Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Episode 6
No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
فون مسسلسل بجا جا رہا تھا مگر ازان تھا کے اس نے ایک بار موبائل دیکھ کے دوبارہ موبائل کی طرف دیکھا تک نہی کیوں اسے پتہ تھا ابھی کچھ دیر میں ہی اسکی ماما کمرے میں انے والی ہونگی۔۔
ازان تھک چکا تھا اس بے وجہ ناپسندیدہ رشتہ کو نبھاتے نبھاتے کیا تھا اگر اسسکی ماما اسکی پسند پوچھ لیتی زندگی اسے گزرانی ہے اسکے اسٹیٹس کو نہی ازان اب شدت سے اپنے پاپا کا انتظار کررہا تھا جو بزنس ٹورر پہ گئے ہوئے تھے۔۔ایک وہی تھے جو اسے سب سے زیادہ سمججھتے تھے ۔۔۔
ابھی وہ انہی سوچوں میں گم تھا کے دروازہ کھول کے نسرین بیگم اندر ائ ازان نے انہیں ایک نظر دیکھا اور دوبارہ کھڑکی کی طرف رخ موڑ گیا۔۔
نسرین نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر اسکا موبائل اٹھا کے چیک کیا جسمیں لاتعداد کال ائ ہوئ تھی عیشال کی۔۔۔
تمہارا مسئلہ کیا ہے ازان کال کیوں پک نہی کر رہے عیشال کی وہ۔کب سے تمہیں کال کررہی ہے مجبورا پھر اس نے مجھے کال کی۔۔۔
نسرین بیگم کے بول کے چپ ہوئ مگر ازان پھر بھی کچھ نہی بولا جب نسرین بیگم اس کے پاس ائ اور کہا۔۔۔
جاو بیٹا اسے پک کرو اسکے گھر سے وہ انتظار کرہی ہے تمہارا اج تمہیں ڈنر پہ۔ جانا تھا۔۔
میں نے ایسا کچھ پلین نہی کیا ماما وہ خودی اپنی مرضی سے پلین بناتی ہے۔۔
ہاں تو جب تم کچھ پلین ہی نہی کرتے تو وہ ہی کرے گی۔۔۔
اس سے پہلے ازان انکو کچھ بولتا نسرین بیگم کا فون بجا جیسے وہ اٹینڈ کرنے کمرے سے باہر چلی گئ۔۔۔
ایک بار ازان کا موبائل پھر بجنے لگا ناچار اسے موبائل اٹھانا پڑا اور اس نے کال پک کرکے صرف اتنا کہا۔۔
تیار ہوجاو اراہا ہو۔۔
#
تارا تارا تم ابھی تک تیار نہی ہوئ۔۔
گلنار بیگم تارا کو ڈھونڈتی ہوئ اپنی ساس کے کمرے میں پہنچی۔۔
تارا کو دیکھ کے انکا خون کھولا جو اپنی دادی کے سر پہ تیل لگارہی تھی۔۔۔۔
فلحال گلنار بیگم نے اپنا غصہ ضبط کیا اور کہا۔۔
تم ابھی تک تیار نہی ہوئ تم عدیل پہنچ چکا ہے ڈنر پہ۔جانا تھا تمہیں اس کے ساتھ ۔۔
ماما میں نے اپکو پہلے ہی کہا تھا میں کہی نہی جارہی مجھے یہ سب نہی پسند پلیز ۔
تارا ایک منٹ کے اندر اندر تیار ہو ورنہ مجھ سے برا کوئ نہی ہوگا وہ تمہیں ڈنر پہ لےکے جارہا ہے خالی تمہیں کھا نہی جائے گا۔۔۔
مگر ماما۔۔۔تارا نے کچھ بولنا چاہا مگر گلنار بیگم نے ہاتھ کے اشارے سے اسے بولنے سے روکا اور کہا۔
انف از انفف تارا ۔۔
ایک بار اور تم نے مجھے منع کیا تو مجھ سے برا کوئ نہی ہوگا یہ بول کے گلنار بیگم کمرے سے نکل گئ۔۔تارا نے ایک نظر اپنی دادی کو دیکھا جو اس گھر کی بڑی تھی مگر پھر بھی انکی اوقات اس گھر میں ایک شو پیس کی طرح تھی ۔۔
دادی نے تارا کو کہا۔۔
چلی جاو بیٹی میرا اللہ تمہاری حفاظت کرے گا۔۔۔
#
یو نو واٹ راجا میں اج اتنی خوش ہو تمہیں اندازہ نہی ہے اج تم نے جب مجھے شو اسٹوپر کی حیثیت سے مجھے انٹرودیوس کروایا اوہ گاڈ راجا یو ار دا بیسٹ۔۔
راجا اور زرغہ اس وقت ساحل سمندر پہ تھے۔اور تقریبا یہ تیسری دفعہ تھا جب وہ راجا کا شکریہ ادا کررہی تھی اور سچ میں اج راجا کا شو ہٹ ہوا تھا تو وجہ صرف زرغہ تھی اسکی خوبصورتی نے اج چار چاند لگا دیے تھے شو میں ۔۔
راجا نے رک کے اپنے ساتھ چلتی زرغہ کا ہاتھ پکڑ کے اسکا رخ جھٹکے سے اپنی طرف موڑا زرغہ ایک دم اسکے سینے سے لگ گئ مگر پھر سنبھل کے راجا کو دیکھنے لگی جو انکھوں میں بھر پور جزبہ لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
زرغہ جب سے تم میری زندگی میں شامل ہوئ ہر چیز اچھی لگنے لگی۔ہزاروں لڑکیوں سے میرا واسطہ پڑھتا کیونکہ میری فیلڈ ہی ایسی ہے مگر تم واحد وہ لڑکی ہو جیسے دیکھ کے میرا دل نے کچھ سم تھںنگ اسپیشل کا اشارہ دیا ۔۔
ای لو یو زرغہ میں بہت جلد تمہیں اپنی زندگی میں شامل کرنے والا ہو اب تم سے ایک منٹ کی دوری بھی راجہ اشرف کو گوارا نہی۔۔یہ بول کے راجا نے زرغہ کا چہرہ اپنے دونوں میں تھاما اور اسکے گلابی ہونٹوں پہ۔جھکنے لگا جب زرغہ نے ایک دم اپنا منہ موڑا زرغہ کی اس حرکت پہ راجا ایک دم اس سے پیچھے ہوا اور کہا۔۔
اووہ سوری میں شاید زیادہ جزبات میں اگیا تھا چلو میں تمہیں گھر چھوڑ دو کافی رات ہوگئ۔۔
یہ بول کے راجا اگے جانا لگا۔۔
سچ زرغہ اتنا خوبصورت لڑکا اتنا مشہور فیشن ارگنائزر جسکے پیچھے ہزاروں لڑکیاں مرتے ہیں اس نے صرف تمہیں چنا زرغہ وہ تجھ سے واقعی سچی محبت کرتا ہے ۔دل نے اپنا راستہ دیکھایا۔۔
مگر زرغہ زرقان کا کیا ہوگا تمہاری شادی اسکا کیا ہوگا۔
دماغ نے اپنا راستہ دیکھایا۔
مگر زرقام راجا اشرف نہی سوچ لو دل نے پھر اپنے راستہ پہ چلنے کی تنقید کی ۔۔
اور فیصلہ ہوا زرغہ اشرف نے دل کا راستہ چنا۔۔اور خود سے کہا میں نے ویسے بھی زرقان سے کوئ کمینٹمینٹ نہی کیا مجھے اس سے محبت نہی محبت تو مجھے راجا سے ہونے لگی ہے میرے دل میں اس کیلیے فیلنگ انے لگی ہے۔۔۔
زرغہ جاتے ہوئے راجا کے پاس پہنچی اور کہا۔۔
میری منگنی ہوچکی ہے میرے تایا زاد سے راجا اور ایک مہیینے بعد میری شادی ہونے والی ہے مگر راجا میں اس سے شادی نہہی کرنا چاہتی کیونکہ ۔۔
کیونکہ۔۔۔راجا نے اگے کہا۔۔
کیونکہ ائ لو یو 2۔۔۔
زرغہ نے شرما کے کہا اور گردن جھکا لی۔۔
راجا نے ایک بار پھر اسکا۔چہرہ تھاما اور اس کے لبوں پہ جھک گیا اس بار زرغہ نے اسے روکا نہی بلکہ اسکی گردن میں اپنی باہینں ڈال دی۔۔
سمندر کے طرف کا یہ حصہ کافی سنسان تھا ایکا دکا لوگ تھے اس طرف۔۔
راجہ بہکنے لگا اس نے زرغہ کی شرٹ شولڈر سے نیچے کی اور وہاں اپنے لب رکھے مگر تھوڑی دیر بعد زرغہ نے اسے اپنے اپ سے الگ کیا اور کہا۔۔
بس بس باقی شادی کے بعد ۔۔۔۔
راجا نے ہاں میں گردن ہلائ اور دونوں وہاں سے چل پڑے۔۔
#
زرغہ کو گھر ڈراپ کرتے ہی راجا نے قاسم کو کال کی اور اسے اگے کا پلین تیار کرنے کو کہا۔۔
زرغہ خوشی سے جھومتی ہوئ گھر کے اندر داخل ہوئ جب اسکا ہاتھ پکڑکے کسی نے کھینچا اس پہلے زرغہ چیختی زرقان نے اسکے لبوں پہ اپناہاتھ رکھا اور کہا۔۔
کیا کرتی ہو جان میں ہو۔۔
یہ بول کے زرقان نے اس کے لبوں سے اپنا ہاتھ ہٹایا زرغہ اپنی مستی میں اتنی گم تھی کے اس یاد نہی ہی نہی رہا کے اپنا مقصد پورا کرنے کیلیے اس نے زرقان کا استعمال کیا۔۔
زرغہ نے اپنا اپ زرقان سے چھڑوایا اور کہا۔۔
بعد میں بات کرتی ہو زرقان ابھی میں بہت تھکی ہوئ اور ہاں اج کے بعد اس قسم کی حرکت میرے ساتھ نہی کرنا زرغہ کا اشارہ زرقان کی ابھی کی حرکت پہ تھا زرغہ تیزی سے اپنے کمرے کی جانب بڑھی جبکہ ادھر کھڑا زرقان یہ سوچنے پہ۔مجبور ہوگیا کے زرغہ کو ہوا کیا۔۔۔۔
زرقان کے قدم صاحبہ کے کمرے کی طرف بڑھے۔۔
جی جی سر میں اپنے سارے ڈاکومینٹس کل تک اپکو ای میل کردونگی اوکے سر اللہ حافظ ابھی صاحبہ نے یہ کہہ کے اپنا لیپ ٹوپ بند کیا ہی تھا کے زعقان ایک دم اس کے کمرے میں ایا اور صاحبہ نے اللہ کا شکر ادا کیا کے جب وہ نیویارک کی ایک مشہور یونی کے پرنسپل کو اپنا انٹرویو دے رہی تب زرقان کمرے مین نہئ ایا۔۔
زرقان اداس سی شکل لے کے کمرے میں ایا اور سیدھا بیڈ پہ بیٹھی صاحبہ کے گودھ میں سر رکھ کے لیٹ گیا۔
زرقان کی۔اس حرکت پہ صاحبہ پل بھر کے کیلے گھبرائ اور سنھل کے زرقان سے پوچھا۔۔
کیا ہوا زرقان پریشان ہو؟؟۔۔
پتہ نہی صاحبہ زرغہ پل میں کچھ اور ہوتی ہے اور پل میں کچھ۔۔
مطلب میں سمجھی نہی۔۔صاحبہ کے پوچھنے پہ زرقان اس کی گودھ سے اٹھ کے بیٹھا اور کہا۔
ایک دو دن پہلے وہ مجھ سے کہہ رہی تھی کے وہ بھی مجھ سے محبت کرنے لگی ہے ہمارے رشتہ کا اگے برھانے کا سوچ رہی ہے اور اج وہ بلکل بدلی تھی ۔
ہوسکتا ہے زرقان اپی تھک گئ ہو اج۔۔۔صاحبہ نے اپنا نظریہ بیان کیا۔۔
ہممم ہوسکتا ہے اچھا تم بتاو لیپ ٹوپ پہ کس سے بات کررہی تھی۔۔؟؟؟زرقان کے پوچھنے پہ۔صاحبہ ایک۔دم۔بوکھلا گئ۔کیوں وہ سمجھ رہی تھی زرقان نے یہ نوٹ نہی کیا۔۔مگر یہ اسکی غلط فہمی تھی۔۔۔
صاحبہ نے اپنی بوکھلاہٹ کو قابو کیا اور کہا۔
ارے وہ مینا ہے اپنی شاپنگ دیکھا رہی تھی پاگل نہی تو۔۔۔
اچھا مجھے لگا تو مجھ سے کچھ چھپا رہی ہے ۔۔ارے دیکھ میں بھی کیا سوچتا رہتا ہو مجھے پتہ ہے مجھ سے میری صاحبہ کچھ نہی چھپاتی ۔۔
ہیں نہ۔۔۔؟؟
زرقان کے پوچھنے پہ صاحبہ نے ہاں میں گردن ہلائ زرقان نے اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اورکمرے سے چلا گیا۔
زرقان کے جاتے ہی صاحبہ نے اپنے ماتھے پہ ہاتھ رکھا اور دھیرے سے کہا۔
جب زرقان کو میرے جھوٹ کا پتہ چلے گا تب کیا ہوگا۔۔
جاری ہے۔۔۔
See translation
