84.5K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

تمہیں ایک دفعہ کی بات سمجھ میں نہیں آتی زرغہ؟؟
ثمرہ نے اسے ایک بار پھر ضد کرتے دیکھا تو اپنے لہجہ کو سخت کرنے سے روک نہ پائ۔۔
کیوں ماما اس میں برائ کیا ہے ؟آج کل تو بہت مقبول ہے فیشن کی دنیا اور ہمارا اسٹیٹس بھی کوئ لوئر کلاس نہی جو اپ مڈل کلاس فیملی کی ٹپیکل ماوں کی طرح بیہیو کررہی ہیں۔۔
واٹ ربش!!۔۔
ماں ماں ہوتی اپنی اولاد کے لیے اچھا سوچنے میں اسکا اسٹیٹس درمیان میں نہی اتا۔۔۔چاہے وہ بنگلے میں رہتی ہو یہ پھر کچے مکان میں۔۔۔۔
زرغہ کی بات پہ ثمرہ جو اپنی وارڈ روب میں کپڑے رکھ رہی تھی پلٹ کر بولی۔۔۔
ماما پلیز میں نے خالی آپ سے ایک ریمپ واک کے لیے پرمیشن مانگی ہے کسی ننگے ناچ کی نہی۔۔زرغہ نے بھی اس بار ہٹ دھرمی سے ثمرہ کے آگے کہا۔۔
میرے نزدیک یہ ننگا ناچ جیسا ہی ہے ثمرہ نے بھی کافی غصیلے لہجہ میں کہا۔۔
بس ماما میں نے آپکو بتا دیا وہ شو میری دوست تارا کا بھای راجا آرگنائز کررہا ہے اور اس نے مجھے خاص افر کی ہے اس شو کی اور میں اپکی۔خاطر یہ چانس مس نہی کرنے والی یہ یاد رکھیے گا۔۔یہ بول کے زرغہ کمرے سے چلے گئ۔۔
زرغہ کے لہجہ میں ہٹ دھرمی دیکھ کے ثمرہ جہاں شاکڈ تھی ۔۔وہی
ثمرہ کے آگے چھن سے کسی کا چہرہ آیا ۔۔زرغہ کی آج ہٹ دھرمی اسے بہت کچھ جتا چکی تھی کے کچھ بھی کرلیا جائے مگر کہی نہ کہی اولاد میں ماں باپ کا عکس اسکی کوئ ایک عادت آ ہی جاتی ہے۔۔
آج ثمرہ کو بھی زرغہ میں اسکے باپ کی جھلک دیکھی جس نے اپنی فیملی اور اپنی خواہش میں سے اپنی خواہش کی طرف جانے والا راستہ چنا ۔۔
ثمرہ اپنا سر تھام کے بیڈ پہ بیٹھ گئ ایک کسک تھی اسے شاید وہ اپنی بچیوں کی پرورش ٹھیک طریقہ سے نہی کرپائ شاید تربیت میں ماں کی ساتھ ساتھ باپ کا کردار بھی بہت اہمیت رکھتا اس بات کا احساس آج شدت سے ثمرہ کو ہورہا تھا۔۔
زرغہ غصہ میں اپنی ماما کے کمرے میں سے نکلی اسکا ارادہ تیزی سے گھر کے باہر جانے کا تھا جب راستہ میں اسکا ٹکراؤ زرقان سے ہوا۔
ارے ارے میری تیز گام کہاں جارہی ہو اتنے غصہ میں؟؟
زرقان نے اوپر سے نیچے تک زرغہ کو دیکھا جو بلیک سوٹ میں قیامت ڈھارہی تھی۔۔
زرقان ابھی میرا موڈ بہت خراب ہے پلیز اسٹے اوے۔۔۔۔۔
ارے میری جان اتنا غصہ نہی کرتے تم تو میری جان من ہو چلو جلدی بتاو اپنی جان کو کیا ہوا؟؟
کیا جان جان لگا رکھا ہے اپنا کام کرو سمجھے کہاں نہ میرے راستے سے ہٹو یہ بول کے زرغہ نے باقاعدہ زرقان کو اپنے آگے سے ہٹایا اور گھر سے باہر چلی گی۔۔
ابھی زرقان یہ سوچ رہا تھا کے اسکی جان کو ہوا کیا ہے کے جبھی اسکے اوپر کسی نے پانی کی بالٹی الٹ دی وہ جو ایڈن روب کے برینڈد سوٹ میں تھا اور اسکی تیاری کی وجہ زرغہ تھی جسکے ساتھ وہ آج ڈنر پہ جانا والا تھا مگر اپنے اوپر پلس اپنے ارمانوں پہ پانی پڑتا دیکھ اسکا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا اس نے بھیگے چہرہ کے ساتھ جب نگاہ اٹھا کے اوپر دیکھا تو صاحبہ اپنی چمکتی بتیسی کے ساتھ کھڑی تھی۔۔
اور زرقان کا ایساحشر دیکھ وہ بہت مشکل سے اپنی ہنسی دبا رہی تھی صاحبہ نے اوپر سے ہی کہا۔۔
وہ کیا ہے اکثر اتنی بےعزتی کےبعد انسان کا چلو بھر پانی میں ڈوبنے کا دل چاہتا ہے ۔مگر تم تو یہ کام کرتے نہی تو یہ۔کام میں نے کردیا چلو بھر نہ صحیح بالٹی بھر کے تھا اچھے سے ڈوبکی لگا لو۔۔
یہ بول کے صاحبہ نے فرضی کالر جھاڑے جیسے زرقان کو بھگوکے اس نے بہت عظیم کام کیا ہو۔۔
زرقان نے اپنے منہ پہ سے پانی کی بوندوں کو صاف کیا اور کہا۔۔۔
آج تمہیں میں اپنے ہاتھوں سے قتل کرونگا مست چڑیل۔۔
زرقان کا پارہ ایک دم ہائ ہوا۔اور وہ اوپر کی طرف بھاگا۔۔
صاحبہ نے وہاں سے ڈور لگائ اور کہا۔۔
پہلے پکڑ کے دیکھاو تھرڈ کلاس عاشق ۔یہ بول کے صاحبہ جھٹ سے اپنے کمرے میں بند ہوگئی اور زرقان بیچارا بند دروازہ پہ اپنے لاتے گھونسے مارتا رہا۔۔
ہمدانی ہاوس کا کوئ بھی فرد ان دونوں کی چیخوں پکار سن کے باہر نہی ایا کیوں سب کو پتہ تھا یہ۔انکا روز کا۔کام ہے۔۔۔


اذان بات سنو۔۔۔
اذان جسکی انگلیاں تیزی سے لیپ ٹوپ پہ چل رہی تھی ۔اپنی ماما مسسز نسرین کی اواز پہ پل بھر کے لیہ تھمی ۔
یس ماما بولے میں سن رہا ہو۔۔
مسسز طلال جو اپنے بیٹے کی الماری ماسی کے زریعے ٹھیک کروارہی تھی۔الماری میں سے ایک لیڈیز ایئر رنگ ملنے کی صورت میں حیران ہونے کیساتھ ساتھ شوکڈ بھی تھی ۔۔ماسی کو کمرے میں سے چلتا کیا اور ازان کے قریب اکے جھمکا اس کے اگے کیا اور پوچھا۔۔
یہ کس کا ہے ازان اور تمہاری الماری میں کیا کررہا ہ؟۔۔
مسسز طلال کے ہاتھ میں جھمکا دیکھ کے ازان پل بھر کیلئے کنفیوز ہوا اور پھر کہا۔۔..
ارے ماما یہ ایسی ایک لیڈیز سے مال میں غلطی سے ٹکر ہوگئ تھی شاید انہی کا ہو۔۔
تو کیا وہ ٹکر کے بعد تمہیں ٹکر مارنے کا انعام یہ جھمکا دے کے گئ تھی۔۔۔
نسرین بیگم کی بات پہ ازان نے خاموشی اختیار کرلی۔۔۔
یاد رکھنا ازان میرے گھر کی بہو صرف عیشال بنے گی ۔۔یہ بول کے نسرین بیگم اپنی ساڑھی کا پلو سنبھالتے ہوئے کمرے سے باہر چلی گی۔۔
ان کے جاتے ہی ازان نے اپنا سر اپنے ہاتھوں میں گرا لیا۔
چھن کرکے اسکے اگے اس لڑکی کا سراپا ایا جو روڈ کراس کرنے کیلیے اپنی دوستوں کا ہاتھ پکڑی ہوئ تھی ازان جو سگنل گرین ہونے کا ویٹ کرررہا تھا اس لڑکی کو دیکھ کے پل بھر کے لیے اس کے چہرے پہ ہنسی ائ مگر جب گرین سگنل ہوا اوراس کے دوستوں نے تیزی سے روڈ کراس کرلیا اور وہ روڈ کے درمیان میں ہی رک گئ گاڑیاں تیزی سے اسکے اس پاس سے گزر رہی تھی اور وہ روڈ کراس کرنے کے بجائے رونے میں مصروف تھی جب ازان نے گاڑیوں کے ہارن کی پراوہ کیہ بغیر اسکا ہاتھ پکڑا اور تیزی سے اسے روڈ کے اس طرف لے گیا۔۔
کسی مقناطیس کی طرح وہ ازان سے چپکی ہوئ تھی۔ جب اسے احساس ہوا تو وہ فورا الگ ہوئ۔۔ تو ادھر ازان وہ تو اسکے چہرے میں ہی گم ہو گیا اس سے پہلے ازان اسے کچھ بولتا اس لڑکی کی دوست تیزی سے اس تک ائ اور اس سے سوری بولتی ہوئ اپنے ساتھ لے گئ۔۔ازان جب گاڑی میں² اکے بیٹھا تو اسے کندھے پہ۔کچھ چھبن محسوس ہوئ ہاتھ لگانے پہ اسے پتہ چلا کے اس لڑکی کا جھمکا ازان کے کالر سے اٹک گیا۔۔۔
ازان نے ایک لمبا سانس لیا۔۔ایک ملاقات میں ہی ازان کی دنیا ہلانے والی لڑکی کہاں تھی اسکا نام کیا تھا ازان کو کچھ معلوم نہی تھا نشانی کے طور پہ اگر ازان کے پاس اس لڑکی کا کچھ تھا تو وہ صرف اس لڑکی کا جھمکا۔۔۔
ازان کی منگنی اسکی مرضی کے خلاف اسکی خالہ کہ بیٹی سے ہو چکی تھی جو ایک ماڈل تھی۔۔اس منگنی میں صرف نسرین بیگم کی مرضی شامل تھی اور گھر میں چلتی بھی صرف انکی تھی ازان کی زندگی کا ہر فیصلہ بنا ازان کی مرضی جانے ہمیشہ نسرین بیگم ہی۔کرتی ائ تھی اس لیہ۔اسکی زندگی کا۔اتنا بڑا فیصلہ بھی انہوں نے ہی کیا۔ازان جو اپنی ماں کی ہر بات انکا ہر فیصلہ سر جھکا کے سنتا تھا کیا اس منگنی کو اگے برقرار رکھ پائے گا یہ تو انے والا وقت پی بتاتا۔۔
جاری ہے۔۔