Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419 Power of Love Episode 2
Rate this Novel
Power of Love Episode 2
Power of Love by Afzonia Zafar
چڑیل جلدی کروں یونی کے پہلے دن ہی لیٹ ہونا ہے کیا روحان زور سے چلایا حورم کو دیکھ کر جو اہستہ اہستہ کھانا کھا رہی تھی
ہاں ارہی چلو ہوگیا میرا ناشتہ کمینے
کھانا بھی ارام سے نہیں کھانے دیتا حورم منہ میں بڑبڑای اور اسکے ساتھ باہر کی جانب چل دی
…………………………..
ڈرایور گاڑی نکالوں مجھے اج ضروری کام سے جا نا ہے
زیہان نے اپنے ملازم سے کہا اور عجلت میں باہر نکلا
اتنی دیر میں ڈرایور نے گاڑی نکال دی
وہ گاڑی میں بٹھا اور اپنی راہ پر گامزن ہوا
وہ ابھی راستے میں ہی جب دور سے ایک لڑکی ہاتھ ہلاتی ہوی نظر ای
……………………….
کمینے میں تمھارے ساتھ نہیں جاوں گی میں اپنی گاڑی میں جاوں گی حورم باہر اتے ہوے بولی
کیا اسکی بات پر روحان کو جیسے صدمہ لگا تو اتنی دیر سے میرا ٹایم کیوں ویسٹ کر رھی تھی
روحان بیچارہ صدمے سے چلایا
اور حورم کے بات سننے سے پہلے ہی گاڑی میں بیٹھا اور زن سے اڈا لے گیا
حورم نے پیچھے سے کندھے اچکاے اور اپنی گاڑی میں بیٹھ گی
لیکن بیچ راست میں ا کر گاڑی ایک جھٹکے سے رکی
اسنے دوبارہ سے گاڑی کو اسٹارٹ کرنے کی کو شش کی لیکن وہ اسٹارٹ نہیں ہوی
حورم نے شارٹ کٹ کے چکر میں سنسان راستے پر اگی تھی جس پر گاڑیاں نہ ہونے کے برابر تھی
حورم نے پریشانی سے روحان کو کال کی لیکن اسنے غصے سے کال کاٹ دی
اہ یہ کمینہ کبھی وقت پر کام نہیں ایا
دوبارہ کال کرنے لگی تو دور سے ایک مرسڈیز اتی نظر ای
حورم نے زور زور سے ہاتھ ہلانا شروع کر دیا
زیہان نےے گاڑی اسکے پاس روکی اور باہر نکلا
اور حورم کی جانب دیکھا جو فلیپر جینز کے اوپر شارٹ کرتی اور اوپر پینک کلر کا حجاب لیا ہوا تھا وہ بے شک بے پناہ حسن کے ملکہ تھی زیہان پہلی مرتبہ کسی کو دیکھ کر اپنے ہوش کھو یا تھا ورنہ لڑکیا اسکے اگ پیچھے گھومتی تھی اسکی ایک نگاہ کے لیے
وہ بمشکل سترہ اٹھارہ سال کی لگ رہی تھی
وہ اپنی جگہ پر کھڑا مسلسل اسے دیکھے جارہا تھا
حورم نے اسے اس کی جگہ پر ایسے ہی کھڑا دیکھا تو اسنے ہاتھ لیکن اسے کوی فرق نہیں پڑا وہ پریشانی سے اسکی جانب بڑھی ارے یہ کیا کومے میں تو نہیں چلا گیا کیا میں سچ میں اتنی ڈراونی کیا روحان سچ کہتا ہے
اسنے رونی شکل بنای وہ اپنی ہی سوچ میں گم تھی جبھی بیچ سڑک میں پڑی اینٹ کو نہ دیکھ سکی
جیسے ہی وہ اگے بڑھی ٹھو کر لگنے کے وجہ سے وہ سیدھا زیہان کے اوپر گری اور زور سے اپنی انکھیں بند کر لی
زیہان جو اسے دیکھنے میں مگن تھا اچانک حورم کا اپنے اوپر گرنے سے بیلنس نہیں رکھ سکا اور حورم میں کے ساتھ نیچے گرا
حورم کو تو کچھ سمجھ نہیں ای کیا ہوا ہے
زیہان نے انکھیں کھول کر اپنے ہونٹوں پر اسکے نرم ہونٹ محسوس ہوے جو اسکی دل کے دھڑکن کو مزید بڑھا گے
اور اسکے برسوں سے سوے ہوے جزبات کو حورم کے ہونٹوں کے نرم لمس نے جگا دیے تھے اسکے ہاتھ بے ساختہ اسکی کمر کو جکڑ گے
حورم نے اپنے ہونٹوں پر نرم سہ لمس محسوس کر کے اپنی آنکھے کھولی کچھ سمجھنے کی کوشش کی تو اپنی کمر پر مضبوط حصار محسوس ہوا
اس سے پہلے کے زیہان اس ہونٹوں کو مزید جکڑتا حورم ایک جھٹکے سے کھڑی ہوی
جلدی سے ان ہونٹوں کو صاف کیا اور اسمان کی طرف ہاتھ جوڑ کر اونچی اواز میں بولی اللہ پاک جی سوری یہ غلطی سے ہوا ہے اس میں میری کوی غلطی نہیں ھے سوری اللہ پاک جی
زیہان زمین سے کھڑا ہوا اور اسے دلچسپی سے دیکھنے لگا اور دل میں کہا
یہ لڑکی میری ہے
اللہ پاک جی یہ سب اسکی غلطی ہے اسنے زیہان کی طرف دیکھ کر بولا
اور اپنی طرف ہونے والے اشارے سے ٹھٹکا اوہ ہیلو میری کوی غلطی نہیں ھے تم خود میرے اوپر گری تھی زیہان بمشکل اپنی ہنسی کو کنٹرول کرتے ہوے بولا
اچھا اچھا ٹھیک ہے مجھے پتہ ھے تم شرمندہ ہو اور مجھ سے معافی بھی مانگنا چاھتے لیکن میں تمھیں معاف تب کروگی جب تم مجھے یونیورسٹی چھوڑوں گے حورم اپنی خفت مٹاتے ہوے بولی
اور زیہان بیچارہ اسکی چالاکی کو دیکھتا رہ گیا جو پاکستان کے غنڈے پلس بزنس مین کو پاگل بنا رہی تھی
حورم بغیر اسکے جواب کا انتظار کیے اپنی گاڑی سے بیگ نکالا اور زیہان کی گاڑی میں اکر بیٹھ گی اور ڈرایور کو کال کی وہ اس راستے سے اکر گاڑی لے جاے
اور بیچارہ زیہان ہکابکا اس چھوٹی سی بلا کو دیکھنے لگا اور اکر اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا اور منہ میں بڑبڑایا لگتا ہے لڑکی مجھے ٹکر کی ملی ھےاور گاڑی اسٹارٹ کی ہاں تو اپنی یو نیورسٹی کا نام بتاو
حورم نے اسے یونیورسٹی کا نام بتایا اور ایڈریس سمجھایا
ھاں تو تمھارا نام کیا ہے اور تم کام کیا کرتے ہو حورم نے زیہان کی طرف دیکھتے ہوے کہا
اور زیہان بیچارےکو بمشکل ہارٹ اٹیک اتے ہوے بچا
اگر اسکو پتہ چل گیا نہ میں کون ہو تو میرا نام سن کے ابھی اسکی موت واقع ہوجاے گی لیکن میں تھوڑا چاہتا وہ بیچارہ پہلی مرتبہ زندگی میں پریشان ہوا تھا
ہاں تو میرا نام زیہان خان ہے اور میرا خود کا بزنس ہے زیہان نے مر ے لفظوں میں اپنا تعارف کروایا
ارے تم وہی تو زیہان خان نہیں جسنے کافی مرڈر کیے ہے لڑکیوں کے ریپ کرنے والوں کے ہے نہ حورم جوش سے بولی
اور زیہان بے چارے کا پاوں بے ساختہ بریک پر پڑا
ہاں میں وہی ہوں وہ مری سی اواز میں بولا کیا چیز ہے یہ جو مسلسل اسے جھٹکے پہ جھٹکے دیے جا رہی تھی اور گاڑی پھر سے سٹارٹ کی
سچ میں تمھیں پتہ ہے میں تمھاری کتنی بڑی فین ہو بلکہ میں ہی نہیں میری پوری فیملی تمھاری بہت بڑی فین ہے وہ جوش سے اسے بتاے جارہی تھی
اور زیہان کہ لگ رہا تھا وہ اج پاگل ہو جاے گا
لیکن شکر تھا کہ یو نیورسٹی ا گی تھی اس سے پہلے کہ حورم اترتی زیہان جلدی سے بولا
سنو اپنا نام تو بتاتے جاوں
حورم صدیق نام ہے میرا نام بتا کر جلدی سے باہر نکل گی
وہ کافی دیر تک مسکراتے ہوے اسکے پشت کو دیکھتا رہا اور اگے بڑھ گیا
وہ شاید زندگی میں پہلی مرتبہ دل سے مسکرایا ہوگا
اسنے اپنا فون نکالا اور ایک کال ملای
ہاں جاوید ایک لڑکی ہے حورم صدیق اس یونیورسٹی میں پڑھتی ہے اسنے یو نیورسٹی کا نام بتایا ایک گھنٹے کے اندر اندر مجھے اسکی ساری انفارمیشن مجھے چاھیے اور تم اچھے سے جانتے ہو میں تمھیں کیوں دے رہا ہوں
جی بھای جانتا ہوں کیونکہ اپ مجھ پر سب سے زیادہ بھروسہ کرتے ہے اگے سے جاوید خوشی سے بولا اور شاید زیہان خان کی زندگی میں وہ واحد بندہ تھا جس پر وہ انکھیں بند کرکے بھروسہ کرتا تھا جسے وہ ملازم نہیں چھوٹا بھای مانتا تھا جس سے وہ اپنے مزاج کے خلاف نرمی سے بات کرتا تھا جو اسکی زندگی کی تلخ ترین حقیقت س واقف تھا
اور زیہان جو کہ ایک اہم کام سے نکلا تھا وہ سرے سے ہی بھول گیا لیکن وقت اب نکل چکا تھا لیکن فکر کسے تھی
اسنے گاڑی اسٹارٹ کی اور گھر کی طرف واپس مڑ گیا.
