406.7K
48

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Power of Love Episode 16

Power of Love by Afzonia Zafar

کرنل صاحب جب ہوسٹل پہنچے تو موسم بے حد خراب ہو چکا تھا وہ بہت مشکل سے ہںسپٹل پہنچے تھے وہ جیسے ہی ہوسپٹل کے اندر داخل ہوے انکے ساتھ ہی ایک لڑکی اندر اینٹر ہوی جو نرس سےکسی کا پوچھ رہی تھی لیکن کرنل صاحب نے اتنا دھیان نہیں دیاانہیں اس وقت اپنے بچوں کی پڑی تھی

وہ جلدی سے کاونٹر کی طرف بڑھے نرس سے روم کا پوچھا اور اسکے بتاے ہوے روم کی طرف چلے گے وہ جب روم کے سامنے پہنچے تو وہ لڑکی جو انھیں وہاں نظر ای تھی زبیر کے ساتھ بیٹھی ہوی تھی

کرنل صاحب جلدی سے زبیر کے پاس پہچے زبیر نے انھیں دیکھ کر جلدی سے کھڑے ہوکر سیلیوٹ کیا

زبیر میرے بچے کیسے ہے وہ ٹھیک ہے نہ کرنل صاحب نے نم انکھوں سے زبیر سے پوچھا سر ابھی ڈاکٹر نے کچھ جواب نہیں دیا ہے زبیر نے رندھی اواز میں جواب دیا اور کرنل صاحب کی اور ہمت ٹوٹ گی

اتنے میں صدیق صاحب سارہ بیگم حورم اور روحان بھی اگے کرنل صاحب نے راستے میں ہی ان لوگوں کو فون کر دیا تھا

وہ لوگ کرنل صاحب کی ٹوٹی ہوی حالت دیکھ کر ہی سمجھ گے تھے معاملہ زیادہ گھمبیر ہے صدیق صاحب نے اگے بڑھ کر کرنل صاحب کو سہارا دیا جو گرنے والے ہو گے تھے

حورم کو ابھی تک یقین نہیں ا رہا تھا کہ وہ مضبوط ادمی بس موت سے ایک قدم کے فاصلے پر ہے اسے کچھ دن پہلے اپنی کہی ہوی بات یاد ای اور اب اسکے دور جانے کے خیال سے ہی اسکی روح کانپ گی تھی

انسوں اسکی انکھوں سے زارو قطار بہہ رہے تھے اور دل نے ان تینوں کی زندگی کی دل سے دعا مانگی دو کو تو اسنے نہیں دیکھا تھا اب اسے کیا پتہ تھا اسکی دوست منیزے بھی موت اور زندگی کی جنگ لڑ رہی ہے

حورم نے اگے بڑھ کر ای سی یو کے روم میں شیشے سے جھانکا لیکن اندر موجور بیڈ پر لیٹے مشینوں سے جکڑے ہوے وجود کو دیکھ کر اسکی انکھیں حیرت سے کھل گی اسے ایسا لگا جیسے سارے اسمان ایک ساتھ گرے ہو اسکے قدم لڑکھڑاے جب روحان نے اگے بڑھ کر اسے پکڑا اور اند شیشیے میں سے دیکھا روحان کی حالت بھی اس سے کم نہیں تھی

روحان ابھی تو ہم دوپہر میں یونیورسٹی میں ملے تھے وہ کتنی خوش تھی اج اسکا بھای اے گا لیکن ایسے اچانک اس سے اگے حورم پھوٹ پھوٹ کر رودی روحان کی انکھوں سے بھی اشک جاری ہوگے اج وہ معصوم سے اسکی دوست اتنی بڑی جنگ لڑ رہی ہے

اتنے میں وارڈ سے ڈاکٹر باہر نکلا کرنل صاحب تیزی سے انکی طرف گے

دیکھیے کرنل صاحب اپکو ہمت رکھنی ہوگی میں اپکو کوی جھوٹی امید نہیں دلا سکتا ان تینوں کا خون بے حد بہہ چکا ہے خاص طور پر اپکی نواسی کا اسکی حالت سب سے خراب ہے ان تینوں کا بلڈ گروپ oنیگیٹو ہے جہ ہمارے ہو سپٹل میں اس وقت موجود نہیں ہے اور باہر موسم اتنا خراب ہے ہم دوسرے ہوسپٹل سے بلڈ لانے تک کا ویٹ نہیں کر سکتے ہے اپکو جلد سے جلد خون کا انتظام کرنا پڑے گا

میرا خون سیم ہے حورم روحان اور زبیر کے ساتھ کھڑی لڑکی وہ تینوں کے ایک ساتھ بولے ڈاکٹر نے ان تینوں کی طرف باری باری دیکھا جو شکل سے ہی بچے نظر ار ہے تھے

میں کوی مزاق نہیں کر رہا ہو اٹھارہ سال سے کم خون نہیں دے سکتے ہے ڈاکٹر اب تھوڑے غصے سے بولا

ارے میں انیس سال کی ہو اب شکل سے چھوٹی لگتی ہو تو کیا ہوا زبیر نے حیرت سے اجالا کی طرف دیکھا جو کتنی صفای سے جھوٹ بول گی تھی اور وہ ابھی اٹھارہ کی بھی نہیں تھی لیکن اسے اپنی بہن پر فخر ہو رہا تھا جو دوسرے کی جان بچانے کے لیے زبردستی جھوٹ بول رہی تھی

ہاں میں تو خود اکیس سال کا ہو روحان نے بھی جلدی سے لقمہ دیا اور میں بیس کی بس ہونے والی ہوں مطلب ہم سب خون دے سکتے ہے ڈاکٹر جی جلدی کرے ہم سب خون دے سکتے ہے اس سے پہلے دیر ہو جاے حورم جلدی سے بولی اور ڈاکٹر نے بھی انکی باتوں پر یقین کر لیا اور انہیں ان تینوں کے وارڈ میں لے گیے کیونکہ انکے پاس ٹایم کم تھا اس لیے انکا ڈایریکٹ خون لگانا تھا

اجالا کو منیزے کے روم میں لے جایا گیا حورم کو زیہان جبکے روحان کو عبیر کے روم میں لے جایا گیا اجالا کو منیزے کے ساتھ والے بیڈ پ لٹایا اور اسکے ہاتھ میں سوی لگای

اجالا غور سے منیزے کو دیکھ رہی تھی پتہ نہیں کیوں لیکن اسے منیزے اپنی اپنی لگی جیسے اس سے بہت پرانا رشتہ ہو باہر کرنل صاحب کو دیکھ کر بھی ایسا ہی محسوس ہوا تھا اس لیے تو انکی تکلیف نہیں دیکھی جارہی تھی اسی لیے تو زبردستی بھی خون دینے کے لیے منایا

اسے لگ رہا تھا جیسے اس لڑکی سے اسکا دل کا رشتہ ہے اسکا دل کر رہا تھا وہ بھاگ کر اس لڑکی کے گلے لگ جاے وہ خود اپنی کیفیت سے پریشان ہو گی تھی تبھی نرس ای اور پوچھا کے اسکے جسم سے کتنا خون نکالے

جتنے خون سے اسکی جان بچ سکے جب اجالا نے بے خودی میں جواب دیا اتنا تو وہ سمجھ چکی تھی کچھ تو اس لڑکی سے اسکا رشتہ ہے اسنے زبیر سے پو چھنے کا ارادہ کیا

حورم یک ٹک زیہان کے زرد چہرے کو دیکھ رہی تھی حورم کی انکھوں سے اشک بہہ رہے تھے اور دل جیسے پھٹنے کی قریپ تھا وہ دل ہی دل میں زیہان سے مخاطب ہوی زیہان پلیز اٹھ جاو نہ ایندہایسی بات نہیں کروں گی میں تم سے بدتمیزی بھی نہیں کروں حورم کو سچ میں لگ رہا تھا اگر اسے کچھ ہو گیا تو زندہ وہ بھی نہیں بچے گی شاید نکاح کے دو بولوں نے اسکے دل میں محبت پیدا کر دی تھی جس سے وہ خود بھی واقف نہیں تھی

😢۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔😢

ان سب کی دو دو بو تلیں خون نکالا تھا روحان تو پھر بھی ٹھیک تھا لیکن اجالا اور حورم کو بے تحاشہ چکر ا رہے تھے

صبح ہو گی تھی زیہان کی ہارٹ سر جری کی گی تھی کیونکہ گولی اسکے دل کے پاس ہی پھنس گی تھی

ڈاکٹر روم سے باہر نکلا تو صدیق صاحب اگے بڑھے اور ڈاکٹر سے انکی کنڈیشن کا پوچھا اتنے میں کرنل صاحب بھی انکے پاس اگے تھے کل سے کسی نے کچھ نہیں کھایا تھا

دیکھیے پیشنٹ زیہان کا اپریشن کامیاب رہا ہے اور پیشنٹ منیزے کی حالت بھی خطرے سے باہر ہے لیکن اگر منیزے اور زیہان کو شام تک ہوش نہیں ایا تو ہم کچھ نہیں کہہ سکتے ہے منیزے کی رپوٹس سے پتہ چلا ہے کہ وہ کچھ دنوں سے شدید ڈیپریشن میں رہی ہے اگر انہیں ہوش نہیں اتا ہے تو وہ کومے میں بھی جاسکتی ہے

اور عبیر اسکی حالت کیسی ہے کرنل صاحب نے کپکپاتی اواز میں پوچھا انکی حالت کا ہم کچھ نہیں کہہ سکتے انہیں چار گولیا لگی ہے اور چاروں بھی دل کے اس پاس لگی ہے انکی بوڈی خود بھی کوی رسپونس نہیں کر رہی ہے ہمیں جلد از جلد انکی سرجری کرنی پڑی گی اپ رقم جمع کرواے

حورم اور اجالا دونوں ہی نماز روم میں کل سے گھس کر بس مسلسل دعا کیے جا رہی تھی جب روحان اندر داخل ہوا اور اسکی نظر اجالا کے چہرے سے ٹکڑای اسنے کل سے اب اسے غور سے دیکھا تھا صاف شفاف رنگت جس میں زردی گھلی ہوی تھی انکھیں بند کر کے ہاتھ پھیلا کر دعا مانگ رہی تھی

روحان بس اسے دیکھے جارہا تھا جب حورم کی اواز پر اسکا سکتہ ٹوٹا جو اس سے انکی طبعیت کا پوچھ رہی تھی

روحان نے تفصیل سے اسے جواب دیا اور ایک نظر اجالا کو دیکھ جو اسے ہی دیکھ رہی تھی اور باہر نکل گیا روحان کو خود اپنی حالت سمجھ نہیں ا رہی تھی