ مسلسل سوچوں کے بھنور میں تھا اس کی معصوم بہن ایسا بھی کرسکتی تھی ایسا اس نے سوچا نہیں تھا مگر اب وہ بنا تارا کے صاحبہ کے گھر رشتہ کیسے لے کے جائے گا۔
اس کے دماغ میں کچھ آتے ہی اس نے ناشتہ کرتی گلنار بیگم سے کہا۔۔۔
موم اج اپکو ایک کام کرنا ہے؟؟
کیا بیٹا بولو۔
اب ابھی نسرین آنٹی کا کال۔کرکے انکی دوست آصفہ آنٹی کا نمبر مانگے اور انکو کال کرکے کہے کے ہم کل انکے گھر رشتہ لارہے ہیں انکی بھتیجی صاحبہ کا جسکو اپنے نسرین آنٹی کی پارٹی میں پسند کیا تھا۔۔
راجا کی بات سے گلنار بیگم کا چائے پیتا ہاتھ تھاما اور انہوں نے راجا سے کہا۔۔
مگر بیٹا تم تو کسی او۔۔۔ابھی گلنار بیگم کی بات پوری نہیں ہوئ کے راجا بول پڑا۔۔
موم اپ ماں بننے کی کوشش نہ کرے تو اپ کے لیے اچھا ہوگا میں نے جیسا اپکو بولا ہے اپ ویسے ہی کرے اور یاد رکھیے گا اس کام میں کوئ بھی رکاوٹ ہوئ تو اپ اچھے سے جانتی ہیں مجھ میں لحاظ نہیں۔۔
راجا کی دھمکی سے گلنار بیگم اچھی خاصی سمجھ چکی تھی کے معملہ کتنا سنجیدہ ہے۔۔
راجا باہر نکلتے ہوئے صاحبہ کو کال۔کرنا نہیں بھولا۔۔
جاری ہے۔۔۔