84.5K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

                                      ______✨______

راز دل می گفتم ، ار یک محرمی می داشتم۔۔ 🍁
شکوہھا مکردم آز غم ، ھم دمی می داشتم۔۔۔🍁
(اردو)

میں راز دل کہتا اگر میرے پاس کوئی محرم ہوتا۔۔۔🍁
میں غم کے بارے میں شکایتیں کرتا۔۔۔۔۔۔🍁
اگر میرے پاس کوئی ہمدم ہوتراجہ نے ایک
راجہ ایک دم نیند سے جاگا ۔ا۔
اففف یہ انکھیں میرا خواب میں بھی پیچھا نہیں چھوڑتی۔۔۔
جب سے راجا کی ملاقات صاحبہ سے ہوئ تھی راجا کو پل بھر کے لیہ بھی سکون نہی ملا تھا ایک عجیب سی بے خودی اس پہ طاری تھی صاحبہ ہر وقت اسکی سوچوں پہ سوار تھی۔۔راجا نے سوچا شاید وہ وقتی کششس تھی مگر یہ اسکی بھول تھی۔۔
مجھے جلد از جلد زرغہ کو ٹھکانے لگانا ہوگا پھر اپنی۔محبت کو حاصل کرونگا۔۔۔
راجا نے خود سے ہمکلامی کی اور قاسم کو کال کی۔۔
تھوڑی دیر بعد قاسم نے کال پک کی۔
قاسم تمہیں اپنی آفر کو بڑھانا ہوگا۔۔
مطلب۔۔؟؟
قاسم نے نہ سمجھی کی کیفیت میں راجا سے پوچھا۔۔
مطلب یہ کے قاسم زرغہ کی شادی ہونے والی ہے میں اس سے فلرٹ کرتا اور چھوڑ دیتا اس سے لاکھ گناہ اچھی لڑکیاں ماڈلنگ کیلیے بیٹھی ہیں مجھے اس سے کوئ فائدہ نہیں ہونے والا صرف تمہارے کہنے پہ میں اس کے ساتھ پیار کا ڈارمہ کررہا ہو ورنہ میرے پاس اتنا وقت نہیں۔
راجا صرف قاسم کے کہنے پہ زرغہ کیساتھ یہ سب کررہا تھا۔۔
اچھا اچھا راجا تو ناراض نہیں ہو تو بس اسے میرے حوالے کردے لندن کا کانٹریکٹ بھی تیرا اور منہ مانگی رقم بھی اب خوش ۔۔
ہمم خوش مگر ایک بات تو بتا قاسم تجھے زرغہ میں اتنی دلچسپی کیوں ہے۔؟؟؟
راجا جی زرغہ دبئ میں دھوم۔ مچا دے گی وہاں کا میرا کلب جو سنسان پڑا ہے اس کے ناچنے سے اباد ہوگا ایک بار جب یہ میری دستریس میں ہوگی اور دوسرے ملک میں ہوگی تو اسکے پاس میری بات ماننے کے علاوہ کوئ چانس نہیں ہوگا۔۔۔
۔۔۔ چل تیرا کام ہوجائے گا ۔۔
راجا نے کال کٹ کی اور فریش ہونے چلا گیا۔۔۔

#

اذان پوری رات نہیں سو سکا تارا اسکے حواسوں پہ سوار تھی اسکا ہنسنا،اسکا اذان پہ بھروسہ.
اذان کی دنیا بدلنے لگی تھی۔
[ ] عیشال کا رہن سہن اسکا لائف اسٹائل اذان کو ایک انکھ نہیں بھاتا تھا اپنی مام کی ضد کی وجہ سے اپنی زندگی کا فیصلہ اس نے سر جھکا کے اپنی ماں کے حوالے کیا مگر تارا کو دیکھنے کے بعد اس سے ملاقات کے بعد اس کے دل نے اسے جھنجھوڑنا شروع کردیا تھا اسے انتظار تھا تو صرف اپنے ڈیڈ زمان شاہ کا جو اذان کے پاپا نہیں اس کے بہترین دوست بھی تھے جو اذان کی انکھیں دیکھ کے اسکے دل۔کا حال بتا دیتے تھے۔نسرین بیگم نے اذان سے جھوٹ بولا کے اسکے پاپا کی مرضی بھی اس رشتہ میں شامل ہے اپنے پاپا کانام سن کے اذان نے اور چپ سادھ لی ۔۔۔
[ ] اذان فریش ہوکے نیچے انے لگا جب ہال سے اتی اوازوں میں زمان شاہ کی اواز سن کے وہ تقریبا ڈورتے ہوئے ہال۔پہنچا اور کہا۔۔
[ ] ڈیڈ!!!
ازان کے پکارنے پہ زمان شاہ پلٹے۔
ازان ڈور کے انکے سینے سے لگ گیا۔۔
ازان جسطرح زمان شاہ کے گلے لگا انہوں نے بلاجھجک نسرین بیگم کو پلٹ کے دیکھا مگر انکی مسکراہٹ نے فلحال زمان شاہ کو تشویش میں نہیں ڈالا ۔اذان زمان شاہ سے الگ ہوا اور ناشتہ کی ٹیبل بیٹھا سب ناشتہ میں ایک بار پھر مصروف ہوگئے اور کل کی پارٹی کے بارے میں بات کرنے لگے جو زمان شاہ کے ایک بہت بڑے کانڑیکٹ جیتنے کی خوشی میں رکھی جارہی تھی۔۔
جب کے اذان چپ چاپ ناشتہ کرکے اٹھا اور افس کیلیے نکل گیا اذان کا رویہ ایک بار پھر زمان شاہ کو تشویش میں مبتلا کرگیا۔۔

#

اج موسم صبح سے ہی ابرالود تھا صاحبہ نے زرقان سے بات کرنا بلکل بند کی ہوئ تھی۔صاحبہ زرقان کے اٹھنے سے پہلے ہی یونی جانے کے لیہ نکل رہی تھی جب ثمرہ نے اسے روک کے کہا۔
صاحبہ بیٹا مجھے لگتا ہے اج بارش ہونے والی ہے تو یونی نہیں جاو ایسا نہ ہو موسم خراب ہوجائے۔۔
نہیں ماما اج میرا جانا ضروری ہے اج بہت امپورٹیینٹ لیکچر ہے ۔اپ ٹینشن نہ لے میں مینج کرلونگی۔۔۔
یہ۔بول کے صاحبہ یونی کے لیہ نکل گئ۔۔

#

قاسم میں اج فائنلی بات کرتا ہو زرغہ سے پریشرائز کرتا ہو اسے فلم میں کام کرنے کے لیہ اچھا اب میں نکلتا ہو مجھے لگتا ہے بارش ہونے والی ہے۔۔
قاسم اور راجا ایک کیفے میں تھے اور اپنا پلین ڈسکس کررہے تھے جسمیں شامل تھا کے زرغہ کو فلحال شادی سے روکنا۔۔
راجا کی گاڑی اپنے راستے پہ گامزن تھی جب اچانک بارش شروع ہوگئ اور اہستہ اہستہ اسکی اسپیڈ بھی بڑھ رہی تھی۔
کے جبھی اسے فٹ پاٹ پہ کوئ نفوس بھیگتا دیکھائ دیا ایکا دکا گاڑیاں ہی اس راستے سے گزر رہی تھی ۔۔راجا کی گاڑی جیسی ہی اس نفوس کے قریب گئ راجا کی۔انکھین خوشی سئ چمک۔اٹھی اور انکا ساتھ اسکے لبوں نے بھی دیا۔۔
ارے صاحبہ ابھی تک گھر نہیں گئ؟
صاحبہ کی دوست نے صاحبہ کے سامنے اپنی گاڑی روک۔کے کہا۔۔
ارے یار بس اپنی گاڑی کا ہی ویٹ کررہی ہو۔
یار بارش ہونے والی ہے او میں چھوڑ دو تمہیں ۔
نہیں نہیں یار تم۔جاو بس انے والی ہوگی گاڑی۔۔
ار یو شور؟؟؟نیہا نے ایک بار پھر صاحبہ سے کہا۔۔
ہاں ہاں یار تم۔جاو۔۔
نیہا کے جاتے ہی صاحبہ تھوڑا اگے اوکے فٹ پاٹ پہ۔کھڑی ہوگئ چند منٹ ہی گزرے تھے اسکو کھڑے ہوئے کے تیز بارش شروع ہوگئ
وہاں تیز بارش کا شروع ہونا تھا کے صاحبہ نے رونا شروع کردیا تقریبا وہ پوری بھیگ چکی تھی اسکا بیگ اسکے موبائل صاحبہ اس سے پہلے اور زوروشور سے روتی جبھی اسکے پاس ایک۔کار اکے روکی۔۔۔
راجا گاڑی سے نکلا اور صاحبہ کو دیکھ کے کہا۔۔
ہےےےے یو لٹل اینجل اپ یہاں کیا کررہی ہو اتنی بارش میں ؟؟
راجا کا پوچھنا تھا کے صاحبہ اور زور زور سے رونے لگی۔۔
راجا ایک دم اس کے قریب ایا اسکا بھیگا سراپا روتی انکھیں چہرے سے ٹپکتا پانی صاحبہ کو کہی کی اپسرا کا روپ دے رہی تھی۔۔
راجا نے اسکے قریب اکے کہا۔۔
اپ نے مجھے پہچانا نہیں میں وہی ہو جو اپ سے مال۔میں ٹکرایا تھا راجا کا ایسا بولنا تھا کے صاحبہ نے رونا چھوڑ کے راجا کو غور غور سے دیکھنے شروع کردیا اسکی پاکیزہ انکھیں راجا کو پھر مدہوش کرنے لگی۔۔
اپ او میرے ساتھ میں چھوڑ دیتا ہو اپکو اپکے گھر۔۔
راجا کی بات سن کے صاحبہ نے اپنی ارد گرد لپٹی ہوئ چادر کو اور مظبوطی سے تھاما صاحبہ کی یہ حرکت راجا سے چھپی نہیں ۔۔
نہیں میں ۔۔خو۔۔۔د ۔۔چلی جاونگی۔۔
صاحبہ نے بہت مشکل سے اپنی بات مکمل کی۔۔
لٹل اینجل ضد نہیں کرو دور دور تک یہاں کوئ گاڑی نہیں ہے پلیزچلو میرے ساتھ ضد نہیں کرو مجھ پہ بھروسہ۔کرو۔یہ بول۔کے راجا نے اپنی پھیلی ہتیھلی صاحبہ کے اگے کی۔۔صاحبہ نے ایک نظر راجا کو دیکھا جو پورا بھیگ چکا تھا اور ایک نظر اسکی پھیلی ہتھیلی کو صاحبہ نے بہت ڈرتے ڈرتے اپنا ہاتھ راجا کے ہاتھ میں دے دیا۔۔
راجا نے صاحبہ کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما اور اس کو گاڑی میں بیٹھایا اور گھوم کے جلدی سے گاڑی کے اس طرف ایا اور گاڑی زن سے اگے بڑھا لے گیا۔
صاحبہ کی گیلی۔لٹیں اسکے چہرے سے چپکی تھی راجا نے نوٹ کیا وہ۔ہلکی ہلکلی کانپ رہی ہے راجا نے فورا گاڑی کا ہیٹر اون کیا۔۔
ہیٹر اون ہوتے ہی صاحبہ کو سکون ملا اس نے مسکرا کے راجا کی طرف دیکھا تو وہ بھی مسکرایا۔۔
ایک کیفے کے اگے راجا نے گاڑی روکی۔۔
گاڑی روکتے ہی صاحبہ نے سوالایاں نظروں سے راجا کو دیکھا تو اس نے کہا۔۔
ابھی ایا۔لٹل۔اینجل یہ کہہ کے راجا دوبارہ بھیگتا ہوا کیفے تک گیا اور صاحبہ کیلے کافی لایا۔۔
کافی صاحبہ کو دیتے ہی اس نے اپنے بالوں مں ہاتھ پھیرا صاحبہ اسے بہت غور سے دیکھ رہی تھی اور اس نے یہ اعتراف کیا تھا کے سامنے بیٹھا شخص واقعی خوب صورت پے۔۔۔
کافی ٹھنڈی تو نہیں ہوئ لٹل اینجل راجا نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا۔۔
صاحبہ!!!
میرا نام صاحبہ ہے صاحبہ کے بولنے پہ راجا مسکرایا اور کہا۔
اہاں ں مگر میں تو لٹل اینجل ہی بلاونگا۔۔یہ بول کے راجا نے گاڑی اسٹارٹ کردی۔۔
دونوں نفوس خاموش تھے جب رجا نے سانگ پلے کیا بلکل صاحبہ کو دیھان میں رکھتے ہوئے۔۔
“تجھ سا حسسین میں نے دیکھا ہی نہیں
میرا ہوش میں بھی دل بے قابو ہے۔۔
تیرے چہرے کا نور مجھے دیتا ہے سکون۔
میرا دل بے قابو ہے۔۔
تو میرا ہے نشہ تو میرا ہے سکون۔۔”
صاحبہ۔نےا پنے گھر اڈریس جب راجا کو بتایا تو اسے جھٹکا لگا اس نے صاحبہ کو اسکے گھر چھوڑا اور فورا وہاں سے نکلا ۔
صاحبہ نے عجیب نظروں سے راجا کی جاتی ہوئ گاڑی کو دیکھا اور اندر بڑھ گئ ۔اور اوپر کھڑا زرقان غصہ میں صاحبہ کے کمرے کی جانب بڑھا۔۔
جاری ہے۔