Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Episode 8
No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
قسط نمبر 8#
ہے یو دیکھ کے نہی۔۔۔۔۔
اس سے پہلے راجا اگے کے لفظ پورے کرتا صاحبہ کو دیکھ کے وہ ایک دم ساکن رہ گیا ایسا مکمل حسن اتنی معصومیت اس نے اج تک نہیں دیکھی۔
اور ادھر صاحبہ جو اپنی چوڑیوں کو دیکھتی ہوئ ارہی تھی راجا سے ٹکر ہونے میں وہ ساری زمین بوس ہوگئ۔۔
صاحبہ نے راجا کو نہیں دیکھا اور جھک کے چوڑیاں اٹھانے لگی راجا بھی کسی ٹرانس کی کیفیت میں نیچے جھک کے صاحبہ کے ساتھ چوڑیاں اٹھانے لگا جنہیں اٹھانے کا کوئ فائدہ نہیں تھا وہ ساری توٹھ چکی تھی۔۔۔
اپ اگر تھوڑا دیکھ کے چلتے تو میری چوڑیاں بج جاتی ۔
صاحبہ نے یہ کہہ کے راجا کی طرف دیکھا جو چوڑیاں اٹھانے میں مگن تھا مگر صاحبہ کے بولنے پہ ایک دم اپنا جھکا سر اٹھایا۔۔۔
مگر صاحبہ کی روتی انکھیں دیکھ جہاں اسکا دل اسپیڈ سے ڈھرکا وہی اسکی انکھیں راجا کو متوجہ کرنے میں کامیاب ہوچکی تھی
۔۔اتنی شفاف انکھیں۔۔
بےخودی میں راجا کے منہ سے نکلا۔۔
راجا کے بولنے پہ صاحبہ نے اپنا چہرہ اٹھایا۔۔
راجا کی دنیا بس وہی رک گئ۔۔صاحبہ کی انکھ سے انسو چنے کیلیے جیسے ہی راجا نے اپنا ہاتھ صاحبہ کے چہرے کی طرف بڑھایا۔۔
ایک دم کسی نے راجا کا بڑھتا ہوا ہاتھ پکڑا اور کہا۔
ڈونٹ دو دس شی از مائن۔۔۔یہ کہہ کے زرقان نے راجا کا ہاتھ چھوڑ کے صاحبہ کا ہاتھ پکڑا اور اگے بڑھ گیآ۔۔
راجا نے ایک نظر اپنے ہاتھ کو دیکھا جسکو ابھی کچھ دیر پہلے زرقان نے پکڑا تھا اور پھر جاتی ہوئ صاحبہ کو دیکھ کے کہا۔۔
بہت جلد تم اور میں ایک ہونگے یو اونلی مائن۔۔۔میری کانچ کی گڑیا۔۔۔
زرقان نے جب محسوس کیا کے صاحبہ اسکے ساتھ نہی چل رہی اس نے پلٹ کے دیکھا تو وہ۔کسی لڑکے کیساتھ مل کے زمین سے کچھ اٹھا رہی تھی۔مگر ساتھ والے لڑکے نے جیسی ہی صاحبہ کے چہرے کی طرف ہاتھ بڑھایا زرقان سے ناجانے کیوں برداشت نہیں ہوا اور اس نے جاکے راجا کا ہاتھ روک لیا۔۔۔
گاڑی اپنے راستہ پہ گامزن تھی صاحبہ کے دماغ میں بار بار ایک ہی جملہ گھوم رہا تھا۔۔۔
“ڈونٹ دو دس شی از مائن””
صاحبہ نے ایک نظر گاڑی چلاتے ہوئے زرقان کو دیکھا جو بہت سیریس تھا۔۔جبھی صاحبہ نے مذاق میں کہا۔۔
زرقان۔۔؟؟
ہاں۔۔
ویسے لڑکا کافی خوبصورت تھا اور اسکی گرین انکھیں افف تمہیں پتہ ہے دوستی کا کہہ رہا تھا مجھ سے اور پتہ ہے اس نے میری انکھوں کی بھی تعریف کی۔۔۔
ویسی برائ نہیں دوستی میں اس سے۔۔۔
صاحبہ نے یہ بول کے اپنا موبائل نکالا اور اسمیں مصروف ہوگئ مگر اپنی ہنسی کو بہت مہارت سے چھپا گئ۔
گاڑی گھر کے اگے روکی صاحبہ جیسی ہی گاڑی کا گیٹ کھولنے لگی زرقان جو اتنی دیر سے صاحبہ کی باتیں برداشت کررہا تھا ایک جھٹکے سے اس نے صاحبہ کی گردن میں ہاتھ ڈال کے ایک دم موڑی صاحبہ اس افت پہ ایک ایک دم بوکھلائ گردن ایسے پکڑنے پہ صاحبہ کے سارے بال اس کے منہ پہ اگئے۔زرقان نے بہت پیار سے اسکے سارے بال اسکے چہرے پہ سے ہٹائے زرقان کی گرم سانسیں صاحبہ کے چہرے کو چھو رہی تھی۔۔زرقان نےدھیرے سے کہا۔۔
صاحبہ کی زندگی میں صرف ایک ہی ہے اسکا دوست وہ ہے زرقان خرم اور یہ بات صاحبہ سرور ہمیشہ یاد رکھے آئندہ میرے سامنے کسی بھی فالتو بندے کا نام لیا دوستی کرنے کے غرض سے زندہ زمین میں گاڑدونگا۔۔
زرقان بول کے چپ ہوا اور دھیرے سے صاحبہ کی گردن چھوڑی صاحبہ نے زرقان کا یہ روپ پہلی بار دیکھا تھا اسکی انکھوں میں ایک عجیب سا جنون تھا۔۔
صاحبہ فورا گاڑی سے اتر کے اندر بھاگی۔۔۔۔
#
آصفہ اور خرم اچکے تھے ۔دونوں عمرے پہ گئے تھے مگر پھر وہ لوگ وہاں سے نیویارک ۔چلے گئے
ایک خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا گیا زرقان ا کی تو باتیں ہی ختم نہیں ہورہی تھی اپنے ممی پاپا سے مگر اج پورا دن صاحبہ نے زرقان سے بات نہیں کی اور زرقان نے بھی اسے نہیں چھیڑا کیونکہ صاحبہ کی خاموشی کی وجہ وہ جانتا تھا۔۔
اآصفہ اور خرم جہاں بیگم کے کمرے میں موجود تھے جبھی ثمرہ بھی چائے لے کے وہاں پہنچ گئ۔۔۔۔
تینوں نفوس ثمرہ کو دیکھ کے خاموش ہوگئے کیونکہ جانتے تھے جس شخص کا ذکر وہ ثمرہ کے انے سے پہلے کررہے تھے اس شخص کا ذکر ثمرہ کو پسند نہیں۔۔
ثمرہ نے چائے وہا رکھی اور خاموشی سے وہاں گردن جھکا کے بیٹھ گئ جب آصفہ نے کہا۔۔
دیور جی ایک دم ٹھیک ہے ثمرہ تمہارا پوچھ رہے تھے زرغہ کا پوچھ رہے تھے۔۔
آصفہ کا کہنا تھا کے ثمرہ نے ایک پرشکوہ نگاہ آصفہ کیساتھ ساتھ وہاں بیٹھے ہر نفوس پہ ڈالی اور اس کی۔نگاہوں کا مفہوم سمجھ کے خرم نے کہا۔۔
ثمرہ تمہیں میں نے اپنی چھوٹی بہن سمجھا ہے جیسے تم نے مجھے کبھی مجھ سے یہ شکوہ نہیں کیا نہ کبھی اماں جی سے کے ہم سرور کی اتنی ذیادتیوں کے باوجود جو اس نے تم سے کی کیوں ملتے ہیں ۔۔اسی طرح میں نے بھی ہمیشہ کی طرح تمہارا راز راز ہی رکھا ہے بے فکر رہو اسے نہیں بتایا اب بھی کے زرغہ کے علاوہ اسکی ایک بیٹی اور ہے جو ہو بہو اسکی کاپی ہے۔۔
خرم کی بات پہ ثمرہ کے چہرے پہ ایک غمگین مسکراہٹ ائ وہ کمرے سے جانے لگی جب ایک بار کمرے میں جہاں بیگم کی آواز گونجی ۔۔
معاف کردو اسے ثمرہ اسکا یہ ہجر ختم کردو قبول کرلو اسکا ساتھ۔۔
ثمرہ نے انکھوں میں انسو لیہ جہاں بیگم کو دیکھا اور کہا۔۔
اپ جب چاہے جس وقت چاہے اماں سرور کو یہاں بلالے میں صاحبہ کو لے کے یہاں سے چلی جاونگی کیونکہ زرغہ تو ہے ہی اس گھر کی امانت ۔۔
ہم تمہارے ساتھ سرور کو رہتے دیکھنا چاہتے ہیں ثمرہ تم ہمیں غلط سمجھ رہی ہو جہاں بیگم نے ثمرہ۔کی غلط فہمی دور کی۔۔
انکو معاف کرکے انکا ساتھ پھر بھی قبول کرلو اماں مگر انکے ساتھ جو وجود ہے اسکا ساتھ گوارا نہیں۔۔
یہ۔بول۔کے ثمرہ تیزی سے وہاں نکل کے اپنے کمرے میں ائ اور بلک بلک کے رونے لگی۔۔
#
صاحبہ بیڈ پہ بلینکٹ اوڑھ کے لیتی تھی گاڑی میں جو کچھ زرقان نے کہا وہ سوچ رہی تھی۔۔
اسے زرقان سے ایک دم ڈر لگنے لگا وہ خود بھی تو کسی اور کا ہونے جارہا تھا بےشک وہ زرقان سے محبت کرنے لگی تھی مگر جب وہ اسکی بہن کا نصیب بنا اس نے اپنی محبت کا سلادیا مگر اج زرقان کے رویہ نے اسے ڈرادیا۔۔
ابھی وہ انہیں سوچوں میں گم تھی جب ایک دم۔اسکے کمرے کے دروازے کا لاک گھوما صاحبہ نے فورا اپنی انکھیں بند کی کیونکہ وہ جانتی تھی کے انے والا کون ہے۔۔
زرقان خاموشی سے صاحبہ کے پاس ایا اورسوتی ہوئ صاحبہ کو دیکھنے لگا اج اسکا دل بری طرح مچلا جب اس نے کسی اور کو صاحبہ کے قریب دیکھا وہ خود بھی اپنی دلی کیفیت سے پریشان تھا وہ خود بھی تو زرغہ سے شادی کررہا تھا وہ بھی تو کسی کا ساتھ قبول کررہا تجا تو پھر صاحبہ کو یہ۔حق وہ۔کیوں نہیں دے پایا کے وہ بھی کسی کا ساتھ قبول کرے ۔۔
زرقان نے بہت ارام سے صاحبہ کے چہرے پہ سے بال ہٹائے ۔۔صاحبہ کو سوتا دیکھ کے زرقان کے چہرے پہ ایک۔دلکش مسکراہٹ آئ۔ اس نے جھک کے صآحبہ کے ماتھے پہ۔ہمیشہ کی طرح اپنے لب رکھے اور دھیرے سے کہا۔۔
“میری مست چڑیل “
اور کمرے سے نکل گیا ادھر زرقان کے جاتے پی صاحبہ اٹھ کے بیٹھ گئ اور اس نے کہا۔۔
مجھے جلد از جلد پاکستان چھوڑنا پڑے گا۔۔۔
جاری ہے۔۔
See translation
