406.7K
48

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Power of Love Episode 28

Power of Love by Afzonia Zafar

نینا گیسٹ روم میں اکر اپنے بیگ کو غصے سے بیڈ پر پھینکا

منیزے منیزے تم نے میری جگہ لی ہے اب دیکھنا میں تمھیں عبیر سے نفرت کرںے پر مجبور کر دوں گی

عبیر صرف میرا ہے صرف میرا نینا نے اپنے دماغ میں اگے کا سوچتے ہوے اپنے اپ کو پر سکون کیا

کیوں کہ عبیر نے خود اسے اپنا راز بتا دیا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زیہان کو پتہ تھا حورم نے ابھی تک شاور نہیں لیا وہ کھانا کھانے کے بعد ہی شاور لے گی

ویسے دنیا کھانے سے پہلے شاور لیتی تھی اور اسکی حورم پوری دنیا سےالگ تھی

زیہان سب سےپہلے کچن میں گیا وہاں سے دو تین انڈے پکڑے پھر واپس اپنے کمرے میں اگیا واش روم میں واپس ایا پہلے ساری شیمپو کو چھپایا

صرف ایک شیمپو کو وہاں رکھا لیکن اس شیمپو کو خالی کرکے اسکے اندر انڈے کو اچھی مکس کر کے ڈال دیا

اور انڈے کے ٹکڑوں کو وہاں سے ہٹادیا

تو حورم اب اپنی حالت دیکھنا تو اسکی حالت کو سوچتے ہی اسکی ہنسی نکل گی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منیزے غصے سے اپنے پیر پٹکتی ہوی اپنے روم میں گی اسکے پیچھے ہی حورم اور پریشے بھی گی

اب یہ چڑیل کہاں سے اگی میں اسے چھوڑنے والی نہیں ہو منیزے غصے سے بیڈ پر بیٹھتے ہوے بولی

منیزے اسکے چہرے سے صاف لگ رہا تھا جیسے وہ عبیر کے نکاح کو سن کر بالکل بھی خوش نہں لگ رہی تھی پریشے نے جلے پر نمک چھرکتے ہوے کہا

اور ہاں مثھے تو یہ لگتا ہے جیسے وہ عبیر کوپسند کرتی ہو اور اسی کےلیے ہی ای ہو رہی سہی کسر حورم نے پوری کر دی

تم لوگ مجھے تسلی دے رہی ہو یہ اگ لگا رہی ہوں منیزے نے روہانسی اواز میں کہا

جس سے ان دونوں کی ہنسی نکل گی

دیکھوں منیزے جو ہم نے کہا ہے وہ سچ ہے اس لیے اگر تم نے اپنے شوہر کو اس چڑیل سے بچانا ہے تو ہم ایسا کچھ کرے گے کہ وہ خود ہی یہاں سے تنگ اکر بھاگ جاے

حورم نے اسے تسلی دیتے ہوے کہا

ہاں یہ ٹھیک ہے پریشے اور منیزے دونوں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوے کہا

رکو ابھی تو میں روحان کو فون کرتی ہو اصل میں میرا اپنے بھای کے بنا دل نہیں لگتا نہ

اسکے معصومیت سے کہنے پر ان دونوں سے ہنستے ہوے اثبات میں سر ہلایا

اچھا منیزے تم نہ اچھے سے تیار ہو جاوں تاکہ عبیر کی نظریں تم سے ہی ہٹ نہ پاے حورم نے جاتے ہوے منیزے کو ہدایت دیتے ہوے کہاں

پھر منیزے کی کبرڈ سے اپنے سارے کپڑے نکالے اور زیہان کی روم کی طرف بڑھی اور اپنی سارے کپڑے کبرڈ میں سیٹ کیے جبکے زیہان مزے سے اسکی سای کاروای بیڈ پر لیٹ کر دیکھ رہا تھا

حورم نے پہلے روحان کو کال کی پھر واش روم میں فریش ہونے چلے گی

4

زیہان جلدی سے بیڈ سے اتر کر واش روم کے دروازے کے ساتھ بالکل چپک کر کھڑا ہو گیا

حورم نے نہانے کے لیے شاور کھولا پھر شیمپو کو پکڑ کر ہاتھ میں ڈالا

شیمپو بھی زیہان کی طرح بے کار لگتی ہے حورم شیمپو کا کلر دیکھ کر بڑبڑای

زیہان کو جیسے ہی اسکی اواز سنی وہ فورا سے کمرے سے بھاگا اور گارڈن میں سے اپنے کمرے کے نل کے سسٹم کو روک دیا

اور بڑی شان سے اپنے کمرے میں واپس ایا

حورم نے شیمپو کو اچھی طرح سے اپنے بالوں میں لگانے کی کوشش کی لیکن شیمپو نے اسکے بالوں میں جھاگ ہی نہیں بناے

بلکے بڑی ہی عجیب سی سمیل اسکے بالوں میں انے لگی

لیکن حورم نے زیادہ نوٹ نہیں کیا بلکہ تھوڑی اور شیمپو لی کر اپنے بالوں میں لگایا

لیکن پھر وہی بلکے سمیل حورم نے پیچھے مرر میں اپنے بالوں کو دیکھا جو اپس میں بری طرح سے چپکے ہوے تھے

حورم نے اپنےکچھ بالوں کو پکڑ کے ناک کے قریب کیا تو ان میں سے انڈے کی بے انتہا گندی سمیل ا رہی تھی

اتنی گندی کے حورم کو ایک دم سے ابکای ای

حورم نے کچھ بھی سوچے بغیر جلدی سے شاور چلایا لیکن تھوڑا سا پانی نکلا جسکی وجہ سی ادھا سہ انڈہ اسکے چہرے پر اگیا

اور پھر پانی انا بند ہو گیا حورم کو سب سمجھ میں ا گیا کہ یہ کارستانی کس کی ہے

زیہہہہہہہہان حورم نے زوردار چینخ ماری

باہر بیٹھے زیہان خوشی سے نعرہ لگایا مطلب اسکا پلین کامیاب ہوگیا

اس چھوٹی سی لڑکی کے پیار میں وہ کیا بچوں جیسی حرکت کر رہا تھا لیکن جو بھی تھا اسے اس سب میں مزہ ارہا تھا

کہا تھا نہ حورم میں نے کے میرے بدلے کے لیے تیار رہنا لیکن تم نے شاید مجھے کافی ہلکے میں لے لیا تھا زیہان نے واش روم کے دروازے کے قریب کھڑے ہوکر کہا

زیہان تم نل کھول ہے ہو یہ نہیں حورم نے غصے سے کہا

نہیں حورم نے جتنے غصے سے زیہان نے اتنے ارام سے کہا

زیہان پلیز کھول دوں اس دفعہ حورم نے التجای لہجے میں کہا

کیونکہ انڈے کے سمیل سے اسے ابکای ارہی تھی

میں ایک شرط پہ کھولوں اگر جو میں تم سے کہوں گا وہ تم مانوں گی زیہان نے چمکتی انکھوں سے اپنی شرط سامنے رکھتے ہوے بولا

ٹھیک میں تم جو کہوں گے میں وہ کروں گی لیکن ابھی پلیز نل کھول دوں

حورم کو اس وقت صرف پانی کھولوانا تھا اسی لیے اسنے جلد سے اسکی بات کو مانا

وعدہ زیہان نے اسسے وعدہ مانگا

وعدہ اب کھول بھی دوں حورم نےچڑتے ہوے کہا

زیہان نے شرافت سے باہر جاکر نل کھولا اور واپس اپنے کمرے میں اکر اسکے باہر نکلنے کا ویٹ کرنے لگ

زیہان دوسری شیمپو تو بتاو وہ کہارکھی ہے

حورم نے اندر سے جھنجلاے ہوے انداز میں پوچھا

زیہان نے اسے شرافت سے شیمپو کا بتایا

اور اسکا انتظار کرنے لگ کہ کب وہ باہر اے اور کب وہ اپنی شرط کو منواے