Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419 Power of Love Episode 45
Rate this Novel
Power of Love Episode 45
Power of Love by Afzonia Zafar
وہ سب پاکستان لینڈ کر چکے تھے اور اس وقت سب صدیق ہاوس جارہے تھے
روحان حورم کو پہلے ہی بتا چکا تھا کہ صدیق صاحب کی طبعیت بہت زیادہ خراب رہتی ھے
پانچ سال ہوگے ھے لیکن وہ ایک دو دفعہ کے علاوہ کبھی اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلے
حورم یہ سن کر بہت زیادہ پریشان ہو گی تھی لیکن وہ بہت خوش بھی تھی کہ پانچ سال بعد اپنوں سے ملنے والی تھی
تقریبا ایک گھنٹے بعد وہ صدیق ہاوس کے باہر کھڑے تھے
چوکیدار شاکڈ نظروں سے حورم کو دیکھ رہا تھا
نم انکھوں سے بوڑھا چوکیدار اگے بڑھا اور حورم کے سر پر ہاتھ رکھا
حورم تب بہت چھوٹی تھی جب یہ چوکیدار ایا تھا انہوں نے حورم کو اپنی گود میں کھلایا تھا
خیر تھوڑی دیر انسے بات کرکے وہ لوگ اندر داخل ہوے
لاونج میں کوی بھی نہیں تھا جبکے کچن سے برتنوں کی اواز ا رہی تھی
اسکا مطلب تھا کہ سارہ بیگم کچن میں تھی
زیہان اور روحان دونوں نے حورم کو صوفے کے پیچھے چھپنے کا اشارہ کیا
حورم جلدی سے صوفے کے پیچھے لیٹ گی اسی طرح وہ سارہ بیگم کو بالکل بھی نظر نہیں انی تھی
جبکے حمنہ مسکرا کر انکی بچوں جیسی حرکتیں دیکھ رہی تھی
ماما ماما روحان نے تیز اواز میں سارہ بیگم کو پکارا
سارہ بیگم جو کچن میں صدیق صاحب کے لیے سوپ بنا رہی تھی
اور ساتھ ساتھ حورم اور روحان کو بھی یاد کر رہی تھی کیونکہ اج ان دونوں کا برتھ ڈے تھا
لیکن ان دونوں میں سے کوی بھی انکے پاس نہیں تھا
روحان کی تیز اواز پر انکے ہاتھ سے برتن گر گیا
روحان کی اواز سننے کے لیے تو وہ خود ترس گی تھی اور اس طرح انٹارجینا سے اسکا یوں اچانک اانا
سارہ بیگم جلدی سے باہر کی طرف بھاگی
لیکن روحان کے ساتھ کھڑے وجود کو دیکھ کر حیرت سے وہی مجمند ہوگی
حمنہ سارہ بیگم کے منہ سے سرگوشی نما اواز نکلی
جبکے پتھر تو حمنہ بیگم بھی بھی سارہ کو دیکھ کر ہوگی تھی
اخر پچیس سال بعد اپنی جان سے پیاری دوست کو دیکھا
دونوں جزباتی ہو کر ایک دوسرے کی طرف بڑھی اور پھر دونوں گلے لگ کر رونے لگی
جبکے زیہان اور روحان ت شاکڈ نظروں سے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے
وہ بیچارے تو انھیں شاکڈ کرنے اے تھے اور ہو خود گے
جبکے صوفے کے پیچھے لیٹی حورم کو کچھ سمجھ ہی نہیں ا رہا تھا
کافی دیر ہو گی لیکن دونوں ایک دوسرے کو چھوڑنے کے لیے تیار ہی نہیں تھی
زیہان نے اگے بڑھ کر دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کیا
بس بھی کر دوں لڑکیوں کتنا روتی ہو اپ لوگ زیہان دونوں کے باری باری انسو پوچھے اور شرارت سے کہا
ارے زیہان بھای اپکو نہیں پتا لیکن ان کے پاس اتنے انسو ہوتے ہے کہ یہ سیلاب بھی لا سکتی ھے
سارہ بیگم نے خوشی سے لیکن حیرت سے ان دونوں کو دیکھا جو بالکل پرانے انداز میں بول رہے تھے
انھوں نے دل ہی دل میں دونوں کی یونہی خوش رہنے کی دعا کی
پھر سارہ بیگم اور حمنہ بیگم دونوں نے ان سب کو اپنی دوستی کا بتایا کہ کس طرح وہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر رہتی تک نہیں تھی
لیکن پھر شادی کے بعد حمنہ بیگم اپنے شوہر کے انٹارجینا چلے گی اسی طرح انکے رابطے اہستہ اہستہ ختم ہونے لگے
ماما اپکے لیے ایک سرپرایز ھے روحان جو صوفے پر مزے سے بیٹھ کر ان کی بات سن رہا تھا ایک دم پیچھے سے اپنے بال کھینچنے پر اسے بیچاری حورم بھی یاد ای
بیٹا تم لوگوں نے اتنا بڑا سرپرایز تو مجھے دے دیا اور کیا باقی ھے
نہںی پہلے اپکی انکھوں پر زیہان بھای پٹی باندھے گے پھر اپکو سرپرایز دیکھایا جاے گا
سارہ بیگم کی کچھ بھی سنے بغیر زیہان نے پاکٹ سے رومال نکال کر انکی انکھوں پر باندھا
پھر حورم کو سامنے انے کا اشارہ کیا
حورم جلدی سے اپنے کپڑے صاف کرتی کھڑی ہوی اور سارہ بیگم کے سامنے کھڑی ہوگی
سارہ بیگم کو دیکھتے ہی حورم کی انکھوں سے اشک روانہ ہو گے کتنی کمزور ہو گی تھی
حورم نے انکے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑا اور انکے ہاتھوں پر عقیدت سے بوسہ دیا
سارہ بیگم جو ابھی روحان کو اواز دینے والی تھی
ایک دم سے جانے پہچانے لمس پر پتھر کی ہو کر رہ گی
ایک ماں اپنی اولاد کے لمس کے کیسے بھول سکتی ھے جسے خود اسنے اپنی کوکھ سے جنم دیا ہو
انھیں لگا وہ خواب دیکھ رہی ھے انہوں نے ایک ہاتھ چھڑوا کر جلدی سے اپنی انکھوں سے پٹی ہٹای
سامنے حورم نم انکھوں سے مسکرا رہی تھی
انکی اتنی ہمت نہیں ہوی کہ ہاتھ بڑھا کر اسے چھو سکے بھلا ایک مرا ہو انسان کیسے واپس ا سکتا ھے
سارہ بیگم پیچھے کی طرف لڑکھڑای زیہان نے جلدی سے انھیں تھاما روحان بھی جلدی سے اگے بڑھا
جبکے حمنہ بیگم کو اج شدت سے اپنی بیٹی ویرا کی یاد ارہی تھی
لیکن پھر حورم کی طرف دیکھا پھر دل میں سوچا ابھی انکے پاس ایک بیٹی اور ھے
ماما اپ مجھے گلے نہیں لگاے گی حورم نے سارہ بیگم کو پیچھے لڑکھڑاتے دیکھ کر کہا
یہ یہ سس سچ ھے سارہ بیگم نے دل کی تسلی کے لیے روحان سے روتے ہوے پوچھا
جس پر روحان نے ہاں میں سر ہلایا
سارہ بیگم نے اگے بڑھ کر حورم کو اپنے سینے میں بھینچا میری بچی کہاں چلے گی تھی ہمیں چھوڑ کر سارہ بیگم نے روتے ہوے پوچھا
پھر زیہان نے انھیں سب بتایا جسے سن کر ایک بار پھر سارہ بیگم رونے لگی
لیکن وہ دل میں بار بار اپنے اللہ پاک کا شکر ادا کر رہی تھی جسنے اک بار پھر اپنی رحمت سے خوشیوں کے دروازے انکے لیے کھول دیے
حورم صدیق صاحب جو کب سے باہر کبھی رونے کبھی ہنسنے کی اوازوں کو سن رہے تھے
لیکن باہر انے کی ہمت نہیں تھی پھر بیڈ کا سہارا لے کر اٹھے
اور دیوار کا سہارا لے کر باہر اے
لیکن سارہ بیگم کے ساتھ صوفے پر بیٹھے وجود کو دیکھ کر وہی مجمند ہو گے
سب نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور حورم جلدی سے اٹھی اور اپنے باپ کے سینے سے لگ کر رونے لگی
اسے اتنا اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنے زیادہ بیمار ہوگے
صدیق بالکل ہی بوڑھے لگ رھے تھے
میری گڑیا کہاں چلے گی تھی یہ بھی نہیں سوچا تیرے کیسے رہے گا تمھارے بغیر
صدیق صاحب حورم کو اپنی کمزوں کے حصار میں لے کر روتے ہوے بولے
روتے روتے دونوں کی ہچکی بندھ گی تھی
زیہان کا بس نہیں چل رہا تھا وہ حورم کے سارے انسوں کو سمیٹ لے اور کسی درد کو اسکے قریب نہ انے دے
لیکن وہ خود پر ضبط کیے بیٹھا رہا اسے پتہ تھا یہ دکھ سے زیادہ اپنوں سے ملنے کی خوشی ھے
حورم صدیق صاحب کو سہارا دے کر صوفے تک لای اور گلاس میں پانی ڈل کر انھیں اپنے ہاتھوں سے پلایا
دونوں باپ بیٹی کے ملن پر سب کی انکھیں نم ہوگی لیکن یہ انسو خوشی کے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روحان اور حورم کرنل صاحب سے مل کر پریشے کے افس اے تھے
کرنل صاحب کا بھی وہی ری ایکشن جو سب کا تھا
وہ دونوں بمشکل صدیق صاحب کو سلا کر اے تھے ورنہ صدیق صاحب تو اسے اپنے پاس سے اٹھنے تک نہیں دے رہے تھے
ایک ڈر تھا جو انکے دل میں بیٹھ گیا تھا جو اہستہ اہستہ ہی جانا تھا
پریشے نے گریجویشن کمپلیٹ کرکے افس سمبھال لیا تھا
اور اس دوران روحان اسے منیزے کا بتایا کہ وہ کس طرح ڈیلی فون کرکے اس سے بات کرنے کے لیے کہتی ھے
حورم کے دل میں پہلے سے ہی منیزے کے لیے اتنا پیار تھا یہ سن کر دس گنا اور بیٹھ گیا
لیکن ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی ہادی کی کال ای تھی کہ وہ دن بعد پاکستان ا رہے ھے
وہ دونوں افس میں اینٹر ہوے تھے انھیں اندر ہی نہیں جانے دے رہے تھے
اپنی میم سے کہوں کے روحان ملنے ایا ھے
کافی دیر بحث کرنے کے بعد بھی وہ انھیں اندر نہیں جانے دے رہے تھے تو روحان نے غصے میں ا کر کہا
ریسپشن پہ کھڑی لڑکی نے جلدی سے پریشے کو کال ملای
میم اپسے کوی روحان ملنے اے ھے پریشے کے کال اٹھاتے ہی وہ لڑکی جلدی سے بولی
کیونکہ وہ اسے گھور ہی بہت برے طریقے سے رہا تھا
پاگل ہو تم نے انھیں ابھی تک وہ روکا ہوا ان سے سوری کروں اور اندر انے دوں پاگل لڑکی پریشے کو حیرت کے ساتھ ساتھ اس لڑکی پہ غصہ بھی ایام
ایک تو وہ پہلی دفعہ اس سے ملنے ایا ھے اور اوپر سے اس پاگل لڑکی نے اسے روکا ہوا ھے
سر ایم ریلی سوری اپ پلیز میرے ساتھ اندر ایے
اسکے سوری کرتے ہی روحان اور ایٹیٹیوڈ دکھانے لگا
اور گردن اکڑا کر اسکے اگے چلنے لگا جبکے حورم اس لڑکی کے ساتھ ہی چل رہی تھی اور وہ بیچاری بار بار سوری کر رہی تھی
حورم نے مسکرا کر اسے ریلیکس ہونے کہا
تبھی اسنے پریشے کے روم کا بتایا روحان باہر ہی کھڑا ہو گیا اور خود کو کمپوز کرنے لگا
جبکے حورم نے دروازہ کھول اور اگے بڑھی
پریشے جو روحان کا سوچ رہی تھی سامنے حورم کو اتے دیکھ کر اپنی جگہ سے کھڑی ہو گی
جبکے حورم نے اسکی چھوڑی ہوی کرسی کو کھینچا اور اس پہ بیٹھ کر ادھر ادھر ہلنے لگی
جبکے پریشے بس منہ کھول کر اسے دیکھ رہی تھی
اور بتاو پری بڑی ترقی کر لی ھے یار حورم اسکی فایل سے چھیڑ چھاڑ کرتی ہوی بولی
پریشے نے جلدی سے اپنی بازو پہ چٹکی کاٹی
چٹکی کاٹنے کے بعد بھی منظر نہیں بدلا تو پریشے زور سے اسکا نام لے کر چلای اور اسکے گلے لگ گی
مجھے پتہ تھا تم ایک دن ضرور اوں گی
پریشے خوشی سے زور سے چلای
روحان پریشے کے چلانے پر جلدی سے اندر داخل ہواکہی دل کا دورہ تو نہیں پڑ گیا
لیکن پھر سامنے کے منظر کو دیکھ کر تھوڑی تسلی ہوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یشفہ یہ میں اخری دفعہ کہہ رہی ہو پرسوں تم میرے ساتھ پاکستان جارہی ہو مطلب جارہی ہو
منیزے نے دو تین دفعہ تو اس سے پیار سے کہا
لیکن وہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں تھی
لیکن پھر منیزے کے اس طرح غصے میں بولنے سے اسنے جلدی سے گردن ہاں میں ہلای
وہ تو اسی بات پر ابھی تک سکون سے بیٹھی تھی کہ منیزے کو یہ بات نہیں یاد ایا
کہ کس طرح اسنے اسکی شوہر کے بارے میں اسکی سامنے کیا واحیات بکی تھی
چلو پھر سامان وغیرہ کی پکنگ شروع کردوں کیونکہ پرسوں صبح صبح ہم نکل جاے گے
پھر میں تمھیں روحان پریشے حورم سب سے ملواوں گی اوکے
منیزے نے یشفہ کے گالوں کو خوشی سے کھینچتے ہوے کہا
جس پر اسکی خوشی کو دیکھتے یشفہ بھی مسکرا دی
