Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419 Power of Love Episode 14
Rate this Novel
Power of Love Episode 14
Power of Love by Afzonia Zafar
چلوں میں تمھیں بتاتا ہو میں تمھیں یہاں کیوں لے کر ایا میری سونے کو چڑیا میری تجھ سے کوی دشمنی نہیں ہے لیکن میں تمھیں اب اپنی رکھیل بناوں گا اسنے اسکے منہ پر ٹیپ لگا دی تھی جسکی وجہ سے وہ اب کوی بھی مزاحمت نہیں کر پارہی تھی
تیرے نانا …..گالی نے سالے نے بیس سال پہلے میرے چھوٹے بھای کو رنگیں ہاتھ پکڑ کر اسے پھانسی پر چھڑوایا
جسکے غم میں میری ماں مرگی اور میری بہن ںے خود کشی کر لی اور ہماری ساری دولت کو گورنمنٹ ایلیگل کہہ کر قبضہ کر لیا وہ ابھی بھی اسکے ہاتھ پر بلیڈ چلا رہا تھا
سالے تین سال کی محنت کے بعد تیری پوری فیملی کو مروانے کے قابل ہوا اب وہ ارام سے کرسی پر ٹیک لگا کے بیٹھ گیا تھا
جبکے منیزے کی انکھیں باربار بند ہو رہی تھی جمعیل نے پانی اسکے منہ پر پھینکا پہلے میری کہانی سن پھر میری بانہوں میں رات گزار پھر یہ بیہوش ہونے کا ناٹک کرنا
جمعیل نے ایک بار پھر اسکے چہرے پر پانی پھینکا اور پھر سے اپنی کہانی کو بتانا شروی کیا
توکہاں تھا میں ارے ہاں پھر میں نے تیری پوری فیملی کو مروایا پھر بعد میں پتہ چلا کہ سالے ابھی تو تین بچے زندہ رہتے ہے ایک کیا نام تھا ہاں زیہان خان جو باہر کی دنیا کے لیے زیہان خان تھا اور گھر والوں کے لیے زیہان شاہ تھا
وہ تو سالا اتنا طاقت ور بن گیا تھا کہ اسکا بال بھی کوی بانکا نہیں کر سکتا ہے وہ کوی عام ادمی نہیں ہے لیکن اس کرنل اور ان دونوں لڑکوں کی جان جس میں بستی ہے وہ تو ہے بس پھر کیا تیرے پیچھے بہت لڑکے چھوڑے لیکن تو کسی کے ہاتھ نہیں اور پھر روکی دیکھا مجھے اور دیکھ اس نے میرا کام کر دیا
چل ابھی تو ارام کر میں بس پانچ منٹ میں دارو کا اتظام کرکے اتا ہو یہ کہہ کر وہ باہر نکل گیا منیزے کے دل نے شدت سے اپنے بھای کو پکارا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رکو وہ ابھی لایٹ کو ڈفیوز کرنے کا طریقہ نکال رہا تھا جب پیچھے سے اواز ای اسے ایک سیکنڈ نہیں لگا تھا اس اواز کو پہچاننے میں
زیہان اے ایس ایچ ایچ ایجنٹ بے یقینی سے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا جہاں اسکی باقی کی ٹیم تھی لیکن وہ عین اسکے پیچھے فل یونیفارم میں بیٹھا سرخ انگارہ انکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا
وہ سہی معنی میں اسے وہاں دیکھ کر ڈر گیا تھا تم نے میرا یقین توڑا ہے تم اس قابل ہی نہیں ہوں کہ تمھارے اوپر بھروسہ کیا جاے اندر ناجانے میری بہن کس حالت میں ہو گی
میں صرف تمھارے بھروسے اسے چھوڑ کر گیا تھا لیکن تم نے اچھا نہیں کیا اسکے لیے میں تمھیں کبھی معاف نہیں کروں گا اس سوچ نے ہی اسے پاگل کر دیا تھا ڈرایور چچا جسے وہ لوگ مرا ہوا سمجھ کر چلے گے تھے جب اس ہوش ایا شاید اللہ نے اسے زندہ رکھا تھا اسنے جلدی سے زیہان کو کال کی اور اسے سب کچھ بتایا اور اسکے بعد اسکی سانسوں نے اسے اور مہلت نہیں دی
شاید اس دفعہ اللہ کو رحم ا گیا تھا زیہان پہ جو اسے اپنی بہن کو بچانے کا چانس دے دیا
زیہان میں جانتا ہو مجھ سے غلطی ہوی ہے لیکن تمھیں مجھے جو سزا دینی ہے دے دینا میں نہ نہیں کروں گا لیکن ہمارے پاس وقت کم ہے ہمیں اندر جلدی جانا ہوگا اسنے زیہان کو سمجھایا وہ دونوں فوج میں ایک ہی پوسٹ پر تھے لیکن زیہان ساتھ ساتھ بزس بھی کر رہا تھا تاکہ کسی کو اس پر شک نہ ہوں
اوپر سے منیزے کو اگر پتہ چل جاتا کہ وہ فوج میں ہے تو وہ پتہ نہیں کیسا ری ایکشن دیتی
زیہان اور اسنے مل کر اس بومب کو ڈفیوز کیا اور اگے بڑھے ایسے صرف تین بومز ملے تھیں وہ لوگ اس وقت اس گھر کے پیچھے موجود تھے
سب سے پہلے کھڑکی اسے زیہان اندر گیا لیکن اسنے ایک دم ہی اس کمرے میں رکھا تھا جب اسے اتنی زور سے کرنٹ لگا وہ فوری طور پر پیچھے ہو گیا یہ تو شکر تھا کہ یہاں الارم کا سیٹ اپ نہیں تھا
زیہان فورا سمجھ گیا تھا کہ یہاں الیکٹرک تاریں بیچھایں ہوی تھی زیہان نے پیچھے اشارہ کرکے کچھ مانگا جسے اسنے فوری طور پر سمجھ کر اسے سپرے پکرایا اس سپرے نے پانچ منٹ بعد ان ویزیبل ہو جانا تھا
جس کا مطلب تھا کہ اسے اور اسکی ساری ٹیم کو پانچ منٹ میں اندر جانا تھا انھیں اس چیز کی ٹریننگ دی گی تھی انکے لیے کوی مشکل نہیں تھا
زیہان نے سپرے کی اور سیکھاے گے طریقے کی مدد سے اندر گے اسے تقریبا بیس سیکنڈ لگے تھے اور اسکے پیچھے ہی وہ اسی طریقے سے اندر داخل ہوے
جب منیزے کی چینخیں سنای دی ان دونوں نے تڑپ کر ایک دوسرے کو دیکھا زیہان اتنا بے بس محسوس کر رہا تھا اسکی حالت کو سمجھتے ہوے اسنے زیہان کے کندھے پر ہاتھ رکھا جسے زیہان نے غصے اور دکھ سے جھٹک گیا
وہ اس وقت زیہان کی کیفیت کو سمجھ رہا تھا لیکن شاید زیہان اس وقت سمجھنے کے موڈ میں نہیں دیکھا
وہ لوگ بے حد احتیطاط کے ساتھ اندر بڑھ رہے تھے لیکن سارے کمرے خالی تھے چونکہ اج تک کوی اندر نہیں ا سکا اس لیے ان میں سے کسی کو بھی تہہ خانے کا نہیں پتہ تھا
منیزے کی چینخیں بھی بند ہوگی تھی لیکن میوزک کی اواز اور دوسری اوازیں بھی ا رہی تھی لیکن ایسا کوی راستہ سمجھ نہیں ا رہا تھا جس سے وہ لوگ نیچے جاسکے
اوازوں سے وہ لوگ اتنا تو سمجھ چکے تھے کہ نیچے تہہ خانا ہے
اے ایس ایچ ایجنٹ پریشانی سے ادھی ٹیم کے ساتھ دوسرے کمرے میں داخل ہوا جبکہ ادھی ٹیم زیہان کے ساتھ تھی
وہ لوگ کمرے کو چیک کر کے واپس جا رہے تھے جب اسکے نظر قالین کے اینڈ پر پڑی جو صرف تھوڑی سی ابھری ہوی تھی اگر کوی اور دیکھتا تو کبھی بھی اس چھوٹے سے ابھار پر شک نہیں کرتا لیکن وہ اگے بڑھا کونکہ ہو نہ ہو راستے اسی جگہ سے جاتا ہوگا
اس نے قالین کو اٹھایا تو اسکا شک بلکل ٹھیک تھا وہ بس تھوڑی سے جگہ تھی جس سے اندر جایا جاتا تھا اسنے اشارے سے زیہان کو بلانے لگا زیہان جلدی سے اندر ایا
لیکن وہاں چھ نمبر کا کوڈ تھا جسے اسنے ہیک کر کے کھول لیا زیہان نے اسے گوڈ کا اشارہ کیا
سر اس سے پہلے اپ دونوں نیچے اترے میں ایک بات بتانا چاہتا ہو
وہ دونوں نیچے اترنے کی تیاری میں تھے جب انکا ٹیم میٹ بولا
جو بولنا ہے جلدی بولوں کیونکہ ہمارے پاس اتنا ٹایم نہیں ہے اس وقت وہ وہ والا زیہان بنا ہوا تھا جس سے دنیا ڈرتی تھی جسکے لہجے کی سختی سے سکے سینیرز بھی خوف کھاتے تھے
ج سر پہلے مجھے یہ تہہ خانے والی بات جھوٹ لگی تھی لیکن سر اب مجھے یقین ہے یہ بات سچ ہوگی زیہان کے گھورنے پر اسنے جلدی بتانا شروع کیا
مم میرا مطلب ہے سر اس جگہ سے وہ لوگ ہی نیچے اتر سکتے ہے جن لوگوں کے فیس کو اس جمعیل نے کمپیوٹر میں سیو کیا ہوا اگر ہم نیچے اترے گے تو ہمیں اگلا سانس لینے کی مہلت بھی نہیں ملے گی
سر اسکو ہیک کرنے کا کنیکشن اسی روم میں ہوگا اور ہماری ٹیم میں سب سے بڑے ہیکر سر اے ایس ایچ ایجنٹ ھے اسی لیے ہمیں پہلے اس کنیکشن کو ہیک کرنا پڑے گا
زبیر اج تم نے ہم سب کی جان بچای ہے اس انفارمیشن کو دے کر چلو اس کنیکشن کو ڈھونڈتے ہے لیکن یہ کام صرف دیک منٹ میں ہونا چاھیے
وہ سب اسے ڈھونڈ رہے تھے جب زیہان کو وہ مل گیا تھا زیہان نے اے ایس ایچ کو اشارہ کیا جس نے اسے صرف بیالیس سیکنڈ میں ہیک کر لیا تھا اسی لیے تو اسے پوری ارمی کا سب سے بڑا ہیکر کہتے تھے
وہ سب احتیاط سے نیچے اترے اور اگے کی جانب بڑھے جب ایک گولی اڑتی ہوی ای اور زیہان کا بازہ چیرتی ہوی گزر گی
