84.5K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

راجا نے قاسم کو کال ملائ اور کہا۔۔
ابھی کے ابھی مجھے افس میں ملو؟؟
خیر تو ہے راجا جی ابھی تو ملے تھے ہم آدھا گھنٹہ پہلے ؟؟؟
میں جو بول رہا ہو وہ کرو قاسم ورنہ نقصان تمہارا ہے بعد مجھ سے شکایت نہیں کرنا۔۔
راجا کے لہجہ میں ایسا کچھ تھا کے قاسم کو اسکی بات ماننی پڑی ۔۔
ٹھیک 10 منٹ کے اندر اندر وہ راجا کے آفس میں موجود تھا۔۔
راجا نے صاحبہ کیلیے اپنے جزبات اور زرغہ سے صاحبہ کا رشتہ سب قاسم کو بتا دیا۔زرغہ راجا کو اپنے گھر والوں کے بارے میں بتا چکی تھی مگر راجا کو اندازہ نہیں تھا کے جو لڑکی راجا کے دل میں گھر کرے گی وہ زرغہ کی بہن نکلے کی کیونکہ جو زرغہ کیساتھ قاسم اور راجا کرنے کا سوچ رہے تھے اسکا بعد کیا حال ہوتا زرغہ کا زرغہ کہاں ہوتی یہ راجا بھی نہیں جانتا۔تھا
قاسم نے راجا کی پوری بات سنی اور سگریٹ جلاتے ہوئے کہا۔۔
بس کردے میں تیری رگ رگ سے واقف ہو وہ لڑکی (صاحبہ) تیری وقتی کشش ہے تھوڑا بہت مزا لے از سے بول تو یونی سے اٹھوا لو اسے مزے کرکے مجھے دے دینا دونوں بہنوں کو شکایت کا موقع نہیں دونگا یہ بول کے قاسم نے قہقہ لگایا ۔۔
اور ادھر راجا نے جب قاسم کی بات سنی ایک زود دار ٹھپڑ قاسم کے منہ پہ مارا اور اسکا گریبان پکڑ کے کہا۔۔
نشہ اترا تیرا یہ ابھی اور لگاو تاکہ تو ہوش میں ائے اور اپنی بھابھی کے بارے میں صحیح لفظ استعمال کرے میں بتا رہا ہو قاسم صاحبہ میرا جنون ہے وہ زندگی بنتی جارہی ہے دو دفعہ کی ملاقات میں ہی اسکی معصومیت نے مجھ جیسے عیاش لڑکے کے ہوش اڑا دیے ہیں ایک لفظ بھی اسکے بارے میں غلط بولا نہ میں بھول جاونگا کے تو میرا دوست ہے وہ میری وقتی کشش نہیں دل ڈھڑکنے کی وجہ ہے۔۔
یہ بول کے راجا نے قاسم کا گریبان چھوڑا۔۔۔قاسم جو واقعی راجا کی باتوں کو سیرس نہیں لے رہا تھا اسکا یہ انداز دیکھ کے اسے بھی اندازہ ہوگیا کے واقعی وہ راجا کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔۔
قاسم نے رخ موڑے راجا کا رخ اپنی طرف موڑا اور اسکی انکھوں میں دیکھا جہاں واقعی صاحبہ کا نشہ چڑھا تھا اسکی انکھیں قاسم کو سمجھا چکی تھی کے وہ محبت کے راستے پہ چل نکلا ہے۔۔
معاف کردے یار مجھے اندازہ نہیں تھا تو اتنا سیریس ہے اس۔۔۔صا۔۔مطلب بھابھی کو لے کے۔۔
قاسم کی معزرت پہ راجا نے ایک ٹھنڈی اہ بھری اور واپس اپنی کرسی پہ بیٹھتے ہوئے کہا۔۔قاسم اگر اسے پتہ چلا کے زرغہ میرے ساتھ انولو ہے تو پہلے تو وہ مجھے ایک نمبر کا عیاش انسان سمجھے گی کیونکہ میں اس سے اب خود ملونگا کوئ بھی بہانا کرکے۔اور اپنے پیار کا اظہار کرونگا۔۔
۔دوسری بات زرغہ کی شادی ہونے والی ہے یقیننا جب یہ بات صاحبہ کو پتہ چلے گی کے میرا اور زرغہ کا رشتہ بھی ہے اور میں اسے بیوقوف بنا رہا ہو میں لاکھ اسے یقین دلاونگا مگر صاحبہ مجھے ہی برا سمجھے گی کے اسکی بہن کو یہ جانتے ہوئے پھسایا کے اسکی شادی ہونے والی تھی اور ساتھ ساتھ اسے بھی۔۔جب زرغہ غائب ہوگی تو صاحبہ کا سیدھا شک مجھ پہ جائے گا میرے ساتھ ساتھ تیرا کام بھی بہت مشکل ہے ۔۔۔۔
کیونکہ میں صاحبہ کے گھر رشتہ لے کے جانے والا ہو بہت جلد مگر زرغہ میں کیسے یار کوئ حل نکال قاسم کے مجھے صاحبہ مل جائے بنا میری برائ اسکے دل میں ائے اور تجھے زرغہ وہ بھی بنا کسی کو پتہ لگے۔۔
دونوں کے درمیان 10۔منٹ گزر گئ مگر خاموشی تھی جبھی راجا نے قاسم کے منہ پہ ٹیبل پہ رکھا پین مارا اور کہا۔۔
ابے کیا سوچے جارہا ہے دوسرا پاکستان بنانے کا نہیں بولا تجھے جو اتنا سوچ رہا ہے میں بتا رہا اگر تونے کوئ بھی گھٹیا پلین مجھے بتایا تو بھول جانا زرغہ اور پھر یاد رکھنا میرا پرانہ تکیہ کلام۔۔
“کٹ شہبا جنگل کی طرف”
ارے نہیں لالے پلین تو بہت زبردست بنایا ہے میں مگر اس پہ عمل خالی تجھے کرنا ہے اور اس بار تیری محنت ڈبل ہوگی۔۔۔
اچھا زرا پلین بتا زرا ۔راجا کے بولنے قاسم نے اپنا سارا پلین راجا کو سنایا۔
پلین سنتے ہی راجا کی انکھیں خوشی سے چمکی اور اس نے مسکراتے ہوئے قاسم سے کہا۔۔
ایسی تو تجھے میں کمینا نہیں کہتا ۔۔
اچھا اور تیرا اپنے بارے میں کیا خیال ہے قاسم نے راجا کی بات پہ سڑا ہوا منہ بنا کے کہا۔۔
جب راجا نے قہقہ لگایا اور کہا۔۔
I am king of the word…

#

صاحبہ اپنے کمرے میں پہنچی اور بنا یہ دیکھے کے اس کے کمرے میں کوئ پہلے سے موجود ہے اپنے کمرے کا۔دروازہ لاک کرکے گیلی ہونے کی وجہ سے اپنی چادر اتار کے اپنا ڈوپٹہ اتارا اور جیسے ہی اس نے اپنی قمیض کی زپ کھولنی چاہی کسی نے اسکا ہاتھ پکڑا اس سے پہلے صاحبہ چیختی زرقان نے ایک ہاتھ سے اسکا منہ بند کیا اور دوسرے ہاتھ میں پکڑا اسکا ہاتھ موڑ کے اس کی کمر پہ لے گیا ۔۔
صاحبہ کی ہلکی اوپن زپ جس سے صاحبہ کی کمر ہلکی ہلکی جھلک رہی تھی زرقان کے سینے سے ٹکرا رہی تھی۔۔
زرقان نے نے اسکے کان کے پاس دھیرے سے اور کافی غصیلی لہجہ میں پوچھا۔۔
کس کیساتھ ائ ہو گاڑی میں؟؟
زرقان کے بولنے پہ صاحبہ اپنے نے اپکو اس سے چھڑوایا اور جلدی سے اپنا ڈوپٹہ اورھا اور غصہ میں کہا۔۔
تمہیں شرم نہیں اتی کسی لڑکی کے کمرے میں اہسے گھس کے بیٹھتے ہوئے۔۔؟؟؟
اور دوسری بات میں جس کے ساتھ بھی او یہ تمہارا مسئلہ نہیں مسٹر زرقان میرے باپ بننے کی کوشش نہیں کرو۔۔
صاحبہ کی بات پہ زرقان کو ایک دم طیش چڑھا اس نے اگے بڑھ کے صاحبہ کو جھٹکے سے اپنی طرف کھینچا اور کہا۔۔
جو پوچھا ہے صاحبہ وہ بتاو کس کے ساتھ ائ ہو تم کون تھا وہ؟؟؟صاحبہ نے اپنے اپ کو چھڑواتے ہوئے کہا۔۔
میرا دوست تھا وہ سنا تم نے اور مجھ پہ زیادہ اپنی ہونے والی بیوی پہ دیھان دو ۔۔۔
صاحبہ کی بات پہ زرقان نے ایک نظر اسے دیکھا اور اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بڑے پیار سے لیا اور کہا۔۔
سوری صحبو میں اپنے رویہ پہ بہت شرمندہ ہو پلیز مجھے معاف کردو مجھے پتہ نہیں کیا ہوگیا تھا تم نے جب یہ بولا کے تم اس سے دوستی کرنے میں انٹرسٹڈ ہو۔مجھے نہیں برداشت کے تمہاری زندگی میں جو میری جگہ ہے وہ۔کوئ اور لے۔
صاحبہ نے زرقان کے ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹائے اور کہا۔۔۔
یہ تو ضد ہے خودغرضی ہے زرقان میرے علاوہ بھی تو تمہاری زندگی میں تمہارے کافی دوست ہیں ۔میرے علاوہ بھی تو تمہاری زندگی میں کوئ لڑکی شامل ہورہی ہے تمہاری بیوی کی صورت میں تو پھر مجھ سے ہی یہ توقع کیوں کے میں خالی تم سے بندھ کے رہو کل کو میری بھی تو شادی ہوگی ۔جیسے تمہاری بیوی کو یہ برداشت نہیں کے میں اسکی زندگی مداخلت کرو اور تم۔خود بھی مجھے یہی کہتے ہو کے زرغہ سے دور رہا کرو ۔۔
تو پھر میری زندگی کی ڈور کیوں تھامنا چاہتے ہو۔کںوں چاہتے ہو میں تمہاری پابند رہو۔۔۔؟؟
مجھے بھی حق ہے کسی کو پسند کرنے کا کسی سے دوستی کرنے کا پھر بھلے وہ گاڑی والا کیوں نہ ہو۔۔
دوستی یا پیار کا مطلب یہ۔ہرگز نہیں زرقان کے ہم کسی ایک کے غلام بن کے رہ جائے جو وہ کہے بس وہ کرے۔۔
صاحبہ بول کے چپ ہوئ تو زرقان نے اسے حیران نظروں سے دیکھا اور الٹے قدم اٹھاتے ہوئے کہا۔۔
۔بہت بدل گئ ہو صاحبہ یہ بول کے وہ تیزی سی سے کمرے سے نکل گیا۔۔
زرقان کے نکلتے ہیں صاحبہ جھٹکے سے زمین پہ بیٹھی اور رونے لگی اور دھیرے سے کہا۔۔۔ایسا ضروری ہے زرقان ورنہ تم مجھے جانے نہیں دو گے اور زرغہ برداشت نہیں کرے گی میری موجودگی تمہاری زندگی میں۔۔
جاری ہے۔۔