406.7K
48

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Power of Love Episode 34

Power of Love by Afzonia Zafar

کیمرے چیک کرتے ہے عبیر نے جلدی سے زیہان کی طرف

دیکھتے ہوے کہا

روحان زیہان اور عبیر تیزی سے اس اس روم کی طرف بڑھے جس روم میں کیمرے وغیرہ کا کنٹرول تھا

ان سب کیمرے کو عبیر نے پہلے ھی ہیک کر کے اپنے کنٹرول میں کر لیا تھا تاکہ کوی بھی اسے ہیک کرنے کی کوشش کرے تو انھیں لگے کہ کیمرے ہیک ہو چکے ھے

لیکن اصل میں وہ ریکوڈنگ ہونا جاری رھے گی

عبیر نے جلدی سے وڈیو پلے کیا

جس میں صاف وہ ادمی نظر ارہا تھا جس نے حورم کے منہ پر رومال رکھا تھا

وہ شاید اسی وجہ سے سرعام پھر رہے تھے کیونکہ انھیں لگ رہا تھا کہ وہ ان کیمروں کو ہیک کر چکے ھے

عبیر نے جلدی سے اپنا موبایل نکالا اور اس بندے کی دس منٹ کے اندر ساری انفاریشن اسے سامنے تھی

عبیر نے اسکا فون نمبر نکالا اور لاسٹ کال نکالا

لاسٹ کال اسیارمان ملک ھے اسکے پیچھے عبیر نے بیس منٹ کے اندر اندر ساری انفارمیشن نکال کر زیہان کے سامنے رکھ دی

اسی لیے تو عبیر حیدر شاہ کوسب سے بڑا ہیکر کہتے تھے کیونکہ وہ کھڑے کھڑے بندے کی ساری انفارمیشن منٹوں میں نکال لیتب تھا

زیہان جلدی سے نیچے بھاگا

انکل یہ ارمان ملک کون ھے زیہان نے نیچے اتے ہی سب سے پہلے صدیق صاحب کو مخاطب کیا

صدیق پہلے تو کچھ سوچتے رہے پھر زیہان کو ساری بات بتا دی

پوری بات سنتے ہے زیہان نے دکھ سے کرنل صاحب اور صدیق صاحب کو دیکھا

اپ لوگوں نے مجھے اس قابل بھی نہیں سمجھا کہ مجھے یہ بات بتا دیتے

کیا میں اتنا کمزور ہو جو اپنی بیوی کی حفاظت بھی نہیں کر سکتا تھا

اگر حورم کوکچھ بھی ہوا نہ تو میں اپ دونوں کو کبھی معاف نہیں کروں گا زیہان کی انکھیں خطرناک حد تک سرخ ہو چکی تھی اور ماتھیں کی رگیں پھٹنے کے قریب تھی

عبیر چلو میرے ساتھ زیہان نے پیچھے پلٹتے ہوے کہا

زیہان بھای میں بھی اپکے ساتھ چلو گا روحان نے انسووں سے بھری انکھوںسے کہا

جس پر زیہان نے سر ہلایا اور اگے کی طرف بڑھ گیا اور اسکے پیچھے ہی وہ دونوں جلدی سے بھاگے

پیچھے سے سارہ بیگم اور پریشے دعا کرنے لگی جبکے صدیق وہی کرسی پہ ڈھ گے انھیں اپنی غلطی کا اب احساس ہوا تھا انھیں زیہان کو بتا دینا چاھیں تھا

کرنل صاحب نے اگے بڑھ کر صدیق صاحب کو حوصلہ دیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حورم کی انکھ کھلی تو اپنےاپ کو بیڈ پر لیٹ پایا

حورم جلدی سے اٹھی لیکن سامنے بیٹھے ارمان پر نظر پڑی توششدر رہ گی

اور کچھ دن پہلے کا سارا واقع دماغ میں گردش کرنے لگا

جسے وہ اپنی خوشیوں میں بالکل ہی فراموش کر چکی تھی

واہ واہ تم تو پہلے سے زیادہ خوبصورت ہوگی ہو

ارمان خباثت سے حورم کے حجاب میں موجود چہرے کو دیکھ کر کہنے لگا

اگر تم اپنے اس چہرے کی خیریت چاہتی ہو تو ان طلاق کے پیپرز پر ساین کروں ورنہ بتایج کی ذمدار تم خود ہوگی

کبھی نہیں میں ان پیپرز پر کبھی ساین نہیں کروں گی حورم نے پختہ لہجے میں کہا

ہمت کی داد دینی پڑے گی ویسے تمہیں اس گھر سے نکالنے کے لیے مجھے کیا کچھ نہیں کرنا پڑا

اس گھر کے نوکروں کو خریدا تاکہ اس گھر کی پل پل کی خبر دیتے رہے

اور دیکھوں میری محنت کا پھل میرے سامنے ھے

ارمان نے اپنی محنت کا بتاتے ہوے کہا جس میں اسنے اپنی ایڑھی چوٹی کا زور لگایا تھا

تم چاہیں کچھ بھی کر لوں لیکن میں ان پیپرز پر ساین نہیں کروں گی

اور دیکھنا کچھ ہی دیر میں زیہان یہاں ہو گا اور تمھیں کتے کی موت مارے گا

حورم کے لہجے میں موجود پختہ یقین ارمان کو تیش دلانے کے کافی تھے

ہاہاہا اتنی دیر میں زیہان یہاں پہنچے گا اگر اتنی دیر میں تم اس دنیا سے ہی پرواز کر جاوں تو کیونکہ جو میرا نہیں ہوا وہ کسی کا بھی نہیں ہو سکتا ھے ارمان اپنے غصے پر قابو کرتے ہو ے بولا

اور مجھے اس بات کا کوی افسوس نہیں ہوگا

حورم نے ارمان کی انکھوں میں دیکھتے ہوے کہا

تو تم ایسے نہیں مانو گی ارمان نے اپنے پاس پڑی بوتل کو اٹھاتے ہوے بولا جس میں ایسڈ موجود تھا