Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419 Power of Love Last Episode (Part 1)
Rate this Novel
Power of Love Last Episode (Part 1)
Power of Love by Afzonia Zafar
بارہ بجے وہ تینوں ایر پورٹ پر پہنچ چکے تھے
ہادی اور منیزے کی سیٹ ایک ساتھ تھی جبکے یشفہ بیچاری کافی اگے تھے اور ایک بوڑھی عورت کے ساتھ بیٹھی تھی
جس پر اسکا منہ کا زاویہ ہی ٹھیک نہیں ہو رہا تھا
رات کا سفر تھا اسی لیے سب پیسنجر سو چکے تھے اور یشفہ بھی سو چکی تھی
جبکے منیزے کھڑکی سے سر ٹکاے سو رہی تھی
ہادی کافی دیر تک منیزے کو ایسے ہی تکتا رہا جیسے یہ اسکا پسندیدہ کام ہو
تبھی ہادی کی نظر منیزے کے ہونٹ کے نیچے تل پر پڑی
پہلے تو کافی دیر تک دیکھتا رہا لیکن جب جزبات بے قابو ہو گے
تو اہستہ سے کھسک کر اسکی سیٹ کی طرف ہوا
اور اسکے سر کو بالکل اہستہ سے اپنے کندھے پر رکھا
منیزے کے ہونٹوں اور ہادی کے ہونٹوں میں ایک انچ کا بھی فرق نہیں تھا
منیزے کی گرم سانسیں ہادی کے گالوں پر پڑ رہی تھی
ہادی نے اپنے ہونٹوں کو نرمی سے اسکے تل پر رکھا
اسکے ہونٹوں کو چھونے کی دیر تھی منیزے ایک دم نرم گرم لمس پر چونک کر جلدی سی اٹھی
ہادی نے اسکے سمجھنے سے پہلے ہی اسکے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں کے پیالوں میں بھرا اور اسکے ہونٹوں پر پوری شدت سے اپنے لب رکھے
کچھ دیر بعد اسکے ہونٹوں کو ازادی دی تو یونہی اسکے چہرے کو پکڑے اسکی پیشانی کے ساتھ اپنی پیشانی جوڑی
اور انکھیں بند کر گہرا سانس بھرا مجھ سے کبھی دور مت جانا منیزے ہادی نے چہرے کو تھوڑا سہ دور کرتے اسکی انکھوں میں دیکھتے ہوے کہا
منیزے بس اسکا جنون دیکھتی رہ گی جسکا اسے وقت کے ساتھ ساتھ احساس ہو رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورم نے انکھیں پھاڑ کر ارمان کودیکھا جو ہڈیوں کا ڈھانچا بنا ہوا تھا
اتنا کہ کمزور سی رسیاں تک اس سے نہیں کھل رہی تھی
ز۔۔زیہان ی۔یہ کیا ھے حورم نے ارمان کو دیکھتے ہوے کپکپاتی اواز میں زیہان سے پوچھا
تمھیں مجھ سے پانچ سال دو ماہ تیرہ دن دور رکھنے کی سزا زیہان نے سرخ انکھیں لیکن پرسکون چہرے کے ساتھ کہا
حورم نے اگے بڑھ کر جگ سے پانی ڈال کر ارمان کو دیا اور اسکے ہاتھ کی رسیاں کھولی
حورم تم کیا کر رہی ہو یہ اپنی اخری سانس تک یہی سڑتا رہے گا اور یہی اسکی سزا ھے زیہان نے اگے بڑھ کر حورم کا ہاتھ پکڑا
حورم نے زیہان کو سخت تاثرات سے گھورا زیہان کو ہنسی تو بہت ای لیکن اسکا ہاتھ چھوڑ کر باہر چلا گیا
ایک منٹ بعد حورم باہر ای لیکن میز سے اسکا موبایل اٹھا کر دوبارہ اندر چلے گی
حورم تم ایسا کچھ نہیں کروں گی ورنہ اسکا انجام بہت برا ہو گا
زیہان باہر سے اونچی اواز میں بولا
زیہان اب اگر مجھے تمھاری اواز ای تو اسکا انجام بھی بہت برا ہو گا
حورم نے بھی اگے سے اتنی اونچی اواز میں جوابی کاروای کی
زیہان بس خجالت سے سر کو کھجا کر رہ گیا
عبیر صحیع کہتا تھا کیا چن کر بیوی ملی ھے
جو ایک ارمی افیسر پلس غنڈے سے بالکل بھی نہیں ڈرتی
ارمان جو انکی ہی باتیں سن رہا تھا اگے سے زیہان کے چپ ہو جانے پر نقاہت کے باوجود بھی مسکرا دیا
تھوڑی دیر بعد ہی فارم ہاوس کے باہر تین چار گاڑیوں کے ہارن کی اواز ای
اور ارمان کے پاپا روتے ہوے اندر اے
کہاں ھے میرا بیٹا ملک صاحب روتے ہوے زیہان سے پوچھنے لگے لیکن زیہان کا انکے منہ لگنے کا کوی ارادہ نہیں تھا اسی لیے منہ موڑ کر کھڑا ہ گیا
اتنے میں حورم باہر ای انکل اندر ھے اپکا بیٹا ملک صاحب روتے ہوے حورم کے پاوں میں گر گے
حورم ایک جھٹکے سے پیچھے ہوی اب زیہان اتنا بھی پتھر دل نہیں تھا اسی لیے اگے بڑھ کر انھیں اٹھایا
مجھے معاف کردوں میری وجہ سے تم سب کو اتنی مشکلات جھیلنی پڑی اگر میں اسی دن ارمان کو ایک تھپڑ لگا کر منع کرتا تو اج مجھے یہ سب نہ دیکھنا پڑتا
ملک صاحب نے ہاتھ جوڑ کر دونوں سے معافی مانگی
اور ارمان کو لے کر چلے گے
انکے جانے کے بعد حورم زیہان کی طرف ای لیکن زیہان حورم سے رخ موڑ کر کھڑا ہو گیا
حورم نے جیکٹ سر سے اتار کر صوفے پر پھینکی اور زیہان کی طرف بڑھی
حورم نے زیہان کا رخ اپنی طرف کیا لیکن اسکا پھولا ہوا منہ دیکھ کرہنسی نکل گی
زیہان جتنی سزا تم نے اسے دی ھے کیا اس سے بھی تمھارا دل نہیں بھرا اور میں صحیع سلامت تو تمھارے سامنے کھڑی ہو پھر بھی
نہیں میں اسے اس بھی بدتر سزا دیتا لیکن مجھے یقین تھا تمھیں کچھ نہیں ہوا
ان پانچ سالوں میں کوی ایسی رات نہیں گزری جس میں ارام و سکون سے سویا ہو
کوی ایسی پل نہیں گزرا جس میں تمھارا خیال میرے دل سے نکلا ہو
زیہان نے اپنے غصے کو کنٹرول کرنے کے لیے ماتھے کی پھولی ہوی رگ کو دبایا
جبکے حورم خاموشی سے اسکی دیوانگی دیکھ رہی تھی
اج میں نے اسے اس لیے جانے دیا کیونکہ اج تمھارا برتھ ڈے تھا
زیہان نے کہتے ہوے اپنا رخ موڑ لیا
حورم نے مسکراتے ہوے اگے بڑھی اور زیہان کو بازو پکڑ کر اپنے سامنے کرنے کی کوشش کی لیکن زیہان ٹس سے مس نہیں ہوا
حورم اسکے بالکل سامنے کھڑی ہو گی لیکن زیہان اسکی طرف دیکھ نہیں رہا تھا
حورم نے زیہان کے پاوں کے اپنے دونوں پاوں رکھے اور اسکے گلے میں اپنی بازو ڈالی لی
زیہان حیرت سے منیزے کی کارکردگی دیکھ رہا تھا
زیہان نے حورم کی کمر کے گرد اپنے دونوں بازو باندھے لیکن ناراضگی ہنوز برقرار تھی اور منہ پھولا ہوا تھا
حورم نے زیہان کے ماتھے پر بوسہ دینے کی کوشش کی لیکن وہ اسکے ماتھے تک کیا بمشکل اسکی گردن تک پہنچ رہی تھی
زیہان نے مسکراتے ہوے اسے دونوں ہاتھوں سے کمر سے پکڑ کر اوپر اٹھایا
حورم نے شرمندگی سے نظریں جھکا لی اپنے قد کی وجہ سے
زیہان نے اسکا چہرہ بالکل اپنے چہرے کے سامنے کیا
تب حورم نے اپنے نرم لبوں کا لمس اسکی پیشانی پر چھوڑا
زیہان نے واپس اسے اپنے پاوں کے اوپر کھڑا اور جھک کر اسکے ہونٹوں کو اپنی گرفت میں لیا
اور اسکی سانسوں کو قطرہ قطرہ پوری شدت سے اپنے اندر اتارنے لگا
جبکے حورم اسکی گرفت میں قید اسکی جنونیت اور اپنے لیے اسکے پاگل پن کو محسوس کر رہی تھی
زیہان نے کافی دیر اسکے ہونٹوں کو نرمی سے چھوڑا
حورم اپنے پھولے سانس کو ہموار کرنے لگی
زیہان ہمیں گھر جانا چاھیے کافی دیر ہوگی ھے
اپنا گفٹ نہیں لینا زیہان اسکے پیچھے ہٹنے پر بولا
جس پر حورم نے اپنا ہاتھ اگے کیا
زیہان نے صوفے پہ پڑا جیکٹ اٹھایا اور اسکے پوکٹ میں سے ایک بوکس نکالا اور حورم کے ہاتھ میں تھمایا
حورم نے اسے کھولا تو اسکے اندر سے ایک لاکٹ اور ہاتھ کی چین تھی جس میں بلیو کلر کے ڈایمنڈ لگے ہوے تھے
او مای گوڈ یہ کتنا پیارا ھے حورم نے نے انھیں کھولنے کی کوشش کی لیکن وہ کھولے ہی نہیں
جس پر حورم نے ناسمجھی سے زیہان کی طرف دیکھا
زیہان نے حورم کے ہاتھ سے وہ دونوں چیزیں لی
لاکٹ میں ایک کی تھی جس سے اس چین کو کھولا اور برسلیٹ کی کی سے لاکٹ کھولا
یہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر نہیں کھل سکتے ھے
زیہان نے کہتے ہوے اسکے بالوں کو اگے کی طرف کیا اور خود اسکے پیچھے جا کر لاکٹ کو پہنانے لگا
لاکٹ کو ہاتھ کی چین کی ہی کی سے بند کیا اور اسکی گردن پر اپنے لب رکھے
جس پر حورم بس اپنے اپ میں سمٹ کر رہ گی
اب اسے میرے ہاتھ میں باندھوں زیہان نے شرارت سے کہا کیونکہ اس لاکٹ کو اسکے گلے میں باندھ چکا تھا
دور اسکے بغیر وہ برسیلیٹ ٹایپ چین بندھ نہیں ہونا
حورم نے سمجھے بغیر اس چین کو پکڑا
لیکن سمجھ تو اسے اب ای تھی کیونکہ لاکٹ کی کی سے ہی بند ہونا تھا اور اسکے لیے یہ تو اسے اسکا ہاتھ کے اوپر جھکنا پڑتا یہ پھر اسکے ہاتھ کو اپنے گلے تک لے جانا پڑتا
اور یہ دونوں ہی اسے منظور نہیں تھے کیونکہ حورم نایٹ سوٹ میں تھی اور اسکے جھکنے سے اسکے سینے کی تمام تر عرایاں ظاہر ہونی تھی
زیہان حورم نے بے بسی اور غصے سے کہا لیکن زیہان کو جیسے کھ فرق ہی نہ پڑا ہو
جلدی کروں حورم ہمیں گھر بھی جانا ھے ورنہ اگر کسی کو پتہ چل گیا تو کیا ہوگا
حورم نے ہمت کی اور زیہان کا ہاتھ پکڑ اپنے گلے تک لے گی اور جلدی سے اسکا لاک بند کیا
لیکن اتنا سہ ہی کرنے پر حورم کا چہرہ مکمل طور پر سرخ ہو چکا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کے چھ بج رہے تھے جب منیزے لوگ صدیق ہاوس میں پہنچی
انھیں چوکیدار نے ہی بتایا تھا کہ سب صدیق ہاوس گے ھے
منیزے یشفہ اور عبیر اس وقت لاونج میں کھڑے تھے
اور ہلکا ہلکا سہ ہی اندھیرا تھا منیزے نے عیبر کو ہی رکنے کا اشارہ کیا اور خود حورم کے روم کی طرف بڑھی
انہوں نے اندازے سے ہی روم کا دروازہ نوک کیا
روحان جو ابھی سو کر اٹھا تھا اور باہر جانے کا ارادہ رکھتا تھا تاکہ کوی دیکھ نہ لے
لیکن اب اچانک ہوتی دستک پہ روحان ہڑبڑا کر اٹھا اور پورے ہاتھ کو منہ میں ڈال کر ہڑبڑاہٹ میں ڈالی
اتنے میں دستک کی اواز پر پریشے بھی کسمسای
روحان جلدی سے کھڑکی کے پردے کے پیچھے چھپ گیا
اتنے میں پریشے نے نیند میں ہی اٹھ کر دروازہ کھولا
لیکن سامنے منیزے کو دیکھ کر نیند بھک سے اٹھی اور چینخ مار کر منیزے کے گلے لگی
روحان جو ٹیرس سے ہی نیچے اترنے کی کوشش میں لگا ہوا تھا
پریشے کی اتنی بھیانک چینخ پر ہڑبڑاہٹ میں اسکا ہاتھ چھوٹا اور دھرام سے نیچے گرا
زیہان جو جلدی میں پایپ کے ذریعے نیچے اتر رہا تھا ایک دم سے دھڑام کی اواز پر نیچے دیکھا تو روحان الٹا پڑا تھا
زیہان وہی اٹکا کہ اٹکا ہی رہ گیا
تبھی روحان نے اپنی چینخیں دباتے ہوے سیدھا ہوا تو سامنے دیوار پر بندر کی طرح لٹکے زیہان پر نظر پڑتے ہی اسکی چینخ نکلی
عبیر جو لاونج میں بیٹھا ہوا تھا باہر لان میں پہلے دھڑام کی اواز اور پھر کی چینخ کی اواز پر جلدی سے باہر بھاگا
لیکن زمین پر پڑے روحان اور دیوار سے لٹکے زیہان کو دیکھ کر معاملہ سمجھتے ہوے زوردار قہقہہ نکلا
زیہان بھی نیچے اترا اور کھسیانی مسکراہٹ سے دیکھا
روحان بھی کراہتا ہوا اٹھا
تو میری بہن کے روم میں کیا کر رہا تھا زیہان نے اپنی کھسیاہٹ چھپاتے ہوے روحان سے غصے میں پوچھنے کی ایکٹنگ کی
پہلے اپ بتاے اپ میری بہن کے روم میں کیا کر رہے تھے
روحان نے بھی اگے سے سوال اٹھایا اخرکار عزت کا سوال تھا
بیوی ھے میری وہ زیہان نے اپنی شرٹ کے کالر اٹھاتے ہوے کہا
جبکے عبیر ابھی تک اپنے ہنسی پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوے پاکستان اور بھارت کی جنگ دیکھ رہا تھا
ہاں جیسے میری تو وہ ماسی کی بیٹی ھے میری بھی بیوی ہی ھے حد ھے روحان نے اپنے جسم میں بٹھتے درد کو قابو کرتے ہوے کہا
اور بتاو عبیر تم کب اے زیہان نے جلدی سے اگے بڑھ کر عبیر کو گلے لگایا
جسکا اپنی ہنسی روکنے کے چکر میں منہ لال ہوا پڑا تھا
تینوں اندر کی طرف جانے لگے جبھی حورم کی چینخنے کی اواز ای
روحان جو اندر جانے والی دو سیڑھیوں پر چڑھ رہا تھا ایک دفعہ پھر سے چیخنے پر زور سے پھسلا اور اس دفعہ کمر کے بل نیچے گرا
زیہان نے پریشان نظروں سی اوپر کی طرف دیکھا
اور تیزی سے اوپر کی طرف بھاگنے لگا تبھی عبیر نے ہنستے ہوے
زیہان کا ہاتھ پکڑ کر روکا وہ منیزے سے ملی ھے اس وجہ سے چینخی ھے ہادی نے ہنسنے کے درمیان کہا
منیزے کا سن کر زیہان کے چہرے پر مسکراہٹ ای
اور پیچھے مڑ کر روحان کو دیکھا جو بس رونے کی تیاری کر رہا تھا
زیہان نے اگے بڑھ کر اسے اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا جیسے ہی روحان نے ہاتھ پکڑایا زیہان نے ایک جھٹکے سے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا
اور روحان کی رہی سہی ہڈیوں کو بھی توڑ ڈالا
اللہ پوچھے اپکو زیہان بھای کیا کھاتے ھے اپ روحان نے اپنی کمر پر ہاتھ رکھ کر روہانسی اواز میں مسکراتے ہوے زیہان سے پوچھا
زبیر بار بار چینخنے کی اواز پر اپنے کمرے سے باہر نکلا تو سامنے ہادی زیہان اور روحان کو دیکھ کر مسکراتے ہوے اگے بڑھا اور دونوں کو گلے لگایا
اتنے میں کرنل صاحب حمنہ بیگم اور سارہ بیگم بھی اپنے کمرے سے باہر نکل کر اگی اور انکے پیچھے ہی صدیق صاحب اگے
اور پریشان نظروں سے ان چاروں کی طرف دیکھا
اتنے میں اوپر سے منیزے یشفہ حورم اورپریشے مسکراتے ہے نیچے اترتی ہوی ای
جبکے زبیر کی نظریں تو اس پری پیکر چہرے پر ہی اٹک گی
سیم منیزے جیسی ڈریسنگ انگلیوں کو موڑتے ہوے اور چہرے پر ڈر اور گھبراہٹ کے تاثرات صاف نظر ا رہے تھے
زبیر نے جلدی سے اپنی نظروں کا زاویہ موڑا
جبکے منیزے کو دیکھ کر سب کے چہرے کھل گے منیزے سب سے پہلے کرنل صاحب کی طرف ای جنکی انکھوں میں انسو ا چکے تھے
پھر زیہان کی طرف بڑھی زیہان نے سیدھے کھڑے ہو کر منیزے کو فوجی سٹایل میں سیلیوٹ مارا
سب نے ناسمجھی سے زیہان کی طرف دیکھا
ویلکم ہون ڈاکٹر کیپٹن منیزے حیدر شاہ زیہان نے فخر سے اس سے کہا
تھینک یو سر منیزے نم انکھوں سے زیہان کے گلے لگی
جبکے باقی سب منہ پھاڑ کر دیکھ رہے تھے
تبھی منیزے ٹوٹی ہڈیوں سمیت کھڑے روحان کی طرف ای اور اسکے گلے لگی اور اتنی زور سے اسے بھینچا
میرا بھای کیسا ھے منیزے نے پیار سے روحان کے بال بکھیر کر پوچھا
جبکے روحان کی تو درد کی وجہ سے اواز ہی نہیں نکلی
اور وہی صوفے پر گر گیا سب نے ہنستے ہوے روحان کو دیکھا وہ سب تو روحان کی ایکٹنگ سمجھ رہے تھے
لیکن اصلیت تو ہادی اور زیہان کو پتہ تھی
ہادی کا ایک بار پھر سے چھت پھاڑ قہقہہ نکلا
تبھی منیزے زبیر کی طرف ای اور اسکے سامنے اپنا سر جھکایا زیبر نے شفقت سے اسکے سر پر ہاتھ رکھا اور خوش رہنے کی دعا دی
پھر حمنہ بیگم سے ملی اور سبکو اپنی دوست یشفہ سے ملوایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کا وقت ہو گیا تھا اور اس وقت سب بڑے چھوٹے لاونج میں بیٹھے ہوی تھے
تبھی کرنل صاحب نے اپنی بات کا اغاز کیا
بچوں ہم سب نے فیصلہ کیا ھے کہ اپ تم سب کی رخصتی کر دی جاے
روحان سب درد بھلا کر سیدھا ہو کر بیٹھا
تو ٹھیک ایک ہفتے بعد منیزے اور ہادی کی رخصتی اور اس سے اگلے دن زیہان اور حورم کے ساتھ انکا ولیمہ ہو گا
کرنل صاحب نے اپنا فیصلہ سنایا تو ہادی اور زیہان دل ہی دل میں بے حد خوش ہو گے
لیکن پھر بھی شریف بن کر بیٹھے رہے
روحان جو اپنا نام سننے کے لیے بے تاب ایک دم جھٹکے سے سب کی طرف دیکھا لیکن کسی نے روحان کی طرف دھیان ہی نہیں دیا
روحان نے پاس بیٹھی حورم کو کہنی ماری
حورم نے غصے سے حورم کی طرف دیکھا
لیکن اسکی رونی شکل پر نظر پڑتے ہی حورم کو غصہ ایک دم سے اڑن چھو ہو گیا
کیا ہوا روحان حورم نے پیار سے اس سے پوچھا حورم کو لگا شاید اسے درد ہو رہا ھے یہ پھر کوی سیریس بات ہو گی
حورم دیکھو نہ یہ میری رخصتی کی بات تو کر ہی نہیں رھے تم نانو سے بات کروں نہ
روحان نے جس انداز سے کہا حورم کا دل کیا اسکا سر پھاڑ دے
نانو روحان کہہ رہا ھے کہ کوی اسکی رخصتی کی بھی بات کر دے
حورم کے اس طرح کہنے پر سب نے اپنی مسکراہٹ چھپای
اور روحان نے تو باقاعدہ حورم ک حجاب کے کونے کو پکڑ کر منہ میں ڈال کر چبانا بھی شروع کر دے اور شرمانے کی کوی انتہای بھدی ایکٹنگ کی حورم کے مطابق
ہاں اسکی بھی رخصتی کی بھی بات کریں گے لیکن اب تین تین شادیاں ایک ساتھ تو نہیں کریں گے نہ
اسی لیے ہم نے سوچا ھے کہ تمھاری ایک سال تک رخصتی کریں گے کرنل صاحب نے اتنے سیریس انداز سے کہا کہ روحان اگے سے کچھ بھی نہیں کہہ سکا
کرنل صاحب کے کہتے ہی روحان نے اپنے نادیدہ انسو صاف کیے لیکن کسی کچھ فرق نہیں پڑا
سب نے ٹیڑھی انکھوں سے روحان کو دیکھا اور اپنی مسکراہٹ چھپای
روحان نے زیہان اور ہادی کی طرف دیکھا جو خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے
پھر منیزے اور حورم کو دیکھا جو حمنہ بیگم کے ساتھ کسی رازو نیاز میں لگی ہوی تھی
روحان نے زبیر کے ساتھ بیٹھی پریشے کو دیکھا لیکن وہ شرمای شرمای سی مسکراہٹ لے کر اس سے بات کر رہی تھی
ابھی ہماری رخصتی کی بات ہوی نہیں ھے اس نے شرمانا پہلے شروع کر دیا اور جنہیں شرمانا چاھیے وہ اپنی شادیوں کی تیاری میں ابھی سے لگی ہوی ھے
روحان کے دماغ میں ان سب کو مگن دیکھ کر ایک شرارت سوجھی جس پر ورک کرنے کا اسکا سو فیصد ارادہ تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پریشے کافی زیادہ لیٹ اپنے کمرے میں ای تھی
اج بھی ان سب نے سارہ اور حمنہ بیگم کے بے حد اصرار پر صدیق ہاوس رکنے کا ہی ارادہ کیا تھا
پریشے اپنے کمرے میں ای تو اسکا پورا کمرہ پورے اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا
پریشے نے جیسے ہی سویچ اون کیا پورا کمرہ ایک دم روشنی سے بھر گیا
اور کافی زیادہ کلر لایٹس کمرے کے ماحول کو فسوں خیز بنا رہی تھی
اور پورا کمرہ پھولوں سے اور غباروں سے بھرا پڑا تھا
اور کالین کے اوپر ٹیبل رکھا ہوا جس پہ کیک رکھا ہوا تھا
اور اسی ٹیبل پر کافی زیادہ گفٹس رکھے ہوے تھے
پریشے ایک ٹرانس کی کیفیت میں اگے بڑھی تبھی پیچھے سے غبارہ پھٹنےکی اواز ای اور اسکے ساتھ ہی اسکے اوپر گلاب کے پھول کی پتیا گرنا شروع ہوگی
پریشے نے مسکراتے ہوے روحان کو دیکھا
روحان نے اگے بڑھ کر پریشے کا ہاتھ تھاما اور اگے کی طرف بڑھا
پریشے نے اور روحان نے مل کر کیک کاٹا پریشے اتنے زیادہ گفٹس دیکھ کر مسکرای پھر انھیں صبح کھولنے کا ارادہ کیا
پری روحان نے جزبات سے چور اواز میں کہا اور ہاتھ بڑھا کر اسکے بالوں کی لٹ کو پیچھے کیا
اسکی گھمبیر اواز پر پریشے کا دل زور زور سے دھڑکنا شروع ہو گیا اتنا کہ ایسے لگ رہا تھا جیسے دل ابھی سینا توڑ کر باہر ا جاے گا
ہاں پریشے نے اہستہ سی اوازمیں کہا انکھیں شرم سے جھک گی جب اسکا ہاتھ اپنی کمر پر سرسراتا ہوا محسوس ہوا
یار یہاں کمر میں بہت درد ہو رہا ھے دبادوں روحان پریشے کی شرم سے جھکی نظروں کو دیکھتے ہوا کہا
روحان نے اسکی کمر کے اس حصے پر ہاتھ رکھ کر بتایا جہاں اسکی درد ہو رہا تھا
پریشے جو یہ سمجھ رہی تھی کو وہ پیار بھرے لفظ بولے گا
لیکن بولا بھی تو کیا شرم ایک دم سے پر لگا کر اڑ گی
لیکن یار تم اتنا بلش کیوں کر رہی تھی روحان نے معصومیت سے پوچھا
تم ہو اسی قابل کمینے انسان پریشے نے اپنا مزاق بناے جانے پر روحان کو پیچھے کی طرف دھکا دیا
اور روحان ایک بار پھر سے زمین سے گلے ملا
ہاے میری کمر ٹوٹ گی روحان نے اپنی کمر کو پکڑتے ہوے دہای دی
پریشے نے اسکی دہای کو اگنور کیا اور ایک ادا سے اسکے اوپر سے گزری اور اپنے سارے گفٹس کبرڈ میں رکھنے لگی
روحان بمشکل کھڑا ہوا اور پری کی طرف بڑھا لیکن پری اسے مسلسل اگنور کرکے اپنے کام میں لگی ہوی تھی
روحان نے پریشے کے چہرے کو ایک جھٹکے سے اپنے ہاتھوں میں بھرا اور اسکے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے
نرمی سے اسکے لبوں کو چھوڑا اور پریشے کے کچھ بھی سمجھنے سے پہلے کمرے سے ہی بھا گ گیا
پیچھے سے پریشے بس دانت پیستی ہی رہ گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر طرف شادی کی تیاریاں چل رہی تھی
بازاروں کے چکر پہ چکر لگ رہے تھے روحان کی دن رات محنت نے صدیق ولا کو جگمگا دیا پورے صدیق ہاوس کو برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا
زبیر نے بھی اپنی طرف سے کوی کمی نہیں چھوڑی تھی اگر کوی چیز اسے تنگ کر رہی تھی تو وہ تھی یشفہ کا کنفیوز گھبراہٹ والا چہرہ جو نہ رات کو اسے سونے دیتا نہ دن میں کوی کام کرنے دیتا
لیکن اسنے اپنے گھر کوی پوری طرح سے ڈیکوریٹ کیا تھا
ہر چیز پریشے کے پسند کی تھی لیکن ایک بات تھی جو ان سب نے روحان س چھپای تھی حالانکہ پریشے کو پتہ تھا کہ اسکی رخصتی ہونی ھے
لیکن اس دن روحان کو اتنا خوش دیکھ کر کرنل صاحب کے دماغ میں کھجلی ہوی جس میں سب نے بھر پور ساتھ دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ ہاوس میں تو جیسے بہار اتر گی ہو کرنل صاحب کی دوڑیں لگی ہوی تھی
اخر کار دو دو بیٹوں کی شادی تھی عبیر اور زیہان نے مل کر اپنے گھر کو سجایا اور خاص طور پہ اپنے کمروں کو ![]()
دونوں کی خوشی کا کوی ٹھکانہ نہیں تھا زیہان کو بس ایک ہی بات کا غم تھا کہ اسکی بہن اسکے گھر سے رخصت نہیں ہوی ھے
لیکن وہ یہ بات بھی جانتا تھا کہ پری پر اس سے زیادہ زبیر کا حق ھے اسی لیے خاموش ہو گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اج وہ دن بھی ا گیا جس کا سب کو بے صبری سے انتظار تھا
اج منیزے اور پریشے کی رخصتی تھی انہوں نے ایک ساتھ ہی منیزے اور حور کو پارلر میں ریڈی ہونے کے لیے بھیجا تھا
اور اگلے دن سب کا ولیمہ ہونا تھا
ماما نے شیروانی تو ایسے لا کر دی ھے جیسے دلہا میں میں ہی ہو
روحان نے شیروانی کو پہنتے ہوے برا سہ منہ بنایا
اتنے میں حمنہ بیگم اسکے کمرے میں داخل ہوی
روحان تم ابھی تیار نہیں ہوے حد ھے مطلب منیزے اور حورم پارلر جا چکی ھے انھیں کون لاے گا
حمنہ بیگم اس عرصے میں سب سے اتنا گھل مل گی کہ اپنا سب درد بھول گی
گھر کے سارے بچے انھیں ماما کہہ کر بلاتے تھے
اور یشفہ تو رات میں منیزے کی بجاے حمنہ بیگم کے پاس سوتی تھی
وہ حمنہ بیگم سے اپنی ماں کا پیار وصول کر رہی تھی
ماما اپ لوگوں نے مجھے شیروانی تو اس طرح لا کر دی ھے جیسے سب بڑا دلہا میں ہی ہو
روحان کے رونے والے انداز میں کہنے پر حمنہ بیگم نے اپنی ہنسی چھپای
روحان ایسے نہیں کہتے سب لڑکوں اور لڑکیوں کے کپڑے سیم ہی ھیں نہ بس اج کے دن میری حورم اور سارہ کے کپڑے الگ ہونگے
واہ ماما کیا طریقہ ھے اپنے اپ کو لڑکی کہنے کا روحان نے شرارت سے حمنہ بیگم کو چھیڑا
جن پر وہ بس بلش کر ہی رہ گی اور روحان کے کندھے پر دھموچا رسید کیا
چلو جاو ٹایم ہو گیا ھے منو اور حور کو لے کر اوں حمنہ بیگم نے اس کمرے سے باہر دھکا دیتے ہوے کہا
روحان بھی منہ بنا کر نکل گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام ہونے کو ای تھی بارات بھی ابھی ابھی ای تھی
لیکن حورم منیزے اور روحان کا کوی اتہ پتہ نہیں تھا
ابھی تک یہ بات کسی کو پتہ نہیں تھا
لیکن کب تک سب پوچھنے لگے اخر دلہن کہاں ھے
ہادی بھی پریشانی سے حمنہ بیگم کی طرف ایا
کیا ہوا ماما منیزے کدھر ھے ہادی نے بے تابی سے پوچھا اتنے میں زیہان بھی ا گیا اسکا بھی وہی سوال تھا
تین گھنٹے ہونے والے ھے لیکن روحان ابھی تک ان دونوں کو لے کر نہیں ایا
سارے حمنہ بیگم کے اردگرد کھڑے ہو گے لیکن کسی کے سوال کا جواب انھیں نہیں پتہ تھا
یہ سب اس ارمان کی چال ھیں زیہان انتہای غصے سے بولا اتنا کہ ایسا لگ رہا تھا جیسے اسکی انکھوں میں خون اتر گیا ہو اور ہادی کو اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا
زیہان کی سرخ انکھیں ہادی کے چہرے کے پتھریلے تاثرات کو دیکھ کر کسی کی بھی کچھ کہنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی
یشفہ نے تو باقاعدہ رونا شروع کر دیا تھا
تبھی زیہان کے موبایل کی رنگ ٹون بجی
زیہان نے انجان نمبر دیکھ کر جلدی سے کال اٹھای
اور کال کو سپیکر پر ڈالا
اپنی بیوی اور بہن کی سلامتی چاھتے ہو تو میری شرط کو ارام سے مان جاو
سب لوگ کنفیوز ہو کر پریشانی سے اس اواز کو پہچاننے کی کوشش کر ررہے تھے
جبکے زیہان کو اواز پہچاننے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگا
ٹھیک ھے تم ان دونوں کو رکھو اپنے پاس ہی ہمیں نہیں چاھیے وہ دونوں
زیہان نے کہا اور کال کٹ کر دی
سب لوگ حیرت سے زیہان کی طرف دیکھنے لگے
جبکے ہادی بھی ساری بات سمجھ چکا تھا
تبھی زیہان کے فون کی پھر سے رنگ ٹون بجی اور اس مرتبہ وڈیو کالنگ تھی
سب سے پہلے جو چہرہ نظر ایا وہ کالے ماسک میں چھپا ہوا تھا اور انکھوں پر گلاسس لگای ہوی تھی
کیسے انسان ہو اپ اپنی بیوی اور بہن کی کوی پروا ہی نہیں ھے
اگلے بندے نے دکھ اور افسوس سے کہا
تمھیں کیا کرنا ھے جان کر پروا ھے یہ نہیں تو ان دونوں کو اپنے پاس ہی رکھ زیہان لا پرواہی سے بولا
جبکے باقی ابھی حیرت سے گنگ زیہان کی طرف دیکھ رہے تھے
زیہان بھای شرم کروں ویسے تو بڑا کہتے ہو اب کیا ہوا
روحان نے اپنا ماسک وغیرہ غصے سے پھیکنتے ہوے کہا
جبکے سب نے حیرت اور غصے سے سکرین سے نظر اتے روحان کو گھورا
لیکن اب لوگ بھی یہ بات یاد رکھ لو جب تک میری شرط نہیں مانی جاے گی تب تک میں ان دونوں کو واپس نہیں لاوں گا
زیہان نے کیمرہ کا رخ منیزے اور حورم کی طرف کیا
جو مزے سے بیڈ پر بیٹھ کر لیز کھا رہی تھی
روحان بچیوں کو لے کر ا جا ہم تمھاری شرط ماننے کو تیار ھے
کرنل صاحب نے زیہان سے فون پکڑتے ہوے روحان سے کہا
جس پر روحان کا چہرہ خوشی سے کھل گیا
اب اپنی شرط بتاو کرنل صاحب نے روحان سے اسکی شرط پوچھی
وہ میری بھی اج ہی رخصتی کر وادے روحان نے شرماتے ہوے کہا
پیچھے کمرے میں بیٹھی پریشے نے باقاعدہ اپنا سر ہی پیٹ لیا اتنا نکمہ شوہر ملنے پر کیونکہ وہاں تک روحان کی اواز صاف سنای دے رہی تھی
کیونکہ حال میں اس وقت بالکل خاموشی ہی خاموشی تھی
روحان کے شرما کر کہنے پر سب کا چھت پھاڑ قہقہہ نکلا
اور روحان نے جلدی سے کال کٹ اور دونوں کو اپنے پیچھے انے کا اشارہ کیا
جس پر دونوں نے ہی برا منہ بنایا
کتنا مزا ایا نہ حورم کڈنیپ ہونے کا منیزے نے ہنستے ہوے کہا
جبکے ایک پل کے لیے تو حورم کا چہرہ سفید پڑ گیا لیکن پھر جلدی سے مسکراتے ہوے ہنس کر بولی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روحان جب وہاں پہنچا تو سب کی گھوریوں نے اسکا استقبال کیا
لیکن روحان نے سب کو اگنور کیا
ایک ہاتھ میں منیزے کا ہاتھ تھامے اور جبکے منیزے کی دوسری طرف حورم نے منیزے کا دوسرا ہاتھ تھاما ہوا تھا
کسی سے بھی نہ گھبرانے والی منیزے اج دلہن کے روپ میں گھبرای گھبرای سی لگ رہی تھی چہرے پر جالی دار گھونگٹ گرایا ہوا تھا جس میں اسکا چہرہ بالکل بھی نظر نہیں ا رہا تھا
روحان نے منیزے کا ہاتھ ہادی کے ہاتھ پکڑایا اور خود سٹیج پہ چڑھ کر پریشے کا ویٹ کرنے لگا
تھوڑی ہی دیر بعد پریشے برایڈل ڈریس میں میں حورم اور یشفہ کے ساتھ باہر نکلی
ارے اتنی جلدی پری کے لیے برایڈل ڈریس بھی اگیا کیا میرےگھر والوں نے تو بہت ترقی کر لی ھے
روحان پریشے کو دیکھ کر منہ میں ہی بڑبڑایا لیکن وہ اسکا چہرہ نہیں دیکھ سکا کیونکہ اتنا لمبا گھونگٹ جو گرایا ہوا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب رسموں کے ہو جانے کے بعد بارات گھر کے لیے روانہ ہوی پھر دو تین وہاں رسم ہوی پھر دلہنوں کو انکے کمروں میں پہنچایا گیا
ہادی اور منیزے کے ساتھ یشفہ اور حمنہ بیگم ای تھی
یشفہ پورا دن زبیر کی گہری نظروں کے حصار میں رہی تھی
اسکی نظروں سے ایک انوکھا سہ احساس یشفہ کو محسوس ہوتا جو اج سے پہلے کبھی محسوس نہیں کیا
پریشے کو جیسے ہی کمرے میں بٹھایا گیا
حورم کافی دیر اسکے پاس بیٹھی رہی پھر اسے کھانا کھلا کر چلے گی
اور روحان کو اسکے بزنس پارٹنرز نے جان بوجھ کر گھیر رکھا تھا
پریشے اتنی تھکی ہوی تھی وہی بیٹھی بیٹھی سو گی
روحان جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا اس لگا وہ شرمای گھبرای اسکا انتظار کرتی ہوی نظر اے گی
لیکن یہ کیا پری میڈم تو بیڈ پر ارام سے پیچھے کی طرف ٹیک لگا کر سوی ہوی تھی
روحان اسکے پاس بیٹھا کافی دیر تک اس خوبصورت چہرے کو تکتا رہا پھر اسکا ہاتھ پکڑ اہستہ اسکی ساری چوڑیاں اتاری اور اسکے ہاتھ میں بریسلیٹ پہنایا
اور اہستہ سے اس پر اپنے لب رکھے
روحان کی شیو کی چھبن سے پریشے نے عجیب سے احساس کے تحت انکھیں کھولی
اور اپنے اتنے نزدیک بیٹھے روحان کو دیکھ کر ہڑبڑا کر سیدھی ہو کر بیٹھی
کیسی ہو روحان نے ابھی تک اسکا ہاتھ پکڑا ہوا تھا
ٹھیک ہو اپ بتاو پریشے کو پتہ نہیں کیوں روحان سے اتنی شرم ارہی تھی
اپ سنتے ہی روحان کو ایکدم سے کھانسی کا دورہ پڑا
پری نے پریشانی سے روحان کی طرف دیکھا
کیا ہوا پری نے روحان سے پوچھا
نہیں وہ اپ کہنے پڑا تھوڑا سہ دھچکا لگا شاید غلطی سے نکل گیا ہوگا
روحان نے اپنی بات کا خود ہی جواب دیتے ہوے کہا
جبکے پری اسے کیا بتاتی کہ سارہ بیگم اور حمنہ بیگم نے سختی سے تینوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ اپنے اپنے شوہر سے اپ کہہ کر بات کریں گی
اور اگر کسی کے منہ سے انہوں نے تم سن لیا نہ تو اسکی خیر نہیں ھے
نہیں ایسی بات نہیں ھے پریشے نے نہایت تمیز سے جواب دیا
روحان نے اچھنبے سے پری کو دیکھا جو اج سچ مچ کی پری لگ رہی تھی لیکن وہ روحان ہی کیا جو سیدھے طریقے سے تعریف کردے
ویسے جس نے بھی میک اپ بنایا ھے اس نے کمال کا بنایا ھے
پریشے نے ناسمجھی سے دیکھا
مطلب دیکھو کوی بھی کالے پیلے رنگ والی موٹی ناک والی بسوڑے جیسی منہ والی کو کم از کم لڑکی کو بنا ہی سکتے ھے
اب اپنی مثال لے لوں روحان نے پریشے کے خوبصورت چہرے کی طرف اشارہ کیا
پری نے بات کو سمجھتے ہوے انتہای غصے سے روحان کی طرف دیکھا
کمینے انسان تم اس قابل ہی نہیں ہو کہ تمھیں تمیز سے بلایا جاے گدھے کہی کہ
پریشے نے اپنا لہنگا سمبھالا اور بیڈ سے کھڑی ہوی اور کبرڈ سے اپنے کپڑے نکالے اور واش روم میں گھس گی
روحان نے مسکراتے ہوے کبرڈ سے اپنے کپڑے نکالے اور ڈریسنگ روم میں جا کرچینج کرکے واپس ایا اور لایٹ بند کرکے ایک سایڈ پر لیٹ گیا
پریشے کافی دیر بعد باہر ای لیکن غصہ کسی طور پر کم نہیں ہو رہا تھا
لایٹ بند دیکھ کر تھوڑا سکون ہوا اور بیڈ پر جاکر لیٹ گی
اور انکھیں بند کرکے سونے کی کوشش کرنے لگی
صبح کی تھکی ہوی تھی اسی لیے نیند سے پلکیں بھاری ہونے لگی
تبھی پریشے کو ایسا محسوس ہوا جیسے پیچھے سے اسکی قمیض کی زپ کھل رہی ہو
نیند بھک سے اڑ گی اور جلدی سے سیدھی ہوکر دوسری طرف دیکھا
تو روحان انکھوں میں خمار لیے اسی کی طرف دیکھ رہا تھا
کیا لگا بیوی اتنے ارام سے سونے دونگا روحان نے اسکے بالوں کو سایڈ پر کیا اور خود اسکے اوپر جھک کر مکمل طور پر اسے اپنے حصار میں لیا
جبکے پریشے کی زبان جیسے گنگ ہی ہوگی اور انکھیں پھاڑ کر اسے دیکھنے لگی
ایسے کیا دیکھ رہی ہو نظر لگاو گی کیا روحان نے شرارت سے پریشے کی کھلی کیا پھٹی انکھوں کو دیکھتے ہوے کہا
اور جھک کر اسکی انکھوں پر اپنے لب رکھ گیا
پھر اسکے لبوں پر گال رکھے
روحان نے سر اٹھا کر کافی دیر تک اسکی بند انکھوں کو دیکھا
لیکن اسکی پلکوں میں کوی جنبش تک نہیں ہور ہی تھی
پری روحان نے اہستہ سے اسکے کان کے پاس سرگوشی کی لیکن کوی جواب نہیں ایا
روحان کا شک یقین میں بدل چکا تھا کہ پریشے سو چکی ھیں
روحان نے گہری سانس بھری اسکے اوپر سے اترا اور سایڈ پر ہوکر لیٹ گیا
ایک نظر پری کو دیکھا جو ارام سکون سے سو رہی تھی
روحان نے اہستہ سے اسکا سر اٹھا کر اپنی بازو پر رکھا
اور اپنا دوسرا ہاتھ اسکی کمر میں رکھا اور اسے مکمل طور پر اپنے حصار میں لے کر سونے کی کوشش کرنے لگا
جو کہ ناممکن سہ تھا لیکن پتہ نہیں رات کے کس پہر اسکی انکھ لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منیزے کو جیسے ہی ہادی کے کمرے میں پنچایا
منیزے جلدی سے بیڈ سے اٹھی اور اپنے زیور وغیرہ اتارنے لگی
ان سب سے فارغ ہو کر جلدی سے واش روم میں گھسی
اپنے کپڑے چینج کیے بلیو جینز اور وایٹ شرٹ پہنی اور میک اپ وغیرہ صاف کیا
ان سب سے فارغ ہو کر واش روم سے باہر ای اور اپنی کامیابی سے دل سے مسکرای کاپی اٹھای اور اس پر پینسل سے کچھ لکھا اور دسے بیڈ پر رکھا لایٹ کو بند کیا اور کھڑکی کی طرف بڑھی اسے کھول کر باہر دیکھا
باہر فل اندھیراا تھا اور مہمان کوی نہیں تھا
منیزے کھڑکی کے ذریعے بنا اواز پیدا کیے اتری لاونج میں سے ہادی کی اور زیہان اور کافی زیادہ لوگوں کی اوازیں ا رہی تھی
مطلب ابھی اسکے پاس بھاگنے کے لیے ٹایم تھا
منیزے دبے قدموں سے پیچھے کی طرف گی
دیوار پھلانگی تو وہاں اسکی کار کھڑی تھی جسے اسنے روحان سے کہہ کر کھڑا کروای تھی
جلدی سے بیٹھ کر گاڑی ایک ہوٹل کی طرف بڑھا دی
ہادی نے بمشکل ہی اپنی جان چھڑوای اور اپنے کمرے کی طرف ایا
ورنہ نہ تو کرنل صاحب اپنے پاس سے زیہان کو اٹھنے دے رہے تھے کیونکہ انھیں شک تھا زیہان سیدھا حورم کے پاس جاے گا
اسی لیے زیہان اور عبیر کے کچھ دوستوں نے اسے اٹھنے ہی نہیں دیا
ہادی اپنے کمرے میں ایا تو کمرے کی لایٹ اف تھی
اوہ ہو منیزے اج مجھ سے اتنا شرما رہی ھیں ہادی خود سے ہی کہتا ہوا لایٹ ان کرنے لگا
لیکن یہ کمرے میں کوی نہیں تھا
شاید واش روم میں ہو ہادی نے جیسے خود کو ہی تسلی دی
کافی دیر بعد بھی واش روم سے نہ تو کوی اواز ای نہ ہی کوی باہر ایا
ہادی نے منیزے کو اواز لگای لیکن کوی جواب نہیں ایا
ہادی نے واش روم کھول کر دیکھا تو وہاں منیزے کا نام و نشان تک نہیں تھا
بلکہ سامنے اسکا لہنگا وغیرہ رکھا ہوا تھا
ہادی پریشانی سے باہر ایا تبھی بیڈ پہ رکھی چٹ پر نظر پڑی
ہادی نے جلدی سے لپک کر اسے پکڑا
خود کو بہت بڑے ہیکر سمجھتے ہوی دیکھتے ہیں مجھے ڈھونڈ پاتے ہو یہ نہیں تمھاری پیاری سی بیوی………
ہادی نے مسکراتے ہوے پہلے اپنے کپڑے چینج کیے اور کھڑکی سے کودا اوراسکی لوکیشن کو ٹریس کیا
یہ اس کے لیے بالکل بھی مشکل نہیں تھا
کیونکہ منیزے کی انگھوٹھی میں ٹریسر لگا ہوا تھا
دس منٹ بعد وہ ہوٹل کے سامنے کھڑا تھا
اسکی لوکیشن کے مطابق اس روم کا دروازہ نوک کیا
منیزے نے روم کھول کر ہادی کو داد دیتی نظروں سے دیکھا
اور اندر کمرے میں داخل بالکل ایسے ہی جیسے ہادی نے منیزے کے برتھ کے لیے ڈیکوریٹ کیا ٹھیک اسی طرح سے منیزے نے ہادی کے لیے ڈیکوریٹ کیا تھا
ہیپی برتھ ڈے ماے سویٹ ہبی منیزے نے ایک انگلی پہ ہلکا سہ کیک لگایا
اور ہادی کے گال پہ لگایا پھر ہادی کو گلے سے پکڑ اپنی طرف کھینچا اتنا کہ ہادی کا چہرہ بالکل اسکے چہرے کے سامنے ا گیااور پھر اسی جگہ پہ اپنے ہونٹ رکھے اور پیچھے ہوی
نوٹ فٸیر بے بی میں نے ایسا تو نہیں کیا تھا خیر کوی بات نہیں
چلو میں سکھا دیتا ہو ہادی نے ہلکی سی کریم ایک بار پھر اسکے ہونٹوں پر لگای
ہادی تمھارا گفٹ منیزے نے اسے جھکتے دیکھ کر اسکا دھیان گفٹ کی طرف کروایا
میرا سب سے بڑا گفٹ تم ہی ہو کہتے ساتھ ہی ہادی منیزے کے لبوں پر جھک گیا
اور اسے اپنی گود میں اٹھا کر بیڈ کر طرف بڑھا
ہادی نے اسے بیڈ پر لٹایا اور پوری شدت کے ساتھ اسکے گلے میں جھکا اور جگہ جگہ اپنا لمس چھوڑنے لگا
ہا۔۔ہادی م۔مجھے ڈر لگ رہا ھے منیزے اسکی بڑھتی گستاخیوں سے ڈر کر بولی
میں پوری کوشش کروں گا تمھیں زیادہ ڈرانے ہادی نے کہتے ساتھ ہی اسکے دل کے مقام پر اپنے لب رکھے
جس سے منیزے کے پورے بدن میں سنسنی دوڑ گی
منیزے نے سختی سے انکھیں بند کرکے اسکے شرٹ کے گلے کو مضبوطی سے پکڑا
ہادی نے اسکے ہاتھوں کو پکڑ کر بیڈ سے لگایا اور اسکی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنسای
جیسے جیسے رات گزر رہی تھی ہادی کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا
جو منیزے کی سانسوں کو روکنے کی لیے کافی تھا۔
