Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419 Power of Love Episode 3
Rate this Novel
Power of Love Episode 3
Power of Love by Afzonia Zafar
عبیر تم اتنے ڈرپوک کیوں ہو بھی لڑکے تو اتنے بہادر ہوتے ہے جنسے سب ڈرتے ہے انک اتنی دہشت ہوتی ہے بھلا تم سے بھی کوی ڈرتا ہے کیا
ان چار پانچ دنوں میں وہ دونوں اچھے خاصے دوست بن چکے تھے جن میں منیزے کو اچھا خاصہ اندازہ ہو گیا تھا کہ عبیر ایک انتہای ڈرپوک اور حد سے زیادہ شریف بندہ ھے وہ دونوں اس وقت کینٹین میں بیٹھے ہوے تھے
کیوں نہیں ہے دہشت جب میں پاوں رکھتا ہو نا تو ساری مکھیاں اڑ جاتی ہے اتنی دہشت ہے میری عبیر فخر سے بولا
اسکی بات سن کر منیزے کا ہنس ہنس کر برا حال ہوگیا کینٹین میں بیٹھے سبھی لوگ اسے مڑ کر دیکھ رہے تھے جو اس وقت ہنستے ہوے بے تحاشہ خوبصورت لگ رہی تھی
اتنے میں منیزے کے موبایل پر کال ای جسےاسنے ہنستے ہوے اٹھایا
لیکن اگے نجانے کیا بات ہوی اسکی ہنسی پل بھر میں غایب وہ جلدی سے اپنا بیگ لے کر اٹھی
عبیر ابھی مجھے جانا میں کل ملتے ہے وہ عجلت میں باہر کی جانب بھاگی
ارے پر ہوا کیا ہے مجھے بھی تو بتاو عبیر بھی اسکے پیچھے باہر کی جانب بڑھا لیکن وہ اسکی اواز کو ان سنی کر کے یونیورسٹی کے باہر بھاگی جہاں مرسڈیز گاڑی کھڑی تھی وہ جلدی سے اس میں بیٹھی
کچھ سٹوڈنٹ باہر کھڑے تھے جو منیزے کواس اتنی مہنگی گاڑی میں بیٹھتے دیکھ کر منہ کھولے دیکھ رہے تھے کیونکہ وہ پچھلے چھ مہینوں سے ایک سایکل پر اتی تھی
اور یونی میں غریب دہشت گرد مشہور تھی
لیکن اج سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گے جب ڈرایور اور کے پیچھے حفاظتی گاڑی سے سارے فوجی باہر کو نکلے اور ادب سے سلام کیا لیکن اسنے کسی بات پر دھیان نہیں دیا کیونکہ وہ بس جلد از جلد اپنے نانا کے پاس پھچنا چاہتی تھی
اسکے بیٹھتے ہی ڈرایور زن سے گاڑی اگے بھگا لے گیا
اور ایک ہوسپٹل کے اگے رکی وہ جلدی سے نکل کر اندر کی طرف بھاگی
سارے فوجی گارڈز اور پولیس والوں نے اسے دیکھتے ہی سلام کیا لیکن وہ سب کو نظر انداز کرتی اگے کی جانب بڑھی
………………………….
عبیر جو اسکے ایکدم جانے کی وجو سے پریشان ہوا تھا وہ اسکے پچھے جانے لگا ھی تھا اس سے پہلے اسکے موبایل پر کال
اسنے کال اٹینڈ کی لیکن جو اگے سے بات بتای گی اسکے چہرے پر یکلخت غصے کے تاثرات ابھرے لیکن اسنے جلد ہی اپنے تاثرات پر قابو پا لیا اور باہر کی جانب بڑھا
……………………………
زیہان کو اج دو دن ہوگے تھے لیکن وہ اسکی یاد سے پیچھا نہیں چھڑا سکا تھا
چھم سے وہ گلابی چہرہ اسکی انکھوں کے سامنے ا جا تا وہ نرم سہ لمس وہ دو دن سے کھا نا پینا افس سب کچھ بھول کر بس اسے سوچنے میں مصروف وہ اس وقت کہاں ہے کیا کر رہی ھے
اسے
اس کے بارے میں پل پل کی خبر مل رہی تھی اسکے گھر میں موجود ملازمہ تک کو اسنے خرید لیا تھا کیا وہ اسکی پل پل کی خبر اسے دے
اتنے میں اسکے فون پر وایبریشن ہوی اسنے کو فت سے موبایل کی طرف لیکن سکرین پر موجود نمبر پر نظر پر پری تو کوفت کی بجاے مسکراہٹ نے جگہ لے لی
ہاں بولوں میری جان کیا ہوا اسکے فون اٹھاتے ھھ اسکے لہجے میں دنیا جہان کی نرمی خود بخود اگی
کیونکہ اس وقت جو فون پر تھی وہ اسے جان سے بھی زیادہ عزیز تھی جو اب تک اسکے جینے کو کی وجہ تھی
لیکن جو اسنے اگے سے بتا یا وہ اسکے لیے کسی شوک سے کم نہیں تھا
دیکھوں تم فکر مت کروں میں صرف دس
منٹ میں اتا ہوں تم ہوسپٹل کا نام بتاو ہوسپٹل کا نام سن کر اسنے کال بند کی اور جلدی سے کپڑے چینج کیے اور جلدی سے باہر کی جانب بھا گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منیزے کب سے زیہان کا انتظار کر رہی تھی جب وہ سامنے سے اتا ہوا نظر ایا وہ بھاگ کر اسکے گلے لگی
بھای دیکھے نانو اس فوج کو نہیں چھوڑ رہے ہے
اج پھر کسی نے ان کے اوپر حملہ کیا ہے
زیہان جانتا تھا کہ وہ جتنی اوپر سے مضبوط نظر اتی ہے وہ اتنی ہے نہیں وہ اندر سی اپنوں کو کھونے سے ڈرتی ہے
اسنے اسکے سر پر بوسہ دیا کچھ نہیں ہوتا انہیں تم اتنا کیوں ڈرتی ہوں وہ ایک بریو پرسن ہے چلو ہم ڈاکٹر سے پوچھتے ہے وہ اسے اپنے ساتھ لگاے ڈاکٹر کی طرف بڑھا
ڈاکٹر اب میرے نانو کی طبعیت کیسی ہے
وہ اب بالکل ٹھیک ہے تھوڑی دیر بعد اپ لوگ ان سے مل سکتے ہے ذیہان کے پوچھنے پر ڈاکٹر نے بتایا
دیکھا جان میں نے کہا تھا نہ انھیں کچھ نہیں ہوگ تم بیکار میں پریشان ہورہی تھی
………………………..
تھوڑی دیر بعد انھیں انسے ملنے کی اجازت گی
وہ دونوں جب اندر گے تو بیڈ پر بیٹھے ہوے تھے لیکن نقاہت انکے چہرے سے صاف نظر ا رہی تھی
لیکن وہ اپنے اپ کو ان دونوں کے لیے ہشاش بشاش نظر انے کی کوشش کر رہے تھے
فوج میں ہونے کی وجہ سے وہ اپنی عمر سے کافی ینگ نظر اتے تھے
انھیں پتہ تھا کہ اب ان کی خیر نہیں تھی
لیکن یہ کیا وہ دونوں اے اور جاکر روم میں رکھے ہوے صوفے پر خاموشی سے بیٹھ گے
منیزے نے اپنا فون نکالا اس میں لگ گی اور زیہان نے اخبار اٹھا لیا اور اسے پڑھنا شروع کر دیا
کرنل صاحب کافی دیر انھیں دیکھتے رہے کہ کب وہ دونوں انھیں ڈانٹنا شروع کے لیکن وہ دونوں مسلسل خاموش بیٹھے اپنے کام میں بزی تھے
تنگ اکر انھوں نے خود نے ہی بات کرنا شروع کردی
یار چھوٹا سسسس
ہمیں کچھ نہیں سننا
اس سے پہلے کرنل صاحب اپنی بات پوری کرتے وہ دونوں ایک ساتھ ان کی بات کاٹتے ہوے بولے
معافی نہیں مل سکتی وہ بیچارگی سے بولے
نہیں وہ دونوں پھر سے اک ساتھ بولے ان دونوں کی ہر چیز ایک جیسی ہوتی تھی پسند نہ پسند سب ایک جیسا لیکن زیہان کو بلیک کے علاوہ کچھ پسند نہیں تھا جبکے منیزے ہر کلر پہن لیتی تھی
دونوں ہی بہت کم ہنستے تھے لیکن جب ہنستے تو دیکھنے والا اپنی نظر نہیں ہٹا سکتا تھا
سر شاہ انڈسٹریز ک اونر اپ سے ملنے اے ہے کیا میں میں انھیں اندر بھیجوں
اتنے میں ایک گارڈ اندر ایا اور کرنل صاب سے بولے
ہاں ہاں جلدی بھیجوں کرنل صاحب نے کہا
تھوڑی دیر بعد حیدر شاہ اپنی با وقار چال چلتے ہوے اندر اے
عبیر اور منیزے کے منہ سے بے ساختہ نکلا
