84.5K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

اذان خاموشی سے پارٹی کیلیے تیار ہورہا تھا۔تارا کے بارے میں ابھی تک اس نے اپنے ڈیڈ کو نہیں بتایا کے وہ تارا سے محبت کرنے لگا ہے زندگی کا یہ فیصلہ وہ خود لینا چاہتا تھا مگر ابھی تک اس کی ہمت نہیں ہورہی تھی۔عیشال سے رشتہ جوڑنے پہ صرف نسرین بیگم خوش تھی۔۔
مگر کیا وہ اپنی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ اپنی پوری زندگی صرف اس لیہ عیشال کے ساتھ گزارے گا کیونکہ اس کے موم ڈیڈ چاہتے تھے۔افف کیا ہوگیا ہے مجھے ٹائ تھی کے اس سے بندھ کے ہی نہیں دے رہے تھی اس نے غصہ میں اپنی تائ گلے سے اتار کے پھینکی اور بیڈ پہ بیٹھ کے اپنا سر اپنے ہاتھوں میں گرا لیا۔
جبھی دروازے ناک ہونے پہ وہ پلٹا تو زمان صاحب کو کھڑا پایا جو نجانے کب سے اذان کا ہر عمل دیکھ رہے تھے۔۔
یہ بات تو زمان صاحب سمجھ چکے تھے کے کئ نہ کوئ تو بات تھی جس نے انکے بیٹے کا سکون چہرے کی خوشی کہی غائب تھی زمان صاحب جو بلیک ڈنر سوٹ میں عمر کے اس حصہ میں غضب ڈھارہے تھے۔۔۔
دونوں ہاتھ اپنی پینٹ کی پوکٹ میں ڈالے دھیرے دھیرے چلتے ہوئے وہ اذان کے پاس ائے انہیں دیکھ کے اذان کھڑا ہوا۔۔
کوئ مسئلہ ہے اذان ؟؟؟
زمان صاحب نے اذان کے روبرو کھڑے ہوکے پوچھا۔۔۔
نہیں نہیں ڈیڈ اللہ کا شکر ہے کوئ مسئلہ نہیں ہے ۔
مجھ سے جھوٹ مت بولو مائ سن جب سے میں ایا ہو تم بہت الجھے ہوئے ہو پہلے مجھے لگا میرا شک ہے مگر اج تمیں ٹائ سے الجھتے دیکھا تو میرا شک یقین میں بدل گیا کیونکہ تم تو مجھ سے بھی اچھی اور جلدی تائ باندھتے ہو ۔۔
مجھے بتاو یار اذان ہمارے درمیان دوستی کا بھی رشتہ ہے زمان نے باپ اور دوست دونوں بن کے ازان سے پوچھا۔۔۔
وہ۔۔۔ڈ۔۔۔ی۔۔میں ۔ازان کی ہکلاہٹ پہ زمان صاحب نے کہا۔۔۔۔
اذان کھل کے بولو یار۔۔
ڈیڈ وہ عیی ۔۔۔شا۔۔۔
ارے اپ دونوں یہاں باتوں میں لگے ہیں سارے مہمان اچکے ہیں ویٹ ہورہا ہے ہمارا ۔۔۔
اس سے پہلے اذان ہمت کرکے اپنی بات بولتا نسرین بیگم کے اچانک انے سے اذان چپ ہوگیا۔ازان کا چپ ہونا زمان صاحب سے چھپا نہیں اس وقت تو وہ۔نسرین بیگم کے ساتھ نیچے چلے گئے مگر انہیں سوچ لیا تھا کے اذان سے بات کرکے رہینگے۔۔۔

#

تارا ایک منٹ کے اندر اندر اگر تم تیار نہیں ہوئ تو مجھ سے کبھی بھی بات نہیں کرنا ۔۔
گلنار بیگم نے تارا کو دھمکی دی گلنار بیگم جانتی تھی کے انکی۔دھمکی کام۔کریگی اور وہی ہوا ۔۔
ماما دیکھے میری بات سنے ایسے ناراض نہیں ہو ادھر دیکھے میری طرف ۔۔
تارا جو اتنی دیر سے کچن میں جا ن بوجھ کے مصروف تھی تاکہ گلنار بیگم اسے دوبارہ پارٹی میں جانے کیلیے فورس نہ کرے مگر یہ تارا کی غلط فہمی تھی۔کیونکہ گلنار بیگم نے اج تہیہ کرلیا تھا کے وہ اج ہرحال میں تارا کو پارٹی میں لے کے جایئنگی۔۔۔
تارا نے گلنار بیگم کے میک اپ سے لبریز چہرے کو تھاما اور کہا۔۔۔
ماما اپ کو پتہ ہے میں پارٹیز میں نہیں جاتی اور اپ خود بتائے میں وہاں جاکے کیا کرونگی میں کسی کو بھی نہیں جانتی ۔۔
ایسی پارٹیوں میں جاوگی تو جانو گی نہ سب کو دیکھو تارا میری جان مسسز زمان میری بہت اچھی دوست ہیں ان کے گھر کا فنکشن ہے یہ زمان بھائ نے بہت بڑا پروجیکٹ حاصل کیا ہے اس خوشی میں پارٹی ہے اگر تم مجھ سے زرا سی بھی محبت کرتی ہو تو چلوگی اس پارٹی میں۔۔۔
اففف اچھا ماما میں چلونگی مگر میں ڈریسنگ اپنی مرضی سے کرونگی ۔۔۔
اوکے ڈن اب جلدی سے تیار ہوجاو ۔۔
گلنار بیگم نے اگر اپنی ڈیمانڈ رکھی تو وقتی طور پہ تارا کی بھی ڈیمانڈ مان لی۔۔
مام اپ تارا کے ساتھ پارٹی میں چلے جایئے گا میں تھوڑی دیر میں اپکو وہی جوائن کرونگا۔۔۔
راجا بھی بلکل ریڈی تھا مگر اچانک زرغہ کے ٹیکس پہ وہ اس سے ملنے کیلیے نکل۔پڑا ۔۔۔
اوکے بیٹا گلنار بیگم نے راجا کی ہاں میں ہاں ملائ اور تارا کا ویٹ کرنے لگی۔۔

#

زرغہ نے راجا کو اپنے گھر کے قریب پارک میں بلایا اور خود واک کرنے کے بہانے گھر سے نکلی۔۔۔۔
زرغہ پارک میں بیٹھی راجا کا انتظار کررہی تھی جب وہ گیٹ سے اینٹر ہوا۔۔
رائل بلیو اور وائٹ کنٹراس کے کوٹ پینٹ میں راجا کہی کا شہزادہ معلوم ہورہا تھا پارک میں موجود کتنی ہی لڑکیوں نے مڑ کے اسے دیکھا تھا۔۔زرغہ تو مانو اس وقت اپنے اپ کو کہی کی اپسرا سمجھ رہی تھی۔۔
راجا زرغہ کے پاس ایا اور کہا۔۔
ہاں بولو مجھے کیوں بلایا یار بتایا بھی تھا مجھے اج پارٹی میں جانا تھا۔۔
راجا نے کمال کی بیزاری سے کہا۔۔
مگر زرغہ اتنی خوش فہمی میں مبتلا تھی کے اس نے راجا کا لہجہ نوٹ ہی نہیں کیا۔۔
ارے ایسی ہی تم سے ملنے کا دل چاہ رہا تھا ۔زرغہ کی بات پہ راجا نے کم از کم 25 20 گالیوں سے تو قاسم کو نواز ہی دیا تھا اندر ہی اندر اور مجبورا زرغہ کے ساتھ باتیں کرنے بیٹھ گیا۔۔۔

#

زرقان چل چلو بیٹا نسرین انٹی نے اتنا فورس کیا ہے کے زرقان کو ضرور لانا۔۔۔
اصفہ بیگم کب سے زرقان کی منتیں کررہی تھی مگر زرقان جسکا موڈ اف تھا صاحبہ کے رویے پہ اس نے صاف منع کردیا جانے کو ۔۔
اصفہ بیگم مایوسی سے زرقان کے پاس سے اٹھنے لگی جب صاحبہ کی اواز ائ۔۔
تائ اگر اپ مناسب سمجھے تو میں چلو اپکے ساتھ گھر میں بور ہورہی ہو۔۔
صاحبہ کے بولنے پہ زرقان کو ایک اور جھٹکا لگا کیونکہ صاحبہ کو ایسی پارٹیز پسند نہیں تھی۔۔
ہاں ہاں بیٹا چلو اچھا ہے مجھے کمپنی مل جائے گی اصفہ بیگم تو مانو خوش ہوگئ کے انہیں کمپنی مل گئ۔۔
دس منٹ کے اندر صاحبہ رائل بلیو کلر کی امبریلا فراک میں اصفہ کے سامنے تھی لائٹ سا میک اپ کانوں میں سلور جھمکے اور بالوں کو کھلا اپنے پشت پہ چھوڑے وہ زرقان کا ساکن کرگئ۔۔
مگر صاحبہ نے ایک نگاہ بھی زرقان کے چہرے پہ نہی ڈالی اور اصفہ کیساتھ چلی گئ۔۔۔
ادھر تارا نے بلیک کلر کی اسٹائلش سوٹ زیب تن کیا جسمیں تارا کہ۔چھاپ اج الگ تھی گلنار بیگم نے جب اسے دیکھا تو ماشاءاللہ کہے بنا نہ رہ سکی اور وہ دونوں ماں بیٹی پارٹی کیلیے نکل پڑی۔۔
جاری ہے۔۔۔
See translation