Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419 Power of Love Episode 40
Rate this Novel
Power of Love Episode 40
Power of Love by Afzonia Zafar
زیہان نے اہستہ سے کھڑکی کھولی اور اندر داخل ہوا
کبھی سوچا نہیں تھا کہ اپنی بیوی سے اس طرح چوروں کی طرح ملنا پڑے گا
زیہان منہ ہی منہ میں بڑبڑایا اور حورم کو دیکھا جوپورے بیڈ پر پھیل کر لیٹی ہوی تھی
زیہان نے اپنے جزباتوں کو کنڑول کیا اور پورے کمرے کی تلاشی لینے لگا
پورہ کمرہ چھان لیا لیکن اسے کچھ بھی نہیں ملا جو حورم ہونے کا ثبوت دے
تبھی زیہان کی نظر حورم کے تکیے کے نیچے پڑی ڈایری پر پڑی
زیہان نے اہستہ سے اسکے تکیے کے نیچے کے ڈایری نکالی
اور وہی سامنے والے صوفے پر بیٹھ کر ڈایری کھول کر پڑھنے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پتہ نہیں یہ خواب میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑتے ھے
مجھے بہت سی عجیب ملی جھلی اوازیں سنای دیتی ھے یکن کچھ صاف نہیں ہوتی ھے
کچھ چہرے نظر اتے ھے جو پہلے تو صاف نظر نہیں اتے تھے لیکن اب صاف نظر انے لگتے ھے مجھے لگتا ھے میں ان چہروں کو پہچان لوں گی
لیکن صبح ہوتے ہی مجھے وہ چہرے بھول جاتے ھے صرف ایک ہی چہرہ یاد رہتا ھے
ایک نیکلیس جو پتہ نہیں کب سے میرے گلے میں ھے کیوں ھے کہاں سے ایا مجھے کچھ نہیں پتا ماما سے پوچھتی ہو تو وہ کہتی ھے کہ میرے پاپا نے مجھے گفٹ دیا
لیکن میں ان پر شک نہیں کرنا چاہتی لیکن مجھے اس سب پر یقین نہیں اتا
میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا راتوں کو سو نہیں پاتی ہو میں ۔۔۔۔۔۔
پیج پر کافی زیادہ انسو سوکھ ہوے تھے جسکا صاف مطلب تھا وہ روتے ہوے لکھ رہی تھی
زیہان نے پچھلے باقی سارے پیج پڑھ لیے تھے لیکن وہ سب حمنہ بیگم اور ویرا کے پیار اور محبتوں کے قصوں سے ہی بھرے پڑے تھے
زیہان نے پیج کو پڑھنے کے بعد اگے والا پیج پلٹا لیکن اگے بنی تصویر کو حیرت سے دیکھا وہ کسی اور کی نہیں وہ منیزے کی تھی
جو بالکل صاف بنی ہوی تھی
زیہان نے دوسرا پیج کھولا لیکن ان تصویروں کی کچھ خاص سمجھ نہیں ا رہی تھی کیونکہ وہ بہت دھندلی تھی
زیہان نے ٹیبل پہ پڑی پینسل اٹھای اور اور انکو ڈارک کرنے لگا کیونکہ وہ ایک بہت اچھا سکیچر بھی تھا
روحان نے حورم کے بناے ہوے نقوشوں کو ڈارک کرکے دیکھا تو الموسٹ روحان کی پک تھی
ایسی بہت سی تصویریں اگے بنی ہوی تھی جن میں کافی زیادہ زیہان کی بھی تھی
لیکن زیہان نے اسے ڈارک نہیں کیا کیونکہ ٹایم کافی زیادہ ہوگیا
زیہان نے اٹھ کر وہ ڈایری اسکے تکیے کے نیچے واپس رکھی
اور اسکے ماتھے پر بوسہ دیا
حورم دیکھنا بہت جلد تمھاری یادداشت واپس اجاے گی بہت جلد میں تمھیں اپنے پاس لے جاوں گا جہاں صرف تم اور میں ہو
زیہان نے اہستہ سے اسکے کان میں سرگوشی کی اسکی پلکوں میں جنبش دیکھ کر جلدی سے کھڑی کی طرف بڑھا اور جیسے ایا تھا بنا اواز کیے ویسے ہی واپس چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منیزے اٹھو جلدی یشفہ کے چینخ کر کہنے پر منیزے ہڑبڑا کر اٹھی
کونسی قیامت اگی ھے صبح صبح منیزے نے انکھ کھول کر صیح سلامت گھر کو دیکھ کر کہی گھر تو نہیں اڑ گیا جو یشفہ اتنا چلا رہی ھے
ارے قیامت تو ای ھے لیکن ہینڈسم والی یشفہ بالکل اسکے پاس بیٹھتے ہوے بولی
کیا بکواس کر رہی ھو یشفہ منیزے نے یشفہ کی بات پر گھور کر دیکھا
ارے مطلب حیدر شاہ اج ہماری یونی میں ا رہے ھے یشفہ خوشی کی انتہا کراس کرتے ہوے بولی
اسکے کہنے پر منیزے کے دل کی دھڑکن ایکدم سے تیز ہوی اور دو دن پہلے کا منظر اسکی انکھوں کے سامنے لہرایا لیکن پھر اپنے اپکو نارمل کرتے ہوے بولی
تو میں کیا کروں اور پیچھے ہٹوں مجھے یونی کے لیےتیار ہونا ھے
منیزے نے یشفہ کو پیچھے ہٹایا اور خود واش روم میں گھس گی
پتہ نہیں یہ لڑکی اتنی فیلنگ لیس کیوں ھے اسکے اتنے ٹھنڈے ری ایکشن پر برا سہ منہ بنا کر بولی اور جلدی سے ریڈی ہونے کے لیے اپنے کمرے کی طرف بھاگی
کیونکہ اج حیدر شاہ سے جو ملنا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں اپنی کلاس میں پہنچی تو صرف چند ایک لڑکے ہی انکی کلاس میں تھے اور لڑکیوں کا تو نام و نشان نہیں تھا
یہ سب کہاں چلے گے منیزے نے حیرت سے خالی ہوی کلاس کو دیکھا حلانکہ وہ کلاس میں دس منٹ لیٹ ہو گے تھے
لیکن نہ تو انکی ٹیچر کلاس میں تھی اور نہ ہی سٹوڈنٹس
منیزے تم اتنی جلدی بھول گی بتایا تو تھا
کہ اج موسٹ ہینڈسم موسٹ ریچ حیدر شاہ اج ہماری یونی ا رہے ھے
یشفہ منیزے کے کان کے پاس چلای
اتنی زور سے کیوں چلا رہی ہو بہری تھوڑی ہوں میں
منیزے نے اپنے کان میں انگلی ڈالتے ہوے اسے گھور کر کہا
منیزے چلوں نہ ہم بھی گروانڈ میں چلتے ھیں دیکھتے ھے کیا ہوتا ھے
یشفہ نے منت کرتے ہوے اس سے کہا کیونکہ یشفہ اتنی زیادہ ڈرپوک تھی کسی کی اونچی اواز پر بھی ڈر جاتی وہ صرف منیزے کے اگے ہی اتنی بے خوف ہو کر رہتی تھی
اگر کسی دن منیزے یونی سے چھٹی کرتی تو وہ مر کر بھی یونی نہیں اتی تھی چاھے اسکا امپورٹنٹ ٹیسٹ ہی کیوں نہ ہو
یشفہ کہ اس انداز پر منیزے منہ بنا کر کھڑی ہو ی اور باہر چلنے کا اشارہ کیا
یشفہ خوشی سے اٹھی اور اسکے ساتھ باہر کی طرف چلتی وہ دونوں زیادہ تر پیچھے کا ہی راستہ یوز کرت تھی کیونکہ وہاں بہت کم رش ہوتا تھا
وہ دونوں جب گراونڈ میں پہنچی تو دونوں کا حیرت سے منہ کھل گیا
کیونکہ گروانڈ کا نقشہ ہی چینج ہوا پڑا تھا
گراونڈ کے بیچوں بیچ ریسلنگ رنگ رکھا ہوا تھا اور پورا گراونڈ سٹوڈنٹس سے بھرا ہوا تھا
تبھی کالج کے پرنسپل نے حیدر شاہ کا انٹروڈکشن کروایا جو مزے سے بیٹھ کر لیز کھا رہا تھا
تو سٹوڈنٹس ہے کوی یہاں جو حیدر شاہ کو ہرا سکے پرنسپل نے انگلش میں بولتے ہوے کہا
کیوں کہ لنڈن کی اس یونیورسٹی میں سٹوڈنٹس کو مارشل ارٹ وغیرہ سکھایا جاتا تھا
پھر انھیں انٹرنیشنل ریسلنگ کے لیے بھیجا جاتا تھا اس یونی ورسٹی کے کافی زیادہ سٹوڈنٹس گولڈ میڈل بھی جیت چکے تھے
اس لیے یونی کافی زیادہ مشہور تھی اسی لیے حیدر شاہ کی فایٹ اور انڑویو کے لیے کافی زیادہ میڈیا والے بھی اے ہوے تھے
تبھی ایک لڑکے نے ہاتھ اوپر اٹھایا پرنسپل نے اسے سٹیج پر انے کا اشارہ کیا پھر دونوں کا ہاتھ پکڑ کر اناوسمنٹ کی دونوں چینج کرنے کےلیے اندرچلے گے
حیدر شرٹ کے بغیر رنگ میں چڑھا تو لڑکیاں زور زور سے چینخنیں لگی
حیدر کے بای سیپ اور سکیس پیک دیکھ کر تو منیزے بھی ششدر رہ گی بے شرم انسان کہی کا
تو اس وجہ سے یہ کمینہ انسان اپنی شرٹ نہیں اتارتا تھا تب منیزے کو پانچ سال پہلے کا منظر یاد ایا
جس میں ہادی اپنی شرم کا بہانہ بنا رہا
اور تھوڑی دیر دونوں کی فایٹ شروع ہو چکی تھی
کم از کم چار منٹ یہ فیٹ چلی اور وہ انگریز لڑکا بری طرح سے حیدر شاہ سے ہارا
لڑکیاں زور شور سے حیدر شاہ حیدر شاہ پکار رہی تھی
جو منیزے کو ایک انکھ نہیں بھا رہا تھا
اور کوی پرنسپل نے مایوسی سے کہا کیونکہ جس لڑکے کو ہادی اتنے ارام سے ہرا چکا تھا وہ اس سال انکی یونی کا ٹوپ فایٹر تھا اور سے انٹریشنل ریسلینگ کے لیے تیار کیا ہوا تھا
سارے سٹوڈنٹس اسں لڑکے کی حالت دیکھ کر پیچھے ہوگے تبھی منیزے نے اپنا ہاتھ اٹھایا
سب نے اور ہادی نے حیرت سے منیزے کو دیکھا لیکن پرنسپل نے خوشی سے منیزے کو دیکھا لیکن دل میں دعا بھی کر رہے تھے کہ کہی اس دفعہ بھی انکی ناک نہ کٹ جاے
جبکے یشفہ کو بہت ڈر لگ رہا تھا کیونکہ وہ منیزے کو بتانا بھول گی کہ ہادی تین گولڈ میڈل جیت چکا ھے اسنے دل ہی دل میں منیزے کی خیریت کی دعا کی
منیزے نے اگے کی طرف قدم بڑھاے منیزے جیسے جیسے اگے بڑھ رہی تھی سارے سٹوڈنٹس پیچھے ہٹ کر اسے راستہ دے رہے تھے
