Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419

Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419 Power of Love Last Episode (Last Part)

406.7K
48

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Power of Love Last Episode (Last Part)

Power of Love by Afzonia Zafar

زیہان کب سے کرنل صاحب کے کمرے میں بیٹھا تھا

اج حورم کو دیکھنے کا بے تحاشہ دل کر رہا تھا

لیکن کرنل صاحب پچھلے ایک ہفتے سے اسکے ساتھ اسی طرح کر رہے تھے

اپنے کمرے میں ہی سلاتے وہ بھی صوفے پر اور پوری رات اٹھ اٹھ کر دیکھتے تھے کہ کہی زیہان بھاگ تو نہیں گیا

لیکن اج تو کرنل صاصب سو بھی نہیں رہے تھے

زیہان نے تھک ہار کر اپنی انکھیں ہی بند کر لی اور اسے سوتا دیکھ کر کرنل صاحب بھی سونے کی کوشش کرنے لگے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منیزے کی انکھ کھلی تو اسکا سر ہادی کے سینے پہ رکھا ہوا تھا

ہادی کی شدت کو یاد کرتے ہوے منیزے کانپ گی

منیزے نے اٹھنا چاہا لیکن نیند میں بھی ہادی کی گرفت بہت مضبوط تھی

تبھی منیزے کی نظر سامنے گھڑی پر پڑی جو صبح کے چار بجا رہی تھی

منیزے ہڑبڑا کر اٹھی اسکے ہڑبڑا کر اٹھنے پر ہادی نے بھی جلدی سے اٹھا

کیا ہوا ہادی نے منیزے کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر پوچھا

ہادی ٹایم دیکھو ہمیں نکلنا ھیے

منیزے نے ہادی کو انکھوں میں دیکھنے سے مکمل طور گریز کرتے ہوے اٹھتے ہوے کہا

اور ہادی کی معنی خیز نظروں سے بچتے ہوے جلدی سے واش روم میں گھس گی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روحان کی انکھ دروازے پر ہوتی دستک سے کھولی

روحان نے دیکھا تو پری ابھی تک اسکے حصار میں لیٹی مزے کی نیند سو رہی تھی

روحان نے نظروں میں بے پناہ محبت سموتے ہوے اسے دیکھا

پھر اسے تنگ کرنے کا موڈ ہوا

روحان نے اہستہ سے اپنے دانتوں میں پریشے کے لب کو دبایا

پریشے جو میٹھی نیند سو رہی تھی

اپنے ہونٹوں پہ درد محسوس کرکے انکھیں کھولی

لیکن سمجھ کچھ نہیں ایا

اسے انکھیں کھولتے دیکھ کر روحان جلدی سے پیچھے ہوا اور اپنی انکھیں بند کر لی

پریشے نے اپنی ادھی کھولی انکھوں سے اپنے بھیگے ہونٹوں کو چھوا

جہاں ابھی تک درد ہو رہا تھا

پریشے کے زہین میں نیوز گھومی جس میں کسی کیڑے نے لڑکی کےہاتھ کو کاٹا اور ادھے گھنٹے بعد ہی اس لڑکی کی موت ہوگی

کہی مجھے بھی تو وہی کیڑا نہیں

روحان روحان کھڑے ہو پریشے نے زور زور سے روحان کو ہلانا شروع کیا

روحان نے بھی نیند میں اٹھنے کی کمال کی ایکٹنگ کی

روحان مجھے ابھی کسی زہریلے کیڑے نے کاٹا اب میں مر جاوں گی ادھے گھنٹے میں پریشے نے روتے ہوے کہا

پریشے رو نہیں روحان اسکے تیز تیز رونے سے خود گڑبڑا گیا

دیکھو جیسے سانپ کا زہر بھی واپس کھینچ لیتے ہیں اسی طرح اس کیڑے کے زہر کو بھی واپس کھینچ لینگے

روحان کو خود پتہ نہیں چل رہا تھا وہ کیا کیا بولے جا رہے ھیں

دماغ میں تو بس زہریلا کیڑا چل رہا تھا

کیسے پریشے نے روتے ہوے کہا

سانپ کا زہر کس چیز سے نکالتے ہیں روحان نے اپنی طرف بہت ہی مشکل سوال پوچھا

منہ سے اس دفعہ پریشے کے رونے میں بھی تیزی ای

ہا۔۔ہاں تو لاوں میں بھی نکالوں روحان نے اسے قابو کرتے ہوے کہا

اور پریشے نے بھی جلدی سے اپنا چہرہ روحان کے قریب کیا

روحان ایک پل کو مسکرایا اور اسکے ہونٹوں کو جکڑا

کافی دیر بھی روحان پیچھے نہیں ہٹا تو پریشے کو تشویش ہونے لگی

تبھی روحان نے روحان نے ایک بار پھر پریشے کے ہونٹ کو اپنے دانتوں میں لے کر کاٹا

بالکل اسی طرح کاٹنے پر پریشے روحان کی چال کو سمجھی اور دور ہونا چاہا

روحان نے پریشے کے دونوں ہاتھوں کو پکڑا

اور اسے پیچھے بیڈ پر لٹایا اور اپنی پیاس بجھانے لگا

تبھی دروازے پر ایک بار پھر سے دستک ہوی پریشے نے ایک جھٹکے سے اپنے اپ کو روحان سے چھڑوایا

اور واش روم میں گھسی پیچھے سے روحان کا زوردار قہقہہ سنای دیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک ہفتے میں جتنی بری حالت کرنل صاحب نے زیہان کی کی تھی

کرنل صاحب زیہان کے پیچھے کیوں لگے تھے یہ بات سبکی سمجھ سے باہر تھی

روحان کو جب حال میں پہچنے پر یہ بات پتہ چلی تو بس وہ کھسیانہ ہو کر رہ گیا

بس اپنی اپنی بیویوں کا انتظار ہو رہا تھا

تبھی وہ تینوں اتی ہوی نظر ای اور اردگرد حمنہ بیگم اور اور سارہ بیگم تھی اور پیچھے یشفہ تھی جسے دیکھتے ہی زبیر ایک دفعہ پھر سے اسکے چہرے میں غم ہو گیا

اور یشفہ نظریں جھکایں اسکی قاتل نگاہوں سے بچنے کی کوشش کر رہی تھی

زیہان تو بس حورم کے چہرے میں ہی کھو گیا

کتنے دن بعد ارام سے اسکا چہرہ دیکھنا نصیب ہو رہا تھا لیکن اسے اسکی انکھیں کافی زیادہ سرخ نظر ا رہی تھی

ورنہ یہ تو وہ خود اس سے دور بھاگتی اگر وہ کہی اکیلی نظر اتی وہ کرنل صاحب دھاوا بول دیتے

روحان نے پریشے کی طرف ہاتھ بڑھایا جو اسے صبح کی بات پر گھوریوں سے نواز رہی تھی

اسکا ہاتھ تھاما اور اپنے ساتھ بڑھایا

ہادی نے بھی شرمای شرمای سے منیزے کا ہاتھ تھام کر اپنے ساتھ بٹھایا

زیہان نے حور کا ہاتھ تھاما تو اسے حیرت کا جھٹکا لگا کیونکہ حورم کا ہاتھ بے حد گرم تھا

زیہان نے اسکا ایک ہاتھ تھام کر اور دوسرا اسکے گرد رکھ کر سہارا دیا

جسے پورے حال میں ہوٹنگ شروع ہوگی

کیا کر رہے ھوں زیہان سب دیکھ رہے ھیں حورم نے بلش کرتے ہوے کہا

تبھی زیہان نے اسے نرمی سے صوفے پر بٹھایا اور خود اسکے اتھ بیٹھ گیا

حورم خود ڈاکٹر ہو اور اپنا دھیان بھی نہیں رکھا

زیہان نے اسکی بات کو نظر انداز کرتے ہوے کہا

اور اسکا ہاتھ تھام کر سہلانے لگا

سب لوگ اتنے پیارے کپلز کو دیکھ کر رشک کی نظروں سے دیکھ رہے تھے

تبھی سامنے سے نینا چلتی ہوی ای لیکن حیرت کی انتہا اسکے سر پہ حجاب تھا

نینا نے سب لوگوں سے معافی مانگی خاص طور پر ہادی سے جو اسکا بیسٹ فرینڈ اور ہمیشہ رہے گا

سب نے اسے دل سے معاف کیا اور پورے فنگشن میں یشفہ نے اسے اپنے ساتھ ساتھ رکھا

حورم کی بوجھل ہوتی پلکوں کو دیکھ کر زیہان نے فنکشن کو جلدی ختم کروایاا

اور حورم کو لے کر گھر ایا لیکن گھر اتے اتے حورم کا بدن بخار سے جل رہا تھا

زیہان نے نوکروں اور مہمانوں کی پروا کیے بغییر حورم کو گود میں اٹھایا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھا

جسے اسنے بے حد محنت کرنے کے بعد اپنے ہاتھوں سے سجایا تھا

لیکن زیہان کو اس وقت پروا تھی تو بس اپنی جان کی جو حورم میں بستی تھی

حورم نے تین چار دن سے پوری نیند نہیں لی تھی اور اوپر سے اتنی بھاگ دوڑ جسکی اسے بالکل بھی عادت نہیں تھی اسی وجہ سے اسے اتنا تیز بخار ہو گیا

زیہان نے اسے ارام سے بیڈ پر بٹھایا حورم کی اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ وہ بیٹھ سکتی اسی لیے وہ بیٹھی بیٹھی ہی بیڈ پر لیٹ گی اور اسکے غنودگی چھانے لگی

جبکے اسکی ٹانگیں نیچے لٹک رہی تھی

زیہان اسکے قدموں میں بیٹھا اور اسکی ہیلز اتارنے لگا

اسکے پاوں پکڑتے ہی حورم نے اپنے پاوں چھڑوانے کی کوشش کی لیکن اتنی ہمت اسکے اندر نہیں تھی

زیہان نے اسکے جوتے اتارے اسکے بعد اسکا حجاب اتارا اہستہ اہستہ اسکے سارے زیور اتارے حورم اس وقت ریڈ کلر کے شرارے میں تھی جبکے زیہان بلیک شیروانی میں تھا

زیہان نے اپنی شیروانی اتاری نیچے صرف بلیک بنیان تھی اسوقت جتنا زیہان حورم کے لیے پریشان تھا اسکی حد نہیں

پریشانی اسکی سرخ انکھوں سے صاف جھلک رہی تھی

بالوں کو کھلا چھوڑا اور اسے گود میں اٹھا کر واش روم کی طرف بڑھا

حورم کو شاور کے نیچے کھڑا کیا ایک بازو اسکے گرد باندھا اور دوسرے ہاتھ سے پانی کا ٹمپریچر کم کر کے شاور اون کیا

ٹھنڈا پانی گرتے ہی حورم نے زیہان کے ساتھ لگ کر اس میں اپنی پناہ ڈھونڈنی چاہی

ٹھنڈے پانی سے حورم کا بخار کافی حد تک کم ہوا اور اسکے حواس تھوڑے بحال ہوے

حورم کا بدن جو بخار سے جل رہا تھا اب بالکل ٹھنڈا ہو چکا تھا اور اسے ٹھنڈ لگنا شروع ہو چکی تھی

زیہان نے دیوار کے سہارے کھڑا کیا

اور خود بھاگ کر باہر ایا اور کبرڈ سے بیڈ شیٹ نکالی جو اسے سب سے پہلے نظر ای

وہ خود بری طرح سے بھیگ چکا تھا لیکن فلحال اسے اپنی ٹینشن بالکل بھی نہیں تھی

زیہان نے اپنی بنیان بھی نکال کر وہی پھینکی اور جلدی سے واپس اندر گیا

شاور کو بند کیا حورم کے ہونٹ نیلے پڑنا شروع ہو گے تھے ٹھنڈ کی وجہ سے زیہان نے واش روم کا بلب اف کیا

اور بیڈ شیٹ کو اپنے اور اسکے گرد اچھے سے لپٹا اور اہستہ سے حورم کی کرتی کی ڈوریاں کھولنے لگا

اسکی سرسراتی ہوی انگلیوں کی حرکت حورم کو سمٹنے پر مجبور کر رہی تھی لیکن فلحال اس میں مزاحمت کرنے کی ہمت بالکل بھی نہیں تھی اسکی انکھیں ہنوز بند تھی

زیہان نے گیلے کپڑوں کو اسکے بدن سے دور کیا اور اسے اس لحاف میں اچھی طرح لپیٹ کر باہر لایا

اور بیڈ پر لٹا کر اسکے اوپر کمبل اچھے سے سیٹ کیا

اور خود واش روم میں جاکر اپنی پینٹ چینج کرکے ایا

واپس ایا تو حورم کمبل میں گھس کر کپکپا رہی تھی

زیہان نے کبرڈ سے اپنی شرٹ نکالی اور کچن میں جا کر اسکے لیے دودھ گرم کیا

اور تھوڑے سے بسکٹ پلیٹ میں نکال کر کمرے کی طرف بڑھا

گھر میں کوی مہمان نہیں تھے سب لوگ اج ہی اپنے اپنے گھر جا چکے تھے

زیہان نے کمرے کو لاک کیا اور حورم کی طرف بڑھا

حورم اٹھو یہ گرم دودھ پی لو سردی کم ہو جاے گی

مجھے نی پینا کچھ بھی حورم نے کمبل کے اندر سے ہی کپکپاتی اواز میں منع کیا

زیہان نے ٹرے ٹیبل پر رکھی اور خود کمبل کو ہٹا کر حورم کو اپنے حصار میں لیا

اور اچھے سے کمبل کو اسکے اوپر ڈھانپا تاکہ اسے سردی نہ لگے

کیا ہوا جاناں سردی زیادہ لگ رہی ھیں زیہان نے اسکے نیلے ہوتے ہونٹوں پر انگھوٹھا پھیرتے ہوے کہا

حورم نے ہاں میں سر ہلایا اور زیہان کی گردن میں منہ چھپایا

زیہان اسکی حرکت پر مسکرایا اور اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر اسکے ٹھنڈے لبوں پر اپنے لب رکھے

پوری شدت سے اسکے ہونٹوں کو قید کیا اور اتنے دنوں کی اپنی پیاس بجھانے لگا

زیہان نے ایک ہاتھ اسکے سر کے نیچے رکھا اور دوسرے ہاتھ سے اسکی کمر سے پکڑ نیچے کھینچا اور خود اسکے اوپر جھک گیا

زیہان نے اسکے ہونٹوں کو ازاد کیا اور اگلا نشانہ اسکی بے داغ گردن تھی

اسکی شہ رگ پر اپنے لب رکھے حورم نے زیہان کی شرٹ کو گلے سے پکڑا

زیہان نے اسکے ہاتھوں میں اپنی انگلیاں پھنسای اور تکیے سے دونوں ہاتھوں کو لگایا

اور اسکے دل کے مقام پر اپنے لب پوری شدت سے رکھے اسکے لمس سے حورم کی جان حلق تک ا گی

زیہان نے ایک ہاتھ سے اپنی شرٹ نکالی اور اسی ہاتھ سے اسکی کمر کو جکڑا

زیہان پوری شدت سے اپنا پیار اسکے اوپر برسا رہا تھا

جیسے جیسے رات گزرتی جا رہی تھی حورم کی سانسیں اکھڑ رہی تھی جنہیں زیہان اپنے لبوں سے اسکی بکھری سانسوں کا چن رہا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پریشے نے اج جان بوجھ کر سونے کی کوشش کی تھی لیکن ٹھیک پانچ منٹ بعد روحان کمرے میں داخل ہو گیا

سامنے ہی بیڈ پر پریشے اپنی انکھیں سختی سے بند کیے بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھی ہوی تھی

روحان نے اسکی مچی انکھوں کو دیکھ کر مسکرایا اور اپنی شیروانی کو نکال کر بیڈ پر پھینکا اور ساتھ میں بنیان بھی نکالی

کسرتی بازو اور چوڑا سینہ نمایاں ہونے لگا

پریشے اواز سن کر اپنی انکھیں اور سختی سے بند کی

روحان نے ایک جھٹکے سے پریشے کی ٹانگوں کو کھینچ کر سیدھا لٹایا

اس طرح کھیچنے پر پریشے کے منہ سے زوردار چینخ نکلی

بیوی اب روز روز تو ایسا نہیں چلے گا نہ روحان نے نرمی سے اسکے اوپر جھکتے ہوے کہا

روحان تم نے مجھے ڈراا دیا تھا پریشے اپنے دل پر ہاتھ رکھتی ہوی بولی

روحان اسکی حالت دیکھ کر مسکرایا

اور اسکی کرتی کو نیچے سرکا کر اپنے ہونٹ اسکے دل پہ رکھے

اسکے گرم لمس پر پریشے کے ہونٹوں سے سسکی نکلی

جس روحان نے اپنے ہونٹوں میں دبا لی اور صبح کی بات کو یاد کرتے ہوے ایک دفعہ پھر سے اسکے ہونٹوں کو دانتوں کے بیچ میں لے کر کاٹا

پریشے نے ایک مکا روحان کے سینے پر رسید کیا

لیکن جب انکھیں کھول کر دیکھا تو روحان شرٹ لیس تھا

گندے پریشے نے جلدی سے دونوں ہاتھوں سے اپنی انکھیں بند کی

روحان نے مسکراتے ہوے اسکے ہاتھوں کی پشت پر ہونٹ رکھے پھر اسکی کالر بون پر جھک گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہادی کمرے میں ایا تو منیزے اپنی چوڑیوں میں الجھی ہوی تھی

اسکے چہرے سے تھکاوٹ کے اثار صاف نظر ار ہے تھے

اس تھکا ہوا دیکھ کر اج ہادی کا اسے تنگ کرنے کا ارادہ بدل گیا تھا اور منیزے کا ہاتھ پکڑ کر اسکا رخ موڑ ر اپنی طرف کیا

ہادی نے اسکی مدد کرتے ہوے اسکے سارے زیور اتارے پھر اپنی ڈھیلی سی شرٹ اور ٹراوزر نکال کر منیزے کی طرف بڑھای

منیزے چینج کرکے باہر نکلی تو ہادی صرف ٹراوزر میں بیڈ پر لیٹا ہوا تھا

ہادی اپنی شرٹ پہنوں منیزے نے بیڈ سے تھوڑی سی دور کھڑے ہوکر نظریں جھکاتے ہوے کہا

بیگم ابھی بھی شرم ا رہی ھیں ہادی نے معنی خیز نظروں سے منیزے کو دیکھ کر کہا

پھر اٹھ کر اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے کھینچ کر اپنے سینے پر اسکا سر رکھا اور اسکے گرد اپنی مضبوط بازوں کا حصار باندھ اور ہلکے اسکے لبوں کو چھو کر انکھیں بند کرلی

اور منیزے بس اسکے سینے پر سر رکھے اسکی دھڑکنوں کے شور کو محسوس کرتے ہوے سونے کی کوشش کرنے لگی اور ٹھیک پانچ منٹ بعد دونوں ہی گہری نیند میں تھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو سال بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر باہر اپکے شوہر اپکو لینے اے ھیں

نرس بواے نے حورم کو اطلاع دی جو ابھی ابھی اپریشن روم سے نکلی تھی

حورم نے مسکراتے ہوے سر ہاں میں ہلایا اور حمنہ بیگم کے روم کی طرف بڑھی

ماما اپ چل رہی ھیں میرے ساتھ حورم نے حمنہ بیگم سے پوچھا

بیٹا وہ ایک ایمرجنسی کیس ا گیا ھے تم جاو میں تھوڑی دیر بعد روحان کو کال کر دوں گی وہ ا جا ے گا

حمنہ بیگم نے مسکراتے ہوے کہا

اور دھیان سے جانا جیسے ہی حورم پیچھے کی طرف مڑی حمنہ بیگم دن میں ہزار دفعہ بولی ہوی لاین پھر سے دوہرای

حورم نے مسکراتے ہوے سر ہلایا اور باہر کی طرف موڑی

جہاں زیہان دھوپ میں بالکل دروازے کے پاس گلاسز لگاے کھڑاتھا

حورم نے مسکراتے ہوے اسکی طرف دیکھا

اج بھی وہ اسکی وجہ سے دھوپ میں کھڑا تھا کیونکہ شروع شروع میں زیہان اندر ا جاتا تھا اور ساری نرسیں اور ڈاکٹرز یہاں تک کہ پیشنٹ بھی اسے گھورنے میں مصروف ہو جاتی

جو حورم کو قطعی منظور نہیں تھا اسی لیے اس باہر کھڑے ہوکر ویٹ کرنے کے لیے کہا

اسے اتا دیکھ کر زیہان نے ہاتھ سے اسے وہی رکنے کا اشارہ کیا

اور خود تیزی سے اسکی طرف ایا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے سیڑھیوں سے اتارا

اور اتنی ہی نرمی سے سے کار میں بٹھایاا

اور محبت سے اسکے بھرے بھرے وجود کو دیکھا

زیادہ تنگ تو نہیں کیا نہ میری چھوٹی دنیا نے زیہان نے اسکے پیٹ پر انتہای محبت سے ہاتھ پھیرتے ہوے کہا اور جھک کر اسکے پیٹ پہ اپنے لب رکھے وہ تو گاڑی کے شیشے بلیک تھے اسی لیے کسی کو اندر والا منظر نظر نہیں اتا ورنہ زیہان ادھر ادھر دیکھے بنا ہی کسی بھی جگہ شروع ہو جاتا

ہر دن کے ساتھ اسکی شدت اور محبت میں اضافہ ہوتا جارہا تھا

اسکی پریگنینسی کی وجہ سے زیہان بے حد پریشان رہتا تھا کیونکہ حورم کی روپورٹس کے مطابق جڑواں بے بی تھے جن میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی

اور اجکل اسکے ڈیلیوری کے اخری دن چل رہے تھے

سب کے لاکھ منع کرنے کے بعد بھی حورم نے ہوسپٹل سے چھٹی نہیں لی

زیہان بھی اسکی ضد کے اگے خاموش ہو گیا کیونکہ حمنہ بیگم بھی اسکے ساتھ ہی ہوسپٹل میں رہتی تھی اور ہر دس منٹ بعد کبھی اسے جوس کبھی کچھ کبھی کچھ

نہیں زیادہ تنگ تو نہیں کیا حورم نے مسکراتے ہوے اسے گاڑی سٹارٹ کرنے کا اشارہ کیاا

اج یشفہ اور زبیر کی شادی تھی کیونکہ یہ یشفہ کی ہی ضد تھی کہ جب تک اسکی سٹڈی کمپلیٹ نہیں ہو جاتی وہ شادی نہیں کرے گی

جسکی وجہ سے بیچارے زبیر کو اتنا انتظار کرنا پڑا لیکن ایمرجنسی کیس کی وجہ ان دونوں کو ہوسپٹل جانا پڑا

زیہان اور روحان نے اپنے وعدے کے مطابق حمنہ بیگم کے نام سے ایک بہت بڑا ہوسپٹل تعمیر کروایا جسکا ابھی تک کا سفر بے حد کامیاب رہا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میری شہزادی چپ کر جا پلیز منیزے ساتھ ساتھ تیار ہو رہی تھی اور ساتھ میں اپنی چھ ماہ کی بیٹی کو بھی چپ کروانے کی کوشش کر رہی تھی

لیکن وہ تھی کہ چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی پہلے ہی منیشے کو تیار کرنے کے چکر میں اتنا لیٹ ہو گی تھی

اوپر سے پری اور یشفہ کی کال پہ کال ا رہی تھی یشفہ کی رخصتی صدیق ہاوس سے ہونی تھی حمنہ بیگم کی وجہ سے کیونکہ یہ انکی ضد تھی

کل بھی وہ منیشے کے چکر میں وہاں رات نہیں رکی تھی کیونکہ ایک تو منیشے کو تھوڑے سے بھی شور میں نیند نہیں اتی تھی

منیشے سب کی لاڈلی تھی خاص طور پر کرنل صاحب کی جو دس منٹ بھی اپنی پوتی پلس نواسی کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے

اج بھی وہ صبح صبح ہی صدیق ہاوس چلے گے تھےاسی وجہ سے منیزے کی جان پر بن ای تھی

زیہان اور حورم کی خود کی اس نیلی انکھوں والی گڑیا میں جان بستی تھی جس نے ابھی بس چلنا ہی سیکھا تھا

اتنے میں ہادی کمرے میں نک سک تیار ہوا اندر ایا

کیا ہوا میری گڑیا کو جو اتنا رو رہی ھیں ہادی نے اپنی شہزادی کو گود میں اٹھایا اسکے گود میں اٹھاتے ہی وہ بالکل چپ کر گی جس پہ منیزے نے سکھ کا سانس لیا اور اپنی تیاری کو اخری ٹچ دینے لگی

جبکے ہادی کی نظریں تو منیزے کے خوبصورت سراپے میں ہی الجھ کر رہ گی وہ اج بھی بالکل ایسی ہی تھی سمارٹس سی

کہی سے بھی نہیں لگتا تھا کہ وہ ایک بیٹی کی ماں ھیں

چلے ہادی ابھی تک اسی میں ہی گم تھا جب منیزے کی اواز ای جبکے منیشے ہادی کے کندھے پر ہی سر رکھے منہ میں انگھوٹھا ڈالے سو چکی تھی

بہت پیاری لگ رہی ہو بالکل کسی پرنسس کی طرح ہادی نے اسکے ماتھے پر بوسہ دیا اور دل ہی دل میں اسکی نظر اتاری جبکے منیزے نے مسکراتے ہوے اسکے سینے سے سر ٹکایا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روحان اپنے گدھوں کو ڈھونڈ کر لاوں

روحان جو تھوڑی دیر پہلے ہی تھک ہار کر لیٹا تھا تاکہ بارات انے سے پہلے اپنی کمر کو سیدھا کر سکے

تبھی پریشے نے زور سے اسکے بال کھینچے اور روہانسی اواز میں چینخی کیونکہ اذان اور اذلان دیکھنے میں بالکل ایک جیسے تھے

اور جب سے ان دونوں نے پاوں پر چلنا سیکھا تھا وہ گھر میں کم ہی پاے جاتے تھے ایک نمبر کے شیطان تھے اور بالکل ہی جورم اور روحان پر گے تھے

ان دونوں کی شرارتوں کی وجہ صدیق صاحب سارہ بیگم اور حمنہ بیگم کی خوشیوں کا کوی ٹھکانہ نہیں تھا سب کے بے جا لاڈ نے دونوں کو کافی حد تک بگاڑ دیا

جس کا اندازہ ابھی سے ہو رہا تھا

روحان نے بند انکھوں سے ہی اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے بیڈ پر گرایا

دونوں اپنے دادا دادی کے پاس ھیں میں ہی چھوڑ کر ایا تھا

روحان نے اپنی ہلکی سے کھلی انکھوں سے اسے دیکھ کر کہا اور کہتے ساتھ ہی اسکے لبوں کو اپنی قید میں لے لیا

اور اپنی ساری تھکن اتارنے لگا اور اخر میں ہمیشہ کی طرح اسکے ہونٹوں کو اپنے دانتوں کے بیچ میں لے کر کاٹا پری کو درد تو ہوا لیکن اس میٹھے سے درد کی اسے حد سے زیادہ عادت ہو گی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سب رسموں کے بعد یشفہ کو زبیر کے کمرے میں بٹھایا ہوا تھا

اس وقت یشفہ بے حد ڈری ہوی تھی

اتنے میں ہی زبیر نے اہستہ سے کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر ا کر اسے سلام کیا

جس کا جواب اسنے صرف سر ہلا کر ہی دیا

زبیر یشفہ کے قریب بیٹھا اور اسکا گھونگھٹ اٹھایا

اس پری پیکر چہرے پر نظر پڑتے ہی وہ اسکے حسن میں کھو سہ گیا

پھر اپنے اپ کو سمبھالتے ہوے اسکے ہاتھ میں کنگن پہناے اور اسکے کپکپاتے ہے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں پکڑا

زیبر نے نارمل انداز میں اس سے بات کرنا شروع کی تاکہ اسکا ڈر کم ہو جاے

اور ایسا ہی ہوا زبیر کے نرم اور اپنایت بھرے رویے سے یشفہ کا ڈر بالکل ہی ختم ہو گیا

اور رات گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے زبیر کی محبت پر بھی یقین بڑھتا جا رہا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کا نجانے کونسا جب حورم کا اپنے پیٹ میں بے تحاشہ درد محسوس ہوا

اور یہ درد وقت کے ساتھ بڑھتا ہی جا رہا تھا

حورم نے بامشکل اپنی انکھیں کھولی تو زیہان کے حصار میں تھی

زیہان حورم نے اہستہ سے پکارا اسکی ہلکی سی ہی اواز پر زیہان نے پٹ سے اپنی انکھیں کھولی

حورم ٹھیک ہو زیہان نے اسکے چہرے پر درد کے اثرات محسوس کرتے ہوے بے چینی سے پوچھا

حورم نے نہ میں سر ہلایا تبھی پیٹ میں بڑھتے درد کی وجہ سے اسکی چینخ نکلی

زیہان نے جلدی سے اپنی شرٹ پہنی اور حورم کا حجاب باندھا اور بنا کو دیر کیے

حورم کو گود میں اٹھا کر احتیاط سے نیچے کی طرف بھاگا

گاڑی کا دروازہ کھول کر اسے بٹھایا اور اچھے سے بیلٹ اسکے گرد بھاگا

گارڈ نے جلدی سے دروازہ کھولا زیہان نے زن سے گاڑی ہوسپٹل کی طرف بڑھای

اور ساتھ میں حمنہ بیگم کو بھی فون کر دیا

زیہان نے بے بسی سے درد سے نڈھال ہوتی حورم کا ہاتھ پکڑا اور گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی

دس منٹ بعد وہ لوگ ہوسپٹل کے سامنے تھے

ان سے پہلے ہی روحان پریشے اور حمنہ بیگم پارکنگ میں کھڑے تھے

زیہان نے جلدی سے حورم کو گود میں اٹھایا اور اندر کی طرف بھاگا

حمنہ بیگم کو دیکھتے ہی سب ہی ڈاکٹرز نے جلدی مچادی اور حورم کو لے کر اپریشن روم میں چلے گے

پیچھے سے زیہان باہر بینچ پر بیٹھ کر اسکی سلامتی کی دعا کرنے لگا

اتنے میں روحان نے سب کو کال کر دی ٹھیک پندرہ منٹ بعد سب لوگ ہوسپٹل میں موجود تھے

اور سب ہی حورم اور بچوں کی صحت یابی کے لیے دعا کرنے لگے

زیہان کی انکھیں انسو روکنے کے چکر میں بے تحاشہ لال ہو چکی تھی

اسکی زندگی اسکا عشق اندر تکلیف میں تھا تو کیسے سکون میں ہو سکتا تھا

ادھے گھنٹے بعد حمنہ بیگم کمبل میں لپٹے دو وجودوں کو لے کر کرنل صاحب کی طرف ای

سب لوگ انکی طرف دیکھنے لگے جبکے زیہان نے نم انکھوں سے اپنے بچوں کو انکی گود میں دیکھا

اور جلدی سے اندر کی طرف بڑھا

جہاں حورم زرد چہرے کے ساتھ لیٹی ہوی تھی تکلیف کے اثار ابھی تک اسکے چہرے پر تھے

اپنی پیشانی پر زیہان کا لمس محسوس کرکے مسکراتے ہوے انکھیں کھولی

شکریہ میری جان زیہان نے حورم کی پیشانی کو عقیدت سے چومتے ہوے کہا

اور ایک انسو لڑھک کر اسکے گال پر گر جسے حورم نے اپنے ہاتھوں سے چنا

ہمارے بچے دیکھے حورم نے مسکراتے ہوے پوچھا

ایک ساتھ دیکھے گے زیہان نے نفی میں سر ہلاتے ہوے کہا جس پر حورم نے مسکرا کر سر ہلایاا

اتنے میں منیزے دونوں بچہ کو لے کر اندر داخل ہوی

رومینس ختم کروں اور اپنے بے بیز کو دیکھو کتنے کیوٹ ھے

منیزے نے ایک زیہان اور دوسرا حورم کو پکڑاتے ہوے کہا

اتنے میں ساری پلٹون ہی اندر گی

زیہان نے دونوں کو باری باری پیار سے چوما

دیکھ زیہان تیرے بچوں سے پہلے میرے بچے اس دنیا میں اے ھیں ہادی نے شوخی مارتے ہوے کہا

ہاں دیکھ نہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ھیں تیرا ایک ھیں اور میرے دو دو بچے ھیں زیہان نے دونوں بے بیز کو اپنے سینے سے لگاتے ہوے کہا

اوہ ہو اپ دونوں رہنے ہی دو پہلا نمبر تو میرا ہی ھے روحان نے دونوں کو چپ کرواتے ہوے فخر سے کالر کو اٹھایا

جس پر سبکے قہقہے کمرے میں گونجنے لگے پری نے روحان کو گھورا جس پر روحان نے پری کو پیار سے انکھ ماری جس پر وہ بس سٹپٹا کر رہ گی

اور بڑوں نے اپنے بچوں کی دایمی خوشیوں کی دعا کی ۔