Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419 Power of Love Episode 39
Rate this Novel
Power of Love Episode 39
Power of Love by Afzonia Zafar
ہادی اپنے فلیٹ میں واپس ایا اور اپنے کمرے میں لیپ ٹاپ کھول کہ بیٹھ گیا
ہادی اپنے فارغ ٹایم میں زیادہ تر سوشل میڈیا ہی یوز کرتا تھا لیکن کچھ دنوں سے اسے ایک مشن کی وجہ سے ٹایم ہی نہیں ملا اور اج منیزے کا ری ایکشن دیکھ کر
اسے احساس ہوا کہ جتنا وہ سوچ رہا تھا کہ منیزے اسکی شکل تک دیکھنا گوارا نہیں کرے گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا تھا
مطلب اسے زیادہ محنت نہیں کرے گی اسے منانے میں
وہ اسی سوچ میں ہی گم تھا جب ایک وڈیو کی اواز سے ہوش میں ایا
اسنے سکرین پر دیکھا تو وہ منیزے ہی تھی منیزے نے ایک ہی پنچ میں اسے گرادیا اور اسےلڑکے کی حالت بری ہوگی تھی
ہادی نے داد دیتی نظروں سے منیزے کو سکرین میں ہی دیکھا
مطلب اسکی منیزے بالکل ہی شیرنی بن چکی تھی
لیکن اچانک ہی اسکی نظر پیچے بیک گراونڈ پر پڑی جس پہ کسی یونی کا نام لکھا ہوا تھا اور اردگرد کافی زیادہ سٹوڈنٹس بھی کھڑے تھے
جہاں تک ہادی کی انفرمیشن تھی منیزے نے اپنے بابا کے خواب کو پورا کرنے کے لیے ایم بی بی ایس کیا تھا اور جب وہ لاسٹ ٹایم پچھلے سال لنڈن ایا تھا
تو منیزے اس ٹایم ہاوس جاب رہی تھی پھر منیزے دوبارہ یونی میں کیا کر رہی تھی
منیزے کا اتنا چوکنا ہو کر سونا اسکے مارنے کا انداز ہو کیا رہا
اس بس یہ سمجھ نہیں ا رہا تھا جب منیزے ڈاکٹر بن چکی تھی تو وہ دوبارہ یونی کیوں گی
ہادی نے فورا ہی اسکا یونی کا ڈیٹا نکالا جس میں وہ اس سال ہی یونی میں ای تھی
باقی کی منیزے کی ساری انفارمیشن بلینک تھی
اگر کسی بندے کی انفارمیشن بلینک اے تو اسکا مطلب صاف ہی تھا
کہ وہ ایک سیکریٹ ایجنٹ ھے ہادی اور زیہان کی بھی جتنی مرضی کوشش کر لے لیکن صرف انکی بیسک انفارمیشن ہی کوی نکال سکتا تھا کیونکہ وہ سیکریٹ ایجنسی سے تعلق رکھتے تھے
منیزے کی انفاارمیشن میںتو یہ تک بھی شو نہیں ہو رہا تھا کو وہ ڈاکٹر بھی ھے جبکے زیہان کے موبایل میں اس نے خود اسکی ڈگری کی پک دیکھی تھی
کچھ تو ھے جو اس سے چھپا ھے لیکن وہ بھی ای ایس ای کا سب سے بڑا ہیکر تھا اور ہیکنگ کرنا اسکا فیورٹ ورک تھا
ہادی نے فورا ہی منیزے کے موبایل فون کو ہیک کرکے اسکا سارا فنکشن اپنے لیپ ٹاپ پر سیٹ کیا
ویسے بھی اس وقت منیزے کو موبایل کی کوی ضرورت نہیں پڑنی تھی اسں وجہ سےاسکےپاس کھلا ٹایم تھا
منیزے کی اج دونوں کی کالز میں ایک روحان کی تھی ایک زیہان کی تھی جبکے باقی ساری کالز جرنل ابراہیم کی تھی
زیہان اور ہادی بھی انہی کے انڈر کام کرتے ہے تو منیزے انھیں کیسے جانتی ھے
مطلب صاف اسکے سامنے تھا کہ منیزے ایک سیکریٹ ایجنٹ اور کسی مشن کے تحت اسنے اس یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا تھا
سب سمجھ میں اتے ہی ہادی نے فخر سے منیزے کی تصویر کو دیکھا
اور بیٹھے بیٹھے ہی اسکی پک کو سیلیوٹ کیا
ای پراوڈ اف یو ماے گرل ہادی کا دل خوشی سے جھوم رہا اسی لیے لیپ ٹاپ کو سایڈ پر رکھا اور سونے کے لیے لیٹ گیا
حلانکہ نیند تو اسے انی نہیں تھی لیکن وہ صرف اپنی منیزے کو سوچنا چاہتا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھای جو کہا ھے اپ نے وہی کرنا ھے اپنے حورم کو اپنے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دینا ھے روحان دس بار کہی ہوی بات کو دہرایا
روحان لیکن میں حورم کو اگنور کیسے کر سکتا ہو زیہان نے ایک بار پھر وہی جواب دیا جو وہ پہلے دس بار دے چکا تھا
وہ لوگ بھول چکے تھے کہ وہ کسی میٹنگ کے لیے اے ہے بس انھیں کسی بھی طرح حورم کی یادداشت کو واپس لانا تھا
وہ لوگ اس وقت ڈاکٹر حمنہ کے ہوسٹل کے سامنے کھڑے تھے
زیہان نے خود کو انے والے وقت کے لیے تیار کیا اور روحان کے ساتھ اندر بڑھا
وہ لوگ اسی کیبن میں داخل ہوے جس میں کل ہوے تھے
لیکن اج ویرا کے ساتھ کوی اور بھی لڑکی بیٹھی ہوی تھی
دروازہ کھلنے کی ہلکی سی اواز پر جب اس لڑکی نے چہرہ موڑ کر دیکھا تو روحان اور زیہان دونوں نے برا منہ بنایا
روحان نے جلد سے اپنے فیس کے ایسپریشن کو کنٹرول کیا اور ویرا سے مخاطب ہوا جبکے پاس بیٹھی لڑکی کی ان ہینڈسم لڑکوں کو واپس دیکھ کر دیکھ کر پوری بتیسی نکل گی
ڈاکٹر پلیز اپ میرے بھای کے زخم کو دیکھی گی
روحان کے کہنے پر ویرا نے زیہان کو بیڈ پر بیٹھنے کا اشرہ کیا جو اسے ہی تب سے دیکھے جارہا تھا
لیکن پتہ نہیں کیوں ویرا کو ان نظروں سے بالکل بھی الجھن نہیں ہو رہی تھی
زیہان حورم کے کہنے پر بیڈ پر بیٹھا جبکے ویرا اسکی طرف فرسٹ ایڈ کیٹ کو لے کر بڑھی
جیسے ہی حورم نے اسکے ماتھے کی طرف ہاتھ بڑھایا روحان کے اشارہ کرنے پر زیہان جلدی سے بولا
ڈاکٹر میں اپ سے نہیں ان خوبصورت ڈاکٹر سے بینڈیج کروانا چاہتا ہو زیہان نے دل پر پتھر رکھتے ہوے پیچھے بیٹھی اسی لڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا
جبکے فاریہ اپنی طرف ہونے والے اشارے سے بالکل شوک ہوگی
کل ان دونوں پورے پانچ گھنٹے کی محنت کے بعد بھی منہ نہیں لگایا ابھی ویرا کو انہی کے بارے میں بتارہی تھی جس سے ویرا کافی ایمپریس ہوی تھی کیونکہ اسے وہی لڑکے پسند تھے جو کسی لڑکی کو نہ دیکھے اپنے اپ کو اپنی ہونے والی بیوی کے لیے سمبھال کر رکھے
اور دوسری لڑکیوں کے لیے اسکی نظروں میں عزت ہو لیکن اسے یہ بھی پتہ تھا کہ اجکل کے زمانے میں ایسے لڑکوں کا ہونا ناممکن ھے
ویرا نے شاکڈ نظروں سے زیہان کو دیکھا جو اب میٹھی نظروں سے فاریہ کو دیکھ رہا تھا یہ کہنا مشکل تھا دیکھ رہا تھا یہ گھور رہا تھا
کل تو بڑا مجنوں بنا پھر رہا تھا اپنی بیوی کی دوری پہ اج دیکھوں کس طرح کسی نامحرم کو لاینیں مار رہا ھے
ایک منٹ کہی اسے فاریہ میں بھی تو اپنی بیوی نظر نہیں ارہی ھے حورم نے دل میں کہتے ہوے اگے بڑھی اور اسکی بازو پر زوردار چٹکی کاٹی
تینوں نے حیران ہوتے ہوے ویرا کو دیکھا کہ یہ کر کیا رہی ھے جبکے زیہان اپنے کاندھے پر درد کو محسوس کرتا حورم کی طرف دیکھنے لگا
حورم نے اپنا ہاتھ پیچے کی طرف واپس کھینچا وہ میں نے اسی لیے کاٹی ھے کہ کہی تم فاریہ میں بھی تو اپنی بیوی کو نہیں دیکھ رہے ویرا نے تیکھی نظروں سے دیکھتے ہوے زیہان سے کہا
کوی بھی بتا سکتا ھے کہ حورم کو یہ سب پسند نہیں ایا
تبھی فاریہ اگے بڑھی اور زیہان کے زخم کا معاینہ کرنے لگی
اوہ زخم تو کافی خراب ہوگیا ھے لیکن میں بینڈیج کر دیتی ہو اور میڈیسن لکھ دیتی ہو سٹور سے یہ میڈیسن لے لینا فاریہ نے فکرمندانہ انداز میں کہا
جبکے زیہان نے غصے سے روحان کو گھورا جو جو اگے سے کول
ڈاون کا اشارہ کر رہا تا لیکن زیہان کی نظریں ابھی تک روحان کو گھور رہی ھے جو اسے کیا کرنے پر مجبور کر رہا تھا
جبکے ویرا زیہان کو گھورنے میں لگی ہوی تھی ایا بڑا بیوی سے پیار کرنے والا ویرا نے اپنی نظروں کا زاویہ بدلتے ہوے روحان کو دیکھا
اور پھر اسکے پاس جاکر بیٹھ گی
جبکے فاریہ نے بینڈیج کرتے ہوے حیران نظروں سے حورم کو اسکے پاس پیٹھتے ہوے دیکھا
فاریہ حورم کو پچھلے ایک سال سے اچھی طرح جانتی تھی لیکن اسنے اج تک نہ تو حورم کو بغیر حجاب کے دیکھا نہ ہی حورم کو کسی میل ڈاکٹر یہ کسی لڑکے سے بات کرتے ہوے دیکھا
وہ زیادہ بچوں اور بوڑھوں کے کیسسز لیتی تھی
روحان نے پاس بیٹھی حورم کو دیکھا
ویرا کو خود نہیں پتہ وہ کیوں اس لڑکے کے پاس بیٹھی ھے لیکن جو بھی اسے اس لڑکے سے بہت اپنا پن محسوس ہو رہا تھا ایسے جیسے کوی پرانہ رشتہ ہو جیسے کوی بہت اپنا ہو
ویرا کو کل بھی لگا تھا اور اج بھی لگ رہا تھا جیسے اسے کہی دیکھا ہوا ہو
ویرا تھوڑی سی اور اسکے پاس ہوکر بیٹھی پھر روحان کے کان میں گھس کر بولی
میرا کوی بھای نہیں ھے میرے بھای بنوں گے تم بہت اپنے لگتے ہو اسی لیے بنوں گے میرے بھای ویرا نے ہاتھ اگے بڑھاتے ہوے روحان سے کہا
نیکی اور پوچھ پوچھ روحان نے اپنی خوشی کو کنٹرول کرتے ہوے کہا
روحان نے سیکنڈ سے پہلے حورم کا ہاتھ تھامتے ہوے کہا
جو بھی تھا لیکن اسکے دل میں اج بھی روحان تھا لیکن اسے یاد نہیں وہ الگ بات تھی
