84.5K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

افف راجا اپ تھکتے نہیں؟؟
صاحبہ ٹھنڈی سانس بھر کے بیڈ پہ بیٹھی اور ایک کان میں موبائل رکھ کے گردن جھکا کے نیل پینٹ لگانے لگی۔۔
راجا اپنی آفس کی کرسی پہ بیٹھا مسکرایا اور کہا۔۔
نہیں نہ۔۔۔یہ بول کے راجا نے گانا گنگنایا۔۔
“تم سے ملنا باتیں کرنا ۔۔
بڑا اچھا لگتا ہے ۔۔۔””
اچھا جی راجا کے گانے پہ صاحبہ نے صرف اتنا کہا ۔۔
ہاں راجا کی رانی ۔۔
اچھا اپ۔اب کال رکھے میں نیل۔پینٹ لگارہی ہو۔۔۔
ہائے صدقے میری جان میں لگادو۔راجا نے شوخ لہجے میں کہا۔
راجا اب فورا پٹری سے اترجاتے ہیں۔۔
لو میں نے کیا کرا اب۔۔
یہ جان نہ بولا کرے نہ ۔۔
لو جان کو جان نہ بولو تو کیا بولو ۔۔ افف میں کال رکھ رہی۔ہو یہ بول کے صاحبہ نے کال کٹ کردی اور ادھر راجا نے خوشی سے جھومتے ہوئے اپنی آفس کی چیئر پوری گھما لی مگر قاسم کو دیکھ کے راجا کے جہاں لب سکڑے وہی قاسم کا قہقہ گونجا۔۔۔
صاحبہ کے لب اج بہت دلکش مسکراہٹ کا منظر پیش کررہے تھے راجا کی محبت اس پہ سوار ہونے لگی تھی وہ یہ بھی بھول چکی تھی راجا کی صحبت میں کے وہ تو زرقان سے محبت کی دعوادر تھی۔۔۔
نیل پینٹ لگا کے اس نے کمرے میں موجود اسپیکر اون کیا اسپیکر پہ بجتا گانا خود بھی گنگنانے لگی۔۔۔
“سرمئ شاموں سے ملکے
سترنگی سپنوں میں گھل کے
تجھ میں میں رنگ جاو رنگریزہ۔۔
ہولی میں عشق کی کھیلو
دل کی پرواہی جھیلو ۔۔
تجھ پاو خود کھوجاو رنگریزہ۔۔””
اوہ بڑے گانے گائے جا رہے ہیں؟؟
زرقان کی آواز اتے ہی صاحبہ ایک دم چونک کے پلٹی۔۔
کمرے کے بیچو بیچ کھڑا زرقان بہت اشتیاک سے صاحبہ کے چہرے پہ پھیلے سترنگی رنگوں کو گھور رہا تھا بچہ وہ بھی نہیں تھا جو کچھ سمجھ نہیں پاتا۔۔
بڑی خوش ہو مست چڑیل کوئ آگیا کیا زندگی میں۔۔؟
زرقان نے تشویش ظاہر کی۔۔
صاحبہ جو زرقان کو دیکھ کے ڈوپٹہ اوڑھ رہی تھی ایک دم رک کے زرقان کو دیکھا اور کہا۔۔
انسان کی خوشی کسی کے آنے یہ جانے پہ منحصر نہیں ہوتی یہ دل کے جزبے ہوتے ہیں خو خوشی یہ غم کی صورت میں انسان کی زندگی پہ رونما ہوتے ہیں ۔۔
اوہ بڑی فلصفہ جھاڑ رہی ہو۔۔زرقان نے سینے پہ ہاتھ باندھ کے ایک بار پھر صاحبہ پہ ٹونٹ کی ۔۔
صاحبہ نے ایک نظر زرقان کو پھر دیکھا اور کہا۔۔
اور اگر کوئ آ بھی گیا ہے تو تمہیں تو خوش ہونا چاہیے کے میری بیسٹ فرینڈ کی زندگی میں بھی کوئ خوشیوں بھرے زنگ بھرنے آگیا ہے۔۔
اب کی بار زرقان کی باری تھی حیران ہونے کی۔۔
زرقان نے ایک نظر موبائل پہ مصروف صاحبہ کو دیکھا اور اپنی مٹھیاں بھینچ کے وہاں سے چلا گیا۔۔
زرقان کے جاتے ہی صاحبہ جھٹکے سے بیڈ پہ بیٹھ گی ایک دم اس کو اپنے گالوں پہ کچھ محسوس ہوا صاحبہ نے ہاتھ بڑھا کے اپنے گالوں کو چیک کیا اور یہ دیکھ کے حیران رہ گئ وہ اور کچھ نہیں اسکے آنسو تھے مگر صاحبہ کو اپنے آنسو بہنے کی وجہ سمجھ میں نہیں آئ۔۔

#

کمرے میں پہنچ کے زرقان غصہ میں خاماخائ میں اپنی الماری کے کپڑے پھییکنے لگا کبھی بیڈ پہ بیٹھتا کبھی کمرے میں چکر لگاتا اسی دوران زرغہ کمرے میں داخل ہوئ مگر زرقان کے کمرے میں پھیلے کپڑے دیکھ کے چونکی اور زرقان سے کہا۔۔
ارے زرقان یہ کمرے کی کیا حالت بنا رکھی ہے؟؟
زرقان جو دم سادھے بیٹھا تھا زرغہ کی آواز سن کے ایک دم چونکا ۔۔
زرغہ تم ابھی جاو میں بعد میں بات کرتا ہو۔۔
ارے زرقان مگر تم بتاو تو ہوا کیا ہے۔؟؟
ایک دفعہ کی بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی میں نے کہا جاو ابھی اسی وقت میرے کمرے سے۔۔
زرغہ زرقان کی ڈھار سے ایک دم ڈر گئ دو منٹ تک جب زرغہ اپنی جگہ سے نہیں ہلی تو زرقان نے غصہ میں اسکا ہاتھ دبوچا اور کمرے سے باہر نکال کے زور سے کمرے کا دروازہ بند کردیا۔۔۔

#

قاسم کو دیکھ کے راجا کافی بدمزہ ہوا مگر قاسم وہ تو راجا کو دیکھ کے پوچھے بنا نہ رہ سکا۔
کیا بات ہے راجا جی بڑی خوشی خوشی جھولا جھول رہے ہو؟
قاسم نے اسکے کرسی گھمانے پہ ٹونٹ کی۔۔
یار مجھے اگلے دو مہینے کے اندر اندر بہترین بار ڈانسر کا انتظام کرنے پڑے گا ورنہ ڈانس بار کا کاروبار میرا ختم ہوجائے گا تو جلد از جلد زرغہ کا کچھ کر۔۔
قاسم کی بات سن کے راجا نے ریلکس ہوکے قاسم سے کہا۔۔
بس تارا اجائے ٹوئر سے پھر اس زرغہ کا بھی معملہ بھی ایک طرف کرتا ہو۔۔
راجا کی تسلی پہ قاسم بھی پرسکون ہوا

#

اذان اج تھوڑی دیر کے لیہ اج تارا کو ماسی کے حوالے کرکے گھر سے نکلا تھا۔تارا کے کپڑے اور کچھ سامان لینے۔۔
ازان جب واپس آیا تو تارا کو پریشان سا دیکھا ۔۔
ازان نے سامان بیڈ پہ رکھا اور تارا کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا۔۔
کیا بات ہے تارا پریشان سی کیوں بیٹھی ہو؟؟
ازان کے پوچھنے پہ تارا نے اپنی انگلیاں آپس میں مسلی اور کہا۔۔۔
وہ مجھے نہانا تھا؟؟
ہاں تو نہا لیتی ۔۔
اذان نے اپنی طرف سے راہ دیکھائ۔۔
مجھے سے ہاتھ ہی نہیں اٹھ رہی جو میں اپنا سر دھو سکو یہ۔۔۔۔۔۔اگے کی بات تارا نے بولنا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔
سر دھو سکو اور ازان نے اسکی بات وہی سے پکڑی جہاں سے تارا نے ادھوری چھوڑی تھی۔۔
مجھ سے کپڑے نہیں چینج ہونگے نہ مجھ سے نہایا جائے گا اگر اپ بولو تو کل میں شمائلہ(ماسی ) کی مدد لے لو نہانے میں۔۔
تارا کی اتنی عزت اتنا مان دینے پہ ازان کو س پہ ٹوتھ کے پیار آیا اور اس نے بلا شہبہ تارا کے ماتھے پہ۔اپنے لب رکھے کتنی ہی پل اذان نے ایسے ہی گزار دیے جب ازان نے اس کی شال اتارتے ہوئے کہا۔۔
جب شوہر نامدار حاضر ہو ہر کام کیلیے تو ماسی کو زحمت دینے کی ضرورت ہے ۔۔
ازان کی بات پہ تارا نے منہ کھولے اسے دیکھا مگر پھر سنجیدہ ہوکے کہا۔
نہیں نہیں اپ رہنے دے خاماخائ میں خود تارا کی۔ہچکچاہٹ ازان سمجھ سکتا تھ ازان اپکے کپڑے خراب ہونگے یہ کہتے ہوئے تارا کی نگاہیں نیچے تھی مگر اازان اسکے بلشنگ گال دیکھ سکتا تھا۔۔
ازان نے کھڑے ہوکے اپنی شرٹ اتاری اور تارا کی مزاحمت کی پرواہ کیے بغیر اس باہنوں میں اٹھا کے واش روم میں گھس گیا ۔
تھوڑی دیر بعد ازان باہر نکلا اپنے لائے ہوئے سامان میں سے تارا کے کپڑے نکالے اور دوبارہ واش روم میں چلا گیا۔
تارا کے مہکتے نکھرے نکھرے وجود کو وہ باہنوں میں اٹھا کے باہر لایا اس کے بال تولیے سے خشک کیے اور خود اپنے کپڑے لے کے واش روم گھس گیا مگر جب نہا کے باہر آیا تو تارا ابھی تک اسی پوزیشن میں بیٹھی تھی تارا نے جس طرح کی قربت اذان کی واش روم میں دیکھی تھی تارا کا دل زور زور ڈھرک رہا تھا حیا کے سارے زنگ اسکے چہرے پہ موجود تھے اذان سے نظرین ملانا اس کے لیے بہت مشکل تھا اذان بھی اسکی حالت سے بہت محفوظ ہورہا تھا تھوڑی بعد اذان تارا کے سامنے بیٹھا اور کہا۔
تارا میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں اج اگر میں نے تمہیں نہلایا تو اس میں کوئ مزاحقہ نہیں تم۔میری بیوی ہو یار اب کب تک ایسے گردن جھکا کے بیٹھی رہو گی اگر کل کلاں کو مجھے کوئ ایسی چوٹ لگی جو میں تمہارا محتاج ہوا تو کیا تم میرا خیال نہی رکھوگی؟؟
اذان کے سوال پہ تارا نے فورا نگاہ اٹھا کے اسے دیکھا اور کہا۔۔
اللہ نہ کرے اپ کسی کے بھی محتاج ہو سوائے اللہ کے
اچھا جی تو پھر میں نے جب اپنی بیوی کو نہلایا ہے تو اسے شرم نہیں انی چاہیے ۔اپنے شوہر سے
اذان کے بولنے پہ تارا شرم سے مسکرانے لگی جبھی انکے فلیٹ کا دروازہ ناککک ہوا۔۔
جاری ہے۔۔