406.7K
48

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Power of Love Episode 8

Power of Love by Afzonia Zafar

منیزے اپنے روم میں اینٹر ہوی تو اسکے موبایل بج رہا تھا اسنے موبایل اٹھا کر دیکھا تو وہ کسی پرایوٹ نمبر سے کال ارہی تھی اسی تھوڑی حیرانی بھی ہوی

منیزے سوچا شاید کوی رونگ نمبر ہوں اسلیے موبایل واپس بیڈ پر رکھ دیا ابھی اسںنے موبایل رکھا ہی تھا پھر سے کال انا شروع ہوگی اسنے کوفت سے کال اٹینڈ کی اور موبایل کان سے لگایا لیکن وہ بولی کچھ نہیں

اسلام و علیکم دوسری طرف سے بھاری گھمبیر اواز گونجی

وعلیکم اسلام کون منیزے نے الجھن سے پوچھا

اپکا محافظ دوسری طرف سے بہت ہی محبت سے جواب دیا گیا

سوری راںگ نمبر منیزے نے یہ کہہ کر کال کاٹ دی موبایل پھر سے رنگ ہوا لیکن منیزے اگنور کرکے سایڈ سے ناول نکالا اور پڑھنا شروع ہوگی

اس دفعہ میسیج کی ٹون بجی اسنے موبایل اٹھا کر میسج ریڈ اگر اب اپ نے میری کال اٹینڈ نہیں کی تو میں اپکے کمرے میں اجاوں گا

لیکن منیزے ڈرنے والوں میں سے تھوڑی تھی میسج پڑھا اور بڑی شان کے ساتھ اگنور کیا اور اپنے ناول میں مگن ہوگی

تھوڑی دیر ہوی جب کچھ نہ ہوا تو منیزے مسکرای کیو نکہ اتنی ٹایٹ سیکیورٹی میں پرندے تک کی خبر ہوتی تھی تو پھر وہ تو کی چوروں چکا تھا

اور سب کچھ بھول بھال کر پڑھنے میں مگن ہوگی تھوڑی دیر بعد اسکے کمرے کی لایٹ چلے گی منیزے بغیر پریشان ہوے موبایل کے لایٹ اون کرکے پھر سے پڑھنا شروع ہوگی

کیونکہ اسے پتہ تھا ایسا کبھی کبھی ہو جاتا تھا ویسے بھی تھوڑی دیر بعد یو پی ایس اون ہو جانا تھا

کھڑکی میں کھڑے ساے نے منیزے کی ہمت کو داد دی اور منہ پر رومال بندھا اور ٹک کی اواز سے کھڑکی کا لاک کھولا اور اندر ا گیا

منیزے ناول پڑھنے میں اتنی مگن تھی کہ کھڑکی تک کھلنے کی اواز تک محسوس نہ کی وہ سایہ کافی دیر تک کھڑا اسے اپنی نظروں کی پیاس کو بجھاتا رہا اور گہری نظروں سے اسکا جایزہ لیتا رہا کیونکہ وہ اج اسے کافی دن بعد دیکھ رہا تھا اسکی نظریں مسلسل اسکے ہونٹوں کے کونے میں موجود تل پر تھی

منیزے کو اپنے اوپر کسی کی گہری نظروں کی تپش کا احساس ہوا منیزے نے اہستہ سے سر اٹھایا سامنے کھڑے ساے کو دیکھ کر بیچاری کو ہارٹ اٹیک اتے اتے بچا منیزے نے اسکے چہرے پر ایکدم سے لایٹ ماری لیکن اسکا پورا چہرہ کور تھا

وہ جو بھی تھا ایکدم سے اگے بڑھا ایک جھٹکے سے موبایل کو کھینچا اور اسکی ٹارچ اف کرکے موبایل کو بیڈ پر پھینکا اور منیزے کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے سامنے کھڑا کیا

بیچاری منیزے کے تو حواس ہی گم ہوگے اسکے ساتھ ہو کیا رہا اسنے اندھیرے میں انکھیں پھاڑ کر دیکھنے کی کوشش کی لیکن اسے کچھ نظر نہیں ایا

اسنے اپنے چہرے سے رومال کو اور انکھوں سے گلاسس کو ہٹایا اور جھک کر منیزے کے کان کے پاس بولا

تم لڑکیوں کی ہایٹ اتنی چھوٹی کیوں ہوتی ہے کم از کم کندھے تک تو انا چاھیے چلوں کوی بات نہیں میں تمھاری چھوٹی ہایٹ سے ہی کام چلا لوں گا اور تم نے میری دھمکی کو مزاق میں لے لیا بے بی یہ تو غلط بات ہے نہ

اسے منیزے کا چہرہ کھڑکی سے اتی ہوی روشنی میں صاف نظر ارہا تھا جبکے اسکی پشت کھڑکی کی جانب تھی اس لیے منیزے کو اسکا چہرہ نظر نہیں ا رہا تھا

کون ہو تم اور اندر کیسے اے اور کیا چاہیے تمھیں منیزے نے غصے سے کہہ اور اپنے اپ کو چھوڑانے کی کوشش کی لیکن اگے والے کی گرفت بجاے کمزور ہونے کے اور سخت ہوگی

پہلا سوال میں کون ہو یہ اپکے لیے جاننا ضروری نہیں ہے اور دوسرا سوال میں اندر کیسے ایا تو اپ تک انے کے لیے مجھے دنیا کی کوی بھی طاقت نہیں روک سکتی اور تیسرا سوال مجھے کیا چاھیے تو مجھے اپ چاھیے

اور بہت جلد اپ میرے پاس ہوگی یہ میں اندر صرف اپکو دیکھانے کے لیے اندر ایا تاکہ ایندہ جب بھی میں اپکو کال کروں اپ فوری طور پر میری کال اٹینڈ کریں گی چاھے اپ کدھر بھی ہوں اسے اپ میری دھمکی ضرور سمجھیں گا

اچھا اب اپ اپنا خیال رکھنا میں چلتا ہوں اور ہاں یہ اپکا تل بہت جوبصورت ہے اور کہتے ساتھ ہی اسکے تل پر شدت بھری خستاخی کی اور جس طرح ایا تھا اسی طرح چلے گیا اور اسکے جاتے ہی لایٹ پھر سے اگی اور منیزے یہ سوچتی رہ گی کہ یہ ہو کن سکتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حورم کو لگ رہا تھا اج تو یہ بندہ اسکی جان لے کر چھوڑے گا

جبکے زیہان کا بس نہیں چل رہا تھا اسے اپنے اندر بسا لے لیکن اسکی حالت کا احساس کرتے ہوے اسکے گلے سے اپنا منہ نکالا اور اپنے منہ زور جزبات کو کنٹرول کیا اور پیچھے ہو گیا

اور کبرڈ میں سے اپنی ایک بلیک ٹی شرٹ نکال کری حورم کی طرف بڑھای جاو اسے چینج کر لوں تمھارے زخموں پر دوای لگانی ہے

اور ہاں اسے لینے کی ضرورت نہیں ہے شوہر ہو تمھارا حورم جو سرخ چہرے کے ساتھ نیچے حجاب کو پکڑنے کے لیے جھکی تھی زیہان کے کہنے پر شرٹ پکڑ کر واش روم کی طرف بھاگی

پیچھے سے زیہان اسکے تیزی دیکھ کر مسکرانے لگا

حورم کافی دیر بعد نکلی تھی واش روم سے اسکا شرم سے برا حال تھا اسکے بے باکی پر اور دوسرا اسکے پاس دوپٹہ نہیں تھا

زیہان نے اسکے باہر اتے ہی اسکا بازو پکڑ کر اپنے پاس بیٹھایا کیونکہ وہ ایک جگہ ہی ٹک کر کھڑی ہوگی تھی

زیہان نے نرمی سے اسکے بازو پر ٹیوب لگای پھر ایک ہاتھ سے اسکے چہرے اوپر اگیا اور دوسرے ہاتھ سے دوای اسکے گالوں پر لگای اسکےبھینچے ہونٹوں کو دیکھ کر وہ پھر سے بے قابو ہو رہا تھا لیکن اسنے بڑی مشکل سے اپنے اپ کو اس ننھی سی جان پر ظلم کرنے سے روکا

جو اس سے عمر میں دس گیارہ سال چھوٹی تھی

بمشکل اپنے جزباتوں کو قابو کرکے اسنے حورم کی طرف دیکھا جسکی نظریں ابھی بھی جھکی ہوی تھی

حورم تم بیڈ پر سو جاو میں ادھر صوفے پر ہی ہوں ٹھیک ہے اسنے حورم کی طرف دیکھتے ہوے نرمی سے کہہ

جس پر حورم سر ہلا کر بیڈ پر لیٹ گی اور کمبل اپنے اوپر تک لے لیا

زیہان اسکی حرکت پر مسکرایا اور اے سی کا ٹمپریچر کافی کم کر دیا تھا تاکہ اسے گرمی نہ لگے

اور صوفے پر لیٹ گیا اج شاید اسے ارام کی نیند انی تھی

رات کا ناجانے کونسا پہر تھا جب زیہان حورم کی چینخ پر اٹھا

حورم نے شاید ڈراونہ خواب دیکھا تھا جسکی وجہ سے وہ تیز تیز رونا شروع ہوگی تھی

زیہان بھاگ کر بیڈ کی طرف بھاگا حورم میری جان کیا ہوا دیکھو میں ادھر ہی ہوں ششش رونا بند کروں

زیہان نے حورم کو اپنے گلے لگا کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا

وووہ وہ اسنے مجھے یہاں ہاتھ للل لگایا تھا حورم نے روتے ہوے اپنی بازوں کی طرف اشارہ کیا

زیہان کی انکھیں اس وقت بے حد سرخ ہوگی تھی اسنے سختی سے حورم کو اپنے اندر بھینچا

شششش تمھیں میرے ہوتے ہوے کوی ہاتھ نہیں لگا سکتا اور جو بھی یہ جرت کرے گا وہ اس دنیا سے ہی اٹھ جاے گا

زیہان نے ضبط سے کہتے ہوے اسکے بالوں میں نرمی سے انگلیاں چلانے لگا تھوڑی دیر بعد حورم روتے ہوے سو گی تھی

زیہان نے نرمی سے اسے سیدھا کرکے لٹایا اور خود اسکے سینے پر سر رکھ کر سو گیا لیکن اپنی بازوں کا سخت حصار اسکے گرد بندھنا نہ بھولا