Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419 Power of Love Episode 27
Rate this Novel
Power of Love Episode 27
Power of Love by Afzonia Zafar
کہاں جارہی جاناں زیہان نے اپنے لہجے میں دنیا بھر کا پیار سموتے ہوے بولا لیکن انکھوں سے مسلسل گھوریاں ڈال رہا تھا
زیہان وہ نہ وہ تم حورم سے ہڑبڑاہٹ میں کچھ بولا ہی نہیں جارہا تھا
زیہان نے ایک زور دار جھٹکا دیا اور اسے صوفے پر گرا کر خود اسکے اوپر جھک گیا
کیا وہ وہ اگے بھی کچھ بولا زیہان اسکی انکھوں میں دیکھتا ہوا بولا جبکے اسکے بالوں سے پانی کے قطرے حورم کے چہرے پر پڑ رہی تھی
زیہان یہ رات کا بدلہ جو تم نے ساری رات مجھے سونے نہیں دیا حورم رات کی اپنی نیندوں کی قربانی کو سوچتے ہوے غصے سے بولی ابھی تک میری کر درد کر رہی ہے
جس پر زیہان ہلکا سہ مسکرایا
جاناں سونے تو تمھیں ایسے ہی پڑے گا تو اس لیے اچھا ہے ابھی سے ہی عادت ڈال لو ویسے
اس دن تو میں نے تمھیں جھوڑ دیا لیکن اج اپنے بدلے کے لیے تیار رہنا جاناں زیہان نے اسکا گال سہلایا اور پیچھے کھڑا ہوگیا
حورم جلدی سے اٹھ کر بھاگی لیکن دروازے کے پاس رک گی اور پیچھے مڑ کر زیہان کو دیکھا
ہاں دیکھ لونگی تمھارے بدلے کو ایسا کیا کرتے لیکن ایک بات یاد رکھنا واٹ ہمیشہ تنھای ہی لگنے والی کیونکہ حورم سے پنگا از نوٹ چنگا حورم نے زیہان کو زبان چڑای اور بھاگ گی
جبکے پیچھے سے زیہان یہ ہی سوچتا رہ گیا کے وہ کیسے حورم سے بدلا لے
جب اسکی انکھوں میں حورم کی انکھوں کی طرح شیطانی چمک ای
حورم جب باہر ای تو ٹیبل پر کو بھی نہیں بیٹھا تھا
حورم ارمان کے بارے میں بالکل ہی فراموش کر چکی تھی ورنہ تو اسنے اپنا ارادہ بنا لیا تھا کہ وہ زیہان کو بتاے گی اخر کار اسکا شوہر ایک جانا مانا ڈون ہے لیکن اس سب میں حورم کو کچھ بھی یاد نہیں رہا
وہ منیزے اور پریشے کے کمرے کی طرف بڑھی
تو دیکھا بیچای پریشے منیزے کو جگانے میںوبری طرح مصروف تھی لیکن مںنیزے اپنے سونے میں مردوں کو بھی پیچھے چھوڑ رہی تھی
حورم نے حیرت سے منیزے کو دیکھا اتنے میں پریشے کی نظر بھی حورم پر پڑی
حورم دیکھوں اسکو یہ کتنے بری طرح سے سورہی ہے بچپن میں بھی ایسے ہی سوتی تھی مجھے لگا اب اسکی نیندوں میں کمی اگی ہے لیکن یہ تو اور بڑھ گی ہے
ہاں یہ تو مجھے بھی دیکھ رہا ہے لیکن مجھے لگ رہا ہے جیسے یہ بھنگ پی کر سوی ہو حورم نے اسکی نیند کو دیکھتے ہوے اندازہ لگایا
رکو ایک منٹ اسے تو میں جگاتی ہے اسنے پاس پڑے ٹیبل سے پانی کا جگ اٹھایا
اور سیم جیسے زیہان پر پھینکا تھا بلکل ویسے ہی مںیزے پر کے اوپر ڈال دیا
ہاے اللہ سیلاب اگیا بھاگو منیزے جلدی سے بیڈ سے اٹھ کر ایک سایڈ پر کھڑے ہوکر چیخنے لگی
حورم اور پریشے اتنے مزے کے ری ایکشن پر ہنس ہنس کر دھری ہو گی
منیزے جو انکھیں بند کرکے چینخ رہی تھی انکے ہنسنے پر انکھیں کھولی اور پھر معاملے کو سمجھتے ھوے انکے پیچھے بھاگی
اسے اپنے پیچھے بھاگتے دیکھ کر حورم اور پریشے دونوں نے باہر کی طرف دوڑ لگا دی
باہر شاید پوچھا لگ رہا تھا حورم اور پریشے نے تو جوتا پہن رکھا تھا جبکے منیزے ننگے پاوں تھی
تبھی منیزے کے پیر پھسلا اور عبیر کے ساتھ اتی نینا نی بھی گھبرا کر یہ منظر دیکھا
اور عبیر کو لگا اسکی جان نکل گی ہو ایک ہی جست میں اگے بڑھ کر اسے اپنی بانہوں میں گرنے سے پہلے ہی تھام لیا
منیزے کے کچھ بھی سمجھنے سے پہلے عبیر نے سختی سے اسے اپنے اندر بھینچ لیا
سارے ملازموں کی ہلکی ہلکی کھی کھی پر حورم اور پریشے نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو انکا بھی زور دار قہقہہ نکل گیا
منیزے نے شرمندگی سے اسے دور کرنا چاہا جب عبیر نے اپنا چہرہ بالکل اسکے سامںے کیا
ایندہ کے بعد اگر اس طرح کی لاپرواہی برتی تو مجھ سے برا کوی نہیں ہوگا
اگر تمھیں چوٹ لگ جاتی تو عبیر بے تحاشہ سخت لیکن اہستہ اواز میں غرایا کہ منیزے اج پہلی مرتبہ عبیر کی انکھوں میں دیکھنے سے خوف ارہا تھا اور یہ بات عبیر نے اتنی اہستہ اواز میں کہی کہ منیزے کے علاوہ کسی کو بھی سنای نہیں دی
پھر عبیر نے ادھر ادھر دیکھا اور خود کو کمپوز کیا اور منیزے کو ایکدم سے اہستہ سے پیچھے چھوڑا اور پیچھے کھڑی نینا نے سلگتی انکھوں سے یہ سارا منظر دیکھا
میرا مطلب تھا اپکے کے زخم ابھی پوری طرح سے بھرے نہیں ہے اگر میں نہیں اتا تو کچھ بھی ہوسکتا تھا عبیر نے یہ بات کہ تو دی لیکن وہ اس اگے سے سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا
منیزے نے گہرا سانس بھر کر اثبات میں سر ہلایا اور پیچھے کھڑی لڑکی کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا
عبیر نے اسکے تعاقب میں دیکھا پو اسے یاد کہ اسکے ساتھ تو نینا بھی ہے اتنے میں حورم اور پریشے بھی منیزے کے اردگرد اکر کھڑی ہوگی
اوہ ایم رییلی سوری میں بھول گیا تھا منیزے یہ میری بچپن کی فرینڈ نینا ہے جو لنڈن میں بنی تھی اور نینا یہ ہے میری بہن پریشے اور یہ میری بیوی منیزے اور میری پیاری سی بہن حورم
عبیر نے ان تینوں کی طرف اشارہ کرتے ہوے انٹروڈکشن کروایا
جبکے نینا کو لگا اسکے اوپر ساتوں اسمان گر گے ہو بیوی لفظ پر
جبکے ان تینوں نے مسکراتے ہو ے اسے ہاے کہا لیکن نینا نے اسے بالکل اگنور کر دیا
اور عبیر سے مخاطب ہوی عبیر تم نے شادی کر لی اور مجھے بتایا تک نہیں نینا ابھی تک شاک کی حالت میں تھی
جبکے ان تینوں نے اپنے اپ کواگنور پھر اس طرح کا سوال پوچھنے پر ناگوار نظروں سے منیزے کو دیکھا
نینا نے اس وقت بالکل تنگ جینز کے اوپر شارٹ ٹاپ پہنا ہوا تھا اتنا شارٹ کے اگر وہ تھوڑا سہ بھی اپنا ہاتھ اوپر کرتی تو اسکا پیٹ صاف نظر اتا
اسکی گوری رنگت پر بھورے بال جو صاف بتارہے تھے کہ اسکے ریل بال نہیں ہے ڈای کیے ہوے ہیں
بے شک وہ شکل و صورت میں وہ کسی سےکم نہیں تھی لیکن اسکے چہرے پر معصومیت کہی نہیں دکھ رہی تھی جتنا وہ عبیر کے سامنے بننے کی کوشش کر رہی تھی
ارےنہیں منیزے سے میرا نکاح بچپن میں ہی ھو گیا تھا عبیر نے اسکی غلط فہمی دور کی
نینا نے ایک تیکھی نظر سے دونوں کے بیچ میں کھڑی بھیگے بالوں والی اس خوبصورت لڑکی کو دیکھا جو بے شک کسی کو بھی پاگل کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی
نینا نے خود کو کمپوز کیا اور عبیر کی بات یاد ای جو اسںنے اج اسے ایرپورٹ پر کہی تھی
نینا کب سے عبیر کا ویٹ کر رہی تھی لیکن وہ اسے کہی بھی دیکھای نہیں دے رہا تھا
اتنے میں ایک کیوٹ سہ لڑکا اسکے پاس ایا اور اگے سلام کے لیے ہاتھ بڑھایا ویلکم پاکستان نینا
نینا نے پہلے تو ناگوار نظروں سے دیکھا لیکن پھر حیرت سے اسکی اواز کو جو بالکل عبیر کی طرح لگ رہی تھی
عبیر یہ تم ہو نینا نے شاکی اواز میں پوچھا جسنے بلیو جینز بر ریڈ فل سلیوز کی ٹی شرٹ پہنی تھی ماتھے پر اپنے سلکی بالوں کو پھیلا کر رکھا تھا اور انکھوں پر بڑا سہ چشمہ تھا
جہاں اسکی بے حد خوبصورت ہلکی ہلکی داڑھی ہوتی تھی اب بالکل کلین شیو تھی
عبیر نے سر ہاں میں ہلایا
ہاو کیوٹ عبیر تم اس لوک میں کتنے کیوٹ لگ رہے ہو نینا اسکے ماتھے پر بالوں کو ہاتھ اونچا کرکے بکھیرا
اچھا اس لوک کی کوی خاص وجہ نینا نے عبیر کے ساتھ اگے چلتے ہوے کہا
ہاں وہ ایکچلی میں نے نہ اپنی کزن کے ساتھ تھوڑا سہ مزاق کرنا چاہا لیکن وہ اب میرے اوپر ہی بھاری پڑ رہا ہے عبیر نے اسکی حفاظت وبلی بات کو گول کر دیا
اب یار تمھیں میرے گھر میں میری بلیک بیلٹ چیمپین شپ کا نام تک نہیں لینا ہے اور نہ ہی کوی ایسی بات کرنی ہے جس سے اسے میرے اوپر کوی بھی شک ہو میں یہ بات بس کچھ ہی دنوں میں خود ہی بتا دوں گا
اور ہاں پلیز خاص طور پر میری بہن کے سامنے ایسا ویسا کچھ مت کہنا کہ وہ تمھارے پیچھے لگ جاے
نینا کو بے انتہا حیرت ہوی اسکی فیملی کے بارے میں جان کر لیکن اسے اسکی فیملی سے کیا لینا تھا
ویسے عبیر کچھ بھی ہو تم اپنی رییل لک میں زیادہ قاتل لگتے ہو نینا نے ہنستے ہوے اسکی تعریف کی
نینا کہاں گم ہوگی ہو عبیر نے نینا کا کندھا ہلا کر اسے ہوش کی دنیا میں لے کر ایا
نینا نے ہڑبڑا کر سب کو دیکھا پھر اسنے منیزے کو دیکھا اور پھر عبیر کو
عبیر تم صرف میرے ہو اب دیکھنا میں اسے کس طرح تم سے دور کرتی ہو نینا نے شیطانیت سے دل میں دونوں کو دور کرنے کا منصوبہ بنایا
اور مسکراتے ہوے عبیر کے ساتھ اندر کی طرف بڑھی
تم ایسا کروں پہلے گیسٹ میں نینا کو چھوڑ اوں اور نینا ابھی تم جاکے فریس ہو جاوں کھانے کے وقت زیہان سے بھی مل لینا عبیر ایک ساتھ وہاں کھڑی ملازمہ سے اور نینا سےبولا
زیہان نینا کو بہت اچھی طرح سے جانتا تھا وہ جب بھی عبیر سے ملنے لنڈن جاتا تو اسکی نینا سے بھی ملاقات بھی ہو ہی جاتی تھی
