Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419 Power of Love Episode 34
Rate this Novel
Power of Love Episode 34
Power of Love by Afzonia Zafar
کیمرے چیک کرتے ہے عبیر نے جلدی سے زیہان کی طرف
دیکھتے ہوے کہا
روحان زیہان اور عبیر تیزی سے اس اس روم کی طرف بڑھے جس روم میں کیمرے وغیرہ کا کنٹرول تھا
ان سب کیمرے کو عبیر نے پہلے ھی ہیک کر کے اپنے کنٹرول میں کر لیا تھا تاکہ کوی بھی اسے ہیک کرنے کی کوشش کرے تو انھیں لگے کہ کیمرے ہیک ہو چکے ھے
لیکن اصل میں وہ ریکوڈنگ ہونا جاری رھے گی
عبیر نے جلدی سے وڈیو پلے کیا
جس میں صاف وہ ادمی نظر ارہا تھا جس نے حورم کے منہ پر رومال رکھا تھا
وہ شاید اسی وجہ سے سرعام پھر رہے تھے کیونکہ انھیں لگ رہا تھا کہ وہ ان کیمروں کو ہیک کر چکے ھے
عبیر نے جلدی سے اپنا موبایل نکالا اور اس بندے کی دس منٹ کے اندر ساری انفاریشن اسے سامنے تھی
عبیر نے اسکا فون نمبر نکالا اور لاسٹ کال نکالا
لاسٹ کال اسیارمان ملک ھے اسکے پیچھے عبیر نے بیس منٹ کے اندر اندر ساری انفارمیشن نکال کر زیہان کے سامنے رکھ دی
اسی لیے تو عبیر حیدر شاہ کوسب سے بڑا ہیکر کہتے تھے کیونکہ وہ کھڑے کھڑے بندے کی ساری انفارمیشن منٹوں میں نکال لیتب تھا
زیہان جلدی سے نیچے بھاگا
انکل یہ ارمان ملک کون ھے زیہان نے نیچے اتے ہی سب سے پہلے صدیق صاحب کو مخاطب کیا
صدیق پہلے تو کچھ سوچتے رہے پھر زیہان کو ساری بات بتا دی
پوری بات سنتے ہے زیہان نے دکھ سے کرنل صاحب اور صدیق صاحب کو دیکھا
اپ لوگوں نے مجھے اس قابل بھی نہیں سمجھا کہ مجھے یہ بات بتا دیتے
کیا میں اتنا کمزور ہو جو اپنی بیوی کی حفاظت بھی نہیں کر سکتا تھا
اگر حورم کوکچھ بھی ہوا نہ تو میں اپ دونوں کو کبھی معاف نہیں کروں گا زیہان کی انکھیں خطرناک حد تک سرخ ہو چکی تھی اور ماتھیں کی رگیں پھٹنے کے قریب تھی
عبیر چلو میرے ساتھ زیہان نے پیچھے پلٹتے ہوے کہا
زیہان بھای میں بھی اپکے ساتھ چلو گا روحان نے انسووں سے بھری انکھوںسے کہا
جس پر زیہان نے سر ہلایا اور اگے کی طرف بڑھ گیا اور اسکے پیچھے ہی وہ دونوں جلدی سے بھاگے
پیچھے سے سارہ بیگم اور پریشے دعا کرنے لگی جبکے صدیق وہی کرسی پہ ڈھ گے انھیں اپنی غلطی کا اب احساس ہوا تھا انھیں زیہان کو بتا دینا چاھیں تھا
کرنل صاحب نے اگے بڑھ کر صدیق صاحب کو حوصلہ دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورم کی انکھ کھلی تو اپنےاپ کو بیڈ پر لیٹ پایا
حورم جلدی سے اٹھی لیکن سامنے بیٹھے ارمان پر نظر پڑی توششدر رہ گی
اور کچھ دن پہلے کا سارا واقع دماغ میں گردش کرنے لگا
جسے وہ اپنی خوشیوں میں بالکل ہی فراموش کر چکی تھی
واہ واہ تم تو پہلے سے زیادہ خوبصورت ہوگی ہو
ارمان خباثت سے حورم کے حجاب میں موجود چہرے کو دیکھ کر کہنے لگا
اگر تم اپنے اس چہرے کی خیریت چاہتی ہو تو ان طلاق کے پیپرز پر ساین کروں ورنہ بتایج کی ذمدار تم خود ہوگی
کبھی نہیں میں ان پیپرز پر کبھی ساین نہیں کروں گی حورم نے پختہ لہجے میں کہا
ہمت کی داد دینی پڑے گی ویسے تمہیں اس گھر سے نکالنے کے لیے مجھے کیا کچھ نہیں کرنا پڑا
اس گھر کے نوکروں کو خریدا تاکہ اس گھر کی پل پل کی خبر دیتے رہے
اور دیکھوں میری محنت کا پھل میرے سامنے ھے
ارمان نے اپنی محنت کا بتاتے ہوے کہا جس میں اسنے اپنی ایڑھی چوٹی کا زور لگایا تھا
تم چاہیں کچھ بھی کر لوں لیکن میں ان پیپرز پر ساین نہیں کروں گی
اور دیکھنا کچھ ہی دیر میں زیہان یہاں ہو گا اور تمھیں کتے کی موت مارے گا
حورم کے لہجے میں موجود پختہ یقین ارمان کو تیش دلانے کے کافی تھے
ہاہاہا اتنی دیر میں زیہان یہاں پہنچے گا اگر اتنی دیر میں تم اس دنیا سے ہی پرواز کر جاوں تو کیونکہ جو میرا نہیں ہوا وہ کسی کا بھی نہیں ہو سکتا ھے ارمان اپنے غصے پر قابو کرتے ہو ے بولا
اور مجھے اس بات کا کوی افسوس نہیں ہوگا
حورم نے ارمان کی انکھوں میں دیکھتے ہوے کہا
تو تم ایسے نہیں مانو گی ارمان نے اپنے پاس پڑی بوتل کو اٹھاتے ہوے بولا جس میں ایسڈ موجود تھا
