406.7K
48

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Power of Love Episode 35

Power of Love by Afzonia Zafar

ارمان نے بوتل کا ڈھکن کھولا اور اور ایک جھٹکے سے حورم کے منہ پر پھینک دی اور حورم کی ایک زوردار چینخ پورے گھر میں گونجی

اور ارمان نے دوسرے ہاتھ سے اپنی گن نکالی اور چینختی ہوی حورم پر تانی اور ٹریگر دبایا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زیہان بار بار اپنے سینے کو مسلتے ہوے گاڑی کو تیزی سے ڈرایو کر رہا تھا لیکن اسکا دل کچھ غلط ہونے کا پتہ دے رہا تھا

یااللہ میری حورم کو اپنے حفظ و امان میں رکھا

جبکے ساتھ ولی سیٹ پر بیٹھا عبیر تیزی سے اسے راستہ سمجھا رہا تھا

روحان مسلسل دعا کر رہا تھا لیکن دل تھا کہ مسلسل کسی انہونی کا پتہ دے رہا تھا

بس اس گھر میں ہے حورم عبیر نے زیہان کو گاڑی روکنے کا کہتے ہوے کہا

زیہان تیزی سے گھر کے اندر کی طرف بڑھا لیکن نہ تو اس گھر میں کوی سیکیورٹی تھی اور نہ ہی کوی لاک

لیکن ابھی اس سب کو سوچنے کا وقت نہیں تھا

وہ تینوں تیزی سے اس گھر میں داخل ہوے

ارمان جو اپنا کام تمام کرکے تیزی سے باہر کی طرف بڑھ رہا تھا اچانک اندر اتے زیہان سے ٹکڑایا

ارمان نے ایک دم سے سر جھٹکے سے اٹھا کرزیہان کی طرف دیکھا اور بری طرح گھبرا گیا

لیکن جلدی ہی اپنے ایکسپریشنز پر کنٹرول کرکے مسکرایا اور گھر کے بیچ میں جا کر کھڑاہو گیا

چہ چہ چہ زیہان شاہ دی گریٹ جسکے نام سے موت بھی کانپتی ہے جو ہر کام کو پلک جھپکنے سے پہلے مکمل کر لیتا تھا

اج وہ اپنی پیاری بیوی کو بچانے میں بس تھوڑا سہ لیٹ ہو گیا

ارمان نے ہنستے ہوے زیہان کی شعولے برساتی انکھوں میں دیکھ کر

کیا کیا تم نے میری کے ساتھ کہا ہے وہ زیہان نے اپنے اشتعال کو قابو کرتے ہوے کہا

روحان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طرحوہ اس کمینے انسان کو مار دے لیکن وہ ابھی مجبور تھے کیونکہ حورم ابھی بھی اسکے پاس تھی

ڈھونڈ سکتا ہے تو ڈھونڈ لے لیکن ایک بات بتا دوں وہ اب اس دنیا میں نہیں رہی اور۔۔۔۔۔

اس سے پہلے ارمان اگے کچھ بکواس کرتا زیہان نے اپنا ضبط کھوتا اسکی ٹانگ پر فایر کر چکا تھا

تمہاری تو میں جان نکال لوں گا اگر میری بہن کے بارے میں کچھ بھی غلط بولا

روحان نے تیزی سے اگے بڑھ کر ارمان کا گریبان پکڑتے ہوے چلا کر کہا

روحان چھوڑوں اسے ہمیں حورم کو پہلے ڈھونڈنا ہے عبیر نے ان دونوں کو ہی وقت کا احساس دلایا

تینوں تیزی سے کمروں کی طرف بڑھے لیکن اس گھر کے اندر بے انتہا کمرے تھے

زیہان پاگلوں کی طرح ایک ایک کمرے کو چھان رہا تھا

میں تمہیں کچھ نہیں ہونےدونگا حورم دیکھنا میں ابھی تمھیں ڈھونڈ لونگا زیہان دیوانوں کی طرح خود سے بولے جارہا تھا

جب دوسری منزل پر موجود اخری کمرے میں داخل ہوا اور اسکے ساتھ ہی عبیر اور روحان داخل ہوے

لیکن اندر نظر پڑتے ہی تینوں کے پیروں کے نیچے سے زمین سرک گی

زیہان لڑکھڑاتے قدموں سے ایک قدم اگے کی طرف بڑھا لیکن اسکے قدموں نے جیسے اگے بڑھنے سے انکار کردیا اور ایک جھٹکے سے نیچے گرا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صدیق صاحب اپ ان کو کال کرکے پوچھے نہ کے وہ حورم کو کب لے کر ا رہے ھے میرا دل بہت گھبرا رہا ھے

سارہ بیگم نے روتے ہوے صدیق صاحب سے کہا

جو پہلے ہی نجانے کتنی دفعہ انکو کال کر چکے تھے لیکن اگے سے کوی جواب نہیں دے رہے تھے

پریشے نے روتے ہوے اگے بڑھ کر سارہ بیگم کو اپنے گلے لگایا دل تو خود اسکا بھی گھبرا رہا تھا

جبکے کرنل صاحب مسلسل صدیق صاحب کو دلاسہ دے رہے تھے

لیکن بات اسکی لاڈلی بیٹی کی تھی

جب تکوہ اسے اپنی انکھوں کے سامنے نہ دیکھ لیتے تب تک کہاں سکون ملنا تھا انھیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روحان نے اگے کامنظر دیکھ کر اپنے اپ کو سمبھالنا چاہا لیکن ہمت ہار کر اپنے گھٹنوں پر گر گیا اور ساکت نظروں سے سامنے دیکھنا لگا

بیڈ کہ اوپر سے ہی خون کے قطرے نیچے کی طرف ٹپک رہے تھے

حورم کا صرف ایک ہاتھ ہی نظر ارہا تھا جبکے اسکےاوپر سفید رنگ کی بیڈ شیٹ ڈالی ہوی تھی

زیہان کی نظر اسکے ہاتھ پر پڑی جس میں اسکی انگھوٹی نظر ا رہی تھی جسے اج صبح وہ تیار ہونے کے بعد منیزے کو خوشی سے دیکھا رہی تھی

زیہان اپنے قدموں پر کھڑا ہوا اور لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ بیڈ کی طرف بڑھا

زیہان نے بہتی انکھوں اور کپکپاتے ہوے اہستہ سے بیڈ شیٹ کو پیچھے کی طرف کھینچا

لیکن جب بیڈ پہ پڑے بے جان وجود پر نظر پڑی تو تو اسے لگا جیسے دل کی دھڑکنیں رک گی ہو سانسیں ساکت ہو گی

روحان نے اس طرح زیہان کو بت بنا کھڑا دیکھا تو جلدی سے اپنے اپ کو سمبھنالتا ہوا اگے بڑھا

لیکن جب بیڈ پر نظر پڑی تو ایک اہ اسکے منہ سے نکلی اور وہی بیٹھتا چلا گیا

حورم کا منہ بوری طرح سے تیزاب سے جل چکا تھا کہ پہچاننا تک مشکل ہو رہا تھا

لیکن اسکے کپڑے اسکے زیور اسکا حجاب سب ویساکہ ویسا تھا

مطلب ارمان نے اس سے اسکے جینے کی وجہ ہی چھین لی تھی

عبیر تو خود دیکھ کر ساکت رہ گیا

کیا انھیں اتنی دیر ہو گی تھی پہچنے میں اتنے میں عبیر کے فونکی بیل بجی

عبیر نے نمبر دیکھے بغیر کال کو پک کیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انکے فون اٹھانے پر صدیق صاحب خوشی سے سپیکر کو ان کیا

اور ان سے حورم کے بارے میں پوچھنے لگے

لیکن جو بات عبیر نے انھیں بتای تھی انکی جان لینے کے لیے کافی تھی

سارہ بیگم سنتے ہی غشی کی حالت میں چلے گی

ساکت تو وہاں سب ہی ہو گے تھے وہ زندگی اور محبتوں سے بھر پور لڑکی ایسے کیسے اپنی زندگی ہی چھوڑ گی

پریشے کو لگ رہا تھا جیسے یہ کوی برا خواب ہوا انکھ کھلیں گی اور سب ٹھیک ہو جاے گا

لیکن حقیقت سے کون منہ موڑ پایا ہے اج تک

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حورم یہ تمھاری پھر سے کوی شرارت ہے نہ دیکھو تمھیں پتہ ہے نہ میں تمھاے معاملے میں ایسی کوی شرارت برداشت نہیں کر سکتا ہو

چلو اٹھ جاو پھر جو تم کہوں گی میں وہ کروں گا

زیہان بچوں کی طرح ہنستے ہوے حورم کا ہاتھ پکڑ کر اس سے التجا کرتے ہوے بولا

ہاں حورم میں تم سے کبھی زندگی میں بات نہی کروں گا اگر تم نے اب یہ گھیل ختم نہیں کیا تو روحان نے اگے بڑھ کر حورم کا دوسرا ہاتھ پکڑا اور روتے ہوے بولا

عبیر نے انسو پوچھتے ہوے ان دونوں کو دیکھا

جو دیوانوں کی طرح ایک بہن کے لیے تو ایک اپنے پیار کے لیے رو رہا تھا

زیہان اٹھا اور حورم کا ہاتھ پکڑا اور اسے کھڑا کرنے لگا حورم اٹھو چلو گھر چلتے ہے بس بہت ہوا مزاق زیہان حورم کا ہاتھ پکڑ کر ضدی لہجے میں بولا

زیہان مت کروں مرے ہوے انسان کو تکلیف ہوتی ہے عبیر نے پاگل ہوتے زیہان کو پکڑتے ہوے کہا

مری نہیں ہیں وہ سمجھے تم عبیر کی بات پر زیہان ایکدم سے اسکا گریبان پکڑتے ہوے غصے سے چینختا ہوا بولا

میری حورم زندہ ہے دیکھو میری سانسیں چل رہی ھیں تو اسکی سانسیں کیسے رک سکتی ہے میں زندہ ہو وہ نہیں مر سکتی ہے زیہان نے ایک دم سے عبیر کو جھٹکے سے چھوڑا

اور حورم کو گود میں اٹھایا ابھی میں اسے گھر لے جاوں گا دیکھنا کتنی جلدی اٹھتی ہیں یہ زیہان اگے بڑھتے ہوے خود سے بڑبڑایا

عبیر نے اگے بڑھ کر خلاوں میں گھورتے ہوے روحان کو اٹھایا اور زیہان کے پیچھے چل دیا

نیچے سے ارمان غایب ہو چکا تھا لیکن زیہان کو اس وقت کوی ہوش نہیں تھا

میں ڈرایو کرتا ہو تم حورم کو لے کر پیچھے بیٹھو عبیر نے زیہان کو کہا جو بالکل ہی پاگل سہ لگ رہا تھا

ایسے جیسے اسکا دماغ یہ سب قبول ہی نہیں کر پا رہا ہو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ لوگ گھر پہنچے تو ابھی تک وہ سب لان میں بیٹھے ہوے تھے

انکی انکھوں میں امید تھی کہ شاید یہ حورم کی کوی نی شرارت ہو جس میں وہ سب ملے ہو

زیہان نے حورم کو اسی طرح سے گود میں اٹھایا اور باہر نکلا

اسکی گود میں حورم کو دیکھ کر سب اسکی طرف لپکے جبکے سارہ بیگم کو ابھی ہوش ایا تھا

زیہان وہی لان میں بیٹھتا چلا گیا

حورم دیکھو اٹھ جاوں مجھ سے کوی غلطی ہوی ہیں میں وعدہ کرتا ہو میں اگے سے تمھارے ساتھ کوی پرینک نہیں کروں گا

حورمممممممممم زیہان نے اسے چینختے ہوے اپنے سینے میں زور سے بھینچا

سارے زیہان کے پاس اے لیکن حورم کے چہرے پر نظر پڑتے ہی سارہ بیگم اور پریشے کی زوردر چینخ نکلی

اسکے بے پناہ خوبصورت چہرہ اج پہچان میں بھی نہیں ا رہا تھا

زیہان نے ایک دم سے حورم کے وجود کو اپنے اپ سے دور کیا اور خود کافی دور ہو کر بیٹھ گیا

اسکی حرکت پر سارے دم بخود رہ گے

یہ یہ میری حورم نہیں ھے زیہان کے پاگلوں کی طرح سے کہنے پر کرنل صاحب ٹوٹ کر رہ گے اور بے ساختہ اسمان کی طرف دیکھا اور روتے ہوے دل میں بولے

اے خدا اور میرے بچوں کا کتنا امتحان لے گا کب انھیں بھی دوسروں کی طرح خوشیاں راس اے گی کیوں ہر دفعہ رونا تڑپنا میرے ہی بچوں کے حصے میں اتا ہے

سب کو لگا کہ حورم کی اس طرح موت ہونے پر زیہان کا دماغ قبول نہیں کر پاہ رہا ھے اسی لیے اس طرح کی باتیں کر رہا ھے

روحان اگے بڑھا اور حورم کے دونوں پیروں کو پکڑ لیا

حورم دیکھ میں تمھارے پاوں پکڑ رہا ہو اٹھ جا ایک بار اپنے بھای کی حالت دیکھ میں تیرے بغیر ایک دن نہیں رہ پاتا میں ساری زندگی تیرے بغیر کیسے رہو گا

روحان بری طرح سے سسکتے ہوے بولا

عبیر نے اگے بڑھ کر روتے ہوے روحان کو اپنے گلے لگایا لیکن وہ کسی طور پر بھی اسکے قابو میں نہیں ا رہا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک ہفتے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔

شاہ ہاوس اور صدیق ولا میں ویرانیوں نے اپنی جگہ بنا لی تھی

جن گھروں ہر وقت حورم کی ہنسی کی اوز گونجتی تھی اب وہاں پر اتنی خاموشی تھی کہ سکہ گرنے کی بھی اواز اتی

عبیر نے منیزے کو کال نہیں کرنے دی

کیونکہ بچپن میں جو منیزے کے دماغ میں چوٹ ای تھی اس سے اسکے دماغ کی کافی زیادہ نسیں ڈمیج ہوی تھی

جنکو اپریشن سے جوڑا گیا تھا اور اگر اگے کی زندگی میں اسے ایسی کوی بھی اچانک بری خبر سنای جاے جسے وہ برداشت نہ کر پاے

اسکے نتیجے میں اسکی وہ نسیں پھر سے پھٹ سکتی تھی جس سے یہ تو وہ کومے میں جا سکتی تھی یا پھر اپنی زندگی کے ریس ہی ہار جاتی

ایک کو تو وہکھو چکے تھے دوسری کو کھونا نہیں چہاتے تھے اسی لیے سب نے ہی اس سے یہ بات چھپانے کا فیصلہ لیا

زبیر نے اس مشکل گھڑی میں جس طرح روحان کو سمبھالا شاید اس طرح کوی بڑا بھای ہی کر سکتا تھا

جبکے زیہان مکمل طور پر بستر سے لگ چکا تھا نہ کچھ کھاتا تھا عبیر اپنی قسمیں دے کر اسے ایک یہ دو نوالے کھلاتا تھا

اپنے بھای دوست سب کچھ کی اس طرح کی حالت دے کر وہ روز مرتا تھا

زیہان کی ب یہ ہی رٹ تھی کہ اسکی حورم زندہ ہے وہ اسکی حورم نہیں تھی جب میں زندہ ہو تو وہ کیسے جا سکتی ہے مجھے چھوڑ کر

کیسے دو پل میں اسکی ساری زندگی اجڑ گی شاید قسمت نے کچھ بہتر لکھا تھا اسکے لیے اسی لیے اتنی بڑی قربانی لی تھی اس سے