Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419 Power of Love Episode 37
Rate this Novel
Power of Love Episode 37
Power of Love by Afzonia Zafar
ہادی میری بات سنو زیہان نے صوفے پر بیٹھتے ہوے کہا
ہاں بولو ہادی بالکل اسکے پاس بیٹھتے ہوے بولا
تم ای ایس ای کے سب سے بڑے ہیکر ہو اتنا تو مجھے بھی پتہ ھے کہ تمھیں پتہ ہے منیزے کہاں ہے زیہان اپنی بات کو شروع کرتے ہوے بولا
زیہان ایسی بات نہیں ھے ہادی نے سر کھجاتے ہوے کہا
تو کھاوں میری قسم کے تو منیزے کو ایک بار بھی دیکھنے نہیں گے زیہان ہادی کی طرف دیکھتے ہوے بولا
مطلب اب زیہان اتنا بھی غافل نہیں ہوا تھا جتنا وہ سمجھ بیٹھا تھا
وہ اتنی مرتبہ لنڈن میں صرف منیزے کو دیکھنا جاتا اور رات کو صرف کھڑکی کے ذریعے اندر جاتا اور پھر اسے دیکھ کر واپس اجاتا ایسا وہ تین چار دن لگاتار کرتا تھا
دیکھو ہادی میں جانتا تم نے اتنی بڑی غلطی نہیں کی ھے لیکن جب بات یقین کی اجاے تو تو تھوڑی سی بات بھی انسان کو توڑنے کے لیے کافی ہوتی ھے
اب تم سیدھا لنڈن جاوں گے منیزے کو منا کر لاوں زیہان اخر میں اسے حکم دیتے ہوے بولا
نہیں زیہان میں کیسے جا سکتا ہو ہادی اگر پانچ سالوں سے رکا ہوا تھا تو اس وجہ سے کیونکہ جب تک زیہان اپنی زندگی میں اگے نہیں بڑھ جاتا وہ بھی نہیں بڑھے گا
دیکھو ہادی میں سب جانتا ہو تم یہ سب کیوں کر رہے ہو لیکن یہ بات تم بھی جانتے ہو حورمکے علبوہ میری زندگی میں کسی کے لیے بھی جگہ نہیں ہے اسی لیے بحث کرنے کا کوی فایدہ نہیں ہے
میں اور روحان بزنس کے سلسلے میں انٹارجینا جا رہے ہے ادھر میرا ایک چھوٹا سہ مشن ہے جسکے لیے میرے پاس دن ہے لیکن ہمارا وہاں دس دن کا سٹے ہوگا
اس لیے میں چاہتا ہو میرے انے سے پہلے تم میزے کو واتس یہاں لے او لیکن اسے کچھ بھی مت بتانا وہ سب میں بتاو گا
زیہان نے اپنے درد کو کنٹرول کرتے ہوے بولا مطلب کسی طرح وہ حورموکی موت کے بارے میں بتاے گا جبکے اسکے اور پریشے کے علاوہ کسی کو یہ بھی نہیں لگتا کہ وہ زندہ ہے
جس پر نا چاہتے ہوے بھی ہادی نے اپنا سر اثبات میں ہلایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منو یہاں دیکھو یشفہ نے لیپ ٹاپ میں کچھ دیکھتے ہوے منیزے کی طرف اشارہ کیا جو بسکٹ کھانے میں لگی ہوی تھی
ہاں دیکھاوں منیزے صوفے سے اٹھ کر اسکے پاس ای
یہ دیکھو اے ایچ ایس یہ بندہ بھی پاکستانی ھے کیا مارتا ہے یار اور اسکی بوڈی چیک کر قسم سے ایسی فایٹ تو فلم کے ہیرو بھی نہیں کرتے ہے
یشفہ کے بولنے پر منیزے نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا مطلب وہ کبھی بھی کسی لڑکے کو دیکھتی نہیں تھی اور اب عبیر کی پک کو دیکھ کر کیسے ٹھرکیوں کی طرح بات کر رہی تھی
تم ٹھیک تو ہو منیزے نے اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوے کہا
ارے اسکو دیکھ کر کون سہی رہے گا تم ابھی سے اسکی سالی بننے کی تیاری کروں ٹھیک ہے
یشفہ کہ اس انداز پر منیزے ایک ٹھنڈی اہ بھری اور اثبات میں سر ہلایا
اور سونے کے لیے دوسرے کمرے میں چلے گی جبکہ یشفہ کبھی کچھ تو کبھی کچھ کہہ رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تینوں اس وقت ایر پورٹ پر اپنی اپنی فلایٹ میں بیٹھے تھے
زیہان اور روحان کی سیٹ ساتھ میں ہی تھی
وہ دونوں بزنس کلاس میں بیٹھے تھے جہاں سیٹ کی جگ صوفے تھے
جب ایک بے انتہا موڈرن لڑکی وہاں جسکے کپڑے تک پورے نہیں تھے
ہاے ہینڈسم بوایز کین ای سیٹ ہیر اس لڑکی نے ایک حد ادا سے اپنے بالوں کو پیچھے جھٹکتے ہوے کہا
نو ان دونوں نے ایک ساتھ جواب دیا اور اسکی طرف ناگواریت سے دیکھتے ہوے روحان اپنے موبایل میں لگ گیا اورجبکے زیہان نے کوی فایل سامنے کرکے کھول لی مطلب صاف تھا دفعہ ہو جا
لیکن وہ بھی ڈھیٹ تھی کوی وہی بیٹھ گی شاید اسکی سیٹ ہی وہی تھی
روحان نے اپنے موبایل میں گیلری اوپن کرکے پریشے کی تصویر نکالی
ان پانچ سالوں میں وہی رکے ہوے تھے پریشے نے اپنے اپ کو اپنی پڑھای میں بزی کرلیا
وہ ہفتے میں ایک دفعہ ہی انکے گھر اتی تھی جس میں بھی روحان اپنے کمرے میں بند ہوتا تھا اسکی بہت کم اس سے ملاقات ہو پاتی تھی
اس میں بھی سر سری سی باتیں ہی ہوتی تھی پریشے کو لگتا ہے کہ روحان اب اس سے پیار نہیں کرتا
لیکن روحان کا پیار اس دن سے اور بھی بڑھتا ہی جارہا تھا
لیکن وہ خود مجبور تھا حورم کی یادیں اسکے ساتھ ہمیشہ رہتی تھی
وہ گھر میں رہتا تو لگتا کہ اج بھی اس گھر میں اسکی کھلکھلاہٹ گونج رہی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ انٹارجینا میں اتر چکے تھے جتنا اس لڑکی نے انھیں تنگ کیا تھا نہ اتنا پوری زندگی میں کسی نے نہیں کیا
جیسے ہی وہ ایر پورٹ پر اترے ان دونوں نے ہی سکھ کا سانس لیا
ان دونوں نے ایک ہو ٹل میں رکناتھا لیکن پہلے انہوں نے ایک گاڑی رینٹ پر لی پھر ہو ٹل کی طرف روانہ ہوگے
کتنی عجیب لڑکی تھی روحان نے گاڑی میں بیٹھتے ہی گہرا سانس لیا
وہ لوگ ایسے ہی افس کی باتیں کرتے ہوے جارہے تھے ڈرایونگ زیہان کر رہا تھا
جب اچانک کی پپی انکی گاڑی کے سامنے ایا اور اسے بچانے کے لیے ایک چھوٹا بچہ اسکے پیچھے اسکی گاڑی کے سامنے ایام
زیہان نے جلدی سے گاڑی کو دوسری طرف موڑا جب سامنے انے والی گاڑی سے زوردار ٹکڑ ہوی
زیہان کا سر بری طرح سے سٹیرنگ پر لگا تھا جس سے اسکے سر میں خون نکلنے شروع ہوگے تھے
جبکے روحان بالکل ٹھیک تھا سامنے والی گاڑی سے وہی لڑکی انتہای غصے میں نکلی
نوٹ اگین یار اسے دیکھتے ہی روحان نے برا سہ منہ بنا کر کہا
جبکے وہ لڑکی انہی لڑکوں کو دیکھ کر مسکرای اور گاڑی میں بیٹھ کر اگے کی طرف روانہ ہو گی
روحان کی نظر جیسے ہی زیہان پر پڑی جسکے سر سے خون کل رہا تھا وہ ایکدم سے پریشان ہو گیا
بھای چلے ہوسپٹل چلتے ہیں روحان پریشانی سے بولا
نہیں روحان چھوٹا سہ زخم ہے خود ہی ٹھیک ہو جاے گا
زیہان نے اسے ٹالنا چاہا لیکن روحان نے اسکی ایک نہیں سنی خود ڈرایونگ سیٹ پر ا کر بیٹھ گیا
اور کسی قریبی ہو سپٹل کی لوکیشن لگا دی اور اسے فولو کرنے لگے اور تھوڑی ہی دیر میں ہو سپٹل کے اگے تھے
زیہان نے ماتھے پر رومال رکھا ہوا تھا خون کو روکنے کے لیے
وہ زیہان کے لے کر اگے ڈاکٹر کے کیبن کی طرف بڑھا
حمنہ بیگم نے پہلے خود اسکے زخم کو چیک کیا لیکن کوی انفیکشن نہیں ہوا تھا
پھر نرس کو اسکی بینڈیج کا بول کر خود ایمرجنسی میں اے ایک پیشنٹ کا چیک اپ کرنے لگی
نرس اہستہ قدموں سے زیہان کی طرف بڑھی اج صبح سے ہی اسے چکر سے ارہے تھے
وہ ایک ادھیڑ عمر کی خاتون تھی جیسے ہی اگے کی طرف بڑھنے لگی زور دار چکر اے اور اس سے پہلے گرتی روحان نے جلدی سے انھیں تھاما
اپ ٹھیک ہے روحان نے انھیں تھامتے ہوے کہا
ہاں بیٹا بس عمر ہو گی ہے اسی لیے کمزوری سے چکر ا جاتے ھے
ارے ابھی کہاابھی تو اپ ینگ ہے اپ کسی اور کو کہہ دے بینڈیج کا اور اپ میرے ساتھ چلے جوس وغیرہ پینے کے لیے روحان نے نرمی سے انکا ہاتھ تھاما اور باہر کی طرف بڑھ گیا
پیچھے سے زیہان دیکھتا رہ گیا
ہاں بیٹا میں ویرا کو فون کر دیتی ہو وہ کر دے گی ورنہ کون ڈاکٹر اپنا کام چھوڑ کر میرا کام کرے گا
انہوں ویرا کو بتایا کہ ڈاکٹر حمنہ کے کیبن میں ایک مریض بیٹھا ھے اور اپنی طبعیت کا بتا کر فون رکھ دیا
اتنے میں روحان نے کیٹین بواے سے جوس لے کر انکی طرف بڑھایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویرا ابھی ایک اپریشن کرکے نکلی تھی اتنے نرس کا فون اگیا اسی لیے وہ جلدی سے اس پیشنٹ کو دیکھنے لگی
زیہان کب سے بیٹھا تھا اور ساتھ ساتھ اپنے خو کو صاف کر رہا تھا
اوہ ہو اپکو تو اتنی چوٹ لگی ھے ویرا نے ابھی تک ماسک وغیرہ نہیں ہٹایا تھا
جیسے ہی روم میں داخل ہوی بیڈ پر بیٹھے مریض کو اپنا خون اس طرح صاف کرتے ہوے پریشانی سے بولی
اور جلدی سے فرسٹ ایڈ کٹ کو پکڑتے ہوے زیہان کی طرف بڑھی
اس اواز کو زیہان لاکھوں کیا کڑوڑوں میں بھی پہچان سکتا تھا
ویرا نے جلدی سے اسکے قریب جا کر اسکا زخم صاف کیا
زیہان نے تھمی سانسوں سے اسکی ماسک میں چھپی انکھوں کو دیکھا اسے ابھی تک یقین نہیں ا رہا تھا
ویرا جیسے ہی پٹی کو پکڑنے کے لیے پیچھے کی طرف مڑی تبھی زیہان نے اسکا ہاتھ پکڑا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہادی نے ایر پورٹ پر کھڑے ہو کر لنڈن کی فضا میں گہری سانس بھری کیونکہ اس فضا میں اسکی زندگی سانس لیتی ھے
وہ اگے بڑھا اور ٹیکسی میں بیٹھ کر اپنے فلیٹ روانہ ہو گیا پھر اسے یاد ایا کہ اس فلیٹ میں منیزے رہتی ہے
ہادی نے اپنا فون نکالا اور اپنے ایک دوست کو کال کی
ہاں وہ جو میرا فلیٹ ھے اسکے سامنے کس کا فلیٹ ھے سلام دعا کے بعد ہادی فورا اپنی بات کی طرف ایا
ہاں وہ ایک انگریزوں کا گروپ وہاں رہتا ھے سال میں ایک دو دفعہ اتے ھے
اور اجکل وہی اے ہوے ہیں اگے والے نے پوری تفصیل بتای
میری بات سنو بیس منٹ میں وہاں پہنچ جاوں گا لیکن بیس منٹ میں وہ فلیٹ انسے خرید لو جتنی رقم مانگے مجھے بتا دینا میں کر چیک دے دوں گا
اگے والے نے ٹھیک ھے کہہ کر فون کال کٹ کردی
وہ فلیٹ بالکل اسکے فلیٹ کے سامنے تھا اور جو ہادی کا روم تھا اگر اسکی کھڑکی کھول دی جاتی تو وہ روم سامنے والے فلیٹ سے صاف نظر اتا تھا
ہادی بیس منٹ بعد وہاں پہنچ چکا تھا وہ سب لوگ سامان باندھے اسی کا انتظار کر رہے تھے
ہادی نے جاتے ساتھ ہی انکی مطلوبہ رقم کا چیک دیا
وکی نے بہت مشکل سے انھیں منایا تھا جسکے لیے وہ وکی کا بھی شکر گزار تھا
وکی کو باے کہہ کر وہ اندر کی طرف بڑھا وہ جاتے ہوے اسے ڈاکومینٹس دے کر گے تھے
ہادی نے اندر جاکر دیکھا تو لان میں میں بے حد گند تھا لیز برگر وغیرہ کے شاپر لان اور کمروں میں بکھرے ہوے تھے
ہادی پہلے ہی تھکا ہوا تھا لیکن اسے اتنی گندگی میں نیند تو کیا سانس بھی نہیں انا تھا
ہادی نے بیگ وہی صوفے پر رکھا اور شرٹ اتار کر صفای کرنے میں جت گیا
دو گھنٹے بعد اخر کار وہ اپنا کام مکمل کر چکا تھا بے شک وہ فلیٹ بے حد خوبصورت تھا
ہادی کمرے میں گیا وہی بیڈ پر گر گیا اسنے سوچ لیا تھا کہ وہ کس طرح منیزے کو مناے گا فی الحال تو تھکاوٹ سے اسکا براحال تھا
