Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419 Power of Love Episode 29
Rate this Novel
Power of Love Episode 29
Power of Love by Afzonia Zafar
پریشے نے لان میں گھومنے کا ارادہ کیا کیونکہ موسم خراب ہو رہا تھا شاید بارش ہونے والی تھی
پریشے کو بارش بے انتہا پسند تھی جبکے بارش تو منیزے اور زیہان کو بھی بے انتہا پسند تھی
پریشے تیزی سے بھاگ کر لان میں گی تھوڑی دیر اسنے چہل قدمی کی اتنے میں بارش بھی شروع ہوگی
پریشے خوشی سے بارش میں گول گول گھومنے لگی
روحان جو تیزی سے بارش کی وجہ سے اندر بھاگ کر جا رہا تھا تاکہ بارش میں بھیگنے سے بچ جاے
کیونکہ اسے اور حورم دونوں کو ہی بارش کچھ خاص پسند نہیں تھی وہ دونوں بس دور سے ہی بارش کو دیکھنا پسند کرتے تھے
تبھی اسکی نظر بارش میں گول گول گھومتی پریشے پر پڑی
روحان اتنے دنوں سے صرف پریشے کو ہی سوچ رہا تھا پتہ نہیں اس لڑکی میں ایسا کیا تھا
جو اس جیسے شرارتی لڑکے کو بس اپنے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتی تھی
وہ بے خود سہ اس پری پیکر کو بارش میں بھیگتا ہوا دیکھ رہا تھا
جو بالکل اپنے نام کی طرح تھی
روحان اپنے اپ کو ہوش میں لاتے ہوے پریشے کی طرف بڑھا
اج تو اسے بارش میں بھیگنا بھی برا نہیں لگ رہا
پریشے جو بڑے مزے سے گھوم رہی تھی ایک دم سے روحان کے انے پر ہڑبڑای اور اندر بھاگنے لگی اتنے میں اسکا دوپٹہ جو سکے ساتھ ہی گھوم رہا تھا
ایک دم سے اسکے پاوں میں الجھا اور اس پہلے کے پریشے زمین پر بوس ہوتی
روحان جو حیرت سے ااسکی ہڑبڑاہٹ کو دیکھ رہا تھا
اسکے گرنے پر اسکے بازو کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور دوسرا ہاتھ اسکی کمر میں ڈالا
پریشے اسے اپنے اتنے نزدیک دیکھ کر پوری طرح گھبرا گی
اور اپنےاپ کو چھڑوانے کی کوشش کی لیکن روحان بہت ہی دلچسپی سے پریشے کے چہرے کےتاثرات کو دیکھ رہا تھا
جو مکمل طور پر اسکے چہرے کی طرف دیکھنے سی گریز کر رہی تھی
روحان نے اہستہ سے اسے چھوڑا
لیکن اسکا ایک ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا
سنو میں گھما پھر کہ بات کرنے کا عای ہو اصل میں جب تک اگلا بندہ گھوم نہ جاے تو مجھے بات کرنے میں مزہ نہیں اتا
لیکن میں تم گھما پھرا کر بات نہیں کروں گا بس اتنا کہوں گا کہ تم دیکھنے کے بعد یہ دل میرے قابو میں نہیں رہتا ہے
بس دل کرتا ہے تم ہر وقت میرے سامنے رہوں میں دوسرے لڑکوں کی طرح بالکل بھی تمھارے ساتھ ٹایم پاس نہیں کروں گا
اسی لیے میں تم سے نکاح کرنا چاہتا ہو مجھے پتہ ہے ابھی ہم دونوں کی عمر نہیں ہے
لیکن میں پھر بھی تمہیں ہمیشہ کے لیے اپنا کرنا چاہوں گا
اسکے لیے میں تم سے بالکل بھی اجازت نہیں مانگوں گا
بس ابھی بتا رہا ہو بہت جلد تم میری ہوگی اپنا خیال رکھنا
اور جس طرح سے ایا اسی طرح واپس بھی چلا گیا
پیچھے سے پریشے کافی دیر تک اسکے الفاظوں کے زیر اثر کھڑی رہی اور پھر مسکراتے ہوے اندر چلے گی
پریشے کو روحاں کا الگ سہ انداز بے حد اچھا لگا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زیہان اتنی دیر سے حورم کے باہر نکلنے کا انتظار کر رہا تھا اب تو بارش بھی شروع ہو گی تھی
بارش کو دیکھ کر زیہان کی انکھیں مزید چمک گی وہ جو حورم سے کچھ اوٹ پٹانگ ہی منوانے والا تھا
لیکن پھر بارش کو دیکھ کر اپنا ارادہ بدل لیا
لیکن حورم تھی کہ باہر انے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی
حورم اب اگر تم باہر نہیں نکلی نہ تو میں دروازہ کھول کر اندر اجاوں گا زیہان اپنا ضبط کھوتے ہوے بولا
پھر ٹھیک پانچ منٹ بعد حورم باہر نکلی
کیا مسلہ ہے تمھارے ساتھ حورم کو زیہان پہ پہلے ہی غصہ تھا اور اب تو وہ اور بڑھ گیا
جبکے زیہان کی نظریں اسکے نکھرے نکھرے سراپے میں ہی اٹک گی
وہ جلدی سے بیڈ سے اترا اور حورم کے بالکل نزدیک کھڑے ہوگیا اور حورم کو معنی خیز نظروں سے دیکھنے لگا
حور ابھی تم نے کہا تھا نہ کے تم وہ مانو گی جو میں تم سے کہوں گا زیہان نے اسکے چہرے کو دیکھتے ہوے بولا
ہاں کہا تھا حورم نے الجھن سے اثبات میں سر ہلاتے ہو ےکہا
تو پہلے یہ بتاوں تمھیں بارش کیسی لگتی ہے پھر میں اپنی بات بتاوں گا زیہان نے حورم س پوچھا
امم بارش تو سہی لگتی ھے لیکن اس میں بھیگنا بالکل بھی پسند نہیں ھے
حورم نے اپنا رخ شیشے کی طرف موڑتے ہوے کہا اور ساتھ میں ہی ٹاول کھول کر انے باوں کو باہر نکالا
تو اب تم میرے ساتھ باہر بارش میں چلوں گی وہ بھی نہانے اور تم مری بات سے انکار نہیں کر سکتی کیو نکہ تم میں مجھ سے وعدہ کیا ہے اور وعدہ توڑنے والے کو بے حد سزا ملتی ہے
زیہان نے اسکے لیے کوی انکار کی گنجایش ہی نہںں چھوڑی اور ساتھ ہی اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ باہر لے ایام
حورم پیچھے سے برے برے منہ بناتی ہوی اسکے پیچھے چل پڑی
زیہان اسے گھر کے پیچھے والی سایڈ پہ لے ایا کیونکہ اسے پتہ تھا کہ اب اس وقت یہاں تو کوی انے والا نہیں تھا
وہ دونوں مکمل طور پر بارش میں بھیگ چکے تھے
زیہان دیکھوں میں ابھی بھی اتنی دیر شاور کے نیچے رہی ہو اور اب تمھارے ساتھ بھی بارش میں بھیگ چکی ہو اب مہربانی کرکے مجھے جانے دوں کونکہ اب تمھاری بات میں نے مان لی ہے
ہمم تو میں نے کب کہا کہ میری بات پوری ہو چکی ہے ابھی میری ادھی بات رہتی ہے جسے پوری کیے بنا تم یہاں سے نہیں جا سکتی ہو
زیہان نے چالاکی سے بات کو پلٹتے ہوے کہا
اسکی چالاکی پہ حورم کا دل کیا کہ وہ اسکا سر پھاڑ دے
اب جو کہنا ہے کہوں کیونکہ مجھے سردی لگ رہی ہے حورم نے اپنا غصہ کنٹرول کرتے ہوے کہا
ہاں تو تم میرے گال پر کس کروں زیہان نے ایکدم سے ہی اسے جھٹکا دے کر اپنے پاس کیا
زیہان یہ کیا بہودگی ہے میں کوی یہ بات نہیں ماننے والی ہو حورم نے ساتھ ہی اس سے اپنا اپ چھڑواتے ہو ے کہا
وعدہ زیہان نے اسے اسکا وعدہ یاد دلاتے ہوے کہا
اب نیچے تو ہو کھمبے کہی کے حورم نے اسکے لمبے قد پر چوٹ کرتے ہوے کہا کیونکہ وہ زیہان کے سینے تک ہی اتی تھی
زیہان نے بھی شرافت سے اپنی ہنسی کنٹرول کرتے ہوے نیچے جھکا
حورم نے کچھ دیر تو سوچا لیکن پھر اہستہ سے اپنے ہونٹ زیہان کے گال پر رکھنے چاہے
لیکن اس سے پہلے ہی زیہان اسکے ہونٹوں کو اپنی قید میں لے چکا تھا
حورم بس پھٹی انکھوں سے زیہان کے چہرے کو دیکھنے لگی
لیکن زیہان اردگرد بھلاے بس اسکے ہونٹوں پر اپنی شدت برسا رہا تھا
اور اسکی کمر پر اسکے ہاتھوں کی گرفت سخت ہوتی جارہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زیہان نے کافی دیر بعد اسے چھوڑا پھر اسکے ٹھنڈے ہوتے وجود کو اپنی بانہوں میں بھر کر اپنےکمرے کی طرف بڑھا
حورم اپنے کپڑے چینج کرکے بہر چلے گی جہاں سارے ڈایننگ ٹیبل پر بیٹھے تھے
اور کرنل صاحب نینا سے اسکا نام وغیرہ پوچھ رہے تھی
تھوڑی دیر بعد زیہان بھی اگیا
اور نینا سے ملنے لگا
وہ سب ناشتا کر رہے تھے جب حورم کی چھینکیں سٹارٹ ہو گی
اور ایک بعد ایک چھینک انے لگی
زیہان نے پریشانی سے حورم کے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھا اور پھر دوسرے ہاتھ سے حورم کا ہاتھ پکڑا
سواے نینا کے سب نے پریشانی سی حورم کی طرف دیکھا
